





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عائشہ رضی اللہ عنہا اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ ﷺ کے قدم پھٹ جاتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے پوچھا: آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی سب خطائیں معاف کر دی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا پھر میں شکرگزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟“
متفق علیہنبی ﷺ رات کو تہجد کی نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ ﷺ کے قدم مبارک پھٹ جاتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے -یہ گمان کرتے ہوئے کہ آپ ﷺ ایسا گناہ کے خوف سے اور مغفرت اوررحمت کی طلب میں کرتے ہیں؛ حالاں کہ آپ کے لیے تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت پکی ہو چکی ہے اور آپ ﷺ کو اس کی ضرورت نہیں ہے- آپ ﷺ سے عرض کی کہ اے اللہ کےرسول ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی سب خطائیں معاف کر دی ہیں، تو پھر آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟۔ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ کیا میں شکز گزار بندہ نہ بنوں؟ یہ عبادت مغفرت پر اظہار شکر کے لیے ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نجاشی کی نمازِ جنازہ پڑھی تو میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔
متفق علیہجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی اور وہ خود ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے نمازہ جنازہ پڑھی تھی لیکن ان کو یہ یاد نہیں کہ وہ دوسری صف میں تھے یا تیسری میں۔اور یہ شک ان (جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) کا ہے راوی کا نہیں۔
ابو ہریرہ اور جابر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جنگ ایک چال ہوتی ہے“۔
متفق علیہ”الحَرْبُ خَدْعَة“ کا مطلب یہ ہے کہ جنگ میں کفار کو تکلیف پہنچانے اور مسلمانوں کے نقصان کو دور کرنے کے لیے انہیں دھوکہ دینا اور ان کے لئے تدبیر کرنا جائز ہے۔ یہ شریعت میں ممنوع نہیں، بلکہ یہ شریعت کے مطلوبہ امور میں سے ہے۔ ابن المنیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک اچھی اور کام یاب جنگ وہ ہوتی ہے، جو آمنے سامنے کی لڑائی کی بجاۓ چالوں پر مشتمل ہو، کیوں کہ آمنے سامنے کی لڑائی میں خطرہ ہوتا ہے اور چال اور دھوکے میں بغیر خطرے کے کامیابی حاصل ہوجاتی ہے۔ ”الخدعة“ میں غدر شامل نہیں۔ غدر سے مراد اہلِ اسلام اور ان کے دشمنوں کے درمیان ہونے والے اتفاق اور وعدے کی مخالفت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِيَانَةً فَانبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ﴾ ”اور اگر تجھے کسی قوم کی خیانت کا ڈر ہو تو برابری کی حالت میں ان کا عہدنامہ توڑ دے“۔ یعنی اگر تمہارے اور دشمنوں کے درمیان کوئی عہد ہو تو جنگ سے پہلے ان کو معاہدہ ختم ہونے کے بارے میں بتا دو، تاکہ تم اور وہ دونوں برابر ہو جاؤ۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! اگرمیں ابوسلمہ رضی اللہ عنہ (ان کے پہلے شوہر) کے لڑکوں پر خرچ کروں تو کیا مجھے اس پر اجر ملے گا۔ میں انھیں اس محتاجی میں دیکھ نہیں سکتی،کیوں کہ وہ میرے بیٹے ہی تو ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! تمہیں ہر اس چیز کا ثواب ملے گا، جو تم ان پر خرچ کرو گی۔
متفق علیہام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اگر میں ابو سلمہ سے ہونے والے اپنے بچوں پر خرچ کروں اور ان کی کفایت کروں، تو کیا مجھے اس پر اخروی اعتبار سے ثواب ملے گا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ میں انھیں تلاش رزق میں ادھر ادھر پھرتے ہوئے نہیں چھوڑ سکتی یا پھر مجھے ایسا کرنے پر کوئی اجر نہیں ملے گا؛ کیوں کہ میں ایسا ان پر شفقت کی وجہ سے کر رہی ہوں گی، کیوں کہ وہ میرے بیٹے ہیں؟ نبی ﷺ نے انھیں بتایا کہ ان پر خرچ کرنے کا انھیں اجر ملے گا۔
سعيد بن الحارث روايت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ایسی چیز کے (کھانے کے بعد) جو آگ پر پکی ہو وضو کے متعلق پوچھا (کہ کیا ایسی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟) تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی ﷺ کے زمانہ میں ہمیں اس طرح کا کھانا بہت کم میسر آتا تھا اور اگر میسر آبھی جاتا تھا تو سوائے ہماری ہتھیلیوں، بازوؤں اور پاؤں کے کوئی رومال نہیں ہوتا تھا (اور ہم انہی سے اپنے ہاتھ صاف کر کے) نماز پڑھ لیتے تھے اور (دوبارہ) وضو نہیں کرتے تھے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔سعید بن الحارث نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے اس چیز کے کھانے کے بعد وضو کے بارے میں پوچھا جسے آگ پر پکایا یا بھونا گیا ہو کہ آیا اس پر پھر سے وضو کرنا واجب ہے یا نہیں؟ جابر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس طرح کی شے کھانے سے وضو کرنا واجب نہیں ہوتا۔ پھر انہوں نے اس کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نبی ﷺ کے زمانے میں اس طرح کا کھانا بہت کم میسر آیا کرتا تھا اور جب کبھی ہمیں ایسا کھانا مل جاتا تو (کھانے کے بعد) کھانے کی چکنائی کو صاف کرنے کے لیے ہمارے پاس رومال نہیں ہوتے تھے بلکہ ہم اپنی انگلیوں کو چاٹ کر انہیں اپنی ہتھیلیوں، بازؤوں اور پاؤں کے ساتھ پونچھ لیا کرتے تھے اور پھر نماز پڑھ لیتے اور نئے سرے سے وضو نہیں کرتے تھے۔
ابوہریرہ، ابو قتادہ اور ابو ابراہیم اشھلی اپنے والد ‘جو کہ صحابی ہیں رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک جنازے کی نماز پڑھائی اور آپ نے یہ دعا پڑھی: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَصَغِيرنَا وَكَبيرنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، وشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الإسْلاَمِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوفَّهُ عَلَى الإيمَان، اللَّهُمَّ لاَ تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ، وَلاَ تَفْتِنَّا بَعدَهُ“ اے اللہ! ہمارے زندہ اور مردہ کو، ہمارے چھوٹے اور بڑے کو، ہمارے مردوں اور عورتوں کو، ہمارے حاضر اور غائب سب کو بخش دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جس کو تو زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور ہم میں سے جسے موت دے اسے ایمان پر موت دے۔ اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر اور ہمیں اس کے بعد کسی فتنے میں مبتلا نہ کر۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ جب جنازہ پڑھاتے تو اِس مفہوم کی دعا فرماتے: اے اللہ! مسلمان معاشرے میں ہمارے تمام زندوں اور مُردوں، ہمارے چھوٹوں اور بڑوں، ہمارے مردوں اور عورتوں اور حاضرین و غائبین کی مغفرت فرما۔ اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے اسے اسلامی احکام پر عمل کرتے ہوئے زندہ رکھ اور جسے تو موت دے اسے ایمان کی حالت میں موت دے۔ یا اللہ! ہمیں مصیبت کے اجر سے محروم نہ فرما اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر۔
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک مسلمان شخص کی نماز جنازہ پڑھائی۔ میں نے آپ ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا: ”اللَّهُمَّ إنَّ فُلانَ ابْنَ فُلانٍ في ذِمَتِّكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ فِتْنَةَ القَبْرِ، وَعذَابَ النَّار، وَأَنْتَ أهْلُ الوَفَاءِ وَالحَمْدِ؛ اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، إنَّكَ أنْتَ الغَفُورُ الرَّحيمُ“ اے اللہ! فلاں بن فلاں تیری امان میں اور تیری حفاظت کی پناہ میں ہے، تو اسے قبر کی آزمائش اور جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما، تو وعدے کو پورا کرنے والا اور لائق ستائش ہے۔ اے اللہ! تو اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما، بے شک تو بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے ایک مسلمان شخص کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں دعا فرمائی جس کا مفہوم یہ ہے: اے اللہ! فلاں بن فلاں تیرے حفظ و امان میں ہے اور تیری مغفرت کا طلب گار ہے۔ لہٰذا قبر میں بطور امتحان پوچھے جانے والے سوال پر اسے ثابت قدم رکھ اور اسے آگ کے عذاب سے نجات دے، بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا اور تو حق والا ہے۔ اے اللہ! پس تو اسے بخش دے، اور اس پر رحم فرما، یقیناً تو گناہوں کو بہت زیادہ معاف کرنے والا، اور نیکیوں کو قبول کر کے اور انہیں کئی چند کرکے بہت ہی رحمت کرنے والا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو آخری سانسیں لے رہے تھے۔ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔ اس پر عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے کہا کہ اللہ کے رسول! آپ بھی رو رہے ہیں؟! آپ ﷺ نے فرمایا: اے عوف کے بیٹے! یہ تو رحمت ہے۔ پھر آپ ﷺ نے مزید فرمایا: ”آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے پر زبان سے ہم وہی کہیں گے جو ہمارے پروردگار کو پسند ہے، اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں“۔
متفق علیہرسول اللہ ﷺ اپنے بیٹے ابراہیم کے پاس تشریف لائے جو قریب المرگ تھے۔ اس پر آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے۔ یہ دیکھ کر عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے تعجب بھرے انداز میں کہا کہ: یا رسول اللہ! آپ بھی ایسے کر رہے ہیں؟ یعنی لوگ مصیبت پر صبر نہیں کرتے اور آپ ﷺ بھی انہی کی طرح کر رہے ہیں؟۔ گویا کہ ان کو آپ ﷺ کے اس فعل سے تعجب ہوا کیونکہ انہوں نے تو یہی دیکھا تھا کہ آپ ﷺ انہیں صبر کی تلقین کرتے رہتے ہیں اور انہیں بے صبری سے منع کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ رحم دلی کی وجہ سے ہے یعنی جو حالت تم نے دیکھی یہ بچے پر شفقت کی بدولت ہے۔ پھر آپ نے مزید فرمایا کہ آنکھ سے آنسو جاری ہیں، دل غمزدہ ہے تاہم ہم کہیں گے وہی بات جو ہمارے رب کو راضی کرے گی یعنی ہم (اللہ کی رضا پر) ناگواری کا اظہار نہیں کریں گے بلکہ صبر کریں گے۔ اور اے ابراہیم! ہم تیری جدائی کی وجہ سے غمگین ہیں۔ رحم دلی صبر اور تقدیر پر ایمان کے منافی نہیں ہے۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے کہ اسی اثناء میں ایک شخص آیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: اے فلاں! کیا تو نے نماز پڑھی؟ اس نے جواب دیا:نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اٹھو اور دو رکعت پڑھ لو۔
متفق علیہسُلیک غطفانی رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں داخل ہوئے جب کہ نبی ﷺ لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ وہ خطبہ سننے کے لئے بیٹھ گئے اور تحیۃ المسجد کی نماز نہ پڑھی؛ یا تو اس وجہ سے کہ وہ اس کے حکم سے واقف نہیں تھے یا پھر اس لئے کہ ان کے گمان میں خطبہ سننا زیادہ اہم تھا۔ نبیﷺ اگرچہ وعظ و نصیحت اور خطبہ دینے میں مصروف تھے لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ انہیں تعلیم دینے سے نہ رکے بلکہ آپ ﷺ نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے فلاں! کیا میرے دیکھنے سے پہلے تم نے مسجد کے ایک گوشے میں نماز پڑھ لی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ: نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ اور دو رکعت نماز پڑھو۔ مسلم شریف کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ: آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ یہ دو رکعتیں ہلکی پڑھیں۔ آپ ﷺ نے ایک بڑے مجمع کے سامنے یہ کہا تھا تاکہ اس آدمی کو ضرورت کے وقت تعلیم دیں، اور تا کہ یہ تعلیم سب حاضرین کے لئے ہو جائے۔ لہذا جو شخص مسجد میں آئے اور خطیب خطبہ دے رہا ہو تو اس کے لئے مشروع یہ ہے کہ وہ تحیۃ المسجد کی نماز پڑھے۔ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے اور اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ: تم میں سے جب کوئی جمعہ کے دن (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ دو رکعت پڑھ لے۔ اسی لئے علامہ نووی رحمہ اللہ نے صحیح مسلم کی شرح میں آپ ﷺ کے اس فرمان:" تم میں سے جب کوئی جمعہ کے دن (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ دو رکعت مختصرپڑھ لے۔" فرمایا کہ: یہ نص ہے جس میں تاویل کا کوئی راستہ نہیں۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایسا عالم بھی ہو گا جس کے پاس یہ الفاظ پہنچیں اور وہ ان کوصحیح جانے اور پھر بھی ان کی مخالفت کرے۔