





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
جندب بن عبدالله بجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے قربانی کے دن نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا، پھر قربانی کی اور فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے ذبح کردیا، وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا ہے، وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے“۔
متفق علیہنبی کریمﷺ نے قربانی کے دن کی ابتدا نماز سے کی، پھر دوسرے نمبر پر خطبہ دیا اور تیسرے نمبر پر ذبح کیا۔ آپ جب نماز کے لیے نکلتے تو شعائر اسلام کے اظہار، نفع کوعام کرنے اور امت کی تعلیم و تربیت کی غرض سے اپنی قربانی کو بھی ساتھ لے کر جاتے۔ آپ نے قربانی کے احکام و شروط سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس نے عید کی نماز سے پہلے قربانی کی، اس کی قربانی نہیں ہوگی، اسے اس کی جگہ پر دوسرا جانور ذبح کرنا پڑے گا۔ جس نےذبح نہیں کیا ہے، وہ اللہ کے نام سے ذبح کرے، تاکہ وہ ذبح درست ہو اور ذبیحہ حلال ہو۔ مشروع ترتیب یہی ہے، جو اس کے خلاف کرے گا، اس کا عمل درست نہیں ہوگا۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ذبح کا وقت نماز عید کے اختتام سے شروع ہو گا، نماز کا وقت شروع ہونے اور امام کے قربانی کرنے سے نہیں، سوائے اس شخص کے جس پر نماز عید واجب نہیں جیسے کہ مسافر وغیرہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے، پھر اسے صبح اٹھ کر فجر اور ظہر کے درمیان پڑھ لے، تو اسے اسی طرح لکھا جائے گا، گویا اس نے رات ہی کو پڑھا ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حزب کے معنی ہیں کسی چیز کا حصہ۔ اسی سے 'احزاب القرآن' ہے۔ جب انسان رات کی نماز پڑھنے کا معمول رکھتا ہو؛ لیکن رات کی پوری نماز یا اس کا کچھ حصہ پڑھنے سے پہلے سو جائے اور اسے فجر و ظہر کے درمیان پورا کرلے، تو گویا اس نے رات ہی میں پڑھا ہے۔ البتہ اگر رات میں وتر پڑھنے کا معمول رکھتا ہو، تو دن میں وتر نہیں پڑھے گا، بلکہ اسے جفت کی شکل میں ادا کرے گا۔ یعنی ایک رکعت مزید ملا لے گا۔ چنانچہ اس کی عادت تین رکعت پڑھنے کی ہے، تو چار پڑھے گا، پانچ پڑھنے کی ہے، تو چھ پڑھے گا اور اگر سات پڑھنے کی ہے، تو آٹھ پڑھے گا۔ اس کی دلیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے کہ اگر کبھی نیند یا بیماری کی وجہ سےنبی ﷺ کا قیام اللیل رہ جاتا، تو دن میں بارہ رکعت پڑھتےتھے۔ یاد رہے کی قضا سورج نکلنے اور اس کے ایک نیزے کے بقدر بلند ہونے کے بعد دے؛ تاکہ ممنوع وقت میں نماز ادا کرنے سے بچ جائے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے گھر والوں سے سالن مانگا تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس سرکے کے علاوہ کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے وہی منگوایا اور کھانا شروع کردیا اور فرمانے لگے: ”سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے، سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے اپنے گھر والوں سے روٹی کے ساتھ تناول فرمانے کے لئے کوئی سالن مانگا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس سرکے کے علاوہ کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے اسے لانے کے لئے کہا۔ جب سرکہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے اسے کھانا شروع کر دیا اور فرمانے لگے: سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے، سرکہ تو بہت اچھا سالن ہے یہ سرکہ کی تعریف ہے اگرچہ سرکہ ایک مشروب ہے جسے پیا جاتا ہے، لیکن پینے کی شی پر بھی کھانے کے لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿فَمَن شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَن لَّمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي﴾ ”جس نے اس میں سے پی لیا وہ میرے ساتھیوں میں سے نہیں، اور جس نے اسے نہ چکھا (کھایا) وہ میرے ساتھیوں میں سے ہے“۔ اس کے لیے کھانے کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ اس کا ایک ذائقہ ہوتا ہے جسے چکھا جاتا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مؤمن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے اور ان کی ایذا رسانی پر صبر کرتا ہے، اس مؤمن سے بہتر ہے، جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے اور ان کی ایذا رسانی پر صبر نہیں کرتا“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے اور ان سے میل جول بڑھانے کی فضیلت کی دلیل ہے۔ بلاشبہ وہ مومن جو لوگوں کےمسائل کے تئیں انہماک کے ساتھ سرگرم عمل رہتا ہے، ان کے ساتھ میل جول اختیار رکھتا ہے اور اور انھیں نصیحت کرنے اور درست راہ دکھانے میں لاحق مصائب پر صبر و تحمل کا مظاہر کرتا ہے، اس مؤمن سے بہتر ہے جو لوگوں کے ساتھ میل ملاپ نہیں رکھتا، بلکہ ان کے اٹھنے بیٹھنے سے الگ رہتا ہے اور ان سے گوشۂ تنہائی کو ترجیح دیتا ہے یا انفرادی حیثیت سے اپنی زندگی کے شب و روز گزارتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کی جانب سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر نہیں کرتا۔
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ بعض ازواج مطہرات کی عیادت کرتے، اپنا دایاں ہاتھ پھیر کر یوں دعا کیا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ رَبَّ النَّاسِ، أذْهِب البَأسَ، اشْفِ أنْتَ الشَّافِي لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفاؤكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقماً“ اے اللہ انسانوں کے پروردگار! تکلیف کو دور کر دے۔ شفایابی سے نواز کہ تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے علاوہ کوئی شفا نہیں، ایسی شفا جو کسی قسم کی بیماری نہیں چھوڑتی۔
متفق علیہنبی کریم ﷺ جب اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی بیمار بیوی کی عیادت کرتے تو ان کے لیے یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ اور ان پر اپنا دایاں ہاتھ پھیر کر مریض پر یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”اے اللہ جو تمام لوگوں کا پروردگار ہے“ یہاں وہ اللہ عزوجل سے اس کی ربوبیت عامہ کے وسیلہ سے دعا کر رہے ہیں۔ پس وہ رب ہے سبحانہ وتعالی، خالق ہے، مالک ہے اور تمام کاموں کی تدبیر کرنے والا ہے۔ ”تکلیف دور کردے“ یعنی اس مرض کو جو مریض کو لاحق ہے۔ ”شفا“ در اصل مرض کا ازالہ اور مریض کی خلاصی ہے۔ شافی اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ کیوں کہ وہی ہے جو مرض سے شفا دیتا ہے۔ ”اور تیری شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں“ یعنی اللہ کی شفا کے علاوہ کوئی شفا نہیں۔ پس اس کی شفا کسی اور کی نہیں۔ جب کہ مخلوق کی شفا محض ایک سبب ہے۔ شافی صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے شفاۓ کاملہ کا سوال کیا یعنی ایسی شفا جس کے بعد کوئی بیماری باقی نہ رہے۔
ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”اشعری قبیلے کے لوگ جب کسی جنگ میں مفلس ہوجائیں یا پھر مدینہ میں ان کے پاس اپنے اہل و عیال کے لیے توشہ کم ہوجائے تو ان کے پاس جو کچھ بھی ہوتا ہے اسے وہ ایک کپڑے میں جمع کر لیتے ہیں اور پھر اسے ایک برتن میں ڈال کر اپنے مابین برابر تقسیم کرلیتے ہیں ۔ چنانچہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“۔
متفق علیہاشعری لوگ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے قبیلے کے لوگ ہیں۔ جب ان کے پاس کھانے کی کمی ہوتی یا پھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد پر ہوتے تو اپنے کھانے کو اکٹھا کر کے برابر برابر باہم تقسیم کرلیتے ۔ اپنے اس فعل کی وجہ سے وہ اس بات کے سزاوار ٹھہرے کہ ان کی رسول اللہ ﷺ کی طرف شرف و محبت کی نسبت ہو اور آپ ﷺ بھی انہی میں سے ہیں یعنی ایثار و فرمانبرداری کے عظیم اخلاقی صفت کی راہ پر گامزن ہیں۔
عمران بن حصين رضی اللہ عنہ سے روايت ہے کہ: جُہینہ قبیلے کی ایک عورت جو زنا کی وجہ سے حاملہ تھی، نبی ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں (جرم کا ارتکاب کرکے)حد کو پہنچ گئی ہوں، لہٰذا آپ وہ (حد) مجھ پر نافذ فرمائیں۔آپ ﷺ نے اس کے ولی (سرپرست) کو بلایا اور اس سے فرمایا: ”اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، پھر جب یہ بچہ جن لے تو اسے میرے پاس لانا“۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ نبیﷺ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اس کے کپڑے اس پر مضبوطی سے باندھ دیے گئے، پھر آپ ﷺ کے حکم سے اسے رجم (سنگسار) کردیا گیا۔ پھر آپ ﷺنے اس کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ یہ عورت زنا کی وجہ سے حاملہ تھی۔ اس نے عرض کیا: مجھ سے ایسا گناہ سرزد ہوگیا ہے جس سے حد واجب ہوجاتی ہے، لہٰذا آپ وہ (حد) مجھ پر نافذ فرمائیں۔ یعنی وہ خود نبی ﷺ سے یہ چاہ رہی تھی کہ آپ ﷺ اس پر حد نافذ کریں، اور وہ رجم کی حد تھی; کیوں کہ یہ عورت شادی شدہ تھی۔ نبی ﷺ نے اس کے سرپرست کو بلایا اور اس سے فرمایا: ”اس عورت کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور جب یہ بچہ جن لےتو اسے میرے پاس لانا“۔ آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ: ”اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو“ اس لیے تھا کیونکہ آپ ﷺ کو اس عورت پر ان کی طرف سے خوف محسوس ہوا اس لیے کہ انھیں عار اور عزت و آبرو پر غیرت لاحق ہوئی تھی، اورانھیں عار کا لاحق ہونا انہیں اس عورت کو تکلیف دینے پر ابھار سکتا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے متنبہ کرتے ہوئے انہیں اس کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید فرمائی۔ نیز اس پر مزید مہربانی کرتے ہوئے ایسا کیا کیونکہ وہ توبہ کر چکی تھی۔ اور آپ ﷺ نے انہیں اس کے ساتھ حسن سلوک پر ابھارا کیونکہ لوگوں کے دلوں میں ایسی عورت کے بارے میں نفرت ہوتی ہے اور وہ اسے تکلیف دہ باتوں اور طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں۔ چناچہ وضع حمل کے بعد اسے نبی ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ اپنے بچے کا دودھ چھڑانے تک انتظار کرے۔ جب اس نے بچے کا دودھ چھڑا دیا تو وہ آپ ﷺ کے پاس آئی۔ چناں چہ آپ ﷺ نے اس پر حد نافذ کیا۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کے کپڑوں کو اس پر مضبوطی سے باندھ دیا جائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ سنگسار کے وقت تڑپنے کی وجہ سے اس کا ستر ظاہر ہوجائے۔ پھر آپ ﷺ کے حکم کے مطابق اسے رجم کردیا گیا اور آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے کہ: اے محمدﷺ! کیا آپ کو مرض کی شکایت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ”بِسْمِ الله أرْقِيكَ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنِ حَاسِدٍ، اللهُ يَشْفِيكَ، بِسمِ اللهِ أُرقِيكَ“ اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، ہر جاندار اور حسد کرنے والی نگاہ کے شر سے (حفاظت کے لئے)۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے اور پوچھنے لگےکہ کیا آپ کو شکایت ہے یعنی کیا آپ مریض ہیں؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ: ہاں میں مریض ہوں۔ اس پر انھوں نےکہا: اللہ کے نام سے میں آپ پر دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو اذیت پہنچائے، ہر جاندار اور حسد کرنے والی نگاہ کے شر سے حفاظت کے لئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے، میں اللہ کے نام سے آپ پر دم کرتا ہوں۔ یہ اشرف الملائکہ جبرائیل علیہ السلام کی طرف سے نبی ﷺ کے لئے دعا ہے جو اشرف الرسل ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام کے اس قول میں کہ: ”کیا آپ کو مرض کی شکایت ہے؟“ اور آپ ﷺ کے جواب میں کہ: ”ہاں میں مریض ہوں“ اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ جب مریض سے پوچھیں تو اس کے اس طرح کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ میں مریض ہوں۔ اور یہ کہ ایسا کہنا شکوہ شکایت میں نہیں آتا۔ شکوہ تو یہ ہوتا ہے کہ آپ انسانوں کے سامنے اللہ تعالی کی اس انداز میں شکایت کریں کہ مجھے اللہ نے فلاں فلاں بیماری میں مبتلا کر دیا ہے۔ آپ کا مخلوق کے سامنے رب کی شکایت کرنا جائز نہیں ہے۔ اسی لئے یعقوب علیہ السلام نے کہا تھا: ﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّـهِ﴾ ”کہ میں تو اپنی پریشانیوں اور رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں“۔ (یوسف : 86) ”ہر جاندار اور حسد کرنے والی نگاہ کے شر سے (حفاظت کے لئے)۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے“ یعنی تمام بشری و جناتی اور دیگر نفوس کے شر سے اورحسد بھری نظر کے شر سے جسے بعض لوگ صرف نظر کا نام دیتے ہیں کیوں کہ حاسد شخص (العیاذ باللہ) یعنی وہ آدمی جو اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو اپنی نعمتوں سے نوازے اس کا نفس خبیث اور شرانگیز ہوتا ہے اور اس خبیث و شر انگیز نفس سے بعض اوقات ایسی شے کا خروج ہوتا ہے جس کا اثر اس شخص تک پہنچتا ہے جس سے حسد کیا جائے۔ اسی لئے کہا کہ: ”اور ہر حسد کرنے والی نگاہ کے شر سے (حفاظت کے لئے)۔ اللہ تعالیٰ آپ کو شفا دے“ یعنی اللہ اسے ٹھیک کرے اور اس کی وجہ سے پیدا شدہ بیماری کو دور کرے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ: "بسم الله أرقيك"۔ (اس سے پتہ چلتا ہے کہ) انھوں نے دعاء کا آغاز اور اختتام بسم اللہ سے کیا۔
ابو شعثاء رحمہ اللہ بيان کرتے ہيں کہ ہم مسجد میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دی، تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور مسجد سے جانے لگا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بغور اسے دیکھتے رہے حتی کہ وہ مسجد سے نکل گیا، تب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس آدمی نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ابو شعثاء رحمہ اللہ بيان کرتے ہيں کہ ہم لوگ مسجد میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دی، تو اذان کے بعد ایک آدمی کھڑا ہوکر چلنے لگا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کی طرف ديکھنے لگے کہ کيا وہ مسجد سے باہر جانے والا ہے يا وہ کيا چاہتا ہے؟ جب انہيں پتہ چل گیا کہ وہ مسجد سے باہر نکل گیا، تو انھوں نے بتلایا کہ اس آدمی نے اپنے اس فعل کے ذریعہ نبی ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔