





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔ عمررضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ اس پر بہت غصہ ہوئے اور فرمایا: ”وہ اس سے (یعنی اپنی بیوی سے) رجوع کر لے اور اسے روکے رکھے۔ یہاں تک کہ وہ ماہ واری سے پاک ہو جائے، پھر ماہ واری آئے اور پھر پاک ہوجائے۔ اب اگر وہ طلاق دینا مناسب سمجھے، تو اس کی پاکی (طہر) کے زمانے میں اس کے ساتھ ہم بستری سے پہلے طلاق دے سکتا ہے۔ بس یہی وہ وقت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے (مردوں کو) طلاق دینے کا حکم دیا ہے“۔ اور ایک روایت میں ہے: ”یہاں تک کہ اسے اگلا حیض آجائے، اس حیض کے علاوہ جس میں اس نے طلاق دیا ہے“۔ اور ایک روایت میں ہے: ”پس وہ طلاق شمار کی گئی اور عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کے بموجب ان سے رجوع کر لیا“۔
متفق علیہعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حالتِ حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ ان کے والد نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ سخت غصہ ہوئے۔ کیوں کہ انھوں نے حرام طلاق دی تھی، جو سنت کے مطابق نہ تھی۔ آپ نے انھیں رجوع کرنے اور اپنے پاس روکے رکھنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ وہ ماہ واری سے پاک ہو جائیں، پھر ماہ واری آئے اور پھر اس سے پاک ہوجائیں۔ اس کے بعد اب اگر وہ طلاق دینا چاہیں اور اپنے پاس باقی نہ رکھنا چاہیں، تو ان کے ساتھ ہم بستری سے پہلے طلاق دے سکتے ہیں۔ بس یہی وہ وقت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے والے کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ حالتِ حیض میں طلاق کے وقوع کے متعلق علما کا اختلاف ہے؛ جب کہ حالت حیض میں دی ہوئی طلاق حرام اور غیر مسنون ہے۔ اس مسئلے میں قابل اطمئنان قول وہی ہے، جس پر ابوداؤد وغیرہ کی یہ روایت دلالت کرتی ہے: ”اس عورت کو مجھ پر لوٹا دیا اور اسے شمار نہیں کیا“۔ جب کہ اس روایت میں وارد الفاظ نہ تو طلاق واقع ہونے کے بارے میں صریح ہیں اورنہ ہی اس بارے میں کہ اس کے شمار کرنے والے رسولﷺ ہیں۔ جب کہ ایک مشہور اور محکم حدیث میں ہے: ”جس نے کوئی ایسا کام کیا، جس کے بارے میں ہمارا حکم موجود نہیں ہے، تو وہ مردود ہے“۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ولاء کو بیچنے اور اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
متفق علیہ’وَلاء‘ نسب کے رشتے کی طرح ایک رشتہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی خرید و فروخت، ہبہ وغیرہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے اس میں خرید و فروخت وغیرہ کے ذریعے تصرف کرنا جائز نہیں۔یہ آزاد کرنے والے اور آزاد کردہ شخص کے درمیان ایک رابطہ اور تعلق ہے۔ اس کی وجہ سے پہلا شحض دوسرے کا وارث بنتا ہے۔ اس کی خرید و فروخت اور ہبہ سے ممانعت اس لیے ہے کہ نسب کی طرح اسے ختم کرنے سے یہ ختم نہیں ہوتا۔ اگر ایک انسان اپنے سے بھائی کا نسب بیچے تو اس کا بیچنا درست نہیں یا اگر کوئی اپنے بچے سے اس کا نسب بیچے تو یہ بیچنا بھی درست نہیں یا اگر کوئی اپنے چچازاد بھائی سے اس کا نسب بیچے تو یہ بیع بھی درست نہیں، اس لیے کہ نسب کا بیچنا درست نہیں، اسی طرح ’ولاء‘ کا بیچنا بھی درست نہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری بیوی نے ایک ایسے بچے کو جنم دیا ہے جس کا رنگ کالا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں، آپ ﷺ نے پوچھا: ان کے رنگ کیا ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ ان کے رنگ سرخ ہیں۔ آپ ﷺ نے مزید پوچھا کہ کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں، ان میں خاکستری رنگ کے بھی ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ خاکستری رنگ کے اونٹ کہاں سے آ گئے؟ اس نے جواب دیا کہ کوئی رگ ہو گی جس نے انہیں کھینچ لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو پھر اُسے بھی کسی رگ ہی نے کھینچ لیا ہو گا۔
متفق علیہقبیلہ بنی فزارہ کے آیک آدمی کے ہاں بچہ پیدا ہوا جس کا رنگ اپنے ماں باپ سے مختلف تھا۔ اس پر اس کے باپ کے دل میں شک پیدا ہو گیا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس اپنی بیوی پر تہمت لگانے کے لیے حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اس کے ہاں ایک کالے رنگ کے بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔ نبی ﷺ اس کے بتانے سے اس کی مراد سمجھ گئے۔ آپ ﷺ نے اسے قائل کرنے کے لیے اور اس کا وسوسہ دور کرنے کے لیے ایک مثال دی جسے وہ خوب اچھی طرح جانتا اور سمجھتا تھا۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں۔ اس نے اثبات میں جواب دیا تو آپ ﷺ نے مزید دریافت کیا کہ ان کے رنگ کیا ہیں؟اس نے جواب دیا: سرخ۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے جس کا رنگ ان اونٹوں سے مختلف ہو؟ اس نے جواب دیا کہ ان میں خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے۔ آ پ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ اسے یہ رنگ کیسے ملا جو دوسرے اونٹوں سے مختلف ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اسے اس کے آبا و اجداد میں سے کسی رگ نے اپنی طرف کھینچ لیا ہو گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے بیٹے کا معاملہ بھی ایسے ہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تیرے آبا و اجداد میں سے کوئی کالے رنگ کا شخص گزرا ہو جس نے اسے رنگ میں اپنی طرف مائل کر لیا ہو۔ اس درست قیاس پر وہ شخص مطمئن ہو گیا اور اس کے دل میں جو خیالات آ رہے تھے وہ سب زائل ہو گئے۔
عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ام یحیی بنت ابی اھاب سے شادی کی تھی ۔ (وہ بیان کرتے ہیں کہ) ایک سیاہ رنگ والی باندی آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے ۔ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپ نے میری طرف سے منھ پھیر لیا. ميں وہاں سے ہٹ گیا اور پھر آپ کے سامنے جاکر اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب (نکاح) کیسے (باقی رہ سکتا ہے) جب کہ اس عورت کا دعوی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا؟!۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے ام یحی بنت ابی اھاب رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ ایک سیاہ رنگ کی باندی نے آکر انہیں بتایا کہ اس نے انہیں اور ان کی بیوی کو دودھ پلایا تھا اور یہ کہ وہ دونوں رضاعی بہن بھائی ہیں۔ انہوں نے نبی ﷺ کو اس باندی کی یہ بات بتائی اور کہنے لگے کہ وہ اپنے اس دعوی میں جھوٹی ہے۔ نبی ﷺ نے اس باندی کی گواہی کے ہونے کے باوجود عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کی اپنی بیوی کے ساتھ رہنے کی رغبت کو ناپسند کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اب کیسے اپنی بیوی کے ساتھ رہ سکتے ہو حالانکہ اس عورت کا یہ سب کچھ کہنا ہے اور جو کچھ وہ جانتی ہے اس کی وہ گواہی دے چکی ہے؟!۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے سال میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میں سخت بیمار تھا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول (ﷺ)! میرا مرض شدت اختیار کر چکا ہے۔ میرے پاس مال و اسباب بہت ہے اور میری صرف ایک لڑکی ہے، جو وارث ہو گی۔ تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کو خیرات کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں! میں نے کہا: آدھا؟ آپﷺ نے فرمایا: نہیں! میں نے کہا: ایک تہائی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک تہائی کر دو اور یہ بھی بہت ہے۔ تو اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مال دار چھوڑ جائے، یہ اس سے بہتر ہو گا کہ تو انھیں اس طرح محتاجی کی حالت میں چھوڑ کر جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ یاد رکھو، جو خرچ بھی تم اللہ کی رضا کی نیت سے کرو گے، اس پر تمھیں ثواب ملے گا، حتیٰ کہ اس لقمہ پر بھی، جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنے ساتھیوں کے پیچھے چھوٹ جاؤں گا؟ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: یہاں رہ کر بھی اگر تم کوئی نیک عمل کرو گے، تو اس سے تمھارے درجے بلند ہوں گے اور شاید ابھی تم زندہ رہو گے اور بہت سے لوگوں (مسلمانوں) کوتم سے فائدہ پہنچے گا اور بہتوں (کفار و مرتدین ) کو نقصان۔ (پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی:) اے اللہ ! میرے ساتھیوں کی ہجرت کی تکمیل فرما اور ان کے قدم پیچھے کی طرف نہ لوٹا۔ لیکن مصیبت زدہ سعد بن خولہ تھے (رسول اللہ ﷺ نے ان کے مکہ میں وفات پا جانے کی وجہ سے اظہار غم کیا تھا)۔
متفق علیہحجۃ الوداع کے موقع پر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سخت بیمار ہوگئے۔ مرض اس قدر شدید تھا کہ انھیں موت کا ڈرہوگیا۔ نبی ﷺ اپنے اصحاب کی مزاج پرسی اور اظہار ہم دردی کے عام معمول کے مطابق ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، تو سعد رضی اللہ عنہ نے ایسے اسباب بیان کیے، جن کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ ان کی بنا پر ان کے مال کے بڑے حصے کو صدقہ کرنا جائز ہو جائے گا۔ چنانچہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سخت تکلیف ہے، جس کی وجہ سے موت کا خوف لاحق ہے۔ میں مالِ کثیر کا مالک ہوں اور سوائے ایک بیٹی کے میرے ایسے کمزور ورثا بھی نہیں ہیں، جن کے بارے میں مجھے گداگری و ضائع ہونے کا ڈر ہو۔ ایسی حالت میں کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کرسکتا ہوں؛ تاکہ نیک عمل کے طور پر اسے پیشگی بھیج سکوں؟ نبی ﷺ نے جواب دیا:نہیں! انھوں نے کہا: آدھا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا:نہیں! انھوں نے کہا: ایک تہائی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک تہائی صدقہ کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے، جب کہ یہ بھی بہت ہے۔ چنانچہ اس سے کم جیسے ایک چوتھائی یا پانچواں حصہ زیادہ افضل ہے۔ پھر نبی ﷺ نے ان سے زیادہ مال کی بہ نسبت کم مال صدقہ کرنے کی حکمت کے طور پر دو باتیں بتائيں: 1- اگر وہ اس حال میں فوت ہو ئے کہ ان کے ورثا مال دار رہیں، ان کے مال سے فائدہ اٹھاتے رہیں، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ مال و دولت ان کے قبضے سے نکال کر دوسروں کے حوالے کر کے اورانھیں لوگوں کے کرم واحسان پر زندگی گزارنے کے لیے چھوڑ کر جائیں۔ 2- اور اگر وہ زندہ رہے اور مال ان کے پاس رہا، تو اسے شرعی طریقے سے خرچ کریں گے اور اللہ سے اجر و ثواب کی امید رکھیں گے، تو انھیں اجر ملے گا۔ یہاں تک کہ اس کے اوپر واجب تریں نفقہ، یعنی اپنی بیوی کو کھلانے پر بھی اجر وثواب ملے گا۔ پھر سعد رضی اللہ عنہ کو خوف لاحق ہوا کہ شاید ان کی موت مکے ہی میں ہو جائے، جہاں سے انھوں نے اللہ کی رضا کے لیے ہجرت کی تھی اور اس کی وجہ سے ان کی ہجرت کے ثواب میں کمی آجائے۔ اس لیے نبی ﷺ نے انھیں بتایا کہ جس شہر سے انھوں نے ہجرت کی تھی، وہاں اگر بطور مجبوری رہ جاتے ہیں اور وہاں رہ کر بھی کوئی نیک عمل کرتے ہیں، تو اس سے ان کے درجے بلند ہوں گے۔ پھر نبی ﷺ نے انھیں بشارت دی، جو اس بات پر دلالت کرتی تھی کہ وہ اپنی بیماری سے اچھے ہوں گے اوراللہ ان سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے گا اور کفار کو نقصان۔ پھر ویسا ہی ہوا جیسا صادق و مصدوق ﷺ نے خبر دی تھی۔ وہ اپنی بیماری سے اچھے ہوئے اور جنگ فارس کے قائد اعلیٰ قرار پائے۔ اللہ نے ان سے اسلام اور مسلمانوں کو نفع پہنچایا؛ انھوں نے بہت سی فتوحات کیں اور اللہ نے ان سے شرک و مشرکین کو ضرر پہنچایا۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے تمام ساتھیوں کے لیے عمومی دعا فرمائی کہ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان کے اعمال قبول فرمائے۔ انھیں ان کے دین سے نہ پھیرے اور جہاں سے انہوں نے ہجرت کی تھی اس طرف نہ لوٹائے۔ چنانچہ اللہ نے آپ ﷺ کی دعا قبول فرمالی۔ ساری تعریف واحسان اسی کے لیے ہے اور تمام تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے ان (صحابہ) کے ذریعے اسلام کو سربلندی عطا فرمائی۔ پھر سعد بن خولہ کا ذکر فرمایا۔ وہ ان مہاجرین میں سے ہیں، جنھوں نے مکہ سے ہجرت کی تھی؛ لیکن اللہ نے ان کی موت مکہ ہی میں لکھ دی تھی اور وہیں ان کی موت ہوئی۔ نبیﷺ نے ان کے لیے غم کا اظہار کیا۔ یعنی اس تکلیف کا اظہار کیا کہ ان کی موت مکہ میں ہوئی؛ کیوں کہ صحابۂ کرام ایک مہاجر کے لیے ہجرت کی ہوئی سرزمین میں موت کو ناپسند کرتے تھے۔
ابن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو۔ پھر جو کچھ باقی بچ جائے وہ میت کے سب سے زیادہ قریبی مرد (وارث) کے لیے ہے۔“
متفق عليهنبی ﷺ میت کا ترکہ تقسیم کرنے والوں کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ انہیں اس کے حق داروں میں منصفانہ طریقے سے اور شریعت کی روشنی میں اللہ کی منشا کے عین مطابق تقسیم کریں۔ چنانچہ وہ ورثا جن کے حصے اللہ کی کتاب کی رو سے معین ہیں، انہیں ان کے حصے دیے جائیں گے۔ وہ حصے یہ ہیں: دو تہائی، ایک تہائی، چھٹا حصہ، آدھا، چوتھائی اور آٹھواں حصہ۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اسے میت کے قریبی مرد رشتہ داروں کو دے دیا جائے گا، جنہیں عصبہ کہا جاتاہے۔
ابو ہريرہ رضي اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سوموار اور جمعرات کو (اللہ کے ہاں) اعمال پيش کیے جاتے ہيں، لہٰذا مجھے يہ پسند ہے کہ ميرا عمل (بارگاہِ الٰہی میں) پيش کیا جائے تو ميں روزے سے ہوں“۔ اور ايک دوسری روايت ميں ہےکہ: ”پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہيں، اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شريک نہيں کرتا، سوائے اس آدمی کے کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درميان کوئی عداوت ہو، چناں چہ کہا جاتا ہے کہ: ان دونوں کو مہلت دے دو يہاں تک کہ يہ آپس ميں صلح کر ليں، ان دونوں کو مہلت دے دو يہاں تک کہ يہ آپس ميں صلح کر ليں“۔ اور ايک دوسری روايت ميں ہے کہ: ”ہر سوموار اور جمعرات کو (اللہ کے ہاں بندوں کے) اعمال پيش کیے جاتے ہيں، تو اللہ ہر اس بندے کو بخش دیتا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شريک نہيں کرتا سوائے اس آدمی کے کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درميان کوئی عداوت و دشمنی ہو، اور اللہ کہتا ہے: ان دونوں کو چھوڑ دو يہاں تک کہ يہ آپس ميں صلح کر ليں“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔”اعمال پيش کیے جاتے ہيں“ یعنی اللہ کے یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔ ”سوموار اور جمعرات کو، لہٰذا مجھے يہ پسند ہے کہ ميرا عمل (بارگاہِ الٰہی میں) پيش کیا جائے تو ميں روزے سے ہوں“ یعنی بلندیٔ درجات میں کثرت و زیادتی طلب کرنے اجر و ثواب کے حصول کے لیے۔ اس حديث کے دوسرے الفاظ اس طرح ہيں: ”ہر سوموار اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہيں“ جنت کا کھلنا حقیقت پر مبنی ہے کیوں کہ جنت مخلوق ہے۔ اور آپ ﷺ کا یہ فرمان: ”ان دو دنوں میں ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شريک نہيں کرتا“ یعنی بندے کے صغیرہ گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے، اور رہے کبیرہ گناہ تو اس کے لیے توبہ ضروری ہے۔ اور آپ ﷺ کا یہ فرمان: ”سوائے اس آدمی کے“ یعنی اس انسان کے سوا۔ ”کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درميان“ یعنی مسلمان بھائی کے درمیان، ”شحناء“ یعنی عداوت و دشمنی، ”چناں چہ کہا جاتا ہے کہ: ان دونوں کو مہلت دے دو“ یعنی اللہ فرشتوں سے کہتا ہے ان کے معاملے کو مؤخر کر کے انہیں مہلت دے دو، ”یہ دونوں“ یعنی یہ دونوں آدمی جن کے درمیان عداوت و دشمنی ہے اور ایسا ان کی سرزنش اور قطع تعلقی کے گناہ کی وجہ سے کہا جاتا ہے، يہاں تک کہ دشمنی رفع دفع ہو جائے اور دونوں آپس ميں صلح کر ليں یعنی آپسی تعلق کو قائم کر لیں کہ جس سے دشمنی ختم ہو جائے، یہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان پر واجب ہے کہ وہ عداوت و دشمنی اور آپسی بغض و نفرت کو جلدی ختم کرنے کی کوشش کرے، بھلے ہی وہ نفرت و عداوت کو ختم کرنے کی درخواست کرنے میں ذلت محسوس کرے۔ لھٰذا اسے چاہیے کہ وہ صبر کرے اور اجر و ثواب کی امید رکھے کیوں کہ اس سے متعلق انجام کار قابلِ ستائش ہے، اور انسان جب کسی عمل سے متعلق خیر و بھلائی اور اجر و ثواب کو جان لیتا ہے تو وہ عمل اس کے لیے آسان ہوتا ہے، ایسے ہی انسان جب کسی کام کے ترک کرنے پر وعید کو جان لیتا ہے تو اس کام کا کرنا اس کے لیے سہل و آسان ہو جاتا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے اس حال میں کہ آپ بہت خوش تھے، آپ کا چہرہ دمک رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے، مجزز (قیافہ شناس) نے ابھی ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو (چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے) دیکھا تو کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ مجزز قیافہ شناس تھا۔
متفق علیہزید بن حارثہ کا رنگ گورا تھا جب کہ ان کے بیٹے اسامہ گندمی رنگ کے تھے۔ لوگ ان کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہونے کی وجہ سے ان کے بارے میں شک کیا کرتے تھے اور اسامہ رضی اللہ عنہ کی اپنے والد کی طرف نسبت کی صحت میں باتیں کیا کرتے تھے اور اس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو بہت اذیت پہنچتی تھی۔ ایک دفعہ مجزز مدلجی کا جو قیافہ شناس تھا ان کے قریب سے گزر ہوا۔ ان دونوں نے اپنے سروں کو ایک چادر سے ڈھانپ رکھا تھا لیکن ان کے پاؤں باہر نظر آرہے تھے۔ اس نے یہ دیکھ کر کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے ہیں کیونکہ اسے ان کے مابین مشابہت نظر آئی تھی۔ نبی ﷺ اس قیافہ شناس کی بات کو سن رہے تھے۔ آپ ﷺ اس سے بہت خوش ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ اس حال میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے کہ آپ کا چہرہ اس بات پر خوشی و اطمئنان کی وجہ سے دمک رہا تھا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ کی اپنے والد کی طرف نسبت درست ہے اور اس لیے بھی کہ اس سے ان لوگوں کی باتوں کا رد ہو گیا تھا جو بلا کچھ جانے لوگوں کی عزتوں میں اپنی زبانیں چلاتے ہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”(تجارتی) قافلوں سے آگے جاکر نہ ملاکرو ( بلکہ ان کو منڈی میں آنے دیا کرو ) کسی کی بیع پر بیع نہ کرو اور نہ ہی (خریداری کی نیت کے بغیر)محض ریٹ بڑھانے کے لئے بولی لگاو اور کوئی شہری شخص (دلال بن کر) کسی دیہاتی کی طرف سے نہ بیچے اور (بیچنے کے لیے) اونٹنیوں اور بکریوں کے تھنوں میں دودھ کو روک کر نہ رکھو۔ اگر کسی نے(دھوکہ میں آکر ) کوئی ایسا جانور خریدلیا تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دونوں اختیارات ہیں یعنی چاہے تو جانور کو رکھ لے اور چاہے تو واپس کردے اور ایک صاع کھجور اس کے ساتھ دودھ کے بدلے دے دے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہنبی ﷺ بیع کی پانچ حرام صورتوں سےمنع فرما رہے ہیں کیونکہ ان سے فروخت کنندہ یا خریدار یا ان کے علاوہ کسی اور شخص کو نقصان ہوتا ہے: 1- جو لوگ اپنے سامان تجارت جیسے اشیائے خوردنی اور جانور بیچنے کے لئے آ رہے ہوں ان کے منڈی تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کے پاس جا کر ان سے خریداری کرنے سےمنع فرمایا کیونکہ ان کو ریٹ کا علم نہیں ہوتاہے۔ چنانچہ ممکن ہے کہ یہ شخص فروخت میں انہیں دھوکہ دے کر انہیں ان کے رزق سے محروم کر دے جس کے لئے انہوں نےاتنی مشقت اٹھائی ہوتی ہے۔ 2- اسی طرح نبی ﷺ نے کسی کی فروخت پر فروخت اور اسی طرح اس کی خریداری پر خریداری کرنے سے منع فرمایا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ شخص خیارِ مجلس یا خیارِ شرط کے دوران خریدار کو یہ کہے کہ میں تمہیں اس سامان تجارت سے زیادہ عمدہ سامان اس سے کم قیمت پر دیتا ہوں یا پھر یہ دوسرا شخص اگر فروخت کنندہ ہو تو اس سے کہے کہ اس کی جو قیمت لگ چکی ہے میں اس سے زیادہ میں تم سے یہ خریدتا ہوں اور ایسا کرنےسے اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ شخص بیع کو فسخ کرکے اس کے ساتھ عقد کر لے۔ اسی طرح دونوں قسم کی اختیار ختم ہو جانے کے بعد بھی آپ ﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ۔ کیونکہ (فروخت کنندہ یا خریدارکو) اس طرح سے اکسانا باہمی بغض و عداوت اور نفرت کا سبب بنتا ہےاوراس سے اس آدمی کو اس کے رزق سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔ 3- آپ ﷺ نے بیعِ ”نجش“ سے منع فرمایا جس کا معنی یہ ہے کہ سامان تجارت کو خریدنے کی نیت کے بغیر ہی اس کا ریٹ بڑھا دیا جائے جس کا مقصود فروخت کنندہ کو زیادہ قیمت دلا کر اسے نفع پہنچانا یا پھر سامان تجارت کا بھاؤ بڑھا کر خریدار کو نقصان پہنچانا اور اسے اس کے خریدنے سےروکنا ہو۔ اس کی ممانعت اس لئے ہے کیونکہ اس میں خریداروں کے ساتھ کذب بیانی ہوتی ہے اور انہیں دھوکہ دیا جاتا ہے اور مکر فریب کے ذریعے سے سامان تجارت کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے۔ 4- اسی طرح آپ ﷺ نے شہری شخص کو دیہاتی شخص کا سامان ِتجارت بیچنے سے منع فرمایا کیونکہ اس کو اس کے ریٹ کا پوری طرح سے علم ہوتا ہے اور وہ اس میں کوئی گنجائش چھوڑتا ہی نہیں کہ خریدار فائدہ اٹھا سکیں۔ جب کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے: ”لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو، اللہ ان میں سے کچھ کو کچھ کے ذریعے رزق پہنچاتا ہے“۔ 5- چوپایوں میں سے مُصَرّاۃ (یعنی ایسا جانور جسے بیچنے کے لئے اس کے دودھ کو کچھ عرصے کے لئے اس کے تھنوں میں ہی رہنے دیا جائے) کی بیع کرنے کی ممانعت جس سے خریدار کو یہ لگے کہ اتنا دودھ دینا اس جانور کا معمول ہے اور اس خیال سے وہ جانور کو زیادہ قیمت پر خرید لے حالانکہ وہ حقیقت میں اتنے کا نہ ہو۔ ایسا کرنے پر وہ شخص خریدار کو دھوکہ دینے اور اس پر ظلم کرنے کا مرتکب ہو گا۔ اسی لئے شارع علیہ السلام نے خریدار کے لئے اتنی مدت متعین کر دی جس میں وہ اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا تدارک کر سکتا ہے جو کہ تین دن کا اختیار ہے چاہے وہ اس جانور کو اپنے پاس رکھ لے یا پھر یہ پتہ لگنے کے بعد کہ وہ مصراۃ ہے، اسے فروخت کنندہ کو واپس کر دے۔ اگر اس نے دودھ دھو لیا ہو تو جانور کے ساتھ ساتھ اس دودھ کے بدلے میں ایک صاع کھجور بھی دے دے۔