





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عکرمہ سے روایت ہے: علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو جلا دیا۔ جب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کی اطلاع ملی، تو فرمایا: اگر میں ہوتا، تو ان کو نہ جلاتا، کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "تم لوگ اللہ کے عذاب کے ذریعے عذاب مت دو"، بلکہ میں ان کو قتل کر دیتا، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جو اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو"۔
رواه البخاريعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کرتے ہوئے اسلام سے مرتد ہونے والے کچھ زندیقوں کو آگ میں جلا دیا، جب اس کی اطلاع عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو انہوں نے ان کے قتل کی تائید کی، لیکن آگ میں جلانے کا انکار کیا۔ اور فرمایا: اگر میں ان کی جگہ ہوتا، تو انہیں آگ سے نہ جلاتا؛ کیونکہ آپ ﷺ نے یہ بات واضح فرمایا کہ آگ کی سزا تو صرف اللہ ہی دیتا ہے، جو آگ کا رب ہے۔ بلکہ انہیں قتل کر دینا ہی کافی ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جو اسلام سے مرتد ہو جائے اور اپنا دین بدل کر کوئی دوسرا دین اختیار کر لے، اسے قتل کر دو۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر شادی شدہ زانی کو حد کے طور پر سو کوڑے لگائے اور پورے ایک سال تک کے لیے شہر بدر کردیا اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اسی پر عمل کیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ شہر بدری حد کے تابع ہے، اس کا ایک حصہ ہے اور منسوخ نہیں ہے، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ و علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی اس پر عمل ہوتا رہا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو القاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اپنے مملوک (غلام یا باندی) پر تہمت لگائی حالانکہ وہ اس تہمت سے بری تھا تو اسے قیامت کے دن کوڑے لگائے جائیں گے اِلاّ یہ کہ وہ ویسے ہی رہا ہو جیسے اس نے کہا تھا“۔
متفق علیہجب آقا اپنے مملوک پر تہمت لگا دے تو دنیا میں اس پر حد نافذ نہیں کی جائے گی کیونکہ حدود کی سزائیں اس شخص کے لیے کفارہ ہوتی ہیں جس پر وہ نافذ کی جائیں اور اس شخص کو چونکہ آخرت میں عذاب ہوگا اوراس تہمت لگانے کی وجہ سے اس پر حد جاری کی جائے گی اس لیے دنیا میں اس پر حد نافذ نہیں کی جاتی۔ دنیا میں اس پر حد کے جاری نہ کیے جانے کے بارے میں علماء کا اجماع ہے۔ آقا پر حد اس لیے نہیں لگائی جاتی کیونکہ وہ عام طور پر اپنے مملوک پر تہمت صرف اسی وقت لگاتا ہے جب اسے یقین اور غالب گمان ہو جائے کیونکہ تہمت لگانے کی وجہ سے مملوک کی قیمت کم ہو جاتی ہے اور اس میں اسی کا نقصان ہوتا ہے۔ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تخصیص ہے کہ ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً﴾ ”اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لاتے تو انہیں اسّی دُرّے مارو“۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : "اللہ کی لعنت ہو چور پر، جو ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے"۔
متفق علیہاس حدیث میں چوری کرنے والے پر لعنت یعنی اسے اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کیے جانے کی بات ہے؛ کیونکہ وہ انڈے اور رسی جیسی معمولی چیزیں چراتا ہے۔ لیکن چوں کہ یہ معمولی چیزیں چرانے والے کو جب چوری کی لت لگ جائے گی، تو وہ اس سے بڑی چیزیں چرانے لگے گا، اس لیے ان معمولی چیزوں کی چوری بھی چرانے والے کا ہاتھ کاٹے جانے اور اس کے لعنت کی بد دعا کے حق دار ہونے یا اس کے اوپر لعنت پڑنے کی اطلاع دینے کا سبب بن جاتی ہے۔
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں سویا ہوا تھا۔ میرے جسم کے اوپر میری ایک کالے رنگ کی چوخانہ چادر پڑی ہوئی تھی، جس کی قیمت تیس درہم تھی۔ اسی بیچ ایک آدمی آیا اور اسے جھپٹا مار کر لے اڑا۔ لیکن وہ پکڑا گیا۔ اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے حاضر کیا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ وہ کہتے ہیں: تب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : کیا آپ محض تیس درہم کی وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹیں گے؟ میں اسے وہ چادر ادھار بیچ دیتا ہوں! اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "پھر اسے میرے سامنے لانے سے پہلے ہی تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟"
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ مسجد میں سوئے ہوئے تھے اور ان کے جسم پر ایک کالے رنگ کی چوخانہ چادر پڑی ہوئی تھی۔ اسی بیچ ایک چور آیا اور سے جھپٹا مار کر لے بھاگا۔ پھر چور کو پکڑ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لایا گیا، تاکہ اس پر چوری کی حد جاری کی جا سکے۔ لیکن صفوان رضی اللہ عنہ کو اس پر رحم آ گیا، لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کیا آپ اس کا ہاتھ میری اس چادر کی وجہ سے کاٹ دیں گے، جس کی قیمت محض تیس درہم ہے؟ میں اسے یہ چادر ادھار بیچ دیتا ہوں اور قیمت وہ اپنی حالت بہتر ہونے پر ادا کر دے گا!! اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تم نے اسے میرے پاس لائے جانے سے پہلے ہی معاف کیوں نہ کر دیا؟ کیونکہ حدود کے معاملے جب حاکم تک پہنچ جائیں، تو معاف کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ نبی ﷺکے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی، تو آپ ﷺ نے اسے کھجور کی دو ٹہنیوں سے تقریباً چالیس ضربیں لگائیں۔ (انس رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا، جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا، انہوں نے لوگوں سے مشورہ لیا تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حدود میں سب سے ہلکی حد اسّی کوڑے ہے، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسّی کا حکم صادر کر دیا۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔اس حدیث سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شرابی کو شراب کی حد کے طور پر کھجور کی ٹہنی سے چالیس ضربیں لگائیں۔خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا۔ شام وغیرہ کی فتح کے بعد انگور اور باغات کی کثرت کی وجہ سے جب لوگوں میں شراب نوشی زیادہ ہو گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی حد سے متعلق صحابہ سے مشورہ لیا۔ تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ شراب نوشی کی حد وہ مقرر کی جائے جو سب سے کم حد ہے (سوائے شراب کی حد کے) اور وہ اَسّی کوڑے ہے۔ کثیر صحابہ نے اس بات پر اتفاق کیا ۔ اسی لیے جمہور فقہاء نے یہ کہا ہے کہ شراب نوشی کی حد اَسّی کوڑے ہے اور یہ اصلاً ثابت ہے اجتہاد کے قبیل سے نہیں ہے۔ اور صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) نے اس میں زیادتی کا اجتہاد اس وقت کیا جب شراب نوشی کثرت سے عام ہو گئی جب کہ لوگ اس چیز سے ہار ماننے والے نہیں تھے کہ اس کی تعداد کیا ہے۔
عبد اللہ بن ابو اوفی سے روایت ہے کہ ان سے (محمد بن ابو مجالد کے ذریعے) پوچھا گیا : کیا آپ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھانے کی چیزوں کا پانچواں حصہ نکالتے تھے؟ تو انھوں نے جواب دیا : ہمیں خیبر کے دن کھانے کی چیزیں حاصل ہوئیں، تو لوگ آتے اور اس میں سے اتنا لے کر چلے جاتے، جو ان کے لیے کافی ہو"۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر مجاہد کو کھانے کی ضرورت ہو، تو وہ مال غنیمت میں حاصل شدہ کھانے کی چیزوں میں سے بقدر ضرورت کھا سکتا ہے، لیکن ذخیرہ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ یہ مال غنیمت کے اندر خیانت میں شمار ہوگا۔ یہاں یہ یاد رہے کہ غنیمت کا مال تقسیم سے پہلے لینے سے اس وقت منع کیا گیا ہے، جب دوسرے مجاہد بھائیوں کا حق مار کر لے لیا جائے، لیکن اگر کھانا اور پھل وغیرہ سب لوگ بقدر ضرورت استعمال کے لیے لیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے, وہ اپنے دادا سے روایت نقل کرتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "مسلمان دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایک ہاتھ کی طرح ہیں، ان کا خون اور ان کا مال برابر ہے، ان کے کسی ادنی انسان کی دی ہوئی امان بھی اس لائق ہوتی ہے کہ سارے مسلمان اس کا احترام کریں اور مسلمانوں کى اور مال غنیمت ان میں کا سب سےدور شخص بھى لوٹاتا ہے"۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمانوں کے اندر مکمل اتحاد و اتفاق رہنا چاہیے اور دشمن کے مقابلے میں انھیں ایک جان کی طرح کھڑا ہونا چاہیے۔ ان کے اندر انتشار اور آپسی پھوٹ کی بجائے اس قدر ہم آہنگی اور آپسی محبت ہو کہ وہ سچ مچ ایک ہی جماعت کی طرح دکھیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا : {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا} (اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور گروہ بندیوں کا شکار نہ بنو) ایک اور جگہ فرمایا : {لَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ} (آپس میں جھگڑو نہیں، ورنہ تم کمزور ہو جاو گے اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی)۔ اسی طرح تمام مسلمانوں کا خون دیت اور قصاص کے معاملے میں بھی برابر ہے۔ کوئی کسی سے افضل نہیں ہے۔ نہ نسب کی بنیاد پر، نہ رنگ و نسل کی بنیاد پر اور نہ مسلک کی بنیاد پر۔ سارے لوگ اس حق اور واجب کے سامنے برابر ہیں۔ اس حدیث میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ کسی ایک مسلمان نے بھی جب کسی کافر کو امان دے دی، تو اس کی دی ہوئی امان سارے مسلمانوں کے لیے واجب التسلیم ہو گى، اس لیے اس کا احترام ضروری ہے اور اس کے عہد کی خلاف ورزی جائز نہیں ہے۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی ذکر ہے کہ کسی سریے کو لشکر کی قوت کی بنا پر جو مال غنیمت حاصل ہو، وہ اس سریے میں شامل لوگوں کو بھی ملے گا اور فوج کے ان لوگوں کو بھی جو وہاں سے دور موجود ہوں، کیوں کہ یہ مال غنیمت فوج کی طاقت کی بنا پر حاصل ہوا ہے اور بیت المال میں جو فے کا مال آئے وہ یکساں طور پر قریب کے فوجیوں کے لیے بھی ہے اور دور کے فوجیوں کے لیے بھی، اگر چہ اسے حاصل کرنے میں قریب کے فوجیوں کی ہی تگ ودو شامل ہو۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور عثمان بن ابو سلیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دومۃ الجندل کے حکمراں اکیدر کی جانب بھیجا۔ وہ ان کو گرفتار کر کے آپ کے پاس لائے تو آپ نے اس کے خون کو تحفظ فراہم کیا اور اس سے جزیہ پر مصالحت کر لی۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تبوک سے, وہاں غزوہ کے دونوں میں اپنى موجودگى کے دوران, خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک سریہ کے ساتھ اکیدر کی جانب بھیجا۔ تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اس کے قلعے کو فتح کر لیا نیز اسے لے کر مدینہ پہنچے، لیکن رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا، بلکہ اس پر جزیہ نافذ کرکے اسے اس کے وطن واپس کر دیا، حالانکہ وہ اہل عرب میں سے تھا۔