





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے، اس وقت ایک عورت ان کے پاس بیٹھی تھی۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟، انھوں نے جواب دیا: یہ فلاں عورت ہے، جو اپنی نماز کا ذکر کر رہی ہے! آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھہر جاؤ (سن لو!) تم اتنا ہی عمل کیا کرو، جتنے کی تمھارے اندر طاقت ہے۔ اللہ کی قسم (ثواب دینے سے) اللہ نہیں اکتاتا، یہاں تک کہ تم (عمل کرنے سے) اکتا جاؤ۔ اور اللہ کو دین (کا) وہی عمل زیادہ پسند ہے، جس کا کرنے والے اسے ہمیشہ کرے۔
متفق علیہام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک عورت آئی۔ اس نے انھیں بتایا کہ وہ بکثرت عبادت کرتی اور نماز پڑھتی ہے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی، تو آپ ﷺ نے انھیں عبادت میں مبالغہ کرنے اور نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے سے منع فرمایا اور بتایا کہ اللہ تعالی تم سے اکتاہٹ کا برتاؤ نہیں کرے گا، بلکہ تم خود اکتا جاؤ اور عبادت چھوڑ دو؛ اس لیے تمھارے لیے مناسب یہی ہے کہ تم اتنا عمل کرو، جسے ہمیشہ کر سکو؛ تاکہ اس کا ثواب اور اس کا فضل و کرم تمھیں ہمیشہ ملتا رہے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تجارتی قافلوں سے آگے جا کر ملنے اور شہری کا دیہاتی کی طرف سے بیع کرنے سے منع فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ شہری کا دیہاتی کی طرف سے بیع کرنے سے آپ ﷺ کی کیا مراد ہے؟ انھوں نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کا دلال نہ بنے۔
متفق علیہاس حدیث میں نبی ﷺ حرام بیع کی کچھ اقسام سے منع فرما رہے ہیں۔ کیوںکہ اس میں بائع و مشتری یا ان کے علاوہ کسی اور کو نقصان ہوتا ہے۔ اول: اشیا خوردنی اور جانور وغیرہ پر مشتمل سامانِ تجارت لے کر (بیرون شہر سے) آنے والے لوگوں سے جا ملنا ممنوع ہے؛ بایں طور کہ آدمی ان کے منڈی تک پہنچنے سے پہلے ہی ان کے پاس جا کر ان سے سامان تجارت خرید لے۔ اس میں امکان ہے کہ ان کی قیمتوں سے عدم واقفیت کی بنا پر وہ ان سے دھوکہ کرلے اور انھیں ان کے باقی رزق سے محروم کر دے، جس کے لیے انھوں نے اتنی مشقت اٹھائی، صحراؤں اور جنگلات کو عبور کیا اور خطرات برداشت کیے۔ یوں وہ ان لوگوں کے لیے لقمۂ تر بن جائے، جنھوں نے اس کے لیے کچھ بھی کاوش نہیں کی۔ دوم: کوئی دیہاتی یا کسی بستی کا باشندہ شہر میں اپنا سامان تجارت لے کر آئے، تاکہ اسے اس دن کی قیمت پر یا پھر کسی ایسے بھاؤ پر بیچ کر واپس لوٹ جائے، جس کی اسے ضرورت ہو یا جو اس کے لیے کافی ہو۔ ایسے میں اس کے پاس کوئی شہری شخص آ کر کہے کہ اس سامان کو میرے پاس رکھ دو، تا کہ اسے میں تھوڑا تھوڑا کر کے زیادہ دام پر بیچ دوں۔ ایسا کرنے سےشہر کے باشندوں کو نقصان ہوتا ہے۔ چنانچہ شریعت نے شہر میں آنے والے اجنبی فروخت کنندہ اور شہر کے باشندوں دونوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ’’بیعِ مزابنہ‘‘ سے منع فرمایا، یعنی باغ کے پھلوں کو اگر وہ کھجور ہیں تو خشک کھجور کے بدلے میں ناپ کر بیچا جائے۔اور اگر انگور ہیں تو اسے خشک انگور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے اور اگر وہ کھیتی ہے تو ناپ کر غلہ کے بدلے میں بیچا جائے۔ آپ ﷺ نے ان تمام قسم کے لین دین سے منع فرمایا ہے۔
متفق علیہنبی ﷺ نے ’بیع مزابنہ‘ سے منع فرمایا، بیع مزابنہ سے مراد معلوم مقدار والی شے کی مجہول مقدار والی شے سے فروخت ہے۔ اس کی ممانعت اس لیے ہے کیونکہ اس میں ضرر ہوتا ہے اور اس میں دونوں فروخت کردہ اشیاء کی مقدار میں جہالت ہوتی ہے جو ربا کا سبب بنتی ہے۔اس کی کئی مثالیں دی گئی ہیں جو اس کی وضاحت کرتی ہیں۔ مثلاً کوئی شخص اپنے باغ کے پھل کو اگر وہ کھجور ہو تو اسے ٹوٹی ہوئی خشک کھجور کے عوض میں بیچ دے اور اگر انگور ہو تو اسے ناپ کر کشمش کے بدلے بیچ دے اور اگر کھیتی ہو تو اسے ناپ کر اسی جنس کی خوراک سے بیچ دے۔ آپ ﷺ نے ان تمام قسم کی بیوع کو ان میں پوشیدہ مفاسد اور نقصانات کی وجہ سے منع فرمایا۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاحِ شغار سے منع فرمایا ہے۔
متفق علیہعقدِ نکاح میں اصل تو یہی ہے کہ یہ عورت کو دیے جانے والے حق مہر کے ساتھ پورا ہوتا ہے جو اس کے نفس کے عوض کے طور پر دیا جاتا ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے جاہلیت کے اس نکاح سے منع فرمایا جس کے ذریعے اولیاء اپنے زیر پرورش اور زیر نگرانی موجود لڑکیوں پر ظلم کیا کرتے تھے بایں طور کہ وہ بغیر کسی ایسے مہر کے ان کا نکاح کر دیتے جس کا فائدہ انہیں پہنچتا۔ وہ تو اپنی رغبت اور خواہش کے تقاضے کے مطابق انہیں استعمال کرتے ہوئے اس شرط پر انہیں ان کے شوہروں کے حوالے کر دیتے کہ وہ اپنی زیر پرورش موجود لڑکیوں کا بغیر مہر کے ان کے ساتھ نکاح کر دیں گے۔ یہ ظلم ہے اور اللہ کے نازل کردہ حکم کے برخلاف ان کی شرمگاہوں میں تصرف ہے۔ اور اس طرح کا کوئی بھی معاملہ حرام اور باطل ہوا کرتا ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حمل کے حمل کی بیع سے منع فرمایا۔ اس بیع کا طریقہ جاہلیت میں رائج تھا۔ ایک شخص ایک اونٹ یا اونٹنی خریدتا اور قیمت دینے کی میعاد یہ مقرر کرتا کہ ایک اونٹنی جنے پھر اس کے پیٹ کی اونٹنی بڑی ہو کر جنے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایک شخص اونچی کوہان والی اونٹنی بیچتا تھا اور وہ بڑی عمر کی ہوتی، اس بچے کے جنم کی شرط پر، جو اس کی اونٹنی کے پیٹ میں ہے۔
متفق علیہیہ بیع ان بیوع میں سے ہے، جو حرام ہیں۔ اس کی مشہور دو تفسیریں ہیں: 1- اس کا معنیٰ تعلیق ہے، یعنی کوئی چیز اس طرح ادھار پر بیچنا کہ جانور کے پیٹ میں موجود بچے کی ولادت، پھر اس کے بچے کی ولادت پر اس کی مدت ختم ہو۔ اس سے منع کیا گیا ہے، اس لیے کہ اس میں قیمت مجہول ہے اور جس مدت کے ساتھ قیمت کو معلق کیاگیا ہے، وہ لمبی بھی ہوسکتی ہے اور مختصر بھی۔ 2- اس کے معنی معدوم اور مجہول چیز کو بیچنے کے ہیں۔ یعنی ایک سالہ جانور کے پیٹ میں موجود حمل سے پیدا ہونے والے بچے کو بیچنا۔ اس سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ اس میں بہت زیادہ ضرر اور غرر (غیریقینی صورتحال) ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ وہ بچہ مادہ ہی ہوگا، ایک ہوگا یا دو، مردہ ہوگا یا زندہ اور کتنے عرصے میں پیدا ہوگا؟ یہ مجہول بیوع میں سے ہے، جس کا ضرر بہت زیادہ ہوتا ہے اور جھگڑے کا سبب بنتا ہے۔ یعنی مسئلے کی چار صورتیں ہیں: پہلی یہ کہ جانور کے حمل کو بیچنا۔ دوسری یہ کہ جانور کے حمل کے حمل کو بیچنا۔ اس میں بیچی جانے والی چیز مجھول ہے۔ تیسری یہ کہ بیچی جانے والی چیز مؤجل ہو، یعنی جس مدت میں وہ چیز مشتری کی ملکیت ہوگی، وہ جانور کا بچہ ہونے یا اس کے بچے کا بچہ ہونے تک مؤخر ہو۔ چوتھی صورت یہ ہے کہ مبیع غیر معلق (دستیاب) ہو ،لیکن قیمت مؤجل ہو جس کی مدت مجہول ہو۔
ابو عبد الله جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو ہم پر امیر بنا کر قریش کا ایک قافلہ پکڑنے کے لیے روانہ کیا اور زاد سفر کے لیے ہمارے ساتھ کھجور کا ایک تھیلہ تھا، اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں تھا۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں ہر روز ایک ایک کھجور دیا کرتے تھے، ہم لوگ اسے اس طرح چوستے تھے جیسے بچہ چوستا ہے، پھر پانی پی لیتے، اس طرح وہ کھجور ہمارے لیے ایک دن اور ایک رات کے لیے کافی ہو جاتی، نیز ہم اپنی لاٹھیوں سے درخت کے پتے جھاڑتے پھر اسے پانی میں تر کر کے کھاتے، پھر ہم ساحل سمندر پر چلے توریت کے ٹیلہ جیسی ایک چیز ظاہر ہوئی، جب ہم لوگ اس کے قریب آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک مچھلی ہے جسے عنبر کہتے ہیں۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مردار ہے اور ہمارے لیے جائز نہیں۔ پھر وہ کہنے لگے: نہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے بھیجے ہوئے لوگ ہیں اور اللہ کے راستے میں ہیں اور تم مجبور ہو چکے ہو لہٰذا اسے کھاؤ، ہم وہاں ایک مہینہ تک ٹھہرے رہے اور ہم تین سو آدمی تھے یہاں تک کہ ہم (کھا کھا کر) موٹے تازے ہو گئے، جب ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ”وہ رزق تھا جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا تھا، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ بچا ہے، اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ“ ہم نے اس میں سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تو آپ ﷺ نے اسے کھایا۔
متفق علیہآپ ﷺ نے ایک سریہ بھیجا۔ اس کا امیر ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بنایا، تاکہ قریش کے اس قافلہ کو پکڑلیں جو اناج اور گیہوں لیے جارہا تھا، آپ ﷺ نے ان کو چمڑے کا ایک برتن دیا جس میں کھجوریں تھیں، ان کا امیر توشہ کم ہونے کی وجہ سے ہر ایک کو ایک کھجور دیتا، وہ اسے چوستے تھے اور اس پر پانی پیتے تھے، وہ اپنی لاٹھیوں سے پتّے جھاڑتے جنہیں اونٹ کھاتے ہیں، پھر ان پتّوں کو پانی میں بھگوتے، جب ان کی سختی چلی جاتی تو کھاتے تھے، جب وہ لوگ ساحل پر پہنچے تو انہوں نے ریت کے ٹیلے کے برابر کوئی چیز دیکھی، وہ بڑی مچھلی تھی، اسے عنبر کہتے تھے، ان کے امیر ابو عبیدہ نے ان کو وہ کھانے سے منع کیا، اس لیے کہ وہ مُردار ہے اور مُردار قرآن کی صراحت سے حرام ہے، پھر ان کا اجتہاد بدل گیا اور اس کو کھانے کی اجازت دی، اس لیے کہ ضرورت کے موقع پر مُردار کھانا بھی جائز ہے، خاص کر جب اللہ کی اطاعت والے سفر میں ہوں، انہیں یہ بات معلوم نہیں تھی کہ سمندری مُردار حلال ہے۔ پھر انہوں نے مجبوری کو دلیل بنا کر اسے کھایا اور اپنے ساتھ لے گئے، جب وہ مدینے آئے اور آپ ﷺ کو خبر دیا، آپ ﷺ نے انہیں اپنے فعل پر قائم رکھا اور آپ ﷺ نے بھی اس سے کھایا۔
عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے کچھ غلہ خریدا اور اس کے پاس لوہے کی ایک زرہ گروی رکھی۔
متفق علیہنبی ﷺ نے ایک یہودی سے کچھ جو خریدے اور اس کے پاس وہ شے بطور رہن رکھوا دی جس کی آپ ﷺ کو جہاد فی سبیل اللہ اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے ضرورت ہوتی تھی یعنی آپ ﷺ کی زرہ جسے آپ ﷺ جنگوں میں پہنا کرتے تھے تا کہ وہ اللہ تعالی کی ذات کے بعد آپ ﷺ کو دشمن کے اسلحہ اور ان کی چال سے بچائے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک وقت ہم سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے کہ ایک شخص اپنی سواری پر سوار ہوکر آیا اور دائیں بائیں اپنی نگاہ پھیرنے لگا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس ضرورت سے زائد کوئی سواری ہو تو چاہیے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دے دے جس کے پاس سواری نہ ہو، اور جس کے پاس ضرورت سے زائد توشہ ہو تو چاہیے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دے دے جس کے پاس توشہ نہ ہو“۔ اس طرح آپ نے مختلف قسم کے مالوں کا ذکر فرمایا، یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ ہم میں سے کسی شخص کا زائد از ضرورت چیز میں کوئی حق نہیں ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ اتنے میں ایک شخص اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر آیا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا تاکہ کوئی چیز پائے اور اس کے ذریعہ اپنی ضرورت پوری کر سکے۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: جس کے پاس ضرورت سے زائد کوئی سواری ہو تو اسے وہ ایسے شخص کو دے دینا چاہیے جس کے پاس سواری نہ ہو، اور جس کے پاس ضرورت سے زائد کھانا ہو تو اسے وہ ایسے شخص کو دے دینا چاہیے جس کے پاس کھانا نہ ہو۔ راوی کا بیان ہے کہ: یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ ہم میں سےکسی کو اس کی ضرورت سے زائد چیز کا کوئی حق نہیں ہے۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:نبی ﷺ نے مخابرہ، محاقلہ، اور مزابنہ سے منع فرمایا، اسی طرح پھل کو پختہ ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، اور یہ کہ میوہ یاغلہ جو درخت پر لگا ہو، دینار و درہم ہی کے بدلے بیچا جائے۔ البتہ عرایا کی اجازت دی ہے۔
متفق علیہنبی ﷺ نے خرید و فروخت کی کچھ انواع سے منع فرمایا، جن کا تعلق پھلوں کے ساتھ ہے۔ کیوںکہ اس سے ایک فریق کو یا دونوں فریق کو نقصان ہوتا ہے۔ ان صورتوں میں سے کچھ یہ ہیں: مخابرہ، اس کے معنی ہیں: زمین کو، اس کے کسی معین حصے کی پیداوار کے بدلے میں کرایے پر دینا نہ کہ اوسط کے حساب سے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے بالیوں میں موجود گیہوں کی اس گیہوں کے بدلے میں بیع سے منع فرمایا ہے، جسے بھوسہ سے الگ کر لیا گیا ہو۔ اسی طرح آپ ﷺ نے درختوں پر لگی کھجور کو اس کے بقدر ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے میں بیچنے سے منع فرمایا اور پھل کے پختہ ہونے سے پہلے اسے بیچنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ تاہم آپ ﷺ نے بعدازاں تازہ کھجور کو بیچنے کی رخصت دے دی جب کہ اس کا تخمینہ لگاکر اس کی مقدار معلوم کر لی جائے اور اسے اسی کے برابر پھل کے ساتھ فروخت کیا جائے۔ ”الخرص“ کے معنی ہیں: پھل کی مقدار کو اندازے اور غالب گمان کے ذریعےجاننا بشرطےکہ یہ بیع پانچ یا پانچ وسق سے کم میں ہو۔ کیوںکہ دیگر احادیث میں ایسے ہی آیا ہے۔