





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ملا کر پڑھتے۔ اسی طرح مغرب اور عشاء کی بھی ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ہمارے نبی محمد ﷺ پر نازل ہونےوالی شریعت دوسری آسمانی شریعتوں سے آسانی، ازالہ تکلیف و مشقت اور مکلف افراد پر تخفیف کے اعتبار سے سب سے ممتاز ہے۔ ان آسانیوں میں سے ایک حالت سفر میں ایک وقت کی نمازوں کو اکٹھے ایک ساتھ پڑھنا بھی ہے۔ اصول یہی ہے کہ نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا واجب ہے لیکن نبی کریم ﷺ کی یہ عادت تھی کہ جب آپﷺ سفر کرتے تو سفر کو مسلسل جاری رکھنے کے لیے ظہر و عصر کو جمع کرلیتے اور اس میں کبھی جمع تقدیم کرلیتے اور کبھی جمع تاخیر۔ اسی طرح مغرب و عشاء کو جمع تقدیم یا جمع تاخیر کے ذریعے اکٹھا کرلیتے اور ایسا اپنے ساتھ سفر کرنے والوں پر آسانی کی غرض سے کرتے تھے۔ لہذا سفر دو نمازوں کو ایک ہی وقت میں جمع کرنے کا سبب بن جاتا ہے کیوں کہ وہ وقت دونوں نمازوں کی ادائیگی کا وقت بن جاتا ہے اور سفر میں بار بار رکنا اور چلنا مشقت پیدا کرتا ہے اس لیے آسانی کی غرض سے نمازوں کو جمع کرنے کی رخصت دی گئی ہے۔
ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم کوئی شوربے والی چیز پکاؤ تو اس میں پانی کچھ زیادہ کر لیا کرو اور اپنے ہمسائے کا بھی خیال رکھا کرو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث اسلام جس انداز میں پڑوسی کا خیال رکھتا ہے اس کی وضاحت کرتی ہے۔ اسلام انسان کو ترغیب دیتا ہے کہ اگر اللہ نے اسے کشادہ رزق سے نوازا ہو تو وہ اچھے انداز میں اس میں سے کچھ اپنے پڑوسی کو بھی دے۔ کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے:" جب تم شوربے والا سالن پکاؤ تو اس میں پانی کچھ زیادہ کر لو اور اپنے پڑوسیوں کا بھی خیال رکھو۔" یعنی پانی کچھ زیادہ کر لو تاکہ یہ زیادہ ہو جائے اور اس میں سے تمہارے پڑوسیوں میں بھی کچھ بانٹ دیا جائے۔ شوربہ عموما گوشت یا بطورِ سالن استعمال ہونے والی دیگر اشیاء سے تیار ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پاس شوربے کے علاوہ کوئی اور شے ہو تو تب بھی ایسے ہی کرنا چاہیے جیسے پینے کی اشیاء مثلا بچا ہوا دودھ یا اس سے ملتی جلتی کوئی اور شے تو مناسب یہی ہے کہ آپ اس کے ذریعے اپنے پڑوسیوں کا بھی خیال رکھیں کیونکہ ان کا آپ پر حق ہے۔
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”کھاؤ، صدقہ کرو اور پہنو، لیکن اسراف اور تکبر سے بچو“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - امام بخاری نے اسے صیغۂ جزم کے ساتھ تعلیقاً روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث کھانے، پینے اور لباس میں اسراف کی حرمت پر دلالت کرتی ہے اور بغیر دکھاوے اور شہرت کے صدقہ کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ اسراف کا حقیقی معنی ہے: ہر فعل و قول میں حد سے تجاوز کرنا۔ تاہم خرچ کرنے کے معاملے میں حد سے گزرنے میں اسراف کے لفظ کا استعمال زیادہ مشہور ہے۔ یہ حدیث اللہ تعالی کے اس فرمان سے ماخوذ ہے کہ: ﴿وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا﴾ ”کھاؤ اور پیو لیکن اسراف نہ کرو“۔ اس میں بڑائی اور تکبر کی حرمت کا بھی بیان ہے۔ نیز اس میں انسان کے اپنے نفس کے تئیں بہتر تدبیر اختیار کرنے کے فضائل اور دنیا و آخرت کے لحاظ سے روحانی اور جسمانی مصالح کا بیان ہے۔ کسی بھی شے میں اسراف جسم اور معیشت دونوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور زیاں کا باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں انسانی روح کو ضرر پہنچتا ہے؛ کیوں کہ یہ عموما جسم کے تابع ہوتی ہے۔ تکبر سے بھی روح کو ضرر لاحق ہوتا ہے، کیوں کہ اس کی وجہ سے اس میں خود پسندی آتی ہے اور آخرت کے لیے بھی یہ نقصان دہ ہے۔ کیوںکہ یہ گناہ کا سبب ہے اور دنیاوی اعتبار سے بھی یہ ضرر رساں ہے، بایں طور کہ اس کی وجہ سے لوگ نفرت کرنے لگتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تعلیقا روایت کی ہے کہ : ”جو چاہو، کھاؤ اور جو چاہو، پیو، جب تک کہ دو باتیں تم میں نہ آئیں: اسراف اور تکبر“۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ” میں نے نبی ﷺ کی نماز سے زیادہ ہلکی اور زیادہ کامل نماز کبھی کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی“۔
متفق علیہنبی ﷺ آسانی پیدا کرنے کا حکم دیتے اور قول وفعل کے ذریعے اس کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ اورعبادت کے تمام حقوق کا خیال رکھتے ہوئے یعنی اسے مکمل اور پورے طریقے سے ادا کرنے کے ساتھ ساتھ نماز میں تخفیف کرنا بھی آسانی پیدا کرنے ہی میں آتا ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس بات کی نفی کر رہے ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی امام کے پیچھے امام اعظم ﷺ سے زیادہ ہلکی نماز پڑھی ہو بایں طور کہ آپﷺ مقتدیوں کو مشقت میں نہیں ڈالتے تھے۔ وہ نماز سے فارغ ہو جاتے حالانکہ ابھی مزید پڑھنے کی ان میں چاہت باقی ہوتی۔ اسی طرح نبی ﷺ کی نماز سے زیادہ کامل بھی کوئی نماز نہیں۔ نبی ﷺ اسے پورے طریقے سے پڑھتے۔ اس میں کچھ کمی بیشی نہ کرتے بلکہ اس کے واجبات ومستحبات کو ادا کرتے ہوئے اس کو مکمل انداز میں پڑھتے۔ یہ نبی ﷺ کی برکت کے آثار میں سے ہے۔
ابو قلابہ عبد اللہ بن زید الجرمی بصری بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس مالک بن حویرث ہماری اس مسجد میں آئے اور کہنے لگے: میں تمہیں نماز پڑھاؤں گا۔ میرا ارادہ نماز کا نہیں بلکہ (میں صرف تمہیں یہ بتانے کے لئے) نماز پڑھاؤں گا کہ میں ںے رسول اللہ ﷺ کو کیسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو قلابہ سے پوچھا کہ وہ کیسے نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جیسے ہمارے یہ شیخ نماز پڑھتے ہیں۔ وہ جب سجدے سے سر اٹھاتے تو کھڑے ہونے سے پہلے بیٹھ جاتے تھے۔ ان کے شیخ سے ان کی مراد ابو برید عمرو بن سلمہ جرمی تھے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ابو قلابہ کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے ایک صحابی مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہماری مسجد میں آئے اور کہنے لگے: میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ تمہیں ایک نماز پڑھاؤں جس سے میرا مقصد تمہیں عملی طریقے سے نبی ﷺ کی نماز سکھانا ہے تاکہ عملی شکل میں دی گئی تعلیم تمہیں زیادہ سمجھ آئے اور بہتر طور پر ذہن نشین ہو جائے۔ راوی حدیث نے ابو قلابہ سے پوچھا کہ: مالک بن حویرث جنہوں نے آپ کو نبی ﷺ کی نماز سکھائی وہ کیسے نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ ایسے نماز پڑھتے تھے جیسے ہمارے یہ شیخ ابو یزید عمرو بن سلمہ جرمی نماز پڑھتے ہیں۔ وہ جب کھڑے ہونے کے لئے سجدے سے سر اٹھاتے تو کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر کے لئے بیٹھ جاتے تھے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ (فرض) نماز پڑھتے پھر واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو (وہی) نماز پڑھایا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔ایک اور روایت میں ہے کہ نبیﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم نے ’سبّح اسم ربك الأعلى‘، ’والشمس وضحاها‘ اور ’والليل إذا يغشى‘ (جیسی سورتیں ) پڑھ کر نماز کیوں نہیں پڑھائی، کیوں کہ تمہارے پیچھے بوڑھے، کمزور اور حاجت مند بھی نماز پڑھتے ہیں۔
متفق علیہمعاذ بن جبل انصاری رضی اللہ عنہ مدینہ کے ایک گوشے میں بنی سلمہ کے گھروں کی جماعت کراتے تھے۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ خیر کے کاموں میں بہت رغبت رکھتے تھے اس لیے وہ رسول اللہ ﷺ سے محبت اور آپ ﷺ سے دین سیکھنے کے شوق کی وجہ سے نبی ﷺ کے ساتھ نماز باجماعت ادا کرنے کا بڑا حرص رکھتے۔ فرض نماز نبی کریم ﷺ کے پیچھے ادا کرنے کے بعد وہاں سے نکلتے اور اپنی قوم کے پاس آ کر وہی نماز انہیں پڑھاتے۔ جو ان کے لیے نفل ہو جاتی اور لوگوں کی فرض ہوجاتی۔ رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا علم تھا اور آپ ﷺ نے اس کو برقرار رکھا، لیکن ایک دفعہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے لمبی قرأت کردی، جب کہ شریعت اسلامیہ سہولت، آسانی اور عدمِ شدت جیسے اوصاف سے متصف ہے کیوں کہ سختی اور تنگی (لوگوں کو) متنفر کردیتی ہے۔ جب نبی ﷺ کو یہ بات پہنچی کہ معاذ رضی اللہ عنہ لمبی قرأت کرتے ہیں تو انھیں بطور امام قراءت میں تخفیف کی ہدایت دی اور متوسط قراءت کے لیے ان کے سامنے مفصلات ’سبّح اسم ربك الأعلى‘، ’والشمس وضحاها‘ اور ’والليل إذا يغشى‘ جیسی سورتیں بطور مثال بیان کیں۔ کیوں کہ ان کی اقتدا میں سن رشیدہ بوڑھے، کمزور اور ضرورت مند لوگ ہوتے ہیں جن پر لمبی قرأت گراں گزرتی ہے لہذا ان کے ساتھ نرمی اور تخفیف والا معاملہ کرنا بہتر ہے۔ ہاں جب کوئی مسلمان اکیلے نماز ادا کرے تو پھر اپنی مرضی کے مطابق لمبی قراءت کرسکتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نجاشی (بادشاہ) کے فوت ہونے کے دن نبی ﷺ نے اُن کی موت کی خبر دی۔ آپ ﷺ باہر جناہ گاہ کی طرف گئے، لوگوں کے ساتھ صف بندی کی اور چار تکبیرات (نماز جنازہ میں) کہیں۔
متفق علیہنجاشی حبشہ کا بادشاہ تھا جس نے مہاجرین صحابہ کے ساتھ اس وقت بہت نیک سلوک کیا تھا جب انہیں مکہ میں قریش نے بہت تنگ کیا اور بالآخر انہوں نے اہل مدینہ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کر لی۔ پھر اپنی حسنِ نیت، حق کی پیروی اور تکبر سے پرہیز کی وجہ سے اُس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کی موت اپنی سرزمین پر ہی واقع ہوئی اور اس نے نبی ﷺ کو نہیں دیکھا تھا۔ مسلمانوں کے ساتھ اس کے نیک سلوک اور اس کے مرتبے کی بلندی کی وجہ سے اور ایسی جگہ ہونے کی وجہ سے جہاں اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی گئی تھی آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو اس کی وفات کے دن اس کی موت کی خبر دی۔ آپ ﷺ صحابہ کو لے کر جنازہ گاہ کی طرف آئے۔ ایسا نجاشی کی عظمتِ شان کے بیان، اس کے اسلام لانے کے اعلان، اس کی فضیلت کے اظہار، مہاجرین کے ساتھ اس نے جو کچھ کیا تھا اس کے بدلے میں اور اس کی نماز جنازہ کے مجمع کو بڑھانے کے لیے کیا گیا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کے ساتھ صف بندی کی اور اس پر نماز جنازہ ادا کی۔ آپ ﷺ نے اس نماز میں چار تکبیرات کہیں۔ یہ آپ ﷺ کی طرف سے نجاشی کے لیے اللہ کے حضور شفاعت تھی۔
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ (جو بیعت رضوان میں شریک تھے) سے روایت ہے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے ، پھر گھروں کو واپس ہوتے تو دیواروں کا سایہ اتنا نہیں ہوتا تھا کہ ہم اس سایے میں چل سکتے۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔ پھر ہم سایہ تلاش کرتے ہوئے واپس آتے تھے۔
متفق علیہسلمۃ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ذکر کرتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ اول وقت (زوال سے کچھ قبل) میں جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، اس طرح کہ دونوں خطبوں اور نماز سے فارغ ہو کر اپنے گھروں کو لوٹتے تو دیواروں کا اتنا سایہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ چلتے وقت سایہ حاصل کر پاتے۔ دوسری روایت میں ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سورج زائل ہونے کے بعد آپ ﷺ کے ساتھ جمعے کی نماز پڑھ کر واپس لوٹتے تھے۔ علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جمعے کی نماز ظہر کی نماز کے آخری وقت تک پڑھی جاسکتی ہے۔ تاہم افضل اور بہتر یہ ہے کہ زوال کے بعد پڑھی جائے، اس لیے کہ آپ ﷺ کا اکثر یہی معمول تھا، ساتھ ہی اس لیے بھی کہ اس پر تمام علما کا اتفاق ہے۔ البتہ اگر کوئی ضرورت ہو، جیسے سخت گرمی ہو اور سایہ دار جگہ نہ ہو یا زوال سے پہلے جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ ہو، تو زوال سے تھوڑا پہلے جمعے کی نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ دو خطبے دیتے اور دونوں کے درمیان بیٹھا کرتے تھے۔ اور جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کھڑے ہوکر دو خطبے دیتے اور دونوں کے درمیان بیٹھ کر وقفہ کرتے۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہجمعہ کے دن پورے شہر کے لوگوں کا بڑا مجمع ہوتا ہے اس لیے کہ آپ ﷺ اپنی حکمت سے لوگوں کو اس دن دو خطبے دیتے اور ان کو بھلائی کی طرف متوجہ کرتے اور بُرائی سے ڈراتے۔ آپ منبر پر کھڑے ہوکر دو خطبے دیتے، اس لیے کہ کھڑا ہونا تعلیم و وعظ کرنے میں زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ کیونکہ کھڑے ہونے میں اسلام کی قوت اور رونق کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ ﷺ جب پہلے خطبے سے فارغ ہوتے تو آرام کی غرض سے تھوڑا سا بیٹھ جاتے، یوں پہلے خطبے کو دوسرے خطبے سےالگ کردیتے، پھر کھڑے ہوکر دوسرا خطبہ دیتے، تاکہ خطیب تھکے نہیں اور سننے والا اکتائے نہیں۔