





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، فاحشہ کی اجرت اور کاہن کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
متفق علیہروزی تلاش کرنے کے بہت سے عمدہ، معزز اور پاکیزہ راستے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے خبیث اور رذیل کے مقابلہ بنایا ہے۔ چونکہ پہلے(پاکیزہ) راستے دوسرے راستوں کے بنسبت کفایت گزار ہیں، نیز ان غلط راستوں کے نقصانات اول الذکر راستوں کے بالمقابل زیادہ ہیں، چنانچہ شریعت نے ان ناپاک راستوں کوحرام قرار دیا۔ ذیل کے تینوں اقسام کے معاملات انہی ناپاک راستوں میں سے ہیں۔ 1- کتے کا بیچنا۔ اس لیے کہ یہ ناپاک اور خبیث ہے۔ 2- بعینہ فاحشہ عورت کا اپنے گناہ کے بدلے اجرت لینا، جس سے دین و دنیا دونوں برباد ہوتے ہیں۔ 3- اسی میں جھوٹ اور گمراہ کرنے والے لوگ کی (ٹھگی کرکے) کمائی کرنا بھی شامل ہے، جن کا دعویٰ ہے کہ وہ غیب جانتے ہیں، کائنات میں تصرف کرتے ہیں اور لوگوں کے ذہنوں میں غلط خیالات ڈال کر ان کے اموال حاصل کرکے انہیں باطل طریقے سے کھاتے ہیں۔ یہ تمام خبیث راستے ناجائز اور حرام ہیں اور ان کا اختیار کرنا اور ان کی کمائی لینا بھی حرام ہے۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ نے جائز اور اچھے راستے فراہم کيے ہیں۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک اونٹ پر سوار ہو کر جا رہے تھے، جو بہت تھک چکا تھا۔ انھوں نے ارادہ کیا کہ اسے چھوڑ دیں۔ نبی ﷺ پیچھے سے میرے ساتھ آن ملے۔ آپ ﷺ نے میرے لیے دعا کی اور اونٹ کو مارا، تو وہ ایسے چلنے لگا کہ اس طرح کبھی نہ چلا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اسے مجھے ایک اوقیہ میں بیچ دو۔ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: اس کو مجھے فروخت کر دو! تو میں نے اسے آپ ﷺ کو ایک اوقیہ کے عوض فروخت کردیا اور اس پر سوار ہو کر اپنے اہل وعیال تک جانے کا استثنا کرلیا۔ جب میں پہنچا تو آپ ﷺ کے پاس وہ اونٹ لے کر حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے مجھے اس کی قیمت ادا کر دی۔ پھر میں واپس آگیا۔ آپ ﷺ نے میرے پیچھے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: ”کیا تم نے یہ سمجھا تھا کہ میں نے تم سے تمھارا اونٹ لینے کے لیے بھاؤ تاؤ کیا تھا؟ اپنا اونٹ بھی لے لو اور درہم بھی۔ یہ سب تیرا ہے“۔
متفق علیہجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما ایک غزوے میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ وہ ایک اونٹ پر سوار تھے، جو لاغر و کمزور ہونے کی وجہ سے چلنے اور لشکر والوں کی ہمراہی سے قاصر تھا۔ یہاں تک کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دینے کا ارادہ کر لیا کہ وہ جہاں چاہے چلا جائے؛ کیوںکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں رہ گیا تھا۔ یہ نبی ﷺ کی اپنے صحابہ اور امت کے ساتھ شفقت کا ایک مظہر تھا کہ آپ ﷺ کمزور و ناتواں اور الگ ہو جانے والے افراد کا خیال کرتے ہوئے لشکر کے پیچھے پیچھے چلا کرتے تھے۔ آپ ﷺ پیچھے سے جابر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آن ملے جو کہ اپنے لاغر اونٹ پر سوار تھے۔ آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی اور ان کے اونٹ کو مارا۔ آپ ﷺ کی اس پرشفقت مار نے لاغر و کمزور اونٹ میں طاقت بھر دی، اسے اس سے مدد ملی اور وہ ایسے چلنے لگا، جیسے وہ کبھی چلا ہی نہیں تھا۔ آپ ﷺ چوں کہ گرم گستر اور لطف و مہربانی کے پیکر تھے، اس لیے جابر رضی اللہ کا دل بہلانے اور انہیں باتوں میں لگانے کا فیصلہ کیا، تاکہ سفر آسانی سے کٹ جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ اونٹ ایک اوقیہ کے عوض بیچ دو۔ جابر رضی اللہ عنہ اللہ کے فضل کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے اورانھیں یہ علم تھا کہ اس اونٹ کو نبی ﷺ کے ہاتھوں نہ بیچنے سے ان کے دین میں کوئی کمی نہیں آنی ہے۔ کیوںکہ یہ نبی کی واجب اطاعت میں داخل نہیں۔ دراصل یہ حکم ایسا نہیں تھا کہ اس کی پابندی ضروری ہو۔ اس کے باوجود نبی ﷺ نے ان سے دوبارہ بیچنے کو کہا، تو انہوں نے اسے ایک اوقیہ کے بدلے آپ ﷺ کو بیچ دیا اور شرط لگائی کہ وہ مدینے میں موجود اپنے اہل خانہ تک اس پر سوار ہو کر جائیں گے۔ نبی ﷺ نے ان کی شرط قبول کر لی۔ جب وہ پہنچ گئے تو وہ آپ ﷺ کے پاس اونٹ لے کر آئے اور نبی ﷺ نے انھیں قیمت ادا کر دی۔ جب وہ واپس پلٹے تو آپ ﷺ نے ان کے پیچھے ایک شخص کو بھیجا۔ وہ واپس آئے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ میں نے تمھارے اس اونٹ کو لینے کی لالچ میں تم سے خرید و فروخت کا معاملہ کیا تھا؟۔ اپنا اونٹ لے لو اور دراہم بھی۔ دونوں تمھارے ہیں۔ آپ ﷺ کے فضل و کرم اور آپ ﷺ کے اخلاق اور لطف و مہربانی کو دیکھا جائے تو یہ کوئی انوکھی بات محسوس نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں تو آپ ﷺ سے بہت سے بڑے بڑے واقعات منقول ہیں۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ کے سامنے عزل کا ذکر کیا گیا، تو فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟ یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے۔ اس لیے کہ جس بھی جان کو اللہ کو پیدا کرنا ہے وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا۔
متفق علیہآپ ﷺ کے سامنے عزل کا ذکر ہوا کہ بعض لوگ اپنی بیویوں اور باندیوں کے ساتھ عزل کرتے ہیں۔ تو آپ ﷺ نے استفہامِ انکاری کے طور پر ان سے اس کے کرنے کا سبب دریافت کیا۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اس کام کے کرنے کی وجہ سے باخبر کیا ایک اطمئنان بخش جواب کی شکل میں جس میں انہیں اس سے روکا گیا ہے کہ اللہ نے ہر چیز کو اندازے سے مقرر کر دیا ہے۔ اس لیے تمہارے اس طرح کرنے سے وہ انسان رُک نہیں سکتا جس کی تخلیق اور وجود بخشنا اللہ نے لکھ رکھا ہے، وہ اسباب اور مسببات کو پیدا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی آدمی کی منی سے نطفے کو پیدا کرنا چاہے تو لاشعوری طور پر اس کو اپنی مقرر جگہ لے جاتا ہے۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بغیر شادی کے زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دی، اگر آپ انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔
متفق علیہسعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے عبادت میں زیادہ رغبت رکھنے کی وجہ یہ عبادت کے لیے اپنے آپ کو فارغ کرنا چاہا اور دنیا کی لذتوں سے اپنے آپ کو چھڑانا چاہا۔ تو آپ ﷺ سے بیویوں سے الگ رہنے کی اجازت مانگی، تاکہ اللہ کی عبادت کی طرف متوجہ ہو، آپ ﷺ نے اجازت نہ دی۔ اس لیے کہ دنیا کی خواہشات کو چھوڑ کر عبادت کے لیے اپنے آپ کو فارغ کرنا دین میں غلو ہے اور رہبانیت ہے جس کی شریعت نے مذمت کی ہے۔ صحیح دین یہ ہے کہ نفس کو پاک اشیاء کی شکل میں اس کا حق دیتے ہوئے اللہ تعالی کا حق عبادت ادا کرنا ہے۔ اسی وجہ سے اگر آپ ﷺ عثمان رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دیتے، تو بہت سارے لوگ جو اللہ کی عبادت کرکے مشقت برداشت کرتے ہیں وہ بھی ان کی اتباع کرتے۔
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت نے آکر عرض کیا کہ میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا۔ پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی (اور آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا) تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس کی حاجت نہ ہو تو اس سے میری شادی کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کوئی چیز ہے؟، اس نے عرض کیا: میرے پاس میرے اس تہبند کے سوا کچھ نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اپنا تہبند اسے دے دو گے تو تم بغیر تہبند کے رہ جاؤ گے، لہذا تم کوئی اور چیز تلاش کرو، اس نے عرض کیا: میں کوئی چیز نہیں پا رہا ہوں۔ آپ نے (پھر) فرمایا: تم تلاش کرو، بھلے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ چناں چہ اس نے تلاش کیا لیکن اسے کوئی چیز نہیں ملی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟، اس نے کہا: جی ہاں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہاری شادی اس عورت سے ان سورتوں کے بدلے کر دی جو تمہیں یاد ہے۔
متفق علیہکچھ احکام نبی ﷺ کے ساتھ مخصوص ہیں جو دوسروں کے لئے جائز نہیں: انہیں میں سے آپ ﷺ کا نکاح کرنا بغیر کسی مہر کے اس عورت سے جو خود سے اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کر دیے، چناں چہ آپ ﷺ کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور اس نے اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کر دیا اس امید میں کہ شاید وہ آپ کی ایک بیوی بن سکے۔ آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا لیکن وہ آپ کے دل میں جگہ نہ بنا سکی، لیکن آپ ﷺ نے اسے واپس نہیں کیا تاکہ وہ شرمندہ نہ ہو، لھذا آپ ﷺ نے اس سے اعراض کیا، تو وہ بیٹھ گئی تو ایک شخص کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو حاجت نہیں تو اس سے میرا نکاح کرا دیجئے۔ چوں کہ نکاح میں مہر ضروری ہے اس لئے آپ ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا: کیا تمہارے پاس اسے مہر میں ادا کرنے کے لئے کچھ ہے؟ وہ بولا: میرے اس تہبند کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ اور اگر وہ اپنا ازار اسے مہر میں دے دیتا تو ننگا بچتا، اس کے پاس کوئی ازار نہیں رہتا، اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا: ”تلاش کرو چاہے لو ہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو“۔ جب اس کے پاس(تلاش کرنے کے باوجود) کچھ نہ ملا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تجھے کچھ قرآن یا د ہے؟“ کہنے لگا: ہاں۔ آپ ﷺ نے اس سے کہا: جو کچھ تجھے قرآن یاد ہے اسی کے یا د کرانے کے بدلے میں نے اس کے ساتھ تیرا نکاح کر دیا۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے راستے میں (جہاد کےلیے) ایک گھوڑا کسی کو سواری کے لیے دیا اور جسے دیا تھا، اس نے اس کی حالت بالکل ہی بگاڑ دی ۔ اس لیے میرا ارادہ ہوا کہ میں اسے واپس خرید لوں۔ میرا خیال تھا کہ وہ شخص اسے سستے داموں میں بیچ دے گا۔ اس کے متعلق میں نے نبی ﷺ سے جب پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو، اگرچہ وہ شخص تمھیں وہ گھوڑا ایک درہم میں ہی کیوں نہ دے۔ کیوںکہ کسی کا بطور ہبہ دی گئی شے کو واپس لینا ایسے ہی ہے، جیسے کوئی قے کر کے اسے چاٹ لے۔
متفق علیہعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جہاد فی سبیل اللہ میں کسی شخص کی معاونت کرتے ہوئے اسے ایک گھوڑا دیا؛ تاکہ وہ اس پر بیٹھ کر لڑسکے۔ اس شخص نے اس گھوڑے پر خرچ کرنے میں کوتاہی برتی اور اچھے انداز میں اس کی دیکھ بھال نہیں کی اور اس سے اتنا کام لیا کہ وہ نحیف اور کمزور ہو گیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ ا س سے وہ گھوڑا خرید لیں۔ انھوں نے کہ گھوڑا نحیف اور لاغر ہونے کی وجہ سے سستا میں مل جاۓ گا۔ تاہم نبی ﷺ سے مشورہ لینے سے پہلے انھوں نے اسے خریدنے کی بات نہیں چلائی؛ کیونکہ ان کے دل میں اس سلسلے میں کچھ کھٹکا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں اسے خریدنے سے منع فرما دیا، اگرچہ وہ کم قیمت پر ہی مل رہا ہو؛ کیوںکہ یہ اللہ کی راہ میں دی گئی شے تھی۔ (اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ) اس کے پیچھے نہ لگو اور نہ ہی اس سے کوئی واسطہ رکھو، تاکہ کہیں یہ نہ ہو کہ جسے وہ گھوڑا بطور ہبہ دیا گیا تھا، وہ اس کی قیمت میں تمھارے لیے کچھ کمی کر دے اور اس طرح تم اپنے دیے گئے صدقے کے کچھ حصے کو واپس لینے والے بن جاؤ۔ چوںکہ یہ شے تمھاری ملکیت سے نکل چکی ہے اور اس کی وجہ سے تمھارے گناہ معاف ہوئے اور اس نے تمھیں بہت سی برائیوں اور گندگیوں سے چھٹکارا دیا، اس لیے مناسب نہیں کہ وہ لوٹ کر دوبارہ تمھارے پاس آئے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے اسے خریدنے کو صدقہ دے کر واپس لینے کا نام دیا، حالاںکہ وہ اسے قیمت کے ساتھ خرید رہے تھے۔ اور اسے قے کر کے چاٹنے سے تشبیہ دی ہے، قے یعنی پیٹ میں موجود چیز منہ کے راستہ سے باہر آئے، قے کو دوبارہ لوٹانے سے مراد اسے چاٹنا ہے، اس قسم کی تشبیہ دینے کا مقصد اس فعل سے نفرت پیدا کرنا اور اس کی قباحت کو بیان کرنا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا دیا ہوا ہدیہ واپس لینے والا ایسا ہے جیسے اپنی کی ہوئی قے کو چاٹنے والا ہو“۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: ”جو شخص صدقہ کرکے واپس لیتا ہے وہ اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے پھر چاٹ جاتا ہے“۔
متفق علیہآپ ﷺ نے ہدیہ واپس لینے سے نفرت دلانے کے لیے بہت بُری مثال بیان فرمائی ہے کہ ہدیہ دے کر واپس لینے والا اس کُتے کی طرح ہے جو قے کرے اور اس کی طرف لوٹ کر اسے چاٹتا ہے۔ یہ مثال اس کی بُرائی، شناعت اور اوچھے پن پر دلالت کرتی ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ بیماری کی حالت میں اپنے گھر میں بیٹھ کر نماز پڑھی، کچھ لوگ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو آپ ﷺ نے انھیں اشارہ کیا کہ وہ بیٹھ جائیں۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے، تو فرمایا: ”امام اس لیے بنایاجاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اس لیے جب وہ رکوع میں جائے، تو تم بھی رکوع میں جاؤ اور جب وہ سر اٹھائے، تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہے، تو تم رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے، تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو“۔
متفق علیہاس حدیث میں بیماری کی وجہ سے آپ ﷺ کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ذکر ہے اور اس بات کا بیان ہے کہ مقتدی کیسے امام کی اقتدا اور اتباع کرے۔ نبی ﷺ نے مقتدیوں کو امام متعین کرنے کی حکمت کی طرف توجہ دلائی کہ امام اس لیے ہوتا ہے کہ اس کی اقتدا اور اتباع کی جائےاور نماز کے اعمال میں سے کسی بھی عمل میں اس کی مخالفت نہ کی جائے، بلکہ ایک منظم انداز میں اس کی حرکات و سکنات کا خیال رکھا جائے۔ چنانچہ جب وہ تکبیر تحریمہ کہے، تو تم بھی ایسے ہی کہو، جب وہ رکوع کرے، تو اس کے بعد تم بھی رکوع کرو، جب وہ ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہہ کر تمھیں یاد دہانی کرائے کہ اللہ تعالی اس شخص کی سنتا ہے، جو اس کی حمد بیان کرتا ہے، تو تم ”رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ“ کہہ کر اللہ کی حمد بیان کرو، جب وہ سجدے میں جائے، تو اس کی اتباع میں تم بھی سجدے میں چلے جاو اور جب امام کھڑا ہونے سے قاصر ہو اور بیٹھ کر نماز پڑھے، تو اس کی اتباع میں تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اگرچہ تم میں کھڑے ہونے کی قدرت موجود ہو۔ اس لیے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ مرض میں مبتلا تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ صحابۂ کرام نے یہ سوچا کہ چوںکہ انھیں قیام پر قدرت حاصل ہے، اس لیے ان پر قیام کرنا واجب ہے۔ چنانچہ انھوں نے آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا شروع کر دی۔ اس پر نبی ﷺ نے انھیں اشارہ کیا کہ وہ بیٹھ جائیں۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو کر واپس مڑے، تو ان کی راہ نمائی فرمائی کہ امام کی مخالفت نہیں کی جانی چاہیے، بلکہ اس کی موافقت ہونی چاہیے؛ تاکہ اس کی پوری طرح سے اتباع اور کامل طور پر اقتدا ہو سکے، بایں طور کہ مقتدی قیام کی قدرت رکھنے کے باوجود بیٹھ کر نماز پڑھے؛ کیونکہ اس کا امام بیٹھا ہوا ہے اور قیام نہیں کر سکتا۔ یہ اس وقت ہو گا، جب کہ امام انھیں نماز پڑھانے کا آغاز ہی بیٹھ کر کرے، اس صورت میں وہ اس کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھیں گے۔ وه امام جو مسجد میں ہمیشہ نماز پڑھاتا ہے، وہ اگر کھڑے ہو کر لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کرے، لیکن دوران نماز کسی علت کے لاحق ہونے پر بیٹھ جائے، تو اس صورت میں مقتدیوں کا اس کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پوری کرنا واجب ہے۔ اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے، جس میں مرض الموت میں نبی ﷺ کے ابو بکر رضی اللہ عنہ اور لوگوں کو نماز پڑھانے کا ذکر ہے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ اہلِ مدینہ پھلوں میں ایک، دو اور تین سالوں کے لیے بیعِ سلف (بیع سلم) کرتے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: جسے کسی چیز کی بیع سلم کرنی ہو وه اسے مقررہ پیمانے اور مقرره وزن اور متعينہ مدت تک کے لیے روک کر رکھے۔
متفق علیہنبی ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ مدینہ کے باشندے جو کھیتیوں اور باغات کے مالک تھے بیع سلم کیا کرتے تھے بایں طور کہ وہ قیمت کو پہلے ہی ادا کر دیا کرتے تھے اور پھلوں کی ادائگی کو ایک سال یا دو سال یا تین سال تک موخر رکھتے۔ نبی ﷺ نے انہیں اس معاملے کی اجازت دی اور اسے بیع کی اس قسم میں سے نہیں گردانا جس میں بائع ایسی شے فروخت کرتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی اور جو غرر تک لے جاتی ہے۔ کیونکی بیع سلم کا تعلق ذمہ کے ساتھ ہوتا ہے نہ کہ اشیاء کے ساتھ۔ تاہم نبی ﷺ نے اس معاملے کے کچھ احکامات کی وضاحت فرما دی جو لوگوں کو ان لڑائی جھگڑوں سے بچاتے ہیں جو بعض اوقات مدت کے لمبا ہونے کی وجہ سے پیدا ہو جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جو کسی شے میں بیع سلم کرے اسے چاہئے کہ وہ شرعی طور پر معروف کیل اور وزن کے آلات کے ذریعے اس کی مقدار کا پوری طرح تعین کرے اور اسے ایک مقررہ مدت تک رکھے تاکہ اس کی مقدار اور مدت معلوم ہونے کی وجہ سے لڑائی جھگڑا کا احتمال نہ رہے اور خریدار اپنا حق پوری طرح سے وصول کر لے۔