





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ اللہ تعالی نے فرمایا : "اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسےتمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت سے نواز دوں۔ لہذا تم مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو، سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں۔ لہذا تم مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھانا دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب ننگے ہو، سواۓ اس کے جسے میں لباس پہناؤں۔ لہذا تم مجھ سے لباس مانگو، میں تمہیں لباس دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں سارے گناہوں کو بخش دیتا ہوں۔ لہذا تم مجھ سے بخشش مانگو۔ میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب کی رسائی مجھے نقصان پہنچانے تک نہیں ہو سکتی کہ تم مجھے نقصان پہنچاؤ اور نہ تمہاری رسائی مجھے نفع پہنچانے تک ہو سکتی ہے کہ تم مجھے نفع پہنچاؤ۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے بعد کے لوگ اور تمھارے انسان اور تمھارے جنّات، تم میں سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہوجائیں تو اس سے میری سلطنت میں کچھ اضافہ نہ ہوگا۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے بعد کے لوگ اور تمھارے انسان اور تمھارے جنّات, تم میں سب سے زیادہ فاجر شخص کے دل جیسے ہوجائیں، تو اس سے میری سلطنت میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے پہلے کے لوگ اور تمھارے بعد کے لوگ، تمھارے انسان اور تمھارے جنّات ایک کھلے میدان میں کھڑے ہو جائیں اور سب مجھ سے مانگیں اور میں ہر انسان کو اس کی طلب کردہ چیز دے دوں، تو اس سے میرے خزانوں میں اس سے زیادہ کمی نہیں ہوگی، جتنی کمی ایک سوئی کو سمندر میں ڈبو کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں ہوتی ہے۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں کہ جنہیں میں شمار کر رہا ہوں اور پھر میں تمہیں ان کا پورا پورا بدلہ دوں گا۔ لہذا جو شخص بھلائی پائے، وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو اس کے علاوہ پائے، وہ اپنے ہی نفس کو ملامت کرے۔”
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ اس نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور اسے اپنی مخلوق کے بیچ بھی حرام قرار دیا ہے، لہذا کوئی کسی پر ظلم نہ کرے۔ سارے انسان حق کے راستے سے بھٹکے ہوئے ہيں، سوائے اس کے جسے اللہ حق کا راستہ دکھائے اور حق کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا کرے۔ جو اللہ سے حق کے راستے پر چلنے کی توفیق مانگتا ہے، اسے اللہ یہ توفیق عطا کرتا ہے۔ سارے انسان اپنی تمام ضرورتوں کے لیے اللہ کے محتاج ہیں اور جو اللہ سے ضرورتیں پوری کرنے کی دعا کرتا ہے، اللہ اس کی ضرورتیں پوری کر دیتا ہے۔ سارے انسان رات دن گناہ کرتے ہيں اور اللہ ان کے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے اور بخشش مانگنے پر بخش دیتا ہے۔ انسان نہ تو اللہ کو ضرر پہنچا سکتے ہیں اور نہ اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہيں۔ اگر سارے انسان ایک متقی شخص کی طرح ہو جائیں، تو ان کے اس تقوے سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اس کے برخلاف اگر سارے انسان کسی گنہگار ترین شخص کے جیسے ہو جائیں، تو ان کے اس گناہ میں ملوث ہو جانے سے اللہ کی بادشاہت میں کوئی کمی نہيں ہوگی۔ کیوں کہ انسان کمزور اور ہر حال اور ہر زمان و مکان میں اللہ کے محتاج ہیں، جب کہ اللہ غنی اور بے نیاز ہے۔ اگر سارے انسان اور جن، پہلے اور بعد کے لوگ کسی ایک مقام پر کھڑے ہوکر اللہ سے اپنی اپنی مرادیں مانگنے لگیں اور اللہ سب کی جھولیاں بھر دے، تو اس سے اللہ کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ بالکل اسی طرح، جس طرح سمندر میں ایک سوئی ڈال کر نکال لینے سے سمندر کا پانی گھٹتا نہیں ہے۔ ایسا اس لیے کہ اللہ بڑا ہی غنی ہے۔ اللہ بندوں کے اعمال کی حفاظت کرتاہے ، انھیں ان کے لئے اعمال کو شمار کرتا ہے اور قیامت کے دن انھیں ان کا پورا پورا بدلہ بھی دے گا۔ ایسے میں جو اپنے اعمال کا بدلہ اچھا پائے، وہ اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے نیک کام کرنے کی توفیق عطا کی اور جو اپنے اعمال کا بدلہ اس سے الگ پائے، وہ صرف اور صرف اپنے نفس کو کوسے، جو اسے برائی کا حکم دیتا تھا اور جس نے اسے ناکامی اور نامرادی سے دوچار کیا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے پیچھے سوار تھا کہ اسی درمیان آپ نے فرمایا : "اے لڑکے! میں تمھیں کچھ باتیں سکھانا چاہتا ہوں۔ اللہ (کے حقوق) کی حفاظت کرو، اللہ تمھاری حفاظت کرے گا۔ تم اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھو، اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے۔ جب مانگو، تواللہ ہی سے مانگو اور جب مدد طلب کرو، تو اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔ اس بات کو جان لو کہ اگر سب مل کر بھی تمھیں فائدہ پہنچانا چاہیں، تو تمھیں اتنا ہی فائدہ پہنچا سکتے ہیں، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر سب مل کر بھی تمھیں نقصان پہنچانا چاہیں، تو تمھیں اتنا ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں، جتنا اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیاہے۔ قلم اٹھالیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہيں"۔
رواه الترمذيعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بتا رہے ہيں کہ ایک دن وہ اللہ کے نبی صلی اللہ کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے کہا : میں تمھیں کچھ باتیں سکھاؤں گا، جن سے اللہ تمھیں فائدہ پہنچائے گا : اللہ کے احکام کی حفاظت کرکے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہ کر اس طرح اللہ کی حفاظت کرو کہ وہ تم کو نیکی اور اللہ سے قریب کرنے والے کاموں میں مشغول پائے اور نافرمانیوں اور گناہوں میں مشغول نہ پائے۔ اگر تم ایسا کروگے، تو بدلے میں اللہ دنیا و آخرت کی ناخوش گوار چیزوں سے تمھاری حفاظت کرے گا اور تم جہاں بھی جاؤگے، ہر کام میں تمھاری مدد کرے گا۔ جب تم کچھ مانگنا چاہو، تو صرف اللہ سے مانگو۔ کیوں کہ وہی مانگنے والوں کی مرادیں پوری کرتا ہے۔ جب مدد طلب کرنی ہو، تو بس اللہ سے طلب کرو۔ تمھارے دل میں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ اگر روئے زمین پر موجود سارے لوگ تمھارا بھلا کرنا چاہيں، تو اتنا ہی کر سکتے ہيں، جتنا اللہ نے تمھاری قسمت میں لکھ رکھا ہے اور اگر دھرتی پر بسنے والے سارے لوگ تمھارا برا کرنا چاہيں، تو اس سے زیادہ نہیں کر سکتے، جتنا اللہ نے تمھاری قسمت میں لکھ رکھا ہے۔ ان ساری باتوں کو اللہ تبارک و تعالی نے اپنی حکمت اور علم کے تقاضے کے مطابق لکھ رکھا ہے اور اللہ کے لکھے ہوئے میں کوئی تبدیلی ممکن نہيں ہے۔
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "میری امت کے سب لوگ جنت میں داخل ہوں کے، ماسوا ان لوگوں کے جنھوں نے انکار کیا۔" پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول! انکار کرنے والے کون ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جس نے میری اطاعت کی، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے انکار کیا۔"
رواه البخارياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ آپ کی امت کے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے، ان کو چھوڑ کر جنھوں نے جنت میں جانے سے منع کر دیا۔ ایسے میں صحابہ رضی اللہ عنھم نے آپ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! بھلا جنت جانے سے انکار کون کرے گا؟! آپ نے جواب دیا کہ جس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت و فرماں برداری کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے نافرمانی کی اور شریعت پر عمل کرنے سے گریز کیا، اس نے دراصل اپنے برے کاموں کے توسط سے جنت میں داخل ہونے سے انکار کیا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے“۔
رواه أبو داود وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے کسی کافر، فاسق یا صالح قوم کی مشابہت اپنائی، مثلا عقائد، عبادتوں یا عادتوں سے جڑا ہوا کوئی ایسا کام کیا، جو ان کی خصوصیت کے طور پر جانا جاتا ہے، تو اس کا شمار انہی لوگوں میں ہوگا۔ کیوں کہ ظاہری امور میں ان کی مشابہت اختیار کرنے سے باطنی مشابہت کے دروازے کھلتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہيں ہے کہ کسی قوم سے مشابہت اس سے مرعوبیت کا نتیجہ ہوتا ہے، جو کبھی کبھی اس سے محبت، اس کی تعظیم اور اس کی جانب میلان کا سبب بن جاتی ہے اور بسا اوقات اس کا نتیجہ اس سے باطنی اور عبادت تک میں مشابہت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اللہ کی پناہ۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تو اللہ کا شریک بنائے، حالاں کہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے"۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "تو اپنے بچے کو اس ڈر سے مار دے کہ وہ تیرے ساتھ کھانے میں شریک ہو گا"۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے"۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سب سے بڑے گناہ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: سب سے بڑا گناہ شرک اکبر ہے۔ شرک اکبر یہ ہے کہ کسی کو الوہیت، ربوبیت یا اسما و صفات میں اللہ کے جیسا مان لیا جائے۔ یہ ایسا گناہ ہے، جو توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتا۔ اگر انسان یہ گناہ کرتا ہوا مر جائے، تو ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔ اس کے بعد دوسرا بڑا گناہ اپنی اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالنا ہے کہ وہ ساتھ میں کھائے گی۔ ویسے تو کسی بھی انسان کی جان لے لینا حرام ہے، لیکن گناہ اس وقت اور بڑا ہو جاتا ہے، جب مقتول کا قاتل سے رشتہ ہو۔ گناہ اس وقت بھی بڑا ہو جاتا ہے، جب قتل کے پیچھے یہ ڈر چھپا ہوا ہو کہ مقتول اللہ کی دی ہوئی روزی کھانے میں قاتل کے ساتھ شریک ہو جائے گا۔ تیسرا بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے پڑوسی کی بیوی کو بہلا پھسلا کر راضی کر لے اور اس کے ساتھ منہ کالا کرے۔ ویسے تو زنا حرام ہے، لیکن اس کا گناہ اس وقت اور بڑھ جاتا ہے، جب زنا پڑوسی کی بیوی کے ساتھ کیا جائے، جس کے ساتھ شریعت نے اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا ہے۔
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ رشتہ منقطع رکھے۔ دونوں ایک دوسرے سے ملیں اور یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے۔ ان دونوں میں بہتر وہ شخص ہے، جو سلام میں پہل کر لے“
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی مسلمان اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ تک بات چیت بند رکھے اور یہ حالت بنائے رکھے کہ دونوں ایک دوسرے سے ملیں ، لیکن سلام کلام کچھ نہ ہو۔ ان دونوں میں بہتر شخص وہ ہے جو قطع کلامی کے اس سلسلے کو توڑے اور آگے بڑھ کر سلام کرے۔ معلوم رہے کہ یہاں بات چیت بند رکھنے سے مراد ذاتی مفاد کی خاطر بات چیت بند رکھنا ہے۔ رہی بات اللہ کے حق کی خاطر بات چیت بند رکھنے کی، جیسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نافرمانی کرنے والوں، بدعتیوں اور برے ساتھیوں سے قطع کلامی کرنا، تو اس کے لیے وقت کی کوئی تحدید نہيں ہے۔ اس کا تعلق قطع کلامی کے پیچھے کار فرما مصلحت سے ہے۔ جیسے ہی یہ مصلحت دور ہو جائے، قطع کلامی کا سلسلہ بند ہو جانا چاہیے۔
ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”جس نے دوسرے کا نقصان کیا، اللہ اس کا نقصان کرے گا اور جس نے دوسرے کو مشقت میں ڈالا، اللہ اسے مشقت میں ڈالے گا“۔
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی مسلمان کو نقصان پہنچانے اور اسے کسی بھی طرح مشقت میں ڈالنے سے خبردار کیا ہے۔ خواہ نقصان اور مشقت کا تعلق اس کی جان سے ہو، یا مال سے ہو یا اہل و عیال سے۔ آپ نے بتایا ہے کہ ایسا کرنے والے کو اللہ اسی نوعیت کا بدلہ دے گا، جس نوعیت کا اس کا عمل ہے۔
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ آپ نے ایک رات -یعنی چودھویں کی رات- چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا : ”یقینا تم لوگ اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے، جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اسے دیکھنے میں تمھیں کوئی دقت نہیں ہوگی۔ لہٰذا اگر تم سے ہو سکے کہ سورج نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں پر کسی چیز کو حاوی نہ ہونے دو، تو ایسا ضرور کرو۔" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی : {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ} (اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر)"۔
متفق عليهایک رات صحابہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ موجود تھے۔ اسی بیچ آپ نے چودھویں کی رات چاند کی جانب دیکھا اور فرمایا : ایمان والے اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں گے۔ ان کو اسے دیکھنے میں کوئی پریشانی اور دقت نہیں ہوگی۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اگر تم فجر اور عصر کی نماز سے روکنے والی چیزوں پر حاوی ہو سکو، تو اس کی کوشش ضرور کرو اور ان دونوں نمازوں کو وقت پر مکمل طریقے سے پڑھا کرو، کیوں کہ ان دونوں نمازوں کی پابندی اللہ کے چہرے کے دیدار کی سعادت عطا کرنے والی چیزوں میں سے ایک ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ} (اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر)"۔
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ویسے تو اللہ تعالی ظالم کو مہلت دیتا ہے، لیکن جب اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔" پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی : {وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} (تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے، جب کہ وه بستیوں کے رہنے والے ﻇالموں کو پکڑتا ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے)۔ [سورہ ہود : 102]
متفق عليهاس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم گناہ، شرک اور لوگوں کا حق مار کر ظلم کے راستے پر آگے بڑھتے جانے سے خبردار کر رہے ہيں۔ کیوں کہ اللہ تعالی ظالم کو فورا سزا دینے کی بجائے اسے مہلت اور ڈھیل دیتا ہے اور اس کی عمر اور دھن دولت کو بڑھاتا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر وہ توبہ نہیں کرتا، تو اس کا ظلم بڑھ جانے کی وجہ سے اسے پکڑ لیتا ہے اور پھر چھوڑتا نہیں ہے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت پڑھی : {وَكَذَٰلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَىٰ وَهِيَ ظَالِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ} (تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے، جب کہ وه بستیوں کے رہنے والے ﻇالموں کو پکڑتا ہے۔ بےشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت سخت ہے)۔ [سورہ ہود : 102]