





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبد الله ابن معقل روایت کرتے ہیں کہ: میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے ان سے فدیہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ (قرآن شریف کی آیت ) اگرچہ خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی لیکن اس کا حکم تم سب کے لیے ہے۔ ہوا یہ کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو جوئیں سر سے میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے (یہ دیکھ کر فرمایا ) میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم اتنی تکلیف میں ہو گے۔ یا (آپ نے یوں فرمایا کہ ) میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم اتنی جہد (مشقت) میں ہو گے۔ کیا تمہیں ایک بکری مل سکتی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تین دن کے روزے رکھو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، ہر مسکین کو آدھا صاع کھلانا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ چھے افراد میں ایک فرق (تین صاع) غلہ تقسیم کر دیں، یا ایک بکری کی قربانی دے دیں یا تین دن کے روزے رکھیں۔
متفق علیہنبی ﷺ نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو حدیبیہ کے مقام پر حالت احرام میں دیکھا کہ بیماری کی وجہ سے جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی ہیں۔ نبی ﷺ کو ان کی یہ حالت دیکھ کر ان پر بہت ترس آیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: میرا نہیں خیال تھا کہ تمھیں اس حد تک مشقت ہو رہی ہو گی، جس پر میں تمھیں اب دیکھ رہا ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: کیا تمھیں ایک بکری دستیاب ہو سکتی ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿فَمَنْ كَانَ مِنْكُم مَرِيضَاً أوْ به أذَىً مِنْ رَأسِه فَفِدْية مِنْ صِيَامٍ أوْ صَدَقَةٍ أوْ نُسُكٍ﴾ ”پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اسے سر میں تکلیف ہو، تو روزوں سے یا صدقہ سے یا قربانی سے فدیہ دے“۔ اس پر نبی ﷺ نے انھیں اختیار دیاکہ یا تو وہ تین دن کے روزے رکھیں یا چھ مسکینوں کا کھانا کھلا دیں، بایں طور کہ ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں یا کوئی اور غلہ دیں۔ یہ ان کے حالت احرام میں سر میں جوئیں پڑنے کی وجہ سے مجبورا اسے منڈانے کا کفارہ ہو جائے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے انھیں تینوں کے مابین اختیار دیا کہ وہ کسی کو بھی کر لیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے ہمیں دوپہر کے بعد کی دو نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھائی۔ (ظہر یا عصر کی) _ابن سیرین نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کا نام تو لیا تھا، لیکن میں بھول گیا ہوں_ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ اس کے بعد مسجد میں رکھی ایک لکڑی پر آپ صلى الله عليه وسلم ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے آپ بہت ہی خفا ہوں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھا اور ان کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا۔ جو لوگ نماز پڑھ کر جلدی نکل جایا کرتے تھے، وہ مسجد کے دروازوں سے باہر نکل گئے۔ پھر لوگ کہنے لگے کہ نماز کم کر دی گئی ہے۔ حاضرین میں ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) بھی موجود تھے۔ لیکن انھیں آپ صلى الله عليه وسلم سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ حاضرین میں ایک شخص تھے، جن کے ہاتھ لمبے تھے اور انھیں ذوالیدین (دو ہاتھ والے) کہا جاتا تھا۔ انھوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ صلى الله عليه وسلم بھول گئے یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز میں کوئی کمی ہوئی ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا ذوالیدین صحیح کہہ رہے ہیں؟ حاضرین بولے کہ جی ہاں! یہ سن کر آپ صلى الله عليه وسلم آگے بڑھے اور باقی ماندہ نماز پڑھی۔ پھر سلام پھیرا پھر تکبیر کہی اورجیسے آپ صلى الله عليه وسلم سجدہ کیا کرتے تھے، ویسے ہی یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا۔ پھرآپ صلى الله عليه وسلم نے سر مبارک اٹھایا اور تکبیر کہی، پھر تکبیر کہی اورجیسے آپ صلى الله عليه وسلم سجدہ کیا کرتے تھے ویسے ہی یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا۔ پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔ لوگوں نے (اس حدیث کے راوی) ابن سیرین سے پوچھا کہ کیا پھر سلام پھیردیا ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے بتایا گیا کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے سلام پھیردیا۔
متفق علیہرسولوں کی جماعت لوگوں میں سب سے زیادہ عقل و شعور کی حامل، ثابت قلب، متحمل مزاج اور اللہ کے حقوق ادا کرنے والی جماعت ہے۔ اس کے باوجود وہ بشری تقاضوں کی حدود سے باہر نہیں تھے۔ اور محمد عربی صلى الله عليه وسلم کی شخصیت تو ان صفات میں کامل ترین شخصیت تھی۔ لیکن بایں ہمہ آپ پر بشری حیثیت سے نسیان طاری ہوا؛ تاکہ اللہ تعالی اپنے بندوں کے لیے سہو کے احکام مشروع فرماۓ۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے ساتھيوں کو ظہر يا عصر کي نماز پڑهائی۔ یہاں نماز کی تعیین ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کر دی تھی، لیکن ابن سیرین بھول گۓ تھے۔ جب آپ نے پہلی دو رکعتیں پڑھ لیں، تو سلام پھیردیا، چوں کہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم کامل تھے، اس لیے آپ کو مکمل کام کے بغیر دلی اطمینان نہیں ہوتا تھا۔ آپ نماز ميں کچھ کمی وخلل محسوس کر رہے تھے، ليکن اس کی وجہ معلوم نہیں کر پا رہے تھے۔ پھر آپ اسی غور وفکر ميں اس لکڑی سے ٹيک لگا کر کھڑے ہوئے جو سامنے سجدہ کرنے کی جگہ میں تھی اور اپنے ہاتھ کي انگليوں کو آپس ميں ملا لیے۔ جب کہ جلدی کرنے والے لوگ مسجد کے دروازوں سے نکل گئے اور آپس ميں سرگوشیاں کرنے لگے کہ ضرور کوئی نیا حکم سامنے آیا ہے، یعنی نماز کم کر دی گئی ہے۔ گويا وہ يہ سمجھ رہے تھے کہ نبی ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ عليہ وسلم بھول چوک سے بالا تر ہیں۔ لوگوں کے دلوں میں بیٹھی ہوئی آپ صلی اللہ عليہ وسم کی ہیبت کی وجہ سے کسی کی ہمت نہيں ہوئی کہ اس اہم مسئلے میں آپ سے بات شروع کرے۔ جب کہ اس وقت ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی موجود تھے اور انھوں نے آپ کے اندر یک گونہ بے چینی بھی دیکھی تھی۔ لیکن ایک صحابی نے جنھیں لوگ ذوالیدین کہتے تھے اس خاموشی کو توڑا۔ وہ بولے کہ کيا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کردی گئی ہے؟ انھوں نے یقین کے ساتھ کوئی بات نہیں کہی، کیوں کہ اس وقت دونوں باتوں کا احتمال تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے گمان کے مطابق فرمایا: "نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے"۔ اس وقت ذواليدين کو اس بات کا احساس ہوگيا کہ نماز کم نہيں کی گئ ہے، جب کہ انھیں یہ یقین تھا کہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے صرف دو ہی رکعات پڑھی ہیں، اس سے وہ سمجھ گئے کہ آپ بھول گئے ہیں۔ اس لیے انہوں نے کہا :بلکہ آپ بھول گئے ہيں! آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے ذوالیدین کی بات کي تصديق ضروری سمجھی، کیوں کہ وہ نماز پوری ہو جانے کے سلسلے میں آپ کے گمان کے خلاف تھی۔ چنانچہ ان کی تائید کے ارادے سے اپنے ارد گرد موجود صحابہ سے کہا: کيا ذواليدين جو کہہ رہے ہيں وہ سچ ہے کہ ميں نے صرف دو ہی رکعت نماز پڑھی ہے؟ صحابۂ کرام نے جواب ديا: ہاں! اب اللہ کے رسول صلی الہ عليہ وسلم آگے بڑھے، چھوٹی ہوئی نماز پڑھی۔ تشہد کے بعد سلام پھیرا۔ پھر بيٹھے بيٹھے تکبیر کہی اور نماز کے اندر کے سجدے کی طرح یا اس سے بھی لمبا سجدہ کیا۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا اورتکبير کہی۔ پہر تکبیر کہی اور دوسرے سجدوں کی طرح یا ان سے بھی لمبا سجدہ کیا۔ پہر اپنا سر اٹھایا اور تکبير کہی۔ پھر سلام پھیرا اور تشہد ميں نہيں بيٹھے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمايا: ”شہید پانچ ہیں: طاعون کی بیماری سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، دب کر مرنے والا اور الله كى راہ میں شہید ہونے والا“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ (رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا): ”تم اپنے میں سے کن لوگوں کو شہيد شمار کرتے ہو؟“ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! جو اللہ کی راہ میں قتل کرديا جائے وہ شہيد ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو میری اُمت میں شہداء کم ہوں گے“۔ صحابۂ كرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کِیا: اے اللہ کے رسول! تو پھر کون شہید ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو اللہ کی راہ میں قتل کرديا جائے وہ شہید ہے، جو اللہ کے راستے ميں (طبعی) موت مرجائے وہ شہید ہے، جو طاعون کی بیماری ميں فوت ہوجائے وہ شہید ہے، جو پیٹ کی بیماری سے فوت ہوجائے وہ شہید ہے اور جو ڈوب کر مرجائے وہ شہید ہے“۔
متفق علیہمجموعی طور پر شہداء کے پانچ اصناف ہیں: وہ شخص جو طاعون میں مبتلا ہوا اور اسی سے مرگیا، یہ ایک مہلک وبا ہے۔ اور جو پیٹ کی بیماری سے مرجائے۔ اور جو ڈوب کر مرجائے بشرطیکہ اس کا یہ سمندری سفر حرام نہ ہو، یا پھر جو سیلاب یا سوئمنگ پول وغیرہ میں ڈوب کر مرجائے۔ اور جو ملبے تلے دب کر مرجائے جیسے کہ اس پر کوئی دیوار گرجائے۔ اور جو اللہ کی راہ میں قتل کرديا جائے۔ اور یہ سب سے اعلیٰ قسم ہے۔ اسی طرح وہ شخص جو اللہ کی راہ میں لڑائی کے علاوہ کسی اور وجہ سے مر جائے۔ پہلے چار قسم کے شہداء اخروی احکام کے اعتبار سے شہید ہیں، دنیوی اعتبار سے نہیں۔ چنانچہ انہیں غسل دیا جائے گا اور ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ اس حدیث میں (شہداء کی) جو تعداد بیان کی گئی ہے، وہ حصر کے لئے نہيں ہے۔۔
صالح بن خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ ایک ایسے صحابی سے روایت کرتے ہیں جنہوں نے غزوۂ ذات الرقاع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز خوف پڑھی تھی۔ (خوف کی نماز کا طریقہ یوں) نقل کرتے ہیں کہ (اس دن) ایک جماعت نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ( نماز کے لیے) صف بندی کی اور دوسری جماعت دشمن کے مقابل صف آرا ہو گئی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس جماعت کو جو آپ ﷺ کے ساتھ تھی، ایک رکعت نماز پڑھائی اور پھر آپ ﷺ کھڑے رہے اور اس جماعت نے خود اپنی نماز پوری کی (یعنی جماعت میں شامل لوگوں نےدوسری رکعت تنہا پڑھ لی) پھر اس کے بعد یہ جماعت (نماز سے فارغ ہو کر) واپس ہوئی اور دشمن کے مقابل صف آرا ہوگئی اور وہ جماعت جو دشمن کے مقابل صف آرا تھی (نماز کے لیے) آگئی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے وہ دوسری رکعت، جو باقی رہ گئی تھی، اس جماعت کے ساتھ پڑھی اور (تشہد میں) بیٹھے رہے اور پھر اس جماعت نے خود اپنی نماز پوری کی اور پھر آپ ﷺ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔
متفق علیہنبی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ ایک غزوے میں تشریف لے گئے، جس میں اکثر صحابہ پیدل تھے۔ جب وہ پاؤں ننگے ہونے کی وجہ سے نڈھال ہو گئے، تو اپنے قدموں پر کپڑوں کے چیتھڑے لپیٹ لیے۔ نبی ﷺ کا دشمن کے ساتھ آمنا سامنا تو ہوا، لیکن قتال کی نوبت نہ آئی، تاہم مسلمانوں نے اپنے دشمنوں کو خوف زدہ ضرور کر دیا۔ اس حدیث کی رو سے دشمن قبلے کی سمت میں نہیں تھے، کیوںکہ ان کے گھر مدینے کے مشرقی جانب تھے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے مسلمانوں کے دو گروہ بنا دیے۔ ایک گروہ نے نماز کے لیے صف بندی کر لی اور دوسرا گروہ نمازیوں کے پیچھے موجود دشمن کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ نبی ﷺ نے اپنے ساتھ موجود لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ ﷺ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ کھڑے رہے، جب کہ لوگوں نے خود ہی اپنی دوسری رکعت پوری کی اور سلام پھیر دیا اور دشمن کی جانب چلے گئے۔ پھر دوسرا گروہ آ گیا۔ آپ ﷺ نے انہیں باقی ماندہ ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ ﷺ بیٹھے رہے، یہاں تک کہ لوگوں نے کھڑے ہو کر خود ہی ایک اور رکعت پڑھ لی۔ پھر آپ ﷺ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ پہلے گروہ کو امام کے ساتھ تکبیر تحریمہ کہنے کی خصوصیت حاصل ہوئی اور دوسرے کو نماز سے نکلنے یعنی امام کے ساتھ سلام پھیرنے کی خصوصیت ملی۔ یوں آپ ﷺ نے دشمن کو حملہ کرنے کا موقع نہ دیا اور اس کے ساتھ ساتھ امام کے ساتھ نماز کی فضیلت پانے میں بھی سب برابر کے شریک رہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے جب رسول اللہ ﷺکے ساتھ حج کیا، تو یوم نحر کو طواف زیارت کیا، لیکن صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہوگئیں۔ آں حضرت ﷺنے ان سے وہی چاہا جو شوہر اپنی بیوی سے چاہتا ہے، تو میں نے کہا: یا رسول اللہ ! وہ حائضہ ہیں! آپ ﷺنے اس پر فرمایا کہ کیا یہ ہمیں روک دے گی؟ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ (ﷺ)! انھوں نے دسویں تاریخ کو طواف زیارت کر لیا تھا، تو آپ ﷺنے فرمایا: پھر چلے چلو۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اس کا ستیاناس ہو!؟ کیا اس نے یوم نحر کو طواف کیا تھا؟ کہا گيا: ہاں! تو آپﷺ نے فرمایا: چلے چلو۔
متفق علیہعائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ لوگوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہﷺ کے ساتھ حج کیا۔ انھوں نے مناسک حج پورے کر لیے اور بیت اللہ کا طواف کر لیا۔ اس وقت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی ساتھ تھیں۔ جب روانگی کا وقت آیا تو صفیہ رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا۔ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس اس ارادے سے آئے جس ارادے سے آدمی اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ انھیں حیض آ گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے سمجھا کہ ان کو طواف افاضہ سے پہلے ہی حیض آگیا تھا۔ چوں کہ طواف افاضہ حج کا ایک رکن ہے، اس کے بغیر حج نہیں ہوتا، اس لیے وہ انھیں پاک ہوکر طواف سے فارغ ہونے تک روانگی سے روک لیں گی۔ اس لیے آپ نے وہ مشہور کلمہ کہا، جو عام طور سے زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور اس کے حقیقی معنی مراد نہیں ہوتے۔ فرمایا: عقری ،حلقی۔ (اس کا ستیاناس ہو)۔ (آگے) فرمایا: کیا وہ ہمیں یہاں اپنے ایام ختم ہونے اور حج کا طواف کرنے کی مدت تک روکنے والی ہے؟ چنانچہ جب آپﷺ کو یہ بتایا گیا کہ انھوں نے طواف افاضہ حیض آنے سے پہلے ہی کر لیا تھا، تو آپﷺ نے فرمایا:پھر وہ چل پڑے؛ کیوں کہ اب اس پر صرف طواف وداع باقی رہ گیا ہے اور اس کو چھوڑنے پر وہ معذور ہے۔
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اہل کوفہ نے سعد یعنی ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شکایت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کر کے عمار رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا حاکم بنادیا؛ کوفہ والوں نے سعد رضی اللہ کے متعلق یہاں تک کہہ دیا کہ انھیں تو اچھی طرح نماز پڑھانا بھی نہیں آتا۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بلا بھیجا اور ان سے ان سے پوچھا کہ اے ابو اسحاق! ان کوفہ والوں کا خیال ہے کہ تمھیں اچھی طرح نماز پڑھانا بھی نہیں آتا۔ اس پر آپ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں تو انھیں نبی کریم ﷺ ہی کی طرح نماز پڑھاتا تھااور اس میں کوتاہی نہیں کرتا تھا۔ عشا کی نماز پڑھاتا، تو اس کی پہلی دو رکعات میں (قراءت) لمبی کرتا اور دوسری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے ابواسحاق! مجھ کو آپ سے یہی امید تھی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک یا کچھ آدمیوں کو کوفہ بھیجا۔ قاصد نے ہر ہر مسجد میں جا کر سعد رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا۔ سب نے آپ کی تعریف کی؛ لیکن جب مسجد بنی عبس میں گئے، تو ایک شخص جس کا نام اسامہ بن قتادہ اور کنیت ابو سعدہ تھی، کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ جب آپ نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے، تو (سنیے کہ) سعد نہ فوج کے ساتھ خود جہاد کرتے تھے، نہ مالِ غنیمت کی تقسیم صحیح طریقے سے کرتے تھے اور نہ فیصلے میں عدل و انصاف کرتے تھے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ اللہ کی قسم میں (تمھاری اس بات پر) تین بد دعائیں کرتا ہوں۔ اے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف ریا و نمود کے لیے کھڑا ہوا ہے، تو اس کی عمر دراز کر اور اسے بہت زیادہ محتاج بنا اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔ اس کے بعد (وہ شخص اس درجہ بدحال ہوا کہ) جب اس سے پوچھا جاتا، تو کہتا کہ آزمائش میں مبتلا ایک بوڑھا ہوں۔ مجھے سعد رضی اللہ عنہ کی بد دعا لگ گئی ہے۔ راوی عبدالملک بن عمیر کہتے ہیں کہ جابر بن سمرہ نے بیان کیا: میں نے اسے دیکھا؛ اس کی بھویں بڑھاپے کی وجہ سے آنکھوں پر آ گئی تھیں، لیکن اب بھی راستوں میں وہ لڑکیوں کو چھیڑتا اور ان پر دست درازی کرتا تھا۔
متفق علیہعمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا حاکم بنایا، تو اہل کوفہ نے امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی شکایت کی۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ وہ تو اچھی طرح سے نماز بھی نہیں پڑھاتے۔ سعد رضی اللہ عنہ ایک جلیل القدر صحابی تھے، جنھیں نبی ﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی؛ اس لیے عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں بلا بھیجا۔ وہ حاضر ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اہلِ کوفہ نے آپ کی شکایت کی ہے۔ وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ آپ اچھی طرح سے نماز بھی نہیں پڑھاتے! سعد رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ نبی ﷺ کی نماز کی طرح نماز پڑھایا کرتے تھے اور عشا کی نماز کا ذکر کیا۔ شاید شکایت کرنے والوں کو اسی نماز کے متعلق شکایت تھی۔ انہوں نے کہا: میں تو انھیں نبی کریم ﷺ ہی کی طرح نماز پڑھاتا تھا۔ اس میں کوتاہی نہیں کرتا تھا۔ عشا کی نماز پڑھاتا، تو اس کی پہلی دو رکعات میں (قراءت) لمبی کرتا اور بعد کی دو رکعتیں ہلکی پڑھاتا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا:اے ابو اسحاق! مجھ کو آپ سے یہی امید تھی۔ گویا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کا تزکیہ کیا؛ کیوں کہ ان کو اس بات کا یقین تھا کہ وہ نماز اچھی طرح ادا کرتے ہوں گے اور قوم کو اسی طرح نماز پڑھاتے ہوں گے، جس طرح نبی ﷺ نے حکم دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود عمر رضی اللہ عنہ نے اس طرح کی کارروائی کی؛ کیوں کہ وہ ذمے داری کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے اور ذمے داری کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ آپ نے کچھ آدمیوں کو کوفہ والوں کے پاس بھیجا؛ تاکہ وہ اہل کوفہ سے سعد رضی اللہ عنہ اور ان کی سیرت کے متعلق معلومات حاصل کریں۔ ان لوگوں نے ہر مسجد میں جا کر ان کے متعلق پوچھا۔ سب نے ان کی تعریف کی؛ لیکن جب مسجد بنی عبس میں گئے اور ان سے پوچھا، تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا کہ جب آپ نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے، تو (سنیے کہ) یہ شخص نہ جہاد میں نکلتا ہے، نہ صحیح طور پر مالِ غنیمت تقسیم کرتا ہے اور نہ فیصلے میں عدل و انصاف کرتا ہے۔ اس نے سعد رضی اللہ عنہ پر تین تہمتیں لگائیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ جب تم نے ایسا کہا ہے، تو اللہ کی قسم! میں (تمھاری اس بات پر) تین بد دعائیں کرتا ہوں۔ چنانچہ انھوں نے بد دعا کی کہ اللہ اس کی عمر دراز کرے ، بہت زیادہ محتاج بنائے اور فتنوں میں مبتلا کردے! العیاذ باللہ۔ یہ تین بڑی بد دعائیں تھیں۔ لیکن سعد رضی اللہ عنہ نے استثنا کا طریقہ اپنایا اور فرمایا: "اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور صرف ریا و نمود کے لیے کھڑا ہوا ہے"۔ یعنی نا حق تہمت لگائی ہے۔ چنانچہ اللہ نے ان کی دعا قبول فرمالی اور اس آدمی کو لمبی عمر عطا کی۔ وہ اتنا بوڑھا ہوا کہ اس کی بھویں بڑھاپے کی وجہ سے آنکھوں پرآ گئی تھیں۔ وہ فقیر وقلاش اور فتنوں میں مبتلا تھا۔ حتیٰ کہ اس بڑھاپے میں بھی لڑکیوں کو چھیڑا کرتا تھا۔ وہ انھیں بازاروں میں روکتا تھا؛ تاکہ ان سے شہوت انگیز گفتگو کرے۔ -اللہ کی پناہ!- وہ اپنے بارے میں کہا کرتا تھا: آزمائش میں مبتلا بوڑھا آدمی ہے، جسے سعد کی بد دعا لگی ہوئی ہے۔
براء بن عازب رضی اللہ عنھما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عید الاضحی کی نماز کے بعد ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی، اس کی قربانی صحیح ہوئی؛ لیکن جس نے نماز سے پہلے قربانی کی، اس کی قربانی نہیں ہوئی“۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے ماموں ابو بردہ بن نیار نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی بکری کی قربانی نماز سے پہلے کر دی، میں نے سوچا کہ یہ کھانے پینے کا دن ہے، میری بکری اگر گھر کا پہلا ذبیحہ بنے تو زیادہ اچھا ہو۔ اس خیال سے میں نے بکری ذبح کر دی اور نماز میں آنے سے پہلے ہی اس کا گوشت بھی کھا لیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تمھاری بکری محض گوشت کی بکری ہوئی۔ ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال کا بکری کا بچہ ہے اور وہ مجھے دو بکریوں سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ کیا اس سے میری قربانی ہو جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں! لیکن تمھارے بعد کسی کی قربانی اس عمر کے بچے سے کافی نہ ہو گی۔
متفق علیہنبی کریم ﷺ نے عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد خطبہ دیا اور صحابۂ کرام کے روبرو قربانی اور اس کے وقت سے متعلق احکام واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص نے اس نماز کی طرح نماز ادا کی اور اس قربانی کی طرح اپنی قربانی کی، جس کے بارے میں نبی ﷺ کی ہدایت و رہ نمائی موجود ہے، اس نے شرعی اعتبار سے اپنی قربانی کی۔ البتہ جس نے عید کی نماز سے قبل قربانی کی، اس نے قربانی کا وقت شروع ہونے سے قبل ہی اپنی قربانی ذبح کر دی۔ چنانچہ اس کی حیثیت محض کھائے جانے والے گوشت کی ہوگی اور اس کا شمار مشروع اور مقبول قربانی میں نہ ہوگا۔ جب ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کا خطبہ سنا، تو عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے تو نماز سے قبل ہی اپنی بکری کی قربانی کردی اور مجھے یہ بات سجھائی دی کہ چوں کہ آج کھانے پینے کا دن ہے اور میرے نزدیک یہ امر بھی بہت عزیز تھا کہ میرے گھر میں سب سے پہلے میری بکری قربان کی جائے،اس لیے میں نے اپنی بکری کی قربانی کردی اور نماز عید کے لیے آنے سے قبل ہی میں نےاپنا ناشتہ بھی کرلیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ شرعی اعتبار سے تمھاری قربانی، قربانی نہیں ہوئی، بلکہ اس کی حیثیت محض بکری کے گوشت کی ہے۔انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے یہاں گھر کی پالی ہوئی ایک بکری ہے، جو میرے نزدیک بڑی قیمتی اور دو بکریوں کی سے زیادہ عزیز ہے، اگر میں اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری میں قربان کردوں اور اسے ذبح کردوں، تو میرے لیے کافی ہوگی یا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:ہاں! البتہ یہ حکم ساری امت کے لیے نہیں ہے، بلکہ خاص تمھارے لیے ہے؛ اس لیے امت مسلمہ کے لیے اس بکری کے بچے کی قربانی جائز نہیں، جس کا ایک سال پورا نہ ہوا ہو۔
سهل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بنی ہوئی چادرلے کر آئی اور کہنے لگی: میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بنا ہے تاکہ میں اسے آپ کو پہناؤں۔ نبی ﷺ نے اسے اپنی ضرورت کی چيز سمجھتے ہوئے لے لیا۔ پھر آپ ﷺ اسے تہ بند کے طور پر باندھ کر ہمارے پاس تشريف لائے۔ تو ايک صاحب نے کہا: يہ تو آپ مجھے پہناديں, کس قدر خوبصورت ہے يہ چادر! آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا۔ پھر آپ ﷺ مجلس میں بيٹھ گئے۔ پھر واپس گئے اور اس چادر کو لپیٹ کر اس شخص کی طرف بھیج دیا۔ پس لوگوں نے اس سے کہا: تو نے اچھا نہیں کیا۔ نبی ﷺ نے يہ چادر اپنی ضرورت سمجھ کر پہنی تھی، ليکن تو نے آپ ﷺ سے يہ مانگ لی اور تجھے يہ بھی معلوم ہے کہ آپ کسی سائل کو واپس نہیں کرتے۔ اس شخص نے جواب دیا : اللہ کی قسم! میں نے اسے پہننے کے لئے نہیں مانگی ہے بلکہ میں نے تو اسے اس لئے مانگی ہے تاکہ یہ میرا کفن بنے۔ سھل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پس يہ چادر اس کے کفن ہی کے کام آئی۔
امام بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔اس حدیث میں نبی ﷺ کے ایثار (اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دینے) کا تذکرہ ہے۔ کیوں کہ آپ ﷺ نے اس چادر کے معاملے میں اپنی ذات پر اس شخص کو ترجیح دی، جب کہ آپ ﷺ کو اس كى ضرورت تھی۔ آپ ﷺ اس چادر کو پہن كر نکلے، يہ اس بات کی دليل ہے کہ آپ ﷺ کو اس کی سخت ضرورت تھی۔ ایک عورت نے آکر نبی ﷺ کو ایک چادر ہدیہ كيا۔ تو ایک شخص نے آگے بڑھ کر کہا کہ یہ کتنی خوبصورت ہے!۔ اور اس نے نبی ﷺ سے اسے مانگ لی۔ رسول الله ﷺ نے چادر کو اتار کر لپیٹا اور اسے دے ديا۔ بعض شارحین کا کہنا ہے کہ اس حدیث سے ماخوذ فوائد ميں سے يہ بھی ہے کہ نیک لوگوں کے آثار سے تبرک جائز ہے۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ یہ تبرک تو آپ ﷺ کی ذات سے تھا ، فضیلت اور نیکی میں کسی اور کو آپ ﷺ پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازيں صحابۂ کرام آپ ﷺ کی حیات میں یا آپ کی وفات کے بعد کسی اور کے ساتھ ایسا نہیں کرتے تھے۔ اگر یہ اچھی بات ہوتی تو وہ ضرور اسے ہم سے پہلے کر چکے ہوتے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ایک مرتبہ ایک آدمی ایک لق و دق صحرا سے گزر رہا تھا کہ اس نے بادل سے ایک آواز سنی: فلاں شخص کے باغ کو سیراب کر دو۔ پس بادل کا ایک ٹکڑا وہاں سے الگ ہوا اور ایک پتھریلی زمین پر پانی برسایا۔ پھر ایک نالی میں ساری نالیوں کا پانی جمع ہوکر آگے بڑھنے لگا۔ وہ صحرا نَورد اس پانی کے ساتھ چلتا رہا، تا آں کہ اس نے ایک آدمی کو دیکھا، جو اپنے باغ میں کھڑا اپنے کدال سے پانی ادھر اُدھر پھیر رہا تھا۔ اس نے اس باغبان سے کہا: اے اللہ کے بندے! تیرا نام کیا ہے؟ اس نے اپنا نام بتلایا، تو وہ وہی نام تھا، جو اس نے بادل سے سنا تھا۔ باغبان نے اس نووارد سے پوچھا: اے اللہ کے بندے! تم میرا نام کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا: بات یہ ہے کہ میں نے اس بدلی میں، جس کا پانی برس کر تیرے باغ میں آیا ہے، تیرا نام سنا تھا؛ کوئی کہہ رہا تھا: فلاں کے باغ کو سیراب کرو۔ اور وہ تیرا یہی نام تھا، جو تونے مجھے بتلایا ہے۔ ذرا مجھے بتلا کہ تو کیا عمل کرتا ہے؟ اس نے کہا: تو مجھ سے پوچھ ہی ڈالا، تو سن! میرے اس باغ سے جتنی پیداوار ہوتی ہے، میں اس کے تین حصے کرلیتا ہوں؛ ایک حصہ صدقہ کردیتا ہوں، ایک حصہ میں اور میرے بچے کھا لیتے ہیں اور تیسرا حصہ میں پھر (اگلی فصل تیار کرنے کے لیے) باغ میں لگا دیتا ہوں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ایک مرتبہ ایک آدمی ایک وسیع صحرا میں تھا کہ اس نے ایک بادل سے ایک آواز سنی: فلاں کے باغ کو سیراب کردو۔ پس بادل کا ایک ٹکڑا وہاں سے اپنے مقصد کے لیے الگ ہوا اور ایک کالے پتھروں والی زمین پر پانی برسایا۔ پھر ایک نالی میں ساری نالیوں کا پانی جمع ہوکرآگے بڑھنے لگا۔ وہ صحرا نَورد پانی کے پیچھے چلتا رہا۔ اس نے ایک آدمی دیکھا جو اپنے باغ میں کھڑا اپنی کدال سے پانی ادھر اُدھر پھیر رہا تھا۔ اس نے اس باغبان سے کہا: اے اللہ کے بندے! تیرا نام کیا ہے؟ اس نے اپنا نام بتلایا، تو وہ وہی نام تھا، جو اس نے بادل سے سنا تھا۔ باغبان نے اس نووارد سے پوچھا: اے اللہ کے بندے! تم میرا نام کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا: میں نے اس بدلی میں، جس کا پانی برس کر تیرے باغ میں آیا ہے،تیرا نام سنا تھا؛ کوئی کہہ رہا تھا: فلاں کے باغ کو سیراب کردو۔ وہ در اصل تیرا یہی نام تھا۔ اب ذرا مجھے بتلا کہ تو کون سا خیر و بھلائی والا عمل کرتا ہے، جس کی بنا پر اس فضل و کرامت کے مستحق قرار پائے؟ اس نے کہا: تو مجھ سے پوچھ ہی ڈالا تو سن! میرے اس باغ سے جتنی پیداواراور پھل ہوتا ہے، میں اس کے تین حصے کرلیتا ہوں؛ ایک حصہ صدقہ کردیتا ہوں، ایک حصہ میں اور میرے بچے کھا لیتے ہیں، اور ایک حصہ باغ کی زراعت و آبادکاری میں لگا دیتا ہوں۔