





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سب سے زیادہ کھیت ہمارے تھے۔ ہم اس شرط پر زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے کہ ان کھیتوں کی پیداوار ہماری اور اُن کھیتوں کی پیداوار اُن کی (بٹائی پر لینے والوں کی)۔ بعض اوقات ایسا ہوتا کہ یہ زمین تو پیداوار دے دیتی، لیکن اس زمین سے کچھ بھی پیداوار نہ ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسا کرنے سے منع فرما دیا۔ تاہم آپ ﷺ نے چاندی (دراہم) کے عوض میں (زمین بٹائی پر دینے سے) منع نہیں فرمایا۔
متفق علیہحدیث میں زمین بٹائی پر دینے کی صحیح اور غلط صورتوں کی تفصیل ہے۔ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مدینے کے باشندوں میں سب سے زیادہ کھیت اور باغات ان کے خاندان کے تھے۔ وہ زمانۂ جاہلیت سے رائج طریقے پر زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے۔ وہ کاشت کاری کی غرض سے اس شرط پر زمین دیا کرتے تھے کہ زمین کے ایک طرف کے حصے سے حاصل ہونے والی پیداوار ان کی ہوگی اور دوسری طرف سے حاصل ہونے والی پیدوار کاشت کار کی ہو گی۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ زمین کے اس حصے سے تو پیداوار ہو جاتی، جب کہ دوسرے حصے کی پیداوار تلف ہو جاتی۔ نبی ﷺ نے انھیں اس انداز میں معاملہ کرنے سے منع فرما دیا؛ کیوں کہ اس میں دھوکہ اور جہالت (عدم صراحت) ہے۔ عوض کا علم ہونا بہت ضروری ہے اور اسی طرح نفع اور نقصان کے مابین بھی برابری ہونی چاہیے۔ اگر زمین کی پیداوار کے ایک حصے کے بدلے میں اسے بٹائی پر دیا جائے، تو اس قسم کے معاملے کو مزارعت یا مساقات کہا جاتا ہے۔ یہ انصاف اور نفع و نقصان میں برابری کی بنیاد پر مبنی معاملہ ہونا چاہیے، بایں طور کہ ہر ایک کو پیداوار کی ایک مخصوص شرح ملے۔ یعنی چوتھائی یا نصف وغیرہ۔ اگرزمین کسی عوض کے بدلے میں بٹائی پر دی جائے، تو اسے اجارہ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے معاملے میں عوض کا معلوم ہونا ضروری ہوا کرتا ہے۔ یہ جائز ہے؛ چاہے سونے یا چاندی کے بدلے ہو، جسے اجارہ کہا جاتا ہے۔ یا زمین کی پیداوار کے عوض میں، جسے مزارعت کہا جاتا ہے؛ کیوں کہ حدیث کا عموم اسی کا تقاضا کرتا ہے (شے معلوم اور یقینی ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں)۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”ہم نزول قرآن کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے“۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر یہ کوئی قابلِ ممانعت بات ہوتی تو قرآن ہمیں اس سے منع کر دیتا۔
متفق علیہجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ وہ لوگ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے دور میں عزل کیا کرتے تھے اور آپ ﷺ انہیں اس سے منع نہیں فرمایا کرتے تھے۔ اگر ایسا کرنا جائز نہ ہوتا تو آپ ﷺ انہیں ایسا نہ کرنے دیتے۔ گویا کہ ان سے کہا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ آپ لوگوں کے اس عمل کی خبر آپ ﷺ تک نہ پہنچی ہو؟ (اس وجہ سے آپ ﷺ نے اس سے منع نہ کیا ہو۔) اس پر انہوں نے کہا کہ: اگر نبی ﷺ تک اس بات کی خبر نہیں پہنچی تو اللہ تبارک و تعالی تو اسے جانتا تھا۔ قرآن بھی نازل ہو رہا تھا۔ اگر یہ کوئی ممنوع عمل ہوتا تو قرآن اس سے منع کر دیتا اور اللہ تعالی ہمیں اس عمل کو جاری نہ رکھنے دیتا۔ نصوص کے مابین باہم موافقت کا طریقہ کار: جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث عزل کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہے تاہم ایسی احادیث بھی آئی ہیں جن سے عزل کے عدم جواز کا علم ہوتا ہے۔ مثلا صحیح مسلم میں جذامہ بنت وہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں موجود تھیں۔ لوگوں نے آپ ﷺ سے عزل کے حکم کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو پوشیدہ طور پر زندہ گاڑ دینا ہے۔ ان (بظاہر متعارض) نصوص کے مابین مطابقت کیسے پیدا کی جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل تو یہی ہے کہ عزل کی اجازت ہے جیسا کہ جابر اور ابو سعید رضی اللہ عنہما سے مروی احادیث میں آیا ہے۔جب کہ جذامہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث کو اس صورت پر محمول کیا جائے گا جب عزل سے مقصد بچوں سے احتراز ہو۔ اسی معنی پر آپ ﷺ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے کہ ”یہ تو پوشیدہ طورپر زندہ گاڑنا ہے“۔ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ عزل کرنا مکروہ ہے نہ کہ حرام ۔
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوائے اپنے شوہر کے مرنے پر کہ اس پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے اور (ان ایام یعنی زمانۂ عدت میں) عصب کے علاوہ نہ تو کوئی رنگین کپڑا پہنے، نہ سرمہ ڈالے اور نہ خوشبو لگائے۔ البتہ حیض سے پاک ہوتے وقت تھوڑی سی عود ہندی یا مشک استعمال کرے تو کوئی قباحت نہیں“۔
متفق علیہاس حدیث میں نبی ﷺ نے عورت کو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے منع فرمایا کیونکہ تین دن قریبی رشتہ دار کے حق کی ادائیگی اورغم زدہ دل کے غم کو دور کرنے کے لیے کافی ہیں جب کہ مرنے والا اس کا شوہر نہ ہو۔ البتہ شوہر کی وفات پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرنا ضروری ہے تا کہ اس کا اس پر جو بہت بڑا حق ہے اسے پورا کر سکے اور اس کی عدت کے ایام میں اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکے۔ ”اِحداد“ کا معنی ہے عورت جس کا خاوند یا کوئی قریبی رشتہ دار فوت ہو گیا ہو اس کا زینت جیسے خوشبو، سرمہ اور خوبصورت کپڑوں کے استعمال کو چھوڑ دینا۔ چنانچہ وہ ان میں سے کوئی بھی شے استعمال نہیں کرے گی۔ تاہم سوگ کی فرضیت صرف شوہر کی وفات پر ہے۔ شوہر کے علاوہ کسی اور پر وہ اگر چاہے تو تین دن سوگ منا سکتی ہے۔ سوگ کرنے والی عورت کی نیت اگر زینت نہ ہو تو پھر وہ رنگ دار کپڑے پہن سکتی ہے۔ اس صورت میں ایسے کپڑے پہننے میں کوئی حرج نہیں چاہے ان کا رنگ کوئی بھی ہو۔ اسی طرح وہ اپنی شرم گاہ میں حیض سے پاک ہونے پر ایسی اشیاء میں سے کسی شے کا چھوٹا سا ٹکڑا رکھ سکتی ہے جو بدبو کو زائل کرتی ہیں۔ اس جگہ پر جو کہ زینت کا محل نہیں ہے خوشبو بذات خود مقصود نہیں (بلکہ اس کا مقصد بدبو کو زائل کرنا ہے۔)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر، نہ ہی ان میں سے ایک کا دوسرے پر اضافہ نہ کرو اور چاندی کے بدلے چاندی مت بیچو مگر برابر برابر نیز ان میں سے کسی کو نقد کے بدلے ادھار نہ بیچو“۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں: ہاتھ در ہاتھ (نقد ہی بیچو)۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں: ہم وزن، ہم مثل اور برابر برابر۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہاس حدیث میں آپ ﷺ نے سود کی دو قسموں یعنی فضل اور نسیئہ دونوں کو حرام قرار دیا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے سونے کو سونے کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا، خواہ وہ ڈھلے ہوئے ہوں یا نہ ہوں، تاہم جب دونوں طرف سے وزن برابر ہو اور مجلسِ عقد ہی میں قبضہ ہو، تو بیچ سکتے ہیں۔ اس لیے کہ ایک کو نقد اور دوسرے کو ادھار بیچنا جائز نہیں۔ اسی طرح آپ نے چاندی کو چاندی کے بدلے بیچنے سے بھی منع فرمایا، خواہ چاندی ڈھلی ہوئی ہو یا نہ ہو۔ تاہم اگر دونوں طرف سے چاندی برابر ہو اور مجلسِ عقد میں دونوں چیزوں پر قبضہ ہو جائے تو جائز ہے۔ ایک طرف سے زیادتی جائز نہیں اور نہ ہی قبضے سے پہلے فریقین کا جُدا ہونا جائز ہے۔
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے“۔
متفق علیہشریعتِ مطہرہ خیر اور بھلائی لے کر آئی ہے اور ہر اس چیز کو دور کیا جس میں نقصان اور فساد ہو۔ اسی میں سے یہ بھی ہےکہ اس نے الفت، محبت اور ہمدردی کرنے پر ابھارا اور ایک دوسرے سے دوری، قطع تعلقی اور بغض سے منع فرمایا۔ جب شارع (اللہ تعالی) نے تعددِ ازدواج کو مصلحتوں کے پیش نظر جائز قرار دیا - چونکہ عام طور پر ایک سے زائد بیویاں آدمی کے پاس آپس میں غیرت کی وجہ سے بغض وعداوت کا باعث ہوتی ہیں چنانچہ قطع تعلقات کا اندیشہ رکھتے ہوئے باہم ایک دوسری کی قریبی رشتے دار عورتوں کے درمیان تعدد ازدواج (انہیں نکاح میں جمع کرنے) سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ بیوی کی بہن سے نکاح کرنے سے منع فرمایا، بھتیجی کے ہوتے ہوئے پھوپھی سے، بھانجی کے ہوتے ہوئے خالہ سے نکاح کرنے سے منع فرمایا، اس کے علاوہ ہر وہ دو عورتیں کہ جن میں سے ایک مرد تصور کرلیا جائے اور دوسری کو عورت تو نسبی رشتوں مین ایک کا دوسرے سے نکاح حرام ہو، ان کو ایک ساتھ اور ایک وقت میں زوجیت میں رکھنا جائز نہیں۔ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے قول: وأحِلَّ لكم ما وَرَاءَ ذلِكم۔ (اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لیے حلال کی گئیں) کے عموم میں تخصیص پیدا کرتی ہے۔
زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ایک قریبی رشتہ دار فوت ہو گئے۔ انہوں نے زرد رنگ کی ایک خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازوؤں پر مل لیا اور کہا کہ میں یہ اس لیے کر رہی ہوں کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی بھی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں، سوائے شوہر کے کہ اس کا (سوگ) چار ماہ دس دن ہے۔
متفق علیہام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد وفات پا گئے۔ انہوں نے نبی ﷺ سے سن رکھا تھا کہ آپ ﷺ نے ماسوا شوہر کے کسی اور کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ سے منع فرمایا ہے۔ اسی حکم کی بجا آوری میں انہوں نے ایک زرد رنگ ملی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازوؤں پر مَلْ لیا اورخوشبو لگانے کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”کوئی بھی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیےکسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں، سوائے شوہر کے کہ اس کا (سوگ) چار ماہ دس دن ہے“۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے نہ روکے۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں اس سے منہ پھیرنے والا پاتا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے تمہارے شانوں کے درمیان ڈال ہی کر رہوں گا۔
متفق علیہہمسائے کے اپنے ہمسائے پر بہت سے حقوق ہوتے ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ نبی ﷺ نے ہمسائے کے ساتھ تعلق بحال رکھنے کی ترغیب دی اور فرمایا کہ جبرائیل امین اس کی مسلسل تلقین فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو گمان ہونے لگا کہ وہ عنقریب ہمسائے کو وراثت میں حصہ دار ٹھہرا دیں گے کیونکہ اس کا حق بہت زیادہ ہے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا واجب ہے۔ اسی وجہ سے ضروری ہے کہ پڑوسیوں کے مابین اچھا رہن سہن اور اچھا میل جول ہو اور وہ باہم ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں اور ایک دوسرے کو قولی و فعلی طور پر تکلیف پہنچانے سے گریز کریں۔ یہ بات ہمسایہ گیری اور ہمسایہ کے حقوق کا خیال رکھنے میں آتی ہے کہ پڑوسی ایک دوسرے کو وہ منافع پہنچائیں جن کا فائدہ ان کے پڑوسی کو پہنچتا ہو اور اس سے ان کو کچھ نقصان نہ ہوتا ہو۔ انہی میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی پڑوسی اپنے ہمسائے کی دیوار پر لکڑی رکھنا چاہے۔ اگر لکڑی رکھنے والے کو اس کی ضرورت ہو اور دیوار والے کو لکڑی رکھنے سے کوئی نقصان نہ ہوتا ہو تو اس صورت میں دیوار والے کو چاہیے کہ وہ اسے وہ فائدہ اٹھانے دے جس سے اس کو کوئی نقصان نہیں ہوتا ہے خصوصاً جب اس کے ہمسائے کو اس کی ضرورت بھی ہے۔اگر وہ اس کی اجازت نہ دے تو حکمران اسے ایسا کرنے پر مجبور کرے گا۔ لیکن اگر اس سے کوئی نقصان ہوتا ہو یا پھر اس کی کوئی ضرورت نہ ہو تو پھر نقصان کو اسی طرح کے نقصان سے زائل نہیں کیا جائے گا۔ اصل کے اعتبار سے تو مسلمان کو منع کرنے کا حق ہے۔ چنانچہ اس صورت میں اس پر اجازت دینا واجب نہیں۔ چونکہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس سنت سے جس پر بہت زور دیا گیا ہے شارع اعظم ﷺ کی مراد کو جانتے تھے چنانچہ لوگوں کی طرف سے اس پر عمل سے اعراض برتنے پر انہوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور انہیں دھمکی دی کہ وہ ان سے اس پر ضرور عمل کروا کر چھوڑیں گے۔ ہمسائے کے کچھ حقوق ہیں جنہیں اللہ تعالی نے فرض کیا ہے اور جن کا خیال کرنا اور پورا کرنا واجب ہے۔ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہمسائے کا اپنے ہمسائے کی دیوار پر اس کی اجازت کے بغیر لکڑی رکھنا ممنوع ہے جب کہ اس کی وجہ سے کوئی نقصان ہوتا ہو کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: نہ کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ خود نقصان اٹھاؤ۔
عبد اللہ بن یزید خَطمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے براء نے حدیث بیان کی، اور وہ جھوٹے نہیں ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہتے تو ہم میں سے کوئی بھی اس وقت تک اپنی پیٹھ نہیں جھکاتا تھا جب تک کہ نبی ﷺ سجدہ میں نہ چلے جاتے۔ ہم پھر آپ ﷺ کے بعد سجدے میں جاتے تھے۔
متفق عليهصادق (سچے) صحابی براء بن عازب رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ نبی ﷺ جب رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھا کر ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کہتے، تو آپ ﷺ کے پیچھے موجود صحابہ کھڑے رہتے تھے۔ کوئی بھی اپنی کمر سجدے کے لیے نہ جھکاتا، یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنی پیشانی مبارک زمین پر رکھ دیتے۔ پھر اس کے بعد وہ سجدے میں جایا کرتے تھے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ جب کسی شخص کے بدن کے کسی حصے میں بیماری لاحق ہوتی یا اس میں کوئی پھوڑا یا زخم وغیرہ ہوتا، تو نبی ﷺ اپنی انگلی سے ایسے کرتے (راوی حدیث سفیان بن عیینہ نے عملی طور پر دکھانے کے لیے اپنی انگشت شہادت کو زمین پر رکھا، پھر اسے اٹھا لیا) اور فرماتے: ”بِسمِ اللهِ، تُرْبَةُ أرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا، بإذْنِ رَبِّنَا“ اللہ کے نام کے سے، یہ ہمارے زمین کی مٹی ہے، اس کے ساتھ ہم میں سے کسی کا لعاب لگا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے رب کی اجازت سے ہمارا مریض شفایاب ہوگا۔
متفق علیہجب کوئی شخص بیمار ہو جاتا، اسے کوئی زخم لگ جاتا یا کچھ اور ہوتا، تو نبی ﷺ اپنی شہادت کی انگلی پر اپنا کچھ لعاب مبارک لگاتے اور انگلی کو مٹی پر رکھ دیتے۔ یوں اس کے ساتھ کچھ مٹی لگ جاتی۔ پھر آپ ﷺ اسے اس جگہ پھیر دیتے، جہاں زخم یا بیماری ہوتی اور کہتے: ”بِاسْمِ اللهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى بِهِ سَقِيمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا“ اللہ کے نام کے سے، یہ ہمارے زمین کی مٹی ہے، اس کے ساتھ ہم میں سے کسی کا لعاب لگا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے رب کی اجازت سے ہمارا مریض شفایاب ہوگا۔