





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی کہتے تھے کہ اگر عورت سے ہمبستری کے لیے کوئی پیچھے سے آئے گا تو بچہ بھینگا پیدا ہو گا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، سو اپنے کھیت میں آؤ جدھر سے چاہو“۔ (سوره بقرہ:223)
متفق علیہیہود بغیر کسی علمی استناد کے ہیئتِ جماع سے متعلق تنگ نظری کا شکار تھے اور اوس وخزرج کے لوگ ان کے اقوال و احوال کو ان کے اہلِ کتاب ہونے کی وجہ سے لیتے تھے، یہودیوں کی منجملہ افترا پردازیوں میں سے ان کا یہ قول بھی تھا: اگر عورت سے ہمبستری کے لیے کوئی پیچھے سے آئے گا تو بچہ بھینگا پیدا ہو گا، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے اور یہ بیان کرتے ہوئے کہ یہ مباح ہے بشرطیکہ جماع قُبل میں ہو یہ آیت نازل فرمائی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ﴾ ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، سو اپنے کھیت میں آؤ جدھر سے چاہو“۔
عکاشہ رضی اللہ عنہ کی بہن ، جُذامہ بنت وہب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں کچھ لوگوں کے ہمراہ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ غیلہ (ایامِ رضاعت یاحمل میں جماع )کرنے سےلوگوں کو منع کردوں، پھر مجھے یاد آیا کہ روم اور فارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے۔ پھر صحابہ کرام نے آپ ﷺ سے ”عزل“ کے متعلق پوچھا ، آپ ﷺ نے فرمایا:وہ تو خفیہ طور پر زندہ گاڑ دینا ہے۔ عبیداللہ نے مقری سے اپنی روایت میں ﴿وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ﴾ ”اور جب زنده گاڑی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا“ کا اضافہ کیا ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ نے شوہر کو زمانۂ رضاعت میں بیوی کے قریب جانے اور اس سے ہمبستری کرنے سے منع کردینے کا ارادہ فرمایا کیونکہ عرب میں یہ بات مشہور تھی کہ پیدا ہونے والی اولاد کو اس کی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے، پھر آپ ﷺ نے اس ارادہ کو اُس وقت ترک کردیا جب فارس اور روم جیسے بعض لوگوں میں اس کا نقصاندہ نہ ہونا، آپ ﷺ کے نزدیک ثابت ہوگیا۔ پھر آپ ﷺ سے اُس شوہر کے بارے میں دریافت کیا گیا جو (انزال کے وقت) اپنی منی کو بیوی کی شرمگاہ کے باہر خارج کردیتا ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے اس عمل کو ان اہلِ جاہلیت کے عمل سے تشبیہ دی جو اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کیا کرتے تھے اور دونوں اعمال میں فرق یہ ہے کہ پہلا عمل خفیہ طور پر اور دوسرا علی الاعلان کیا جاتا ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! میری ایک لونڈی ہے اور میں اس سے عزل کرتا ہوں اور اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں ہے اور میں وہی چاہتا ہوں جو مرد چاہتے ہیں۔ مگر یہودی کہتے ہیں کہ عزل کرنا چھوٹے انداز میں زندہ درگور کرنا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہودی غلط کہتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کو پیدا کرنا چاہے گا تو، تو اسے ٹال نہیں سکتا۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں یہود کے اس خیال کا رد کیا جا رہا ہے کہ عزل کی وجہ سے سرے سے حمل کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور انہوں نے اس کو زندہ درگور کر کے قطع نسل کے درجہ میں رکھا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کوجھوٹا قراردیا اور یہ بتایا کہ اگر اللہ کسی کی تخلیق چاہتا ہے تو کوئی بھی اس حمل کو روک نہیں سکتا۔ اور اگر اللہ تخلیق کا ارادہ نہیں رکھتا تو وہ حقیقتاً اس کو درگور نہیں کررہا۔ اس لیے صحابی کو اپنی لونڈی سے عزل کی اجازت دی اور یہود کے دعویٰ کا رد بھی کیا۔
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ "نبی ﷺ نے اپنی کسی بیوی کا ولیمہ دو مُد جو سے کیا تھا"۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے امہات المومنین میں سے کسی سے شادی کی اور ان کے لیے ولیمہ کیا۔ ان کے ولیمہ میں آپ ﷺ نے جَو کھانا پکوایا وہ دو مد جَو سے تیار کیا تھا، جَو کے علاوہ آپ ﷺ کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہےکہ آپ ﷺ تنگ دست تھے لیکن باجود مشکل اور سخت حالات کے آپ ﷺ نے ولیمہ کی یہ سنت نہ چھوڑی اور نہ ہی اس میں کچھ اہمال برتا۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ ایک بکری سے کم پر بھی ولیمہ کرنا صحیح ہے اور یہ کہ جو کھانا بھی سہولت کےساتھ میسر ہو اسی سے ولیمہ ہو جاتا ہے۔ اس کا دار ومدار انسان کی طاقت و وسعت پر ہے۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین رات قیام فرمایا اور کہنے لگے: تم اپنے شوہر کے نزدیک بے وقعت نہیں ہو، اگر چاہو تو میں تمہارے پاس تک رہ سکتا ہوں لیکن اگر میں تمہارے پاس سات دن رہوں تو دوسری بیویوں کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ام سلمہ رضی اللہ عنہا اس وقت کی بات ذکر کر رہی ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کی تو انہیں اس بات کا اختیار دیا کہ ان کے پاس سات رات قیام فرمائیں، پھر ہر ایک بیوی کے پاس ایسے ہی سات رات قیام فرمائیں، اور اگر چاہیں تو تین رات قیام فرمائیں، اور ہر بیوی کے پاس اس کی باری ہی میں جائیں، اس سے پہلے کہ انہیں تین رات کے قیام پر اقتصار کے لیے اختیار دیں، معذرت کے لیے تمہید باندھی اور فرمایا: ”تم اپنے شوہر کے نزدیک بے وقعت نہیں ہو“ یعنی اس میں کسی قسم کی کوئی حقارت نہیں اور نہ تم میرے نزدیک کم ہو بلکہ میرے نزدیک تم بیش قیمتی اور اہمیت کی حامل ہو، لہذا اگر تین رات مکمل قیام کے بعد باری مقرر کی تو اس میں آپ کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ ایسا اس لیے کہ یہی صحیح ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ کوئی بھی ایسی عورت پسند نہیں جس کے بارے میں میری خواہش ہو کہ وہ عورت میں ہوتی، وہ ایک ایسی خاتون تھیں جن کی طبیعت میں کچھ حدت تھی۔ جب وہ بوڑھی ہو گئیں تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے باری میں ملنے والا اپنا دن عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! آپ کی طرف سے آنے والا اپنا دن میں نے عائشہ کو دے دیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری میں ان کے لیے دو دن مختص کیا کرتے تھے، ایک ان کا اپنا دن اور ایک سودہ رضی اللہ عنہا کا دن۔
متفق علیہعائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی جانے والی اس حدیث میں اُم المومنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بتایا گیا ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ ایک بہترین خاتون تھیں اور یہ کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خواہش تھی کہ وہ بھی ان کی طرح ہوتیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی صفت بیان کی کہ وہ ایک قوی النفس خاتون تھیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں یہ بھی بتایا کہ جب وہ سن رسیدہ ہو گئیں اور انہیں یہ اندیشہ لاحق ہوگیا کہ نبی ﷺ ان سے علیحدگی اختیار کر لیں گے تو انہوں نے چاہا کہ وہ آپ ﷺ کی زوجیت میں باقی رہیں اور یہ شرف و فضیلت ان کو حاصل رہے۔ یعنی وہ اُمّ المومنین رہیں اور سید المرسلین ﷺ کی ازواج میں ان کا شمار ہوتا رہے۔ چنانچہ وہ کہنے لگیں کہ میں اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے قبول فرما لیا اور آپ ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں دو راتیں گزارتے، ایک ان کی اپنی رات اور ایک سودہ رضی اللہ عنہا کی رات۔
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:رسول اللہ ﷺ شہد اور میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے، نبی ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہو کر جب واپس آتے تو اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور اُن سے قریب بھی ہوتے تھے- ایک دن آپ ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر ان کے گھر ٹھہرے رہ گیے۔ (مجھے اس پر غیرت آئی) اور میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ حفصہ کو ان کی قوم کی کسی خاتون نے انہیں شہد کا ایک ڈبہ دیا ہے اور انہوں نے اسی کا شربت نبی ﷺ کے لیے پیش کیا ہے- میں نے اپنے جی میں کہا : اللہ کی قسم ! میں تو ایک حیلہ کروں گی، پھر میں نے سودہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ ﷺ تمہارے پاس آئیں گے اور جب آئیں تو کہنا کہ کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ نے مغافیر کھا رکھا ہے؟ ظاہر ہے کہ آپ ﷺ نفی میں جواب دیں گے- اس وقت کہنا کہ پھر یہ بو کیسی ہے؟ اور آپ ﷺ (مغافیر کی) بو کو ناپسند کرتے تھے۔ اس پر نبی ﷺ کہیں گے کہ حفصہ نے شہد کا شربت مجھے پلایا ہے۔ تم کہنا کہ غالباً اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا! میں بھی آپ ﷺ سے یہی کہوں گی اور صفیہ تم بھی یہی کہنا- عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سودہ کہتی تھیں کہ اللہ کی قسم ! نبی ﷺ جوں ہی دروازے پر آ کر کھڑے ہوئے تو تمہارے خوف سے میں نے ارادہ کیا کہ نبی ﷺ سے وہ بات کہوں جو تم نے مجھ سے کہی تھی۔چنانچہ جب نبی ﷺ سودہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں تو! انہوں نے کہا، پھر یہ بو کیسی ہے جو میں آپ کے منہ سے محسوس کرتی ہوں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے۔ اس پر سودہ رضی اللہ عنہا بولیں کہ اس شہد کی مکھی نے مغافیر کے درخت کا عرق چوسا ہو گا۔ پھر جب نبی ﷺ میرے یہاں تشریف لائے تو میں نے بھی یہی بات کہی اس کے بعد جب صفیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی اسی کو دہرایا۔ اس کے بعد جب پھر نبی ﷺ حفصہ کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا : اے اللہ رسول! وہ شہد پھر نوش فرمائیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس پر سودہ رضی اللہ عنہا بولیں، سبحان اللہ! اللہ کی قسم ہم آپ ﷺ کو روکنے میں کامیاب ہو گئے، میں نے ان سے کہا (ابھی) چپ رہو۔
متفق علیہاس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کھانے میں میٹھی چیزیں پسند کرتے تھے اور یہ کہ آپ ﷺ شہد کو پسند کرتے تھے، جب آپ ﷺ عصر کی نماز سے واپس آتے تو اپنی بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے اور ان میں سے کسی کسی کو بوسہ دیتے اور جماع کے بغیر ان سے بغل گیر ہوتے۔ ایک مرتبہ آپ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گیے تو ان کے پاس کچھ زیادہ ہی دیر رُک گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا، معلوم ہوا کہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو کسی نے چھوٹے ڈبے میں شہد ہدیہ کیا ہے جس میں سے آپ ﷺ پیتے ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا کو غیرت آئی اور انہوں نے سودہ و صفیہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا کہ جب آپ ﷺ کسی کے پاس آئیں تو وہ آپ ﷺ سے پوچھے کہ کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ مغافیر ایک قسم کے بدبو دار گوند کو کہتے ہیں اور نبی ﷺ خوشبو کے علاوہ کسی اور چیز کے بو کو ناپسند کرتے تھے، پھر جب آپ ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے شہد پیش کیا لیکن آپ ﷺ نے انکار کر دیا۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے دوبارہ نہ پینے کی قسم کھالی۔ روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی کس بیوی کے یہاں شہد پیا، کہا گیا ہے کہ زینب رضی اللہ عنہا کے یہاں آپ نے شہد پیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سودہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آپ نے شہد پیا، بعض علماء نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ آپ ﷺ نے زینب کے یہاں شہد پیا تھا اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ حفصہ رضی اللہ عنہا مخالفت کرنے والی تھیں اور بعض لوگوں نے اسے تعددِ واقعہ پر محمول کیا ہے اس لیے کہ ایک ہی چیز کے لیے تعددِ سبب کا ہونا مانع نہیں ہے، اس طرح یہ دوسرا واقعہ ہوسکتا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ باہر تشریف لے جانا چاہتے (سفر کے لیے) تو اپنی ازواجِ مطہرات میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایک غزوہ کے موقع پر آپ ﷺ نے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی تو اس مرتبہ میرا نام آیا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ گئی، یہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔
متفق علیہاس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ نبی ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان کمالِ عدل سے کام لیتے تھےچنانچہ جب کسی سفر کا اردہ فرماتے تو ان کے دلوں کی تسکین کے لیے ان کے مابین قرعہ اندازی کرتے تھے اور جس کے نام قرعہ نکلتا اسے اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایسے ہی غزوۂ بنی مصطلق کے وقت آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کے مابین قرعہ اندازی کی اور قرعہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام نکلا چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ سفر کیا، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ واقعہ اللہ تعالی کی جانب سے پردے کے احکام نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ اور یہ بات معلوم ہی ہے کہ دوسرے سفر میں اپنی بقیہ دوسری بیویوں کے مابین قرعہ اندازی کرتے کیوں کہ پہلے سفر میں جس کے نام قرعہ نکلتا وہ اپنا حق پا چکی ہوتیں، اس طرح جب ایک ہی باقی بچتیں تو اگلے سفر میں بغیر قرعہ اندازی کے انہیں اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے دور میں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے اپنے شوہر سے خلع لے لیا تو نبی ﷺ نے انہیں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث خلع سے متعلق اس قصہ کے تابع ہے جو ثابت بن قیس اور ان کی بیوی کے درمیان واقع ہوا، اور یہ روایت اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ ثابت (رضی اللہ عنہ) سے طلاق کے بعد ان کی بیوی کو نبی ﷺ نے ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا، نہ کہ تین حیض۔ اس میں یہ حکمت ہے کہ مطلقہ عورت کی عدت تین حیض اس لیے قرار پائی کہ اس کی مدت طویل ہو، ممکن ہے کہ اس کا خاوند اس سے رجوع کر لے اور طلاق دینے پر شرمندہ وپشیمان ہو اس طرح اس طویل مدت میں اسے رجوع کرنے کا موقع میسر ہوگا، جب کہ اس کے بر خلاف خلع ایسی فرقت و جدائی ہے جو میاں بیوی کی رضامندی سے طے ہوتی ہے اور اس میں رجوع و واپسی کا اختیار نہیں رہتا ہے، چنانچہ براءتِ رحم کی معرفت و جانکاری کے لیے (مدتِ عدت) ایک حیض کافی ہے، بیشتر علماء کے نزدیک یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ خلع فسخِ نکاح ہے طلاق نہیں ہے، اس لیے کہ طلاق کی عدت تین حیض ہے۔