





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ حنین کے لیے نکلے، تو آپ کا گزر مشرکین کے ایک درخت سے ہوا، جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، اس پر وہ اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے۔ چنانچہ آپ کے ساتھ موجود لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط بنا دیجیے جیسا کہ ان کا ایک ذات انواط ہے۔ لہذا اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا : "سبحان اللہ! یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ کی قوم نے کہا تھا کہ {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ} (ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دیجیے جیسا کہ ان (مشرکوں) کے معبودان ہیں)۔ [سورہ اعراف : 138] اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ضرور اپنے سے پہلے کی امتوں کے نقش قدم پر چلوگے۔"
رواه الترمذي وأحمداللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم طائف اور مکہ کے درمیان واقع ایک وادی حنین کی جانب نکلے۔ آپ کے ساتھ کچھ صحابہ ایسے بھی تھے، جو ابھی ابھی مسلمان ہوئے تھے۔ لہذا جب وہ "ذات انواط" نامی یعنی لٹکائی ہوئی چیزوں والے ایک پیڑ کے پاس سے گزرے، جس کی مشرکین تعظیم کیا کرتے تھے اور حصول برکت کے لیے اس پر اپنے ہتھیار لٹکایا کرتے تھے، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے کہنے لگے کہ ان کے لیے بھی اسی طرح کا ایک پیڑ متعین کر دیں، جس میں وہ حصول برکت کے لیے اپنے ہتھیار لٹکا سکیں۔ دراصل وہ سمجھتے تھے کہ ایسا کرنا جائز ہے۔ چنانچہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے ان کی گزارش کے بارے میں ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اور اللہ کی عظمت بیان کرتے ہوئے "سبحان اللہ" کہا اور بتایا کہ ان کی یہ بات موسی علیہ السلام کی قوم کی اس بات کے مشابہ ہے: (ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دیجیے جیسا کہ ان (مشرکوں) کے معبودان ہیں)۔ جب انھوں نے کچھ لوگوں کو بتوں کی پوجا کرتے ہوئے دیکھا، تو اس بات کا مطالبہ کیا کہ مشرکوں کی طرح ان کے بھی کچھ بت ہوں۔ آپ نے بتایا کہ آپ کے صحابہ کا یہ مطالبہ بھی دراصل ان کے نقش قدم کی پیروی ہے۔ پھر بتایا کہ یہ امت یہود و نصاری کے نقش قدم پر چلے گی اور ان کے کام کرے گی۔ آپ کا مقصد اس طرح کے کاموں سے خبردار کرنا تھا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، آپ سے کسی موضوع پر گفتگو کی اور اسی دوران بولا : جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں (وہی ہوتا ہے)۔ لہذا آپ ﷺ نے فرمایا : ”کیا تم نے مجھے اللہ کے برابر بنا دیا؟ اس کے بجائے یہ کہا کرو : جو اکیلے اللہ چاہتا ہے (وہی ہوتا ہے)۔"
رواه ابن ماجه والنسائي في الكبرى وأحمدایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، آپ سے کسی مسئلے پر گفتگو کی اور اس کے بعد کہا : "ہوگا وہی جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔" لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی اس بات کی تردید کر دی اور بتایا کہ بندے کی مشیت کو اللہ کی مشیت پر واو کے ذریعے عطف کرنا شرک اصغر ہے۔ کسی مسلمان کے لیے اس طرح کی بات کہنا جائز نہيں ہے۔ بعد ازاں ان کی رہ نمائی اس طرف کر دی کہ کیا کہنا چاہیے۔ انسان کو بس "ہوگا وہی جو بس اللہ چاہے" کہنا چاہیے۔ بات بس اللہ کی مشیت کے ساتھ معلق کر کے کرنی چاہیے۔ کسی بھی حرف عطف کے ذریعے اس کے ساتھ کسی اور کی مشیت کو جوڑنا نہيں چاہیے۔
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہيں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم میرے یہاں آئے تو دیکھا کہ میں نے اپنے ایک طاق پر ایک کپڑا ڈال رکھا ہے، جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ اس پر نظر پڑتے ہی آپ نے اسے کھینچ کر ہٹا ڈالا، آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور فرمایا : "اے عائشہ! قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو عمل تخلیق میں اللہ کے مشابہ ہونا چاہتے ہيں۔" عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہيں : لہذا ہم نے اسے پھاڑکر اس سے ایک یا دو تکیے بنا لیے۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، تو دیکھا کہ انھوں نے ایک طاق پر ایک پردہ لگا رکھا ہے، جس پر جان دار چیزوں کی تصویریں بنی ہوئی ہيں۔ یہ دیکھ کر غصے سے آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ نے اسے کھینچ کر ہٹا دیا اور فرمایا : قیامت کے دن سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا، جو اپنی تصویروں کے ذریعے عمل تخلیق میں اللہ کے مشابہ ہونا چاہتے ہيں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : چنانچہ ہم نے اسے پھاڑ کر ایک یا دو تکیے بنا لیے۔
بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کو کسی لشکر یا سریہ کا امیر مقرر کر کے روانہ فرماتے تو اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ خیر و بھلائی کی وصیت کرتے اور فرماتے: ’’اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستہ میں جہاد کرو، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں کےساتھ قتال کرو۔ جہاد کرو لیکن خیانت نہ کرنا، عہد شکنی نہ کرنا، مثلہ نہ کرنا اور بچوں کو قتل نہ کرنا۔ اور جب مشرک دشمن سے تمہارا آمنا سامنا ہو تو اسے تین میں سے کسی ایک بات کو قبول کرنے کی دعوت دو۔ وہ ان میں سے جس بات کو بھی قبول کر لیں، تم اسے ان کی طرف سے تسلیم کرلو اور ان سے اپنے ہاتھ روک لو۔ سب سے پہلے ان کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرو اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو تم بھی اسے قبول کرلو پھر انہیں اپنے علاقے سے دارالمہاجرین کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اگر انہوں نے ایسا کرلیا تو ان کے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر وہی احکام لاگو ہوں گے جو مہاجرین پر لاگو ہوتے ہیں۔ اگر وہ ہجرت سے انکار کر دیں (اور اپنے علاقے ہی میں رہنے کو ترجیح دیں) تو انہیں بتانا کہ وہ دیہاتی (بدوی) مسلمانوں کی مانند شمار ہوں گے اور ان پر اللہ کا حکم جاری ہوگا، اور مالِ غنیمت و مالِ فے میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد میں شریک ہوں۔ اگر وہ اس سے (یعنی اسلام لانے سے) انکار کر دیں تو انہیں جزیہ دینے کے لیے کہو۔ اگر وہ اسے تسلیم کرلیں تو تم اسے ان کی طرف سے قبول کرلو اور ان سے اپنے ہاتھ روک لو۔ لیکن اگر وہ اس سے بھی انکار کر دیں تو پھر اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے لڑائی شروع کرو۔ اور جب تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کرلو اور وہ تم سے اللہ اور اس کے نبی کا ذمہ (امان کا عہد) طلب کریں تو تم انہیں اللہ اور اس کے نبی کا ذمہ (امان کا عہد) نہ دو، بلکہ تم اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ (امان کا عہد) دو۔ کیوں کہ تمہارا اپنے اور اپنے ساتھیوں کے عہد کو توڑنا اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑنے سے بہت ہلکا ہے۔ اور جب تم کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کرلو اور اس قلعہ والے یہ چاہتے ہوں کہ تم انہیں اللہ کے حکم (فیصلے) پر ہتھیار ڈالنے دو تو تم ایسا نہ کرنا، بلکہ انہیں اپنے حکم (فیصلے) پر ہتھیار ڈالنے دینا، کیوں تمہیں نہیں معلوم کہ اس سلسلے میں تم اللہ کے فیصلے کو پہنچتے ہو یا نہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔بریدہ رضی اللہ عنہ خبردے رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی لشکر یا سریہ (فوجی دستہ) کو کفار سے جہاد کرنے کے لیے روانہ فرماتے تو ان کا ايک امیر مقرر فرماتے جو ان کی وحدت و اجتماع کی حفاظت کرتا اور ان کے معاملات کو درست رکھتا۔ پھر اسے اللہ سے ڈرنے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی وصیت فرماتے، اور ان کی اس بات کی طرف رہنمائی کرتے کہ انھیں دشمنوں کے ساتھ کیسا رویہ اپنانا چاہیے، اور انھیں خیانت، عہد شکنی، مثلہ کرنے اور غیر مکلف لوگوں کو قتل کرنے سے اجتناب کرنے کی تلقین کرتے، اور انھیں یہ ہدایت دیتے کہ مشرکين کو سب سے پہلے اسلام کی دعوت پیش کریں. اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو انہیں مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی ترغیب دیں اور انہیں بتائیں کہ اگر انہوں نے ایسا کرلیا تو ان کے لیے وہی حقوق و واجبات ہوں گے جو پہلے ہجرت کرنے والوں کے ہیں، اگر وہ ہجرت سے انکار کر دیں تو ان کے ساتھ دیہاتی مسلمانوں کا سا معاملہ کیا جائے گا۔ اگر وہ اسلام لانے سے انکار کردیں تو ان سے جزیہ طلب کریں۔ اگر وہ لوگ جزیہ دینے سے بھی انکار کریں تو اللہ کی مدد کے بھروسے ان سے جہاد و قتال کریں۔ اور اگر وہ کسی قلعہ والوں کا محاصرہ کریں تو انہیں اللہ کا عہد اور اس کے رسول کا عہد و پیمان نہ دیں، بلکہ انہیں اپنا عہد و پیمان دیں، کیوں کہ اپنے عہد کو توڑنا اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑنے کے مقابلے میں کم گناہ کا باعث ہے۔ اور جب وہ اپنے لیے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کرنے کا مطالبہ کریں تو وہ کسی حکم کے ذریعہ فیصلہ کرکے اسے اللہ کا حکم نہ بنائیں۔ اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ ان کے بارے میں اللہ کے حکم کو نہ پہنچ سکیں۔ بلکہ ان کے ساتھ خود اپنے فیصلے اور اجتہاد کے مطابق معاملہ کریں۔
ابن دیلمی کہتے ہیں کہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہ پیدا ہو گیا ہے، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے یہ امید ہو کہ اللہ تعالیٰ اس شبہ کو میرے دل سے نکال دے گا، انھوں نے فرمایا: اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا بھی، اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو تو اللہ تعالیٰ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لے آؤ اور یہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ تمہیں نہیں پہنچتا، اور جو کچھ تمہیں نہیں پہنچا وہ ایسا نہیں کہ تمہیں پہنچ جاتا اور اگر تم اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گیے تو ضرور جہنمیوں میں سے ہوگے۔ابن دیلمی کہتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن مسعود ، حذیفہ بن یمان اور زید بن ثابت رضی اللہ عنھم اجمعین کے پاس آیا تو ان سب نے مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم ﷺ کی مرفوع روایت بیان کی۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔عبداللہ بن فیروز دیلمی رحمہ اللہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ ان کے دل میں تقدیر کے مسئلہ میں کچھ اشکال و اشتباہ پیدا ہوگیا اور انھیں اس بات کا خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ اشکال انھیں تقدیر کے انکار تک نہ پہنچادے، چنانچہ اس اشکال کو دور کرنے کے لیے وہ اہلِ علم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین سے مسئلہ کا حل دریافت کرنے لگے۔ لہذا اسی طرح ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ ”پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو“ پر عمل کرتے ہوئے، اپنے مشتبہ و مشکل مسائل کے بارے میں علمائے کرام سے حل دریافت کرے۔ چنانچہ ان سارے علماء نے ابن فیروز دیلمی کو یہی فتویٰ دیا کہ قضاء و قدر پر ایمان لانا لازمی ہے اور عظیم کمیت پر مبنی انفاق فی سبیل اللہ کو اس شخص سے قبول نہیں کیا جائے گا جس کا تقدیر پر ایمان نہ ہو اور جو اس حال میں مرجائے کہ تقدیر پر اس کا ایمان نہ ہو تو وہ جہنمیوں میں سے ہوگا۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اے میرے بیٹے! تم اس وقت تک ایمان کی حلاوت محسوس نہیں کر سکتے جب تک کہ تم یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں (اچھا یا برا) ملنا ہے وہ تمہیں مل کر ہی رہے گا اور جو تمہیں نہیں ملا وہ تمہیں مل ہی نہیں سکتا تھا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”اللہ نے سب سے پہلے جس کو پیدا کیا وہ قلم ہے اور اس سے فرمایا: لکھ۔اس نے پوچھا: اے میرے رب! میں کیا لکھوں؟۔ اللہ تعالی نے فرمایا: قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کی تقدیریں لکھ“۔ اے میرے بیٹے! میں ںے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”جو شخص اس عقیدے کے بجائے کسی اور عقیدے پر مر گیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں“۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ ”اللہ تعالی نے سب سے پہلے قلم پیدا کیا اور اسے فرمایا: لکھو ۔ چنانچہ قلم اسی وقت وہ سب کچھ لکھنے لگ گیا جو قیامت تک ہونا ہے“۔ ابن وہب سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اچھی اور بری تقدیر پر ایمان نہ لایا اسے اللہ (دوزخ کی) آگ میں جلاے گا“۔
اسے ابنِ وھب نے اپنی کتاب ”القدر“ میں روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنے بیٹے ولید کو اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانے کی نصیحت کر رہے ہیں اور تقدیر پر ایمان لانے سے دنیا و آخرت میں جو پاکیزہ پھل اور اچھے نتائج ملتے ہیں اور تقدیر کے انکار پر جو دنیا و آخرت کی برائیاں اورآفات جنم لیتی ہیں ان کی وضاحت کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کو بطور دلیل پیش کر رہے ہیں جس کے مطابق اللہ تعالی نے مخلوقات کے وجود میں آنے سے پہلے ہی تقدیر متعین کر دی ہے اور قلم کو اس کے لکھنے کا حکم فرما دیا ہے۔ چنانچہ قیامت آنے تک اس کائنات میں جو کچھ بھی وقوع پذیر ہو گا وہ قضاء و قدر کے مطابق ہی ہوگا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (کہ اللہ تعالی فرماتا ہے): ”عزت میری ازار اور کبریائی (بڑائی) میری چادر ہے چنانچہ جو شخص ان دونوں میں سے کوئی شے مجھ سے کھینچے گا میں اسے عذاب دوں گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عزت و کبریائی دو ایسی صفات ہیں جو اللہ کے ساتھ خاص ہیں اور ان دونوں میں اس کا کوئی شریک نہیں جیسے آدمی کی چادر اور تہبند جو اس کا لباس ہوتی ہیں ان میں کوئی اس کا شریک نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی نے ان دونوں صفات کو اپنے لئے لازم کر لیا اورانہیں اپنی ان خصوصیات میں سے شمار کیا ہے جن میں کسی کی شرکت نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ جو بھی عزت و کبریائی کا دعوی کرتا ہے وہ گویا اللہ کی مملوکہ چیزوں میں اس سے جھگڑتا ہے اور جو اللہ سے جھگڑتا ہے اسے اللہ عذاب میں جھونک دیتا ہے۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کے اپنا باپ ہونے کا دعوی کیا تو اس نے کفر کیا، جس شخص نے کسی ایسی شے کا دعوی کیا جو اس کے پاس نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے بعینہ جس کسی نے کسی دوسرے شخص کو کافر کہہ کر پکارا، یا یہ کہا کہ: او اللہ کے دشمن۔ اور وہ شخص حقیقت میں ایسا نہیں ہے تو اس کا یہ کہنا اس کی طرف لوٹ آتا ہے“۔
متفق علیہاس حدیث میں اس شخص کے لیے سخت وعید اور شدید ڈراوا ہے جو ان تینوں اعمال میں سے کسی کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو ان تینوں ہی کا مرتکب ہو؟۔ اول: جو شخص اپنے حقیقی باپ کو جانتا ہو اور جس کا نسب ثابت شدہ ہو لیکن پھر بھی وہ اس کا انکار کرے اور اس سے انجان بنے اور اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے یا پھر اپنے قبیلے کے بجائے کسی اور قبیلے کی طرف اپنی نسبت کرے۔ دوم: یا پھر جانتے بوجھتے ہوئے کسی ایسے نسب، مال، حق، عمل یا علم کا دعوی کرے یا پھر اپنے آپ میں کسی ایسی صفت ہونے کا مدعی ہو جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے حالانکہ وہ اس میں جھوٹا ہو۔ ایسا کرنے کا عذاب بہت بڑا ہے کیونکہ نبی ﷺ نے اس سے اظہار برأت کیا ہے اور اسے حکم دیا ہے کہ وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے کیونکہ وہ جہنمی ہے۔ سوم: کسی برے شخص پر کفر یا یہودیت یا نصرانیت کا الزام لگائے اور یہ کہے کہ وہ اللہ کے دشمنوں میں سے ہے۔ ایسا کہنا اسی شخص ہی پر لوٹ آتا ہے کیونکہ وہ ان قبیح صفات کا اس مسلمان سے زیادہ حق دار ہے جو برائی اور اس کے برے اقوال سے غافل ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اللہ تعالی نے کہا : ”ابن آدم نے مجھے جھٹلایا۔ حالاں کہ اسے یہ زیب نہیں دیتا۔ اس نے مجھے گالی دی۔ حالاں کہ اسے یہ زیب نہیں دیتا۔ جہاں تک اس کا مجھے جھٹلانے کی بات ہے، تو یہ دراصل اس کا یہ کہنا ہے کہ میں نے جس طرح اسے پہلی بار پیدا کیا ہے، اس طرح اسے دوبارہ پیدا نہیں کروں گا۔ حالاں کہ میرے لیے اسے پہلی بار پیدا کرنا دوسری بار پیدا کرنے سے آسان نہیں ہے۔ جب کہ اس کا مجھے گالی دینا اس کا یہ کہنا ہے کہ اللہ نے اپنا بیٹا بنا رکھا ہے۔ حالاں کہ میں ایک ہوں۔ بے نیاز ہوں۔ نہ میری کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں۔ کوئی میرا ہم سر بھی نہیں ہے۔"
رواه البخارياس حدیث قدسی میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ اللہ عز و جل نے کفار و مشرکین کے بارے میں بتایا کہ وہ اسے جھٹلاتے ہیں اور کمیوں، عیوب اور نامناسب باتوں سے متصف کرتے ہيں, جو کہ ان کے لئے قطعا مناسب نہیں ہے۔ جہاں تک ان کے ذریعے اللہ کو جھٹلائے جانے کی بات ہے، تو یہ دراصل ان کا یہ زعم ہے کہ اللہ موت کے بعد ان کو دوبارہ زندہ نہیں کرے گا، جس طرح پہلی بار عدم سے وجود بخشا تھا۔ اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے کہا کہ جس نے ان کو عدم سے وجود بخشا، وہ ان کو دوبارہ پیدا کر سکتا ہے۔ بلکہ یہ کام اس کے لیے کہیں زیادہ آسان ہے۔ گرچہ (اگر حقیقت کى رو سے دیکھا جائے) تواللہ کے لئے پہلی بار اور دوبارہ پیدا کرنا دونوں برابر ہیں, کیوں کہ وہ ہر چيز پر قادر ہے۔ جب کہ ان کے گالی دینے سے مراد ان کا یہ کہنا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ اللہ نے ان کا رد کرتے ہوئے کہا کہ اللہ اکیلا، اپنے ناموں، صفات اور افعال کے اندر ہر طرح کے کمال کی حامل واحد ہستی، ہر نقص و عیب سے پاک اور بے نیاز ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں۔ وہ کسی کا والد نہيں، کسی کی اولاد نہيں، کوئی اس کا ہم سر اور مثیل و نظیر بھی نہيں ہے۔