Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
زکوۃ کی بنیاد مساوات اور عدل پر قائم ہے اسی لیے اللہ تعالی نے مالداروں کے ان اموال میں زکوۃ کو واجب کیا جو بڑھنے والے ہوں اور جو بڑھوتری اور اضافے کے لیے تیار کیے گئے ہوں جیسے زمینی پیداوار اور سامان تجارت۔ البتہ وہ اموال جو بڑھتے نہیں ہیں - یعنی وہ اپنے لیے مخصوص اور ذاتی استعمال کے لئے ہوتے ہیں - ان میں صاحب مال پر زکوۃ واجب نہیں ہے۔ کیونکہ یہ مسلمان کی خود اپنی ذات کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔جیسے اس کی سواری مثلا گھوڑا،اونٹ اور گاڑی، اور اسی طرح خدمت کے لئے رکھا گیا غلام، اس کے استعمال میں آنے والے بستر اور برتن۔لیکن اس سے غلام کا صدقہ فطر مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ واجب ہے اگرچہ غلام تجارت کے لئے نہیں ہے، کیوں کہ صدقۂ فطر کا تعلق بدن سے ہوتا ہے نہ کہ مال سے۔
نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو رحمت و شفقت کے بہ سبب صوم وصال سے منع فرمایا۔ تاہم صحابہ چوں کہ فضیلت پانے کی چاہت اور ہر ایسا عمل کرنے کی حرص رکھتے تھے، جو انھیں اللہ کے قریب کر دے، اس لیے ان کی خواہش تھی کہ وہ نبی ﷺ کے صوم وصال میں اقتدا کریں۔ اس لیے وہ کہنے لگے: آپ بھی تو وصال کرتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے انھیں فرمایا کہ انھیں تو ایک ذات کھلاتی اور پلاتی ہے، جس کی وجہ سے انھیں کھانے پینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ تاہم تم میں سے اگر کوئی وصال کرنا چاہے، تو اسے چاہیے کہ وہ سحری کے وقت تک وصال کرے۔ شریعت اسلامی بہت کشادہ اور آسان ہے۔ اس میں نہ کوئی مشکل ہے، نہ مشقت اور نہ ہی غلو اور تعمق۔ کیوں کہ صوم وصال نفس کو عذاب میں مبتلا کرنے اور مشقت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ جب کہ اللہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ نیز یہ کہ آسانی اور سہولت کی وجہ سے عمل زیادہ دیر تک جاری رہتا ہے۔ تھکاوٹ اور اکتاہٹ نہیں ہوتی۔ اس حدیث میں اس عدل کا ذکر ہے، جسے اللہ نے زمین میں رکھا ہے۔ یعنی اللہ کا مطالبۂ عبادت پورا کیا جائے اور نفس کو وہ چیزیں عطا کی جائیں، جو اس کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
چونکہ یوم جمعہ مسلمانوں کے لئے عید کا دن ہے اس لئے نبی ﷺ نے اس دن کو خاص کر کے اس میں روزہ رکھنے یا قیام اللیل کرنے سے منع فرمایا۔ الا یہ کہ وہ شخص اس کے ساتھ ہی اس سے پہلے یا اس کے بعد والے دن بھی روزہ رکھے، یا وہ اس کے معمول کے روزے کے ضمن میں یہ آ جائے۔ یہ ممانعت اس لئے بھی ہے تا کہ عام لوگ کہیں یہ نہ گمان کرنے لگ جائیں کہ جمعہ کے دن بطور خاص زیادہ عبادت کرنا واجب ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ کوئی فرض روزہ جیسے نذر، کفارے یا رمضان کی قضا کا روزہ ہو تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزہ رکھے۔ کیونکہ یہ اس پر قرض ہے اور اس کی طرف سے ادائیگی کی سب سے زیادہ ذمہ داری اس کے قریب ترین رشتہ دار پر آتی ہے۔کیونکہ یہ اس کے ساتھ حسن سلوک، نیکی اور صلہ رحمی میں آتا ہے۔ یہ حکم مستحب ہے نہ کہ واجب۔
اس حدیث کی دو روایات ہیں اور سیاق سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں نہ کہ ایک ہی واقعہ: پہلی روایت: یہ ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ ﷺ کو بتایا کہ اس کی ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے تھے۔ کیا اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے ان کی ادائیگی کرے؟ دوسری روایت: ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی ماں وفات پا گئی ہے اور اس کے ذمہ نذر کا ایک روزہ واجب الادا تھا۔ کیا وہ اس کے طرف سے روزہ رکھ سکتی ہے؟ نبی ﷺ نے دونوں کو فتویٰ دیا کہ وہ اپنے والدین کے ذمہ واجب الاداء روزے رکھیں۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں یہ بات سمجھانے کے لیے اور مزید وضاحت کے لیے ایک مثال دی کہ اگر ان کے والدین کے ذمے کسی آدمی کا کوئی قرض ہوتا تو کیا وہ ان کی طرف سے اسے ادا کرتیں؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ: ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ: یہ روزہ اللہ کا ان کے والدین پر قرض ہے۔ اورجب آدمی کا قرض ادا کیا جاتا ہے تو اللہ کا قرض بدرجۂ اولیٰ ادا کرنا چاہیے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے عرفہ کے دن مقام عرفات میں خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں لوگوں کو جوتے نہ ملنے کی صورت میں موزے پہننے کی اجازت دی اور اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ ٹخنوں کے نیچے سے انہیں کاٹ دیا جائے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے لوگوں کو اجازت دی کہ جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار ہی پہن لے اور اس میں بھی آپ ﷺ نے اسے پھاڑنے کا حکم نہیں دیا۔ یہ شارع (اللہ سبحانہ وتعالیٰ) کی پُر حکمت ذات کی طرف سے دی گئی ایک سہولت تھی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے منقول جانور کے فعل، یا کنویں یا کان میں اترنے کی وجہ سے پیش آنے والے تلف یا نقصان کی ضمان کا حکم بتا رہے ہیں کہ آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ جانور کے کسی عمل کی وجہ سے جو تلف یا نقصان ہو جائے اس میں کسی پر کوئی ضمان نہیں آتی۔ اسی طرح کسی کنویں کی وجہ سے تلف یا نقصان ہونے کی وجہ سے بھی کوئی ضمان نہیں آتی مثلا کوئی شخص کنویں یا کان میں اترے اور ہلاک ہو جائے (تو اس میں کسی پر کوئی ضمان نہیں آئے گی۔) کیونکہ جانور، کنویں اور کان پر ضمان نہیں ڈالی جا سکتی اور نہ ہی ان کے مالک پر ضمان ڈالی جا سکتی ہے جب تک کہ اس کی طرف سے اس میں کوئی زیادتی یا لاپرواہی نہ ہوئی ہو۔ پھر آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ جس شخص کو کوئی خزانہ ملے چاہے وہ کم ہو یا زیادہ اس پر واجب ہے کہ وہ اس میں سے پانچواں حصہ (بطور صدقہ) نکالے کیونکہ اسے یہ مال بغیر کسی مشقت و تکان سے حاصل ہوا ہے۔ خمس نکالنے کے بعد باقی ماندہ اس کی ملکیت ہو گا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ میں ذی الحجہ کے چوتھے دن صبح کو تشریف لائے۔ ان میں سے بعض نے صرف حج کی نیت سے احرام باندھ رکھا تھا اور بعض نے حج و عمرہ دونوں کی نیت سے احرام باندھا تھا۔ آپ ﷺ ان دونوں گروہوں میں سے جو افراد اپنی ہدی کا جانور ساتھ نہیں لائے تھے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے حج کے احرام کو کھول دیں اور احرام کو عمرہ کے لیے باندھ لیں۔ یہ کرنا ان پر گراں گزرا اور انہیں یہ بہت بڑی بات لگی کہ مکمل طور پر حلال ہو جائیں جس سے جماع بھی جائز ہو جاتا ہے اور پھر حج کے لیے احرام باندھیں۔ اسی لیے انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! ہم کون سا تحلل کریں؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پورا تحلل۔ احرام باندھنے سے پہلے پہلے تم پر جو کچھ حرام ہوا تھا وہ سب تمہارے لیے جائز ہے۔ چنانچہ وہ آپ ﷺ کا حکم بجا لائے۔
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما عرفہ سے مزدلفہ تک کے سفر کے دوران نبی ﷺ کے ساتھ پیچھے سوار تھے۔ چنانچہ نبی ﷺ کی چال کا علم سب سے زیادہ انہی کو تھا۔ ان سے آپ ﷺ کے چلنے کے انداز کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ آپ ﷺ لوگوں کی بھیڑ میں آہستہ روی سے چل رہے تھے؛ تاکہ کسی کو تکلیف نہ ہو اور جہاں کشادہ جگہ آتی اور لوگ نہ ہوتے، وہاں اپنی سواری کو حرکت دیتے ہوئے کچھ تیز کر لیتے؛ کیوں کہ اس وقت تیز چلنے سے تکلیف پہنچنے کا اندیشہ نہ ہوتا۔