





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! کس طرح کے صدقہ میں سب سے زیادہ ثواب ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس صدقہ میں جسے تم صحت کے ساتھ بخل کے باوجود کرو، تمہیں ایک طرف تو فقیری کا ڈر ہو اور دوسری طرف مال دار بننے کی امید ہو اور (اس صدقہ خیرات میں ) سستی نہیں ہونی چاہیے کہ جب جان حلق تک آجائے تو اس وقت تم کہنے لگو کہ فلاں کے لیے اتنا اور فلاں کے لیے اتنا ہے، حالانکہ وہ تو فلاں کا ہوچکا ہو گا“۔
متفق علیہایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ کون سا صدقہ سب سے افضل ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (افضل ترین صدقہ یہ ہے) کہ تم صحت مندی کی حالت میں تنگ دلی (بخل) کے ساتھ صدقہ کرو بایں طورکہ زندگی لمبی ہونے کی صورت میں تمہیں فقر کا اندیشہ ہو اور امیری کی تمنا بھی تمہارے دل میں ہو اور صدقہ کرنے میں تاخیر نہ کرو یہاں تک کہ جب موت آپہنچے اورتمہیں یقین ہو جائے کہ اب دنیا سے جانے کا وقت آ گیا ہے تو تم کہو کہ اتنا مال فلاں کے لیے بطور صدقہ ہے یا ازراہ وصیت اسے دے دیا جائے اور اُتنا مال فلاں کو بطور صدقہ یا ازراہ وصیت دے دیا جائے حالانکہ اب تو مال تمہارے غیر کا ہو ہی چکا جو تمہارا وارث بنے گا۔
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بائيں ہاتھ میں ریشم اور دائيں ہاتھ میں سونا لیا، انھیں لے کو دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اور فرمایا : "یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں کے حق میں حرام ہیں اور عورتوں کے حق میں حلال ہیں۔"
رواه أبو داود والنسائي وابن ماجهنبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے بائيں ہاتھ میں ریشم یا ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا اور دائيں ہاتھ میں سونا کا زیور وغیرہ لیا اور فرمایا : بلاشبہ ریشم اور سونا پہننا مردوں پر حرام ہے۔ البتہ عورتوں کے لیے حلال ہے۔
ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کو کھانے کی دعوت دی جو اس نے آپ کے لیے تیار کیا تھا۔ آپ (مدعوین میں) پانچویں تھے۔ تو ان کے ساتھ ایک آدمی اور شامل ہوگیا۔ جب آپ ﷺ (داعی کے) دروازے پر پہنچے تو اس سے فرمایا: ”یہ شخص ہمارے ساتھ چلا آیا ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے اجازت دے دیں اور اگر چاہیں تو یہ واپس چلا جائے“۔ اس نے کہا: (نہیں) اے اللہ کے رسول! بلکہ میں اسے اجازت دیتا ہوں۔
متفق علیہایک شخص نے آپ ﷺ کو کھانے پر بُلایا۔ کُل مہمان پانچ تھے، ان کے ساتھ ایک چھٹا شخص بھی چلا آیا۔ آپ ﷺ جب میزبان کے گھر تشریف لائے تو چھٹے شخص کی اجازت مانگی اور فرمایا یہ شخص ہمارے پیچھے چلا آیا ہے، اگر آپ چاہیں تو اس کو اجازت دیدیں، اور اگر چاہیں تو یہ واپس چلا جائے۔ میزبان نے آپ ﷺ کے احترام میں اس شخص کو اجازت دیدی۔
کعب ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہیں بیان کرتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ تین انگلیوں سے کھانا کھایا کرتے تھے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے تو انھیں چاٹ لیا کرتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ تین انگلیوں سے کھانا تناول فرمایا کرتے تھے۔ یہ تین انگلیاں درمیانی انگلی، تشہد کی انگلی اور انگوٹھا ہوتا تھا۔ اس طرح سے کھانا للچائے ہوئے انداز میں نہ کھانے کی دلیل ہے۔ جب آپ ﷺ کھانے سے فارغ ہو جاتے تو اپنی انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے۔ چنانچہ مستحب ہے کہ تین انگلیوں سے کھایا جائے سوائے اس کے کہ کھانا ایسا ہو جسے تین انگلیوں سے کھانا ممکن نہ ہو۔ اس صورت میں ویسے کھایا جائے جیسے سہولت ہو۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ روزے سے نہیں تھے۔ ہم نے ایک گرم دن میں ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ ہم میں سے سب سے زیادہ سایہ اسے میسر تھا جو چادر والا تھا۔ کچھ لوگ ہم میں سے ایسے بھی تھے جو اپنے ہاتھ سے سورج کی تپش سے بچ رہے تھے۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا وہ تو گر گئے اور جنہوں نے روزہ نہیں رکھا تھا وہ قائم رہے، انہوں نے خیمے لگائے اور سواریوں کو پانی پلایا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج تو روزہ نہ رکھنے والے اجر وثواب لے گئے“۔
متفق علیہصحابہ کرام ایک سفر میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھے۔ ممکن ہے کہ یہ غزوہ فتح مکہ کا ہو، ان میں سے بعض نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا اور بعض روزہ دار تھے۔ نبی ﷺ نے ہر ایک کو اس کی حالت پر رہنے دیا۔ سخت گرمی کے دن میں انہوں نے ایک جگہ سفر کی مشقت اور دوپہر کی گرمی سے کچھ راحت پانے کے لئے پڑاؤ کیا۔ جب انہوں نے اس گرمی میں پڑاؤ کیا تو روزہ دار لوگ گرمی اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر گر پڑے اور کوئی کام نہ کر سکے،جب کہ جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا انہوں نے اٹھ کر خیمے نصب کر کے پڑاؤ کی جگہیں بنائیں،اونٹوں کو پانی پلایا اور اپنے روزہ دار بھائیوں کی خدمت کی۔ نبی ﷺ نے جب ان کے اس عمل کو اور جس طرح سے انہوں ںے اہل لشکر کی خدمت کی تھی اسے دیکھا تو آپ ﷺ نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان کی فضیلت اور اجر میں زیادتی کو بیان کیا اور فرمایا: ”آج تو جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا تھا وہ اجر و ثواب لے گئے“۔
عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو غنیمت دی تھی آپ ﷺ نے اسے لوگوں اور ان افراد کے مابین تقسیم کر دیا جن کی تالیف قلبی مقصود تھی اور انصار کو اس میں سے کچھ بھی نہ دیا۔ اس کا انہیں کچھ ملال ہوا کہ لوگوں کو جو مال ملا وہ انہیں نہیں ملا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی؟ کیا ایسا نہیں تھا کہ تم بکھرے ہوئے تھے اور اللہ نے میرے ذریعے تمہیں باہم دگر جوڑ دیا؟ کیا تم محتاج نہیں تھے کہ پھر میرے ذریعہ اللہ نے تمہیں غنی کردیا؟ آپ ﷺ کے ہر جملے پر انصار بس یہی کہتے جاتے تھے کہ: اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر سب سے زیادہ احسان ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میری باتوں کا جواب دینے سے تمہیں کون سی شے روک رہی ہے؟ صحابہ کرام نے پھر یہی جواب دیا کہ: اللہ اور اس کے رسول کا ہم پر سب سےزیادہ احسان ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہتے تو مجھ سے کہہ سکتےتھے کہ آپ ہمارے پاس اس اس حال میں آئے تھے (کہ لوگ آپ کو جھٹلا رہے تھے، لیکن ہم نے آپ کی تصدیق کی وغیرہ)۔ کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب لوگ بکریاں اور اونٹ لے جا رہے ہوں تو تم اپنے گھروں کی طرف اللہ کے رسول کو ساتھ لے جاؤ؟ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک آدمی ہوتا۔ اگر لوگ ایک وادی اور گھاٹی میں رہیں میں انصار کی وادی اور گھاٹی میں رہوں گا۔ انصار استر کی طرح ہیں (جو جسم سے ہمیشہ لگا رہتا ہے) اور دیگر لوگ ابرہ کی طرح۔ تم لوگ (انصار) دیکھوگے کہ میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ تم ایسے وقت میں صبر کر نا یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو۔
متفق علیہجب غزوہ حنین میں اللہ تعالی نے اپنے نبی محمد ﷺ کو فتح سے نوازا اور آپ ﷺ کے ہاتھ بہت سارا مال غنيمت آيا تو طائف کا حصار ختم کرنے کے بعد آپ ﷺ اس مال غنیمت کے پاس تشریف لائے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے یہ سارا مال ان لوگوں میں بانٹ دیا جو نئے نئے اسلام لائے تھے تاکہ ان کی دل جوئی ہو جائے۔ یہ بات کچھ انصاری لوگوں کو پسند نہ آئی۔ رہے سرکردہ انصاری صحابہ تو وہ خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ آپﷺ نے جو اقدام کیا ہے وہ برحق ہے۔ جب آپ ﷺ تک ان کی یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کو مال غنیمت دیتے جا رہے ہیں جن کا خون ہماری تلواروں سے ہنوز ٹپک رہا ہے اور ہمیں چھوڑے جا رہے ہیں، تو آپ ﷺ نے انہیں ایک خیمے میں اکٹھا کرنے کا حکم دیا ۔ جب وہ اکٹھے ہو چکے تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ مجھ تک تمہاری کیا بات پہنچی ہے ۔ ۔ اخیر تک کا تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے ان کی بات پر اظہارِ ناگواری کیا اور ساتھ ہی انھوں نے آپ ﷺ کی اور آپ کے لائے ہوئے اسلام کی جو نصرت و مدد کی تھی اس کو بھی تسلیم کیا۔ اس پر وہ خوش ہو گئے اور انہیں معلوم ہو گیا کہ یہ کتنی بڑی نعمت ہے جو اللہ نے اپنے رسول کی صحبت کی شکل میں اور آپ ﷺ کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جانے کی شکل میں ان کے لیے رکھ چھوڑی ہے۔ نیز انھوں نے جو خدمات اور قربانیاں پیش کی ہیں اس پر اللہ نے آخرت میں ان کے لیے جو حصہ محفوظ کر رکھا ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اس بات سےآگاہ کیا کہ آپ ﷺ کے بعد (دوسرے لوگوں کو ) ان پر ترجیح دی جائے گی، جس پر آپ ﷺ نے انہیں صبر کرنے کی تلقین کی۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے دوسرے عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ ایک سال آپ ﷺ نے انہی دنوں میں اعتکاف کیا اور جب اکیسویں تاریخ کی رات آئی۔یہ وہ رات ہے جس کی صبح آپ ﷺ اعتکاف سے باہر آ جاتے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ اب آخری عشرے میں بھی اعتکاف کرے۔ مجھے (قدر کی) یہ رات (خواب میں) دکھائی گئی، لیکن پھر بھلا دی گئی۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ اسی رات کی صبح کو میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں، اس لیے تم لوگ اسے آخری عشرہ کی طاق رات میں تلاش کرو، چنانچہ اسی رات بارش ہوئی، مسجد کی چھت چوں کہ کھجور کی شاخ سے بنی تھی اس لیے ٹپکنے لگی اور خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اکیسویں کی صبح کو رسول اللہ ﷺ کی پیشانی مبارک پر کیچڑ لگی ہوئی تھی۔
متفق علیہابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ لیلۃ القدر کی تلاش میں رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے، ایک سال آپ ﷺ نے اپنی عادت کے مطابق اعتکاف کیا، جب اکیسویں شب تھی، اس کی صبح آپ اعتکاف سے اٹھ جاتے تھے، آپ کو معلوم ہوا کہ لیلۃ القدر آخری عشرے میں ہے۔ آپ نے صحابہ سے کہا جس نے درمیانی عشرے میں میرے ساتھ اعتکاف کیا وہ اپنا اعتکاف جاری رکھے اور آخری عشرے میں بھی اعتکاف بیٹھے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب میں یہ رات بتائی تھی پھر بھُلا دی گئی، تاہم اس سال آپ نے خواب میں اسے دیکھا اس رات کی کچھ علامتیں تھی۔ وہ علامت یہ تھی کہ صبح کی نماز میں آپ نے سجدہ پانی اور مٹی میں فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کا خواب سچ کر دکھایا، اکیسویں شب کو بارش ہوئی اور آپ ﷺ کی مسجد چھپر کی بنی ہوئی تھی اور اس کے ستون کھجور کے تنے کے بنے ہوئے تھے اور چھت کھجور کے چھال کی تھی، بارش کے پانی سے مسجد ٹپکنے لگی، جس کی وجہ سے اکیسویں رمضان کی صبح آپ نے سجدہ پانی اور مٹی میں کیا۔
جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، تو آپ نے ایک جگہ لوگوں کا ہجوم دیکھا کہ ایک شخص پر لوگوں نے سایہ کر رکھا ہے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘، تو لوگوں نے کہا: روزہ دار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔‘‘، مسلم کی ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں: ’’اللہ نے جو تمہیں رخصت دی ہے اس پر عمل کرو۔‘‘
متفق عليهرسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے، تو آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے گرد لوگ جمع تھے اور دھوپ کی شدت اور پیاس کی کثرت کی وجہ سے اس پر سایہ کیا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”یہ روزہ دار ہے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے، اللہ نے جو تمہیں رخصت دی ہے اس پر عمل کرو“۔
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رمضان کے مہینے میں سخت گرمی کے وقت رسول اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، ہم میں سے بعض نے اپنے سر پر سخت گرمی کی وجہ سے ہاتھ رکھ لیا تھا۔ ہمارے درمیان صرف اللہ کے رسول ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔
متفق علیہابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرمارہے ہیں کہ وہ رمضان کے مہینے میں سفر پر نکلے، یہ سخت گرمی کا زمانہ تھا، گرمی کی شدت کی وجہ سے کوئی شخص اپنے سر پر ہاتھ رکھا ہوا تھا تاکہ ہاتھ کے ذریعہ سر، گرمی کی شدت سے بچ جائے۔ ان میں صرف اللہ کے رسولﷺ اور عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔ انھوں نے گرمی کو برداشت کرکے روزہ رکھ لیا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سفر میں اگر مشقت اس حد تک نہ ہو کہ بندہ اس سے ہلاک ہو جائے تو روزہ رکھنا جائز ہے۔