Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ گر کوئی شخص الفاظ نکاح، طلاق یا رجعت کو مذاق کے طور پر کہے، تو یہ اس کی طرف سے واقع ہو جائيں گے؛ کیوں کہ ان احکام میں قصد وارادہ، سنجیدگی اور مذاق کا حکم ایک ہی ہے۔ چنانچہ جس ولی نے اپنے ما تحت کے کسی فرد کا عقد کرایا، اپنی بیوی کو طلاق دیا یا اس (طلاق) سے رجوع کیا، تو یہ ان (کلمات) کی ادائیگی کے وقت ہی سے نافذ ہوجائے گا، چاہے اسے سنجیدگی سےکہا ہو یا مذاق یا لہو ولعب کے طور پر کہا ہو؛ کیوں کہ ان عقود میں کوئی خیارِ مجلس اور خیارِشرط کی گنجائش نہیں ہے۔ یہ تینوں احکام شریعت کی نگاہ میں بہت ہی بلند مرتبہ کے حامل ہیں۔ چنانچہ ان میں کھلواڑ کرنا یا ان کے متعلق مذاق کرنا جائز نہیں۔ پس جس کسی نے ان احکام کے متعلق کوئی لفظ اپنی زبان سے نکالے گا، وہ اس پر لازم ہو جائے گی۔
اس حدیث میں نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ انسان جس کا مالک نہ ہو، اس کے لیے اس میں تصرف اور اس کی تنفیذ درست اور صحیح نہیں ہے۔ وہ چیز جو آدمی کے تصرف میں نہ ہو، اس کے لیے اس کا تصرف جائز اور صحیح نہیں ہے۔ یہی حال نذر کا بھی ہے۔ چنانچہ وہ نذر صحیح اور قابل نفاذ نہیں ہے، جسے مانتے وقت نذر ماننے والا اس کا اختیار نہ رکھے، حتیٰ کہ اگر وہ بعد میں اس کا مالک ہو بھی جائے، تب بھی اسے پورا کرنا ضروری نہیں ہوگا اور نہ اس پر کفارہ واجب ہوگا۔ یہی معاملہ غلام آزاد کرنے کا ہے کہ آدمی جس غلام کا مالک نہ ہو، وہ اسے آزاد کر نہیں سکتا؛ کیوں کہ اس کا تصرف بجا نہیں ہے۔ نیز یہی حال طلاق کا ہے کہ آدمی کے لیے کسی اجنبی عورت کو، جو اس کی بیوی نہ ہو، طلاق دینا صحیح نہیں ہے؛ کیوں کہ ”طلاق کا اختیار اسی کو ہے، جو پنڈلی تھامے“ (یعنی شوہر) اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”(اس عورت کو )طلاق دینے کا حق نہیں ہے، جس کا وہ مالک نہ ہو۔“
عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی لونڈی بریرہ رضی اللہ عنہا کو اپنی غلامی سے آزاد کیا اور وہ اپنے غلام خاوند مغیث رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں۔ ان کو اس بات کا اختیار دیا گیا کہ چاہیں تو وہ ان کے ساتھ باقی رہیں اور چاہیں تو اپنے نکاح کو فسخ کر دیں تو انہوں نے اپنے نکاح کو فسخ کر دیا۔ اس حدیث میں یہ موجود ہے کہ انہوں نے تین حیض عدت مکمل کی۔ جب کہ وہ فسخ تھا نہ کہ طلاق، اور ان کی یہ علیحدگی زندگی میں ہی تھی مرنے کے ساتھ نہیں ہوئی تھی اور جس خاوند سے علیحدگی کی عدت گزاری تھی وہ ابھی غلام ہی تھے۔
اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، نبی ﷺ سے یہ روایت بیان فرماتی ہیں کہ ماں کے علاوہ کسی اور خاتون کی پستان سےایک یا دو مرتبہ دودھ چوسنے (پینے) سے وہ بچہ، اس خاتون کا رضاعی بیٹا نہیں ہوگا اور نہ اس کے اور اس خاتون کے مابین رضاعی حرمت ثابت ہوگی، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں حرمتِ رضاعت کی شرائط مکمل نہیں ہیں کیونکہ حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت کی صورت میں رضاعی بیٹے کے لیے جائز نہیں کہ وہ رضاعی ماں یا اس سے ثابت ہونے والے محارم یا اس کے شوہر کے محارم سے نکاح کرے جو اس کے دودھ کی ملکیت رکھتا ہے، اس کا ان کے ساتھ خلوت وتنہائی میں رہنا جائز ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ سفر میں ان کا محرم بنے۔ اسی اعتبار سے دودھ چوسنے کی اتنی کم تعداد سے رضاعت کے باب میں حرمت ثابت نہیں ہوتی اور پانچ رضعات کا ثابت ہونا ضروری ہے جیسا کہ صحیح مسلم میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی دوسری حدیث ۔۔۔ (دس مرتبہ دودھ پینے سے حرمت رضاعت کا حکم منسوخ ہوکر پانچ بار دودھ پینے سے حرمت رضاعت کا حکم نازل ہوگیا)ـ ــــــ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔
حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صرف وہی رضاعت باعثِ حرمت ہوتی ہے جس میں دودھ آنتوں تک پہنچ کر انہیں وسیع کر دے۔ باقی رہا وہ تھوڑا سا دودھ جو آنتوں تک نہ پہنچے اور نہ ہی انہیں کھول پائے اور کشادہ کر سکے تو اس طرح کی رضاعت حرمت کا باعث نہیں ہوتی ۔ چنانچہ مؤثر رضاعت وہی ہوتی ہے جو کمر عمری میں دودھ چھڑا لینے سے پہلے پہلے ہو۔
حدیث اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ انسان کو چاہیے کہ اس کا ہاتھ اوپر ہی رہے بایں طور کہ وہ اپنے حالات اور استطاعت کے بقدر خرچ کرنے اور احسان کرنےوالا بنے نہ کہ لینے اور مانگنے والا۔کیونکہ صرف و خرچ کرنا ہاتھ کو بالاتر کر دیتا ہے۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ خرچ کرنے میں اپنے عزیز و اقارب اور رحمی رشتہ داروں سے ابتدا کرے اور جیسے بھی ہو سکتا ہو ان کی دلجوئی کرے اور اس سلسلے میں اہم ترین رشتہ داری سے آغاز کرے۔ چنانچہ ماں سے شروع کرے کیونکہ وہ ابتداکے لحاظ سے باپ پر مقدم ہے اور بہن بھائی پر مقدم ہے۔ اسی طرح اس کے رشتہ داروں میں سے جو اس کے قریب ترین ہیں ان کے پاس اگر بقدرِ کفایت مال نہ ہو تو وہ ان کا خیال رکھے۔
اس حديث میں عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایک انسان پر جن ماتحت لوگوں کا نان و نفقہ واجب ہو، ان کے بارے میں حساس رہنے کی کس قدر ضرورت ہے۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ ان کے خزانچی نے غلاموں کو ان کا نفقہ نہیں دیا ہے، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث سنا دی، جس میں بتایا گیا ہے کہ بخل کی بنا پر ماتحت لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں لاپرواہی سے کام لینا اور ان کے نفقے کو روکنا گناہ میں واقع ہونے کے بڑے اسباب میں سے ایک ہے۔
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ سب سے بہتر صدقہ وہ ہے کہ صدقہ کرنے والے کے اہل و عیال اس چیز کے محتاج نہ ہوں اور خرچ کرنے والا مقروض نہ ہو نیز خرچ کرنے والے پر واجب ہے کہ ان لوگوں سے صدقہ وخیرات دینے کی شروعات کرے جن کی وہ پرورش کرتاہے،، مثال کے طور پر جیسے اس کی بیوی اور اس کے لڑکے اور اس کی باندیاں ہیں۔ لہذا اس کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ان پر خرچ کیے جانے والے اخراجات کو روکے اور دور والوں پر صدقہ وخیرات کرے اور رشتہ داروں کو چھوڑ دے جن کی پرورش اور نان ونفقہ کی ذمہ داری اس پر ہے۔
یہ حدیث ان احکام کو بیان کر رہی ہے جو کسی مومن کو عمداً قتل کرنے کی وجہ سے لاگو ہوتے ہیں۔اس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ مقتول کے ورثاء کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ قصاص کا مطالبہ کریں تو حاکم اس کو قتل کرے گا اور یہ اس کے عمل کی جنس کے حساب سے اس کی سزا ہو گی۔ یہاں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر وہ حدیث میں مذکور دیت پر راضی ہو جائیں (تو اس کے مطابق فیصلہ ہو گا)اور وہ دیت تیس حقہ،تیس جذعہ اور تیس حاملہ اونٹیاں ہوں گی کہ جن کے پیٹوں میں بچے موجود ہوں۔ اسی طرح حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء اس سے زائد کسی چیز کے ساتھ مصالحت پر راضی ہوں تو لے سکتے ہیں۔ اس حدیث میں جو دیت بیان کی گئی ہے (قتل عمد کی دیت) یہ انتہائی سخت دیت ہے کیونکہ اس میں قتل کی نیت اور ارادہ پایا جاتا ہے۔