





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص نے کسی سے زمین خریدی، اتفاقا خریدنے والے کو اس میں ایک گھڑا ملا، جس میں سونا تھا۔ اس نے بیچنے والے سے کہا: اپنا سونا لے جاؤ۔ کیوں کہ میں نے تم سے زمین خریدی ہے، سونا نہیں۔ لیکن پہلے مالک نے کہا :میں نے تم سے زمین، اس میں موجود تمام اشیا سمیت بیچ دی ہے۔ چنانچہ دونوں کسی تیسرے شخص کے پاس اپنا مقدمہ لے گئے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے پوچھا: کیا تمھاری کوئی اولاد ہے؟ اس پر ایک نے کہا کہ میرا ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میری ایک لڑکی ہے۔ فیصلہ کرنے والے نے ان سے کہا کہ دونوں کا نکاح کر دو اور سونا ان پر خرچ بھی کرو اور صدقہ بھی کرو۔
متعدد روایات کے ساتھ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔نبی ﷺ نے بتایا کہ ایک آدمی نے کسی سے زمین خریدی تو خریدار کو اس میں ایک سونے کا گھڑا ملا۔ اپنے تقویٰ کی وجہ سے اس نے یہ سونا بیچنے والے کو لوٹا دیا؛ کیوں کہ اس نے زمین خریدی تھی، اس میں موجود سونا نہیں۔ لیکن بیچنے والے نے بھی اپنے احتیاط کامل اور پرہیز گاری کی بنا پر لینے سے انکار کردیا۔ انکار کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس نے زمین اس میں موجود تمام چیزوں سمیت بیچی تھی۔ دونوں کا اختلاف ہوا تو دونوں نے قاضی سے کہا: آپ کسی آدمی کو بھیجیے جو اس پر قبضہ کرلے۔ اس کے بعد جسے چاہیں دے دیں۔ لیکن انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیااور پوچھا: کیا تمھاری کوئی اولاد ہے؟ اس پر ایک نے کہا کہ میرا ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا کہ میری ایک لڑکی ہے۔ اس نے انھیں یہ مشورہ دیا کہ دونوں کا نکاح کر دو اور سونا ان پر خرچ بھی کرو اور اس میں سے خیرات بھی کرو۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”دو عورتوں جن کے ساتھ ان کے دو بچے تھے، بھیڑیا آیا اور ان میں سے ایک کے بچے کو اٹھا کر لے گیا۔ اس نے اپنی سہیلی سے کہا کہ تیرے بچے کو بھیڑیا اٹھا کر لے گیا ہے۔ دوسری نے کہا کہ وہ تیرے بچے کو اٹھا کر لے گیا ہے۔ وہ فیصلے کے لیے حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس آئیں تو انھوں نے بڑی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ وہاں سے نکلیں اور حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے پاس آئیں اور ان کو سارا ماجرا سنایا۔ انھوں (سلیمان علیہ السلام) نے فرمایا: مجھے چھری دو اس کو درمیان سے دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہوں۔ چھوٹی کہنے لگی کہ اللہ آپ پر رحم کرے ! ایسا نہ کرنا یہ اسی کا بیٹا ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ کر دیا“۔
متفق علیہنبی کریم ﷺ نے دو عورتوں کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنےبیٹوں کو لے کر باہر نکلیں تو ان میں سے ایک کے بچے کو بھیڑیا کھا گیا اور ایک کا بچ گیا۔ دونوں یہ کہنے لگیں کہ جو بچ گیا ہے یہ میرا بچہ ہے۔ وہ دونوں فیصلے کے لیے حضر ت داؤد علیہ السلام کے پاس آئیں تو انھوں نے اجتہاد کرتے ہوئے فیصلہ بڑی کے حق میں کر دیا ۔کیوں کہ ممکن تھا کہ بڑی اب بچہ نہ جن سکے، جب کہ چھوٹی ابھی جوان تھی اور امید تھی کہ مستقبل میں وہ اور بچہ جن لے گی۔ وہ وہاں سے نکلیں اور بچے کو لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آ گئیں اور ان کو سارا واقعہ سنایا۔ انھوں نے چھری منگوائی اور کہا کہ میں اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہوں(کہ آدھا آدھا لے لو)۔ بڑی رضا مند ہو گئی جب کہ چھوٹی نے اپنا دعویٰ چھوڑ دیا اور اس کی شفقت اور رحمت غالب آئی کیوں کہ وہ حقیقتاً اس کا بچہ تھا تو وہ کہنے لگی اے اللہ کے نبی! یہ اسی کا بیٹا ہے۔ تو انھوں نے دلیل اور قرینے کی موجودگی میں چھوٹی کے حق میں فیصلہ کر دیا ۔ کیوں کہ اس کا بچے پر رحم کھانا اور یہ کہنا کہ یہ بڑی کا ہی بچہ ہے اور اس کا زندہ رہنا اس کے دو حصوں میں تقسیم ہونے سے بہتر تھا۔ تو انھوں نے فیصلہ چھوٹی کے حق میں کر دیا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انبیا علیہم الصلوۃ و السلام میں سے ایک نبی نےجنگ كا ارادہ کیا، تو اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ وہ جہاد میں نہ آئے، جس کا کسی عورت سے نکاح ہوا ہو اور ابھی تک اس سے شب باشی نہ کی، ہو جب کہ وہ اس کا ارادہ رکھتا ہو۔ وہ شخص (بھی نہ آۓ) جس نے گھر تعمیر کیا ہو اور ابھی اس کی چھت نہ رکھی ہو۔ وہ شخص (بھی نہ آۓ) جس نے بھیڑ بکریاں یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور اسے ان کے بچے جننے کا انتظار ہو۔ پھر انھوں نے جہاد کیا اور عصر کے وقت یا اس کے قریب قریب بستی کے پاس پہنچے۔ اور سورج سے کہنے لگے کہ: "تو بھی اللہ کا تابع فرمان ہے اور میں بھی اس کا تابع فرمان ہوں۔ اے اللہ! ہمارے لیے اسے اپنی جگہ پر روک دے"۔ چنانچہ سورج رک گیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں فتح عنایت فرمائی۔ پھر انھوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا اور آگ اسے جلانے کے لیے آئی؛ لیکن جلا نہ سکی۔ یہ دیکھ کر نبی نے کہا کہ تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہے۔ اس لیے ہر قبیلے کا ایک آدمی آ کر میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔ (جب بیعت ہوئی تو) ایک قبیلے کے شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر چپک گیا۔ انھوں نے کہا کہ چوری تمھارے قبیلے والوں نے کی ہے۔ اب تمھارے قبیلے کے سب لوگ آئیں اور بیعت کریں۔ چنانچہ اس قبیلے کے دو یاتین آدمیوں کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے پر چپک گیا تو انھوں نے فرمایا کہ چوری تمہی لوگوں نے کی ہے۔ چنانچہ وہ لوگ گائے کے سر کی طرح سونے کا ایک سر لائے اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا، تو آگ نے آ کر اسے جلا دیا۔ ہم سے پہلے مال غنیمت کسی کے لیے حلال نہ تھا۔ پھر اللہ تعالی نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھتے ہوئے اسے ہمارے لیے جائز کر دیا“۔
متفق علیہنبی ﷺ نے انبیا علیہم الصلوۃ و السلام میں سے ایک نبی کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے ایک قوم کے ساتھ جنگ کا ارادہ کیا، جن سے جہاد کا انھیں حکم دیا گیا تھا۔ لیکن آپ علیہ السلام نے ہر اس شخص کو جس نے کسی عورت سے نکاح کیا ہو، لیکن ابھی تک اس سے ہم بستری نہ کی ہو اور ہر اس شخص کو جس نے گھر تیار کیا ہو، لیکن ابھی تک اس کی چھت نہ رکھی ہو اور ہر اس آدمی کو جس نے کچھ بھیڑ بکریاں اور حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور ان کے بچے جننے کا منتظر ہو، ان سب کو (جہاد میں شرکت سے) روک دیا۔کیوںکہ ان کے دل ان چیزوں میں لگے ہوتے ہیں، جو ان کے لیے باعث دل چسبی ہیں۔ شادی شدہ آدمی کی توجہ اپنی بیوی پر ہوتی ہے،جس سے اس نے ابھی تک مباشرت نہ کی ہو۔ وہ اس کے لیے مشتاق رہتا ہے۔ اسی طرح وہ شخص جس نے گھر کی دیواریں تو اٹھا لی ہوتی ہیں، لیکن اس کی چھت نہیں ڈالی ہو، اس کا ذہن بھی اپنے گھر پر لگا ہوتا ہے، جس میں وہ اور اس کے اہل خانہ رہائش پذیر ہونا چاہتے ہیں۔اسی طرح حاملہ اونٹنیوں اور بھیڑ بکریوں کے مالک کا دل بھی ان میں لگا ہوتا ہے اور وہ ان کے بچے جننے کا منتظر ہوتا ہے۔ جہاد کے لیے تو انسان کو بالکل فارغ ہونا چاہیے، بایں طور کہ جہاد کے سوا اسے کوئی اور فکر نہ ہو۔ پھر اس نبی نے جنگ کی اور اس قوم پر نماز عصر کے بعد حملہ کیا۔ رات قریب آ رہی تھی، چنانچہ انھیں اندیشہ لاحق ہوا کہ اگر رات کی تاریکی چھا گئی، تو فتح حاصل نہ ہوسکے گی۔ اس لیے انھوں نے سورج سے مخاطب ہو کر فرمایا: "تو بھی حکم کا پابند ہے اور میں بھی حکم کا پابند ہوں"۔ تاہم سورج کا حکم تکوینی حکم تھا اور اللہ کی طرف سے اس نبی کو جو حکم تھا وہ تشریعی تھا۔ نبی کو جہاد کرنے کا حکم تھا اور سورج مامور تھا کہ جہاں اللہ نے حکم دیا، اس طرف رواں دواں رہے۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے: الشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ" (يس: 38) ترجمہ: اور سورج کے لیے جو مقرره راه ہے، وه اسی پر چلتا رہتا ہے۔۔ یہ غالب باعلم اللہ تعالی کا مقرر کردہ اندازہ ہے۔ جب سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے، یہ جہاں کا حکم ہے، وہاں چلا جا رہا ہے، بایں طور کہ نہ تو آگے پیچھے ہوتا ہے اور نہ ہی اوپر نیچے۔ اس نبی نے دعا کی: ”اے اللہ!ہمارے لیے اسے اپنی جگہ روک دے“۔ چنانچہ اللہ تعالی نے سورج کو روک دیا اور وہ اپنے وقت پر غروب نہ ہوا، یہاں تک کہ اس نبی نے جنگ کر لی اور بہت سارا مال غنیمت ان کے ہاتھ آیا۔ سابقہ امتوں میں جنگ میں شریک ہونے والوں کے لیے اموال غنیمت حلال نہیں تھے، بلکہ اموال غنیمت کا حلال ہونا صرف اور صرف اس امت کی خصوصیت ہے۔ و للہ الحمد۔ جب کہ سابقہ امتوں کے لوگ مال غنیمت کو اکٹھا کرتےاور اگر اللہ کہ ہاں یہ مقبول ہوتا، تو ایک آگ نازل ہو کر اسے جلا ڈالتی۔ اس نبی کو جب مال غنیمت حاصل ہوا اور وہ جمع کیا گیا، تو آگ نے نازل ہو کر اسے نہ جلایا۔ اس پر یہ نبی کہنے لگے: ”تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہے“۔ پھر انھوں نے حکم دیا کہ ہر قبیلے میں سے ایک آدمی آگے آ کر اس بات پر ان سے بیعت کرے کہ انھوں نے چوری نہیں کی ہے۔ جب انھوں سے اس بات پر بیعت کرنا شروع کیا کہ انھوں نے چوری نہیں ہے تو اس دوران ان میں سے ایک آدمی کا ہاتھ نبی علیہ الصلوۃ و السلام کے ہاتھ میں چپک گیا ۔ہاتھ چپکنے پر انھوں نے فرمایا: "چوری تم میں ہے"۔ یعنی اس قبیلہ والوں نے چوری کی ہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اس قبیلے میں سے ہر کوئی الگ الگ بیعت کرے۔ اس پر ان میں سے دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ چپک گئے۔ اس نبی نے فرمایا: ”چوری تمھارے اندر ہے“۔ چنانچہ وہ لوگ چوری شدہ مال لے کر آئے۔ انھوں نے سونے سے بنی بیل کے سر کی مانند ایک شے چھپا رکھی تھی۔ جب اسے لا کر مال غنیمت میں رکھ دیا گیا تو آگ نے اسے جلا دیا۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا اور ذوالحلیفہ کے مقام سے ہدی (قربانی) کا جانور ساتھ لے لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا تلبیہ پڑھا پھر اس کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا۔ لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا۔ بعض لوگ قربانی کے جانور اپنے ساتھ لائے تھے، چنانچہ وہ ذو الحلیفہ سے انہیں لیکر چلے اور بعض وہ تھے جو قربانی کا جانور اپنے ساتھ نہیں لائے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ (مکہ) پہنچ گئے تو لوگوں سے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص قربانی کا جانور ساتھ لایا ہے، اس کے لئے کوئی حرام چیزحلال نہیں ہے جب تک کہ وہ حج کو پورا نہ کرلے اور جو شخص قربانی کا جانور ساتھ نہ لایا ہے تو وہ (عمرہ کے لئے) خانہ کعبہ کا طواف کرے، صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے اوربال کتروا کر (عمرہ کا) احرام کھول دے (یعنی جو چیزیں حالت احرام میں ممنوع تھیں انہیں مباح کر لے) اور اس کے بعد حج کے لئے دوبارہ احرام باندھے اور قربانی کرے۔ جس شخص کو قربانی کا جانور میسر نہ ہو وہ ایام حج میں تین روزے رکھے اورسات روزے تب رکھےجب وہ اپنے اہل و عیال میں واپس پہنچ جائے۔ بہر کیف رسول اللہ ﷺ نے مکہ پہنچ کر (عمرہ کے لئے) خانہ کعبہ کا طواف کیا اور سب سے پہلےحجر اسود کو استلام کیا۔ پھر طواف کے سات چکروں میں سے تین چکروں میں رمل فرمایا (یعنی تیز رفتاری سے چلے) اور باقی چار چکروں میں اپنی معمول حالت میں چلے، پھر خانہ کعبہ کے گرد طواف پورے کرنے کے بعد مقام ابراہیمی پر دو رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد (خانہ کعبہ) سے لوٹ کر صفاء پر آئے اور صفا و مروہ کے درمیان سات چکر لگائے۔ پھر ان چیزوں میں سے کسی کو اپنے اوپر حلال نہیں فرمایا جن کو احرام کی وجہ سے اپنے اوپر حرام کیا تھا (یعنی احرام سے باہر نہ آئے) یہاں تک کہ آپ ﷺاپنے حج سے فارغ ہوگئے اور قربانی کے دن اپنی قربانی ذبح کی اور پھر مکہ واپس لوٹ آئے اور طواف افاضہ کیا اور ان چیزوں کو جن کو احرام کی وجہ سے اپنے اوپر حرام کیا تھا حلال کرلیا اور لوگوں میں سے جو لوگ اپنے ساتھ قربانی لائے تھے انہوں نے بھی اسی طرح کیا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا۔ (ایک اور روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ) میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ مکہ تشریف لائے تو طواف شروع کرتے وقت پہلے حجر اسود کو استلام کیا اور (طواف کے سات چکروں میں سے) تین چکروں میں رمل کیا۔
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔نبی ﷺ جب اپنے اس حج کے لیے اہل مدینہ کے میقات ذو الحلیفہ کی طرف روانہ ہوئے، جس میں آپ ﷺ نے بیت اللہ، مناسکِ حج اور لوگوں کو الوداع کہا، لوگوں تک اپنا پیغام رسالت پہنچایا اور اس پر انھیں گواہ بنایا، تو آپ ﷺ نے عمرہ اور حج دونوں کی نیت سے احرام باندھا۔ آپ ﷺ حج قران کر رہے تھے۔ حج قران تمتع کہلاتا ہے۔ لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمتع کیا۔ چنانچہ ان میں سے بعض نے تو عمرہ و حج دونوں کی نیت سے احرام باندھا اور بعض نے صرف عمرہ کے لیےاحرام باندھا اور اس سے فارغ ہونے کے بعد دل میں حج کی نیت رکھی، جب کہ کچھ لوگوں نے اکیلے حج کی نیت سے احرام باندھا۔ نبی ﷺ نے لوگوں کو ان تینوں صورتوں میں اختیار دیا تھاکہ وہ جیسے چاہیں، کر لیں۔ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے کچھ صحابہ ذو الحلیفہ ہی سے اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر چلے تھے، جب کہ بعض لوگوں نے ہدی کے جانور اپنے ساتھ نہیں لیے تھے۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے، تو آپ ﷺ نے ان لوگوں کو جو ہدی کا جانور ساتھ نہیں لائے تھے اور انھوں نے یا تو اکیلے حج کی نیت کر رکھی تھی یا پھر عمرہ و حج دونوں کی نیت کے ساتھ احرام باندھا تھا، ترغیب دلائی کہ وہ حج کی نیت کو فسخ کرتے ہوئے اسے عمرہ بنا دیں۔ جب انھوں نے طواف اور سعی کر لی، تو آپ ﷺ نے انھیں تاکید فرمائی کہ اپنے بال کتروا کر عمرہ کا احرام کھول دیں اور پھر حج کے لیے احرام باندھیں اور قربانی دیں؛ کیوںکہ انھوں نے ایک ہی سفر میں دو عبادتیں کی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جسے قربانی کا جانور دستیاب نہ ہو، وہ دس دن روزے رکھے۔ تین دن ایام حج میں۔ ان کا وقت تب سے شروع ہو جاتا ہے، جب آدمی عمرہ کے لیے احرام باندھتا ہے اور سات اس وقت رکھے، جب اپنے گھر والوں کے پاس واپس لوٹ آئے۔ نبی ﷺ جب مکہ تشریف لائے، تو حجر اسود کو استلام کیا اور کعبہ کےگرد سات چکر لگائے۔ تین میں رمل کیا؛ کیوںکہ یہ مکہ آنے کے فورا بعد کیا جانے والا طواف تھا اور چار چکروں کو چل کر پورا کیا۔ پھر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر صفا پر آئے اور اس کے اور مروہ کے مابین سات چکر لگائے؛ دونوں علامتوں کے درمیان آپ ﷺ دوڑتے اور باقی مسافت چل کر طے کرتے۔آپ ﷺ نے تب تک اپنا احرام نہیں کھولا، جب تک اپنا حج پورا کر کے یوم النحر میں قربانی ذبح نہیں کرلیا۔ جب آپ ﷺ اپنے حج، جمرہ عقبہ کی رمی، یوم النحر کو قربانی ذبح کرکے اور اپنے سر کو مونڈ کر فارغ ہو چکے،جسے تحلل اول کہا جاتا ہے، تو اس دن صبح کو بیت اللہ کی طرف لوٹ گئے اور اس کا طواف (یعنی طواف افاضہ) کیا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے لیے ہر اس شے کو حلال کر لیا، جس سے آپ ﷺ (احرام کی وجہ سے) اجتناب کر رہے تھے، حتی کہ بیویوں سے مباشرت بھی۔ آپ ﷺ کے جو صحابہ اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے تھے، انھوں نے بھی ویسے ہی کیا، جیسے آپ ﷺ نے کیا ۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر (ایک مرتبہ) سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور کفارِ قریش کو برا بھلا کہنےلگے۔ وہ بولے: یا رسول اللہ! سورج غروب ہوگیا اور نماز عصر پڑھنا میرے لیے ممکن نہ ہوسکا۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! نماز میں نے بھی نہیں پڑھی ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ہم وادی بطحان گئے۔ آپ ﷺ نے وہاں نماز کے لیے وضو کیا، ہم نے بھی وضو کیا۔ آپ ﷺ نے سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
متفق علیہعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر سورج غروب ہونے کے بعد نبی ﷺ کی خدمت میں آئے۔ وہ قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے؛ کیوںکہ انھوں نے انھیں نماز عصر پڑھنے سے روکے رکھا تھا اور وہ اسے ادا نہیں کر سکے تھے، یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اس پر نبی صادق ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ انھوں نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی ہے، تاکہ عمر رضی اللہ عنہ جن پر یہ امر بہت شاق گزرا تھا، وہ مطمئن ہو جائیں۔ پھر نبی ﷺ اٹھے اور وضو کیا۔ صحابۂ کرام نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ وضو کیا۔ آپ ﷺ نے سورج غروب ہو جانے کے بعد عصر کی نماز پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے کہ جب غزوہ احد کا وقت قریب آگیا تو مجھے میرے والد نے رات کو بلایا اور کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سب سے پہلا مقتول میں ہی ہوں گا۔ اور میرے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے عزیز تم ہو ۔اگر مجھ پر کوئی قرض ہو تو اس کو ادا کرنا، اپنے بہنوں سے اچھا سلوک کرنا۔جب اگلی صبح ہوئی تو سب سے پہلے شہید وہی تھے۔ میں نے ان کو کسی اور کے ساتھ دفن کر دیا لیکن پھر مجھے اچھا نہ لگا کہ میں انہیں کسی اور کے ساتھ قبر میں چھوڑے رکھوں لہٰذا میں نے چھ مہینے بعد ان کو اس قبر سے نکالا تو وہ ایک کان کے علاوہ ویسے ہی تھے جیسے ان کو پہلے دن قبر میں رکھا گیا تھا اور پھر ان کو علیحدہ قبر میں دفن کر دیا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ایک رات عبداللہ بن حرام رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے جابر رضی اللہ عنہ کو اٹھایا اور ان سے کہا: مجھے لگتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے میں پہلا شخص ہوں گا، جسے قتل کیا جائے گا۔ یہ غزوۂ احد سے ذرا پہلے کی بات ہے۔ پھر ان کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: میں جن لوگوں کو چھوڑ کر جاؤں گا، ان میں رسول اللہﷺ کے بعد سب سے عزیز شخص تم ہو۔ ان کو وصیت کی کہ ان کی طرف سے قرض ادا کر دے اور بہنوں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ پھر جنگ ہوئی، انھوں نے قتال کیا اور شہید ہو گئے۔ غزوۂ احد کے دن ستر مسلمان شہید ہوئے تھے اور ہر ایک کے لیے الگ الگ قبر کھودنا آسان نہ تھا، اس لیے مسلمان ایک ایک قبر میں دو دو اور تین تین افراد کو دفنانے لگے۔ عبداللہ بن حرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ایک آدمی کو دفن کیا گیا، لیکن جابر رضی اللہ عنہ کو دلی طور پر یہ اچھا نہ لگا اور اپنے والد اور ان کے ساتھ مدفون شخص کو الگ الگ کر دیا؛ انھوں نے تدفین کے چھ مہینے بعد قبر کھودی، تو ان کو ویسے ہی پایا، جیسے انھیں دفن کیا گیا تھا۔ ان کےجسم پر کان کے کچھ حصہ کے علاوہ کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی اور پھر انھیں الگ قبر میں دفنا دیا۔
زوجہ رسول ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: يا رسول الله! لوگوں کو کیا ہوا کہ انھوں نے احرام کھول دیا ہے، حالاں کہ آپ نے ابھی تک اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولاہے؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: میں نے اپنے سر کے بالوں کو گوندھ رکھا ہے اور اپنی ہدی (قربانی کے جانور) کو قلادہ پہنا رکھا ہے۔ اس لیے میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا (احرام نہیں کھول سکتا)، جب تک اپنی ہدی نحر نہ کر لوں۔
متفق علیہنبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرہ اور حج کے لیے احرام باندھا، ہدی ساتھ لیا اورسر کے بالوں کو منتشر ہونے سے روکنے کے لیے چپکا لیا؛ کیوں کہ آپ کا احرام لمبا ہونا تھا۔ آپ ﷺ کے کچھ صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ احرام باندھ لیا۔ ان میں سے بعض نے عمرہ کے لیے احرام باندھا؛ اس نیت کے ساتھ کہ وہ اسے کھول کر حج کے لیے نیا احرام باندھیں گے۔ اکثر صحابہ اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہیں لائے تھے۔ تاہم بعض ہدی کا جانور ہم راہ لائے تھے۔ جب وہ مکہ پہنچے اور طواف و سعی کرچکے، تو آپ ﷺ نے ان لوگوں کو جو ہدی کے جانورساتھ نہیں لائے تھے اور حج افراد اور حج قران کی نیت سے آئے تھے، انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے حج کو فسخ کرتے ہوئے اسے عمرہ بنا لیں اور احرام کھول لیں۔ تاہم خود نبی کریم ﷺ اور وہ لوگ جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے تھے، انھوں نے اپنا احرام باقی رکھا اور حلال نہ ہوئے۔ اس پر آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ لوگوں نے کیوں احرام کھول دیا ہے، حالاں کہ آپ نے احرام نہیں کھولا؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: کیوں کہ میں نے اپنے سر کو گوندھ رکھا ہے (یعنی کسی چپکانے والی شے سے بالوں کو جما رکھا ہے) اور اپنی ہدی کے جانور کو بھی قلادہ پہنا کر ساتھ لایا ہوں، اس وجہ سے میں احرام نہیں کھول سکتا، تاوقتے کہ ہدی اپنے مقام پر پہنچ جائے۔ یعنی حج پورا ہونے کا دن جو کہ یوم النحر ہے آ جائے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری۔ نبی اکرم ﷺ رات میں نمازِ (تہجد) کے لیے اٹھے، میں بھی اٹھا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ ﷺ نے میرے سر سے پکڑ کر مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر دیا۔
متفق علیہجلیلُ المرتبت صحابی عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایک رات اپنی خالہ کے پاس گزاری جو نبی ﷺ کی زوجہ تھیں تاکہ وہ بذات خود آپ ﷺ کو تہجد پڑھتا ہوا دیکھ سکیں۔جب نبی ﷺ رات کو نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ وہ آپ ﷺ کی اقتدا میں آپ ﷺ کے بائیں جانب کھڑے ہوئے اور چونکہ دائیں طرف زیادہ اشرف ہے اور جب مقتدی اکیلا ہو تو وہ امام کے دائیں جانب ہی کھڑا ہوتا ہے اس لیے آپ ﷺ نے انہیں ان کے سر سے پکڑ کر اپنے پیچھے سے گھماتے ہوئے اپنی داہنی جانب کھڑا کر دیا۔
علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”الله ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھرے، انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (یعنی نماز عصر) نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا“۔ مسلم شریف کے الفاظ یہ ہیں: ”انہوں نے ہمیں درمیانی نماز یعنی نماز عصر پڑھنے سے روکے رکھا“۔ پھر آپ ﷺ نے اس نماز کو نماز مغرب اور نماز عشاء کے درمیان پڑھا۔ امام مسلم عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کو مشرکوں نے (جنگ میں مصروفیت کی وجہ سے) نماز عصر پڑھنے سے روکے رکھا یہاں تک سورج سرخ ہو گیا یا زرد ہو گیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہوں نے ہمیں درمیانی نماز یعنی نماز عصر پڑھنے سے روکے رکھا، اللہ ان کے پیٹ اور قبروں کو آگ سے بھرے۔ یا پھر اس کے بجائے یہ الفاظ فرمائے ”أَو حَشَا الله أَجْوَافَهُم وَقُبُورَهُم نَارًا“ یا اللہ تعالی ان کے پیٹ اور قبر میں آگ بھر دے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہمشرکوں نے نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سرحدوں پر مقیم رہنے اور مدینہ اور اپنی حفاظت کرنے میں لگائے رکھا جس کی وجہ سے وہ نماز عصر نہ پڑھ سکے یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نے یہ نمازِ عصر، مغرب کے بعد ادا کی۔ اس پر نبی ﷺ نے انہیں بد دعا دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ ان کے پیٹ، ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھرے۔ انہوں نے آپ ﷺ کو اور آپ کے صحابہ کو جو تکلیف پہنچائی ہے اس کا انہیں بدلہ دے۔ انہوں نے انہیں نمازِ عصر نہ پڑھنے دی جو سب سے افضل نماز ہے۔