





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جماعت کے ساتھ نماز اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس درجہ زیادہ افضل ہے“۔
متفق علیہاس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ باجماعت پڑھی جانے والی نماز منفرد شخص کی نماز سے افضل ہے بایں طور کہ با جماعت نماز جس میں بہت زیادہ فوائد اور مصالح ہیں، ثواب کے لحاظ سے منفرد شخص کی نماز سے ستائیس گنا زیادہ افضل ہے کیونکہ حصول مقاصد و فوائد کے اعتبار سے دونوں عملوں میں بہت زیادہ تفاوت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جس نے اس عظیم نفع کو کھو دیا وہ محروم رہا۔
معاذۃ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کیا وجہ ہے کہ حائضہ روزوں کی قضا تو کرتی ہے، لیکن نماز کی قضا نہیں کرتی؟ وہ کہنے لگیں کہ کیا تو حروریہ ہے؟ میں نے کہا کہ میں حروریہ نہیں ہوں بلکہ صرف پوچھ رہی ہوں۔ اس پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ ہمیں حیض آتا، تو ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا البتہ نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
متفق علیہمعاذۃ رضی اللہ عنہا نےعائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ کس وجہ سے شارع علیہ السلا نے حائضہ عورت کے لیے ان روزوں کی قضا فرض کی، جنھیں وہ نہ رکھ سکے؛ تاہم حیض کے دوران چھوٹ جانے والی نمازوں کی قضا اس پر واجب نہیں کی، حالاں کہ دونوں ہی عبادتیں فرض ہیں۔ بلکہ نماز، روزے سے زیادہ بڑی عبادت ہے۔ قضا کے اعتبار سے ان دونوں کے مابین فرق نہ کرنا خوارج کا مذہب تھا، جس میں بے جا سختی اور تنگی تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تو حروریہ ہے کہ تو بھی وہی عقیدہ رکھتی ہے، جو ان کا ہے اورتو بھی اسی طرح سختی چاہتی ہے، جیسے وہ کرتے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں حروریہ نہیں ہوں، بلکہ میرا سوال علم اور راہ نمائی کے حصول کے لیے ہے۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی ﷺ کے زمانے میں ہمیں حیض آتا تھا۔ ہم حیض کے دنوں میں روزے اور نماز چھوڑ دیتے تھے۔ نبی ﷺ ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیتے، لیکن نماز کی قضا کا حکم نہیں دیتے تھے۔ اگر نماز کی قضا واجب ہوتی، تو آپ ﷺ اس پر سکوت نہ فرماتے۔ گویا کہ وہ یہ کہنا چاہ رہی تھیں کہ شارع علیہ السلام کے احکامات کو بجا لانے پراکتفا کرنا چاہیے اور آپ کی وضع کردہ حدود پر رک جانا ہی حکمت و دانائی ہے۔
ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب بیان کرتے ہیں کہ وہ اور ان کے والد، جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور کچھ دیگر لوگ بھی آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے آپ سے غسل کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا کہ(غسل کرنے کے لیے) تمھارے لیے ایک صاع پانی کافی ہے۔ اس پر ایک شخص بولا کہ میرے لیے تو یہ کافی نہیں۔ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے کافی ہوتا تھا، جن کے بال تم سے زیادہ تھے اور جو تم سے بہتر تھے۔ ان کی مراد رسول اللہ ﷺ تھے۔ پھر جابر رضی اللہ عنہ نے صرف ایک کپڑا پہن کر ہمیں نماز پڑھائی۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”رسول اللہ ﷺ (جب غسل فرماتے تو) اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالا کرتے تھے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہابو جعفر محمد بن علی اور ان کے والد، جلیل القدر صحابی جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے پاس کچھ اور لوگ بھی تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے جابر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ غسلِ جنابت کے لیے پانی کی کتنی مقدار کافی ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ”تمھارے لیے ایک صاع پانی کافی ہے“۔ جابر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود لوگوں میں حسن بن محمد بن حنفیہ بھی تھے۔ وہ کہنے لگے کہ غسل جنابت کے لیے میرے لیے اس قدر پانی کافی نہیں ہے۔ اس پر جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اتنا پانی ان کے لیے کافی ہو جایا کرتا تھا، جن کے بال تم سے زیادہ لمبے اور گھنے تھے اور وہ تم سے بہتر تھے اور یقینا ان کو اپنی طہارت اور دین کی تم سے زیادہ فکر تھی۔ ان کی مراد نبی ﷺ تھے۔ اس حدیث میں اتباعِ سنت اور اس بات کی ترغیب ہے کہ دوران غسل پانی کا فضول استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ پھر جابر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔
زیاد بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک شخص کے پاس آئے، جس نے اپنا اونٹ بٹھا رکھا تھا اور اسے نحر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: اسے کھڑا کر کے باندھ دو اور پھر نحر کرو، جیسا کہ محمد ﷺ کی سنت ہے۔
متفق علیہاونٹوں کے سوا گائے اور بھیڑ بکریوں میں سنت یہ ہے کہ انھیں بائیں پہلو پر قبلہ رو لٹا کر حلق کی جگہ سے ذبح کیا جائے۔ جب کہ اونٹوں میں سنت یہ ہے کہ انھیں کھڑا کر کے اور اگلا بایاں پاؤں باندھ کر سینے پر سے نحر کیا جائے کیوںکہ اس طریقے سے اس کی روح جلدی نکل جاتی ہے اور اسے کم تکلیف ہوتی ہے۔ اسی لیے جب عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک ایسے شخص سے گزر ہوا، جو اونٹ کو بٹھا کر نحر کرنا چاہ رہا تھا، تو انھوں نے اس سے فرمایا: اسے کھڑا کر کے باندھ دو (اور پھر نحر کرو)۔ یہی نبی ﷺ کی سنت ہے جنھوں نے اونٹ کو نحر کرنے میں قرآن کے بتائے ہوئے طریقۂ عمل کی پیروی کی کہ: ”فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا“۔(ترجمہ:پھر جب ان کے پہلو زمین سے لگ جائیں)۔ ”وَجَبَتْ“ کا معنی ہے: جب وہ گر پڑیں اور کسی شے کا گرنا تب ہی ہوتا ہے، جب وہ پہلے کھڑی ہو۔
ابو شریح خویلد بن عمرو الخزاعی رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ ! میں لوگوں کو دو ضعیفوں کے حق سے بہت ڈراتا ہوں ( کہ ان میں کوتاہی مت کرنا) ایک یتیم اور دوسری عورت۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں ایک اسلامی اصول پر زور دیا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ کمزور جیسے یتیم اور عورت کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جائے۔ اس حدیث میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے یتیم اور عورت کے حق کا خیال رکھنے پرحد سے زیادہ زور دیا؛ کیوںکہ ان کی کوئی ایسی حیثیت نہیں ہوتی جس کا وہ سہارا لے سکیں اور جس کے ذریعے وہ اپنا دفاع کرسکیں۔ چنانچہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اس شخص کو تنگی، مشکل اور مشقت کی وعید سنائی جس نے ان کی حق تلفی کی۔
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میری گود میں سر رکھ کر قرآن پڑھا کرتے تھے جب کہ میں حالتِ حیض میں ہوتی۔
متفق علیہعائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ وہ حالتِ حیض میں ہوتی تھیں اور نبی ﷺ ان کی گود میں سر رکھ کر قرآن کی تلاوت فرمایا کرتے جو اس بات کی دلیل ہے کہ حائضہ عورت کا جسم پاک ہوتا ہے، یہ حیض کے سبب نجس نہیں ہوتا۔
جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ظہر کی نماز ٹھیک دوپہر میں پڑھا کرتے، عصر کی نماز اس وقت ادا فرماتے جب کہ سورج ابھی صاف اور روشن ہوتا، نماز مغرب وقت ہوتے ہی پڑھ لیتے اور عشا کی نماز کبھی جلدی اور کبھی دیر سے پڑھتے؛ جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں، تو جلدی پڑھتے اور جب دیکھتے کہ لوگوں نے کچھ دیر کردی ہے، تو دیر سے پڑھتےاور صبح کی نماز کو آپ ﷺ اندھیرے میں پڑھایا کرتے تھے۔
متفق علیہاس حدیث میں نمازِ پنجگانہ کی ادائیگی کے افضل وقت کا بیان ہے۔ نماز ِظہر کا وقت تب ہوتا ہے، جب سورج عین وسطِ آسمان سے کچھ ہٹ جائے۔ یہی زوال کا وقت ہوتا ہے۔ یہ ظہر کی نماز کا ابتدائی وقت ہے۔ تاہم اگر گرمی اتنی زیادہ ہو کہ اس سے نمازی متاثر ہوتے ہوں، تو اس صورت میں نماز میں تاخیر کرنا افضل ہے، یہاں تک کہ فضا میں کچھ ٹھنڈک آ جائے جیسا کہ دیگر دلائل میں آیا ہے۔ عصر کی نماز اس وقت ادا کی جاتی ہے، جب سورج ابھی سفید اور صاف ہو اور بوقت غروب پیدا ہونے والی زردی کی اس میں آمیزش نہ ہو ئی ہو۔ اس کا وقت تب شروع ہوتا ہے، جب ہر شے کا سایہ، زوال کا سایہ نکالنے کےبعد اس شے کے مثل ہو جائے۔ مغرب کی نماز اس وقت پڑھی جاتی ہے، جب سورج غروب ہو جائے۔ البتہ عشا کی نماز میں مقتدیوں کی حالت کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اگر وہ عشا کے ابتدائی وقت، یعنی شفق کی سرخی زائل ہو نے پر آ جائیں، تو وہ اس وقت نماز پڑھ لیں اور اگر اس وقت نہ آئیں، تو امام اسے رات کے تقریبا ابتدائی نصف حصے تک موخر کرے۔ اگر دشواری کا اندیشہ نہ ہوتا، تو یہی اس کا افضل وقت تھا۔ صبح کی نماز کا وقت تب ہوتا ہے جب روشنی کی اندھیرے کے ساتھ آمیزش شروع ہوتی ہے۔
امّ قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ اس پر آپ ﷺ نے پانی منگوایا، پھر اس پر چھینٹے مارے اور اسے دھویا نہیں۔
متفق عليهام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں، جو اپنی کم سنی کی وجہ سے ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ بچے نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ اس پر آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور اسے اپنے کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے دھویا نہیں۔
ابو جحیفہ وہب بن عبد اللہ السوائی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: میں نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ چمڑے سے بنے ایک سرخ خیمےمیں مقیم تھے۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ (آپ ﷺ کے) وضو کا پانی لے کر نکلے، تو کوئی ان سے یہ پانی لے رہا تھا اور کوئی اس سے یہ پانی لے رہا تھا، جس نے ان سے لیا تھا۔ پھر نبیﷺ سرخ جبہ زیب تن فرمائے باہر تشریف لائے۔ میں گویا (اب بھی چشم تصور سے) آپ ﷺ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بلال رضی اللہ عنہ نے وضو کیا اور اذان دی۔ وہ کہتے ہیں: میں ان کے منہ کےساتھ ساتھ اپنے منہ کو ادھر ادھر پھیرنے لگا۔ وہ دائیں بائیں منہ کر کے حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کہہ رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ کے لیے (بطور سترہ) ایک چھڑی گاڑ دی گئی۔ آپ ﷺ آگے بڑھے اور ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں۔ مدینہ واپس تشریف لے آنے تک آپ ﷺ دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔
متفق علیہنبی ﷺ بالائی مکہ کے ایک کشادہ مقام پر مقیم تھے۔ بلال رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے وضو کے باقی ماندہ پانی کو لے کر باہر آئے، تو لوگ اس سے برکت حاصل کرنا شروع کر دیے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بلال رضی اللہ عنہ کے منہ کو دیکھنے لگا۔ وہ ”حی علی الصلوۃ“ اور ”حی علی الفلاح“ کہتے ہوئے دائیں بائیں مڑ رہے تھے؛ تاکہ سب لوگوں کو یہ سنائی دے سکیں، کیوں کہ ان دونوں جملوں میں نماز کے لیے آنے کی ترغیب ہے۔ پھر نبی ﷺ کے لیے ایک چھوٹا سا نیزہ گاڑ دیا گیا؛ تا کہ وہ آپ ﷺ کی نماز کے دوران سترہ کا کام دے۔ پھر آپ ﷺ نے ظہر کی دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ مسافر ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ جب تک مدینہ واپس نہیں آگئے، تب تک چار رکعت والی نماز کو دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔