





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی شہید کا ہر گناہ معاف کر دیتا ہے سوائے قرض کے۔" ایک دیگر روایت میں آتا ہے کہ ’’ اللہ کے راستے میں قتل ہو جانا ہر شے کا کفارہ بن جاتا ہے سوائے قرض کے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: شہادت تمام چھوٹے بڑے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے سوائے قرض کے۔ شہادت قرض کے بار سے سبکدوش نہیں کرسکتی کیونکہ حقوق العباد کی بہت زیادہ اہمیت ہے خصوصاً وہ حقوق جو مال سے متعلق ہوتے ہیں۔ انسانوں کے نزدیک یہ بہت ہی محبوب چیز ہوتی ہے۔ قرض کے ساتھ مسلمانوں کے وہ حقوق بھی ملحق ہیں جو اس شخص کے ذمہ آتے ہیں جیسے چوری، غصب کرنا اور خیانت وغیرہ۔ جہاد، شہادت اور اس طرح کے دیگر نیک اعمال حقوق العباد کا کفارہ نہیں بنتے بلکہ یہ صرف حقوق اللہ کا کفارہ بنتے ہیں۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ منبر پر تشریف فرما تھے، اور آپ ﷺ نے صدقے اور دوسروں سے سوال کرنے سے بچنے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے،اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہاتھ ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے“۔
متفق علیہرسول اللہﷺ نے صدقے کی فضیلت اور دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کی مذمت بیان کی ہے اور یہ بتایا ہےکہ جو شخص بھلائی کے کاموں میں اپنا مال دیتا اور خرچ کرتا ہے وہ اس شخص سے افضل ہے جو لوگوں سے ان کا مال مانگتا ہے۔
ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی آزاد کر دی اور نبی کریم ﷺ سے (اس کی) اجازت نہیں لی۔ چنانچہ جب نبی کریم ﷺ کے ان کے پاس تشریف لانے (یعنی ان کی باری) کا دن ہوا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے محسوس کیا کہ میں نے اپنی لونڈی آزاد کر دی ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا (واقعی) تو نے ایسا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو اسے اپنے مامووٗں کو دے دیتی تو تیرے لیے زیادہ اجر کا باعث ہوتا“۔
متفق علیہام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا چونکہ یہ جانتی تھیں کہ اللہ کے راستے میں ٖغلام آزاد کرنے کی بڑی فضیلت ہے، اس لیے انہوں نے اپنی ایک باندی کو آزاد کر دیا۔ لیکن اس کی خبر نبی ﷺ كو نہیں دی تھی یا آپ سے اس کو آزاد کرنے کی اجازت نہیں مانگی تھی۔ لہٰذا جب ان کی باری تھی، تو انہوں نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتلادیا۔ آپ نے پوچھا: کیا (واقعی) تو نے ایسا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ میمونہ رضى الله عنها نے آپ کی رائے لیے بنا جو کچھ کیا تھا اس پر آپ نے کوئی نکیر نہیں فرمائی، صرف اتنا فرمایا: ”اگر تو اسے اپنے مامؤوں کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے زیادہ ثواب کا باعث ہوتا“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ: تو نے اچھا کیا، لیکن اگر تو اسےبنی ہلال کے اپنے مامؤوں کو ہبہ کردیتی تو یہ زیادہ ثواب کا باعث ہوتا اور بہتر ہوتا، اس لئے کہ اس میں اپنے قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرنے کے ثواب کے ساتھ صلہ رحمی کا بھی ثواب ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اللہ کے نبی ﷺ سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا اور اس نے آپ ﷺ سے سختی سے مطالبہ کیا (اس گستاخی پر) صحا بہ کرام نے اس کو جھڑکا، رسول الله ﷺ نے (صحا بہ کرام سے ) فرمایا: اسے چھوڑ دو، اس لیے کہ حق دار کو کہنے کا حق حاصل ہے پھر آپ نے فرمایا، اسے اتنی عمر کا جانور دے دو جتنی عمر کا جانور اس کا تھا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس جیسا تو ہم نہیں پاتے البتہ اس سے بہتر اور زیادہ عمر والا ہے آپ نےفرمایا: وہی اسے دے دو اس لیے کہ بہتر لوگ وہ ہیں جو اپنے قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں۔
متفق علیہنبی ﷺ کے ذمہ ایک شخص کا قرض تھا ،آپ ﷺ نے اس آدمی سےایک چھوٹا اونٹ قرض کے طور پر لیا تھا (ایک دن) وہ آدمی آپ ﷺ سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لیے آیا اور اس نے آپ ﷺ قرض کی واپسی کا سختی سے مطالبہ کیا۔ نبی ﷺ کے صحا بہ نے اس کو اس کی گستا خی اورتلخ کلامی پر زد و کوب کرنے کا ارادہ کیا۔ رسول الله ﷺ نے (صحا بہ کرام سے ) فرمایا: اسے چھوڑ دو، اور جو کہنا چاہتا ہے ادب کے دائرے میں کہنے دو، اس لیے کہ حق دار کو جس پر اس کا قرض باقی ہے اسے اس کی ادائیگی کے مطالبہ وغیرہ کا پورا پورا حق حاصل ہے، رہا مسئلہ گالی گلوج اور ایذا رسانی کا تو یہ ایک مسلمان کے اخلاق کے منافی ہے۔ پھر نبی ﷺ نے بعض صحا بہ کو حکم دیا کہ اسے اتنی عمر کا جانور دے دو. صحابہ نے عرض کیا ہم نہیں پاتے مگر اس سے زیادہ عمر والا اونٹ آپ نےفرمایا: اسے زیادہ عمر والا اونٹ ہی دے دو اس لیے کہ اچھے انسان لوگوں کے معاملات میں اور اجرو ثواب کے اعتبار سے بھی وہ ہیں جو اپنے قرض اور حقوق کی ادائیگی میں بہتر ہوں۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں کون ہے وہ شخص کہ جسے اپنے وارث کا مال خود اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ایسا تو کوئی بھی نہیں، ہر کسی کو اپنا ہی مال زیادہ محبوب ہے- آپ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا مال وہی ہے جو اس نے آگے بھیجا (جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا) اور جتنا مال وہ چھوڑ گیا وہ اس کے وارثوں کا ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ اپنے صحابہ سے دریافت کر رہے ہیں کہ تم میں ایسا کون شخص ہوگا جسے اپنے وارث کا مال خود اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو؟ یعنی تم میں سے کون شخص ہے جسے اپنے بعد اپنے وارث کی ملکیت میں آنے والا مال اس مال سے زیادہ محبوب ہے جو اس کی زندگی میں اس کی ملکیت ہے؟ صحابہ نے جواب دیا کہ ہم میں سے ہر کسی کو اس کا اپنا مال ہی زیادہ محبوب ہے۔ یعنی ہر شخص اسی مال کو زیادہ محبوب رکھتا ہے جو اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور جس پر اسے تصرف مطلق حاصل ہوتا ہے بنسبت کسی دوسرے کے مال کے ۔ کیونکہ جو مال اس کی ملکیت ہے وہ اس کی خواہشات و رغبات کے پورا ہونے کا ایک ذریعہ ہوتاہے۔ ”آدمی کا مال وہ ہے جو اس نے آگے بھیجا“ اس سے مراد وہ مال جسے انسان اپنی زندگی میں اپنے اوپر صرف کرتاہے یا پھر نیک اعمال میں لگاتا ہے جیسا کہ حج یا وقف یا پھر کسی مدرسے ، مسجد اور ہسپتال کی تعمیر میں صرف کرتا ہے یا پھر خود اپنے آپ پر اور اپنے اہل خانہ پر خرچ کرتاہے ۔ یہی اس کا حقیقی مال ہوتاہے جسے وہ روز قیامت اپنےسامنے پائے گا (یعنی اسے خرچ کرنے کا اجر اسے ملے گا) ۔ باقی رہا وہ مال جسے وہ اپنی زندگی میں جمع کر کرکے رکھتا ہے اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے وہ اس کے وارثوں کا مال ہوتا ہے جس میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس باب کے معنی میں وہ روایت بھی ہے جسے امام مسلم نے عبداللہ بن شِخیر رضی اللہ عنہ کے طریق سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اس وقت آپ ﷺ سورہ ’أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ‘ پڑھ رہے تھے، آپ ﷺ نے اس وقت فرمایا ابن آدم میرا مال میرا مال کی رٹ لگاتا ہے، کہا ابن آدم تیرا مال اس کے سوا اور کیا ہے جسے تونے کھا پی کر ختم کردیا، یا پہن کر اسے بوسیدہ کردیا یا اسے صدقہ کرکے چلتا بنا۔ تاہم اس کا یہ معنی بھی نہیں ہے کہ انسان اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردے پھر وہ اور اس کے بچے لوگوں کے سامنے دستِ سوال دراز کرتے پھریں، بلکہ حدیث کا مدعا یہ ہے کہ انسان جس طرح اپنے بعد اپنے وارثین کے لیے مال ودولت جمع کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے اسی طرح اپنے ذاتی اخراجات، نیز اپنے اہل و عیال جیسے بیوی بچے اور والدین کے صرفے سے جو رقم زائد ہو اُس سے اپنی آخرت کے لیے بھی زادِ راہ جمع کرنے کی کوشش کرے، اس لیے اُن پر خرچ کرنا واجب ہے اگر اُن پر خرچ نہیں کرے گا تو انسان گناہ گار ہوگا، اس پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جس کی روایت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ”اے ابن آدم! اگر تو اپنے مال کو خرچ کرتا ہے تو یہ تیرے حق میں بہتر ہے اور اگر اُسے روکے رکھتا ہے تو تیرے حق میں بُرا ہے“۔
ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”صبح کے وقت وِتر کی ادائیگی میں جلدی کیا کرو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وتر کی نماز کو رات کے آخری حصے تک مؤخر کرنا مستحب ہے، تاہم وتر مؤخر کرنے والے کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اس کی ادائیگی میں احتیاط کیا کرے اور فجر سے پہلے اسے ادا کر لے۔ اس لیے کہ رات کی نماز کا آخری وقت طلوع فجر ہے۔لہٰذا اگر وتر کی ادائیگی سے پہلے فجر طلوع ہوجائے تو اس سے فضیلت فوت ہوجائے گی۔
ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے پہلے امتوں میں سے ایک شخص کا حساب کیا گیا اور اس کے نامۂ اعمال میں کوئی نیکی نہ ملی سوائے اس کے کہ وہ لوگوں سے لین دین کرتا اور ایک امیر شخص تھا۔ وہ اپنے ملازمین کو حکم دیتا کہ وہ تنگ دست سے درگزر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہم ایسا کرنے کے اس سے زیادہ حق دار ہیں۔ اس سے درگزر کرو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔”حُوسِب رجُل“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک شخص سے اس کے آگے بھیجے گئے اعمال پر حساب لیا۔ "ممن كان قَبْلَكُمْ"۔ یعنی وہ پچھلی امتوں میں سے تھا۔ ”فلم يُوجد له من الخَيْر شَيء“ یعنی اس کے پاس کوئی ایسا نیک عمل نہ نکلا جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث ہو۔ ”إلا أنه كان يُخَالط الناس وكان مُوسِرا“ یعنی وہ لوگوں سے خرید و فروخت اور لین دین کیا کرتا تھا اور امیر شخص تھا۔ ”وكان يأمُر غِلْمَانَه أن يَتَجَاوَزُوا عن المُعْسِر“ یعنی جب لوگوں سے ان کے ذمہ واجب الادا قرض وصول کرنے ہوتے تو وہ اپنے نوکروں سے کہتا کہ تنگ دست یعنی ایسے غریب قرض دار سے نرمی کے ساتھ معاملہ کریں جو قرض ادا کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو بایں طور کہ خوشحالی تک اسے مہلت دیں یا پھر اس کا کچھ قرض کم کردیں۔ ”قال الله -عز وجل-: نحن أحق بذلك منه؛ تَجَاوزُوا عنه“۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کے لوگوں سے اچھے سلوک،ان کے ساتھ مہربانی کا معاملہ کرنے اور ان کے لیے آسانی پیدا کرنے کے بدلے میں اسے معاف فرما دیا۔
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو سلمہ (قبیلہ) نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔ نبی کریم ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان سے فرمایا مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو، تو انہوں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ ہمارا ارادہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنوسلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو، تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں میں ہی رہو تہمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں“۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”تمہارے ہر قدم پر ایک درجہ ہے“۔
امام بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ بنو سلمہ نے مسجد سے دور اپنی جگہ سے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے ناپسند فرمایا تاکہ مدینہ خالی نہ ہو جاۓ جیسا کہ بخاری کی روایت میں ہے۔ اور آپ ﷺ کی یہ خواہش تھی کہ مدینے کو زیادہ سے زیادہ آباد کیا جاۓ تاکہ اس کی وسعت کے باعث منافقین اور مشرکین پر رعب قائم ہو۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو؟، تو انہوں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ! ہمارا ایسا ہی ارادہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنوسلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں“۔ آپ ﷺ نے یہ بات دو مرتبہ کہی۔ اور ان کو بتایا کہ تمہارے ہر قدم پر ایک نیکی یا درجہ ہے۔ ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے سب سے زیادہ اجر کا حقدار وہ ہے جس کا گھر (مسجد سے) دور ہو۔ پوچھا گیا: وہ کیوں اے ابو ہُریرہ؟ تو فرمایا (مسجد تک چلنے والے) قدموں کی کثرت کے باعث۔ (مؤطا امام مالک) پس جو مسجد سے جتنا دور ہوگا یہ اس کے لیے درجات میں بلندی اور گناہوں کے کفارے کا باعث ہو گا۔ یہ فضیلت اس وقت حاصل ہوگی جب کوئی شخص گھر میں اچھی طرح وضو کرے، پھر پیدل جاۓ سوار نہ ہو۔ پھر چاہے قدم تھوڑے ہوں یا زیادہ اس کے لیے ہر قدم پر دو چیزیں لکھی جائیں گی: اس کا ایک درجہ بڑھے گا اور ایک گناہ معاف ہوگا۔ نبی ﷺ کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے اور پھر نماز کے لیے جائے تو جب دایاں پاؤں اٹھاۓ گا تواللہ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا۔ اور جب بایاں پاؤں اٹھائے گا تو اللہ اس کا ایک گناہ معاف کر دے گا۔ پس جو قریب ہوسکے ہو جاۓ اور جو دور ہونا چاہے دور ہو جاۓ“۔ (ابو داود) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: آج رات میرا رب میرے پاس خوبصورت شکل میں آیا - راوی کا بیان ہے کہ میرا گمان ہے اس سے آپ ﷺ کی مراد نیند میں ہے- اور مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ کیا آپ کو یہ علم ہے کہ ملأ اعلی (بلند فرشتے) کس چیز میں تکرار کرتے ہیں؟ تو میں نے کہا ہاں، وہ کفارات اور درجات میں تکرار کر رہے ہیں! پوچھا یہ کفارات اور درجات کیا ہیں؟ کہا: کفارات اور درجات یہ ہیں کہ نماز کے بعد مسجد میں ہی ٹھہرنا اور باجماعت نماز کے لیے پیدل چلنا اور ناپسندیدگی کے باوجود مکمل طور سے وضو کرنا۔ (مسند احمد) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ درجات کا حصول چند باتوں پر منحصر ہے: 1۔ طہارت کے ساتھ مسجد جانا۔ 2۔ ثواب کی نیت۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔ (متفق علیہ)۔ 3۔ گھر سے مسجد جانے ہی کے ارادے سے نکلنا۔ 4۔ سواری کے بجاۓ پیدل جانا سواۓ ایسے شخص کے جسے کوئی عذر لاحق ہو۔
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔“
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو نماز کے لیے جگاتا ہے اور وہ نیند کے غلبے یا زیادہ سستی کی وجہ سے نہیں جاگتی تو اس کے چہرے پر پانی کے ہلکے چھینٹے مارتا ہے، یہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق ہے، اسی طرح اگر عورت اپنے شوہر کے ساتھ ایسا کرے تو وہ بھی رحمت کی مستحق ہوتی ہے۔