





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو عمرو (بعض کے نزدیک ابو عمرہ) سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتا دیں کہ مجھے اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی اور سے سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "تم کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔“
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ایک صحابی سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے گزارش کی کہ آپ ان کو ایک ایسی بات سکھا دیں، جس کے اندر پورے اسلام کا نچوڑ آ جائے، تاکہ وہ اسے مضبوطی سے پکڑ لیں اور اس کے بارے میں آپ کے علاوہ کسی دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ چنانچہ آپ نے ان سے کہا: تم بس اتنا کہہ دو کہ میں نے اللہ کو ایک مانا اور اس کے رب، اکیلا برحق معبود اور خالق ہونے پر ایمان لایا۔ اور اس کے بعد اللہ کی فرض کی ہوئی چیزوں کو ادا کرتے ہوئے اور اس کی حرام کی ہوئی چیزوں سے دور رہتے ہوئے اس کی اطاعت گزاری کرو اور اسی پر کاربند رہو۔
ابو عبد اللہ جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ مجھے بتلائیے اگر میں فرض نمازوں کو ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور اس سے زیادہ کوئی عمل نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت فرمائی کہ جو شخص پانچ وقت کی فرض نمازوں کی پابندی کرے اور نوافل نہ پڑھے، رمضان کے روزے رکھے اور نفلی روزے نہ رکھے، حلال کو حلال سمجھ کر انجام دے اور حرام کو حرام سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے ایک عظیم چیز کے بارے میں دریافت کیا ہے۔ لیکن یہ اس کے لیے آسان ہے، جس پر اللہ آسان فرما دے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تجھے نیکی کے دروازوے نہ بتلاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور آدمی کا رات کے درمیان میں نماز پڑھنا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: (ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں) یہاں تک کہ آپ ”يَعْمَلُونَ“ (جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے) تک پہنچ گئے۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں دین کا سر، اس کا ستون اور اس کی بلندی نہ بتلاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول (ضرور بتلائیں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دین كا سر اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے، اور اس کی بلندی جہاد ہے۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں ان سب کی اصل نہ بتا دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اسے قابو میں رکھو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم زبان کے ذریعہ جو گفتگو کرتے ہیں، اس پر بھی ہماری پکڑ ہوگی؟ آپ ﷺ نےفرمایا: تجھے تیری ماں گم پائے، لوگوں کو (جہنم میں) ان کے چہرے کے بل -یا پھر فرمایا کہ ان کے نتھنوں کے بل- ان کی زبان کی کمائی ہی کی وجہ سے پھینکا جائے گا۔
رواه الترمذيمعاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : میں ایک سفر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھا۔ چلتے ہوئے ایک دن میں آپ سے قریب پہنچ گیا، تو عرض کیا : اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائيں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور رکھے۔ آپ نے کہا : تو تم نے ایک ایسے عمل کے بارے میں پوچھا ہے، جو نفس پر شاق گزرتا ہے، لیکن اللہ کی توفیق شامل حال ہو جائے، تو آسان بھی ہے۔ اسلام کے فرائض ادا کرو : 1- تم بس ایک اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ 2- دن اور رات میں پانچ وقت کی فرض نمازوں کو ان کی شرطوں، ارکان اور واجبات کے ساتھ قائم کرو۔ یہ پانچ نمازیں ہیں، فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ 3- فرض زکاۃ نکالو۔ زکاۃ دراصل ایک مالی عبادت ہے، جو شرعی طور پر مقررہ مقدار تک پہنچنے والے مال پر واجب ہوتی ہے اور حق داروں کو دی جاتی ہے۔ 4- ماہ رمضان کے روزے رکھو۔ روزہ نام ہے فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج ڈوبنے تک کھانے پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چيزوں سے رکے رہنے کا۔ 5- خانۂ کعبہ کا حج کرو۔ دراصل حج نام ہے اللہ کی عبادت کی خاطر مناسک کی ادائیگی کے ارادے سے مکہ کا رخ کرنے کا۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : کیا میں تم کو خیر کے دروازوں تک پہنچانے والا راستہ نہ بتاؤں؟ وہ راستہ یہ ہے کہ فرائض کے بعد نوافل کا اہتمام کیا جائے : 1- نفلی روزہ۔ نفلی روزہ انسان کو گناہ میں ملوث ہونے سے روکتا ہے۔ کیوں کہ روزہ شہوت کو توڑتا ہے اور قوت نفسانی کو کمزور کرتا ہے۔ 2- نفلی صدقہ گناہ کی آگ کو بجھا دیتا ہے اور اس کے اثر کو مٹا دیتا ہے۔ 3- رات کے آخری تہائی حصے میں تہجد کی نماز پڑھنا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالی کا یہ قول پڑھا: {تتجافى جنوبهم} ان کے پہلو دور رہتے ہیں {عن المضاجع} سونے کی جگہوں سے۔ {يدعون ربهم} وہ نماز، ذکر، تلاوت اور دعا کے ذریعے اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ {خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون، فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين} (اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے، وه خرچ کرتے ہیں۔کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔) یعنی لوگ یہ نہیں جانتے کہ ہم نے ان کے اعمال کے بدلے میں قیامت کے دن ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان بہم پہنچانے والی کیا کیا چیزیں اور جنت میں کیا کیا نعمتیں پیدا کر رکھی ہیں۔ بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا: کیا میں تم کو دین کی بنیاد، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ضرور، اے اللہ کے رسول! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: دین کی بنیاد اسلام یعنی دونوں گواہیاں (شہادتین) ہیں۔ ان کے ذریعہ انسان کے ہاتھ میں دین کی بنیاد آجاتی ہے۔ اس کا ستون نماز ہے۔ نماز کے بغیر اسلام کا وجود نہیں ہے۔ بالکل ویسے ہی، جیسے ستون کے بغیر کسی گھر کا وجود نہیں ہوتا۔ جو نماز کا پابند ہے، اس کا دین مضبوط اور بلند ہے۔ جب کہ اسلام کی سربلندی کا ذریعہ جہاد اور اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے دین کے دشمنوں سے جنگ کرنا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا : کیا میں تم کو ایسی چيز نہ بتاؤں، جس سے گزری ہوئی تمام چيزیں مضبوط اور پختہ ہوجاتی ہیں؟ آپ نے اپنی زبان پکڑ لی اور فرمایا : اس پر قابو رکھو اور غیر ضروری باتیں نہ بولو۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کیا ہماری کہی ہوئی باتوں کا ہمارا رب ہم سے مؤاخذہ کرے گا، حساب لے گا اور سزا دے گا؟ آپ نے جواب دیا : تمھاری ماں تم کو گم پائے۔ یاد رہے کہ اس جملے سے مراد بد دعا نہیں ہوتی۔ عرب کے لوگ اس کا استعمال انسان کو کسی ایسی بات پر متنبہ کرنے کے لیے کرتے ہيں، جس سے اسے متنبہ ہونا چاہیے تھا۔ پھر آپ نے فرمایا: لوگوں کو ان کے منہ کے بل صرف اس لیے ہی گھسیٹا جائے گا کہ وہ اپنی زبان سے کفریہ کلمات نکالتے‘ سب وشتم‘ غیبت وچغل خوری اور بہتان تراشی وغیرہ کرتے ہیں۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہيں: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں۔ پھر اس کی وضاحت فرمادی اور کہا کہ جس شخص نے کسی نیکی کا ارادہ کیا، لیکن اسے کر نہیں سکا، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے پاس ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے۔ اور اگر اس نے اس کا ارادہ کیا اور پھر اس پر عمل بھی کیا، تو اللہ تعالی اپنے پاس دس گنا سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ تک نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ اور اگر کسی شخص نے کسی برائی کا اردہ کیا اور پھر اسے نہیں کیا، تو اسے اللہ تعالیٰ اپنے پاس ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے، اور اگر اس کا ارادہ کیا اور پھر اس کا ارتکاب کر لیا، تو اسے اللہ تعالیٰ صرف ایک برائی لکھتا ہے۔
اسے بخاری اور مسلم نے صحیحین میں انہی الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے نیکیاں اور برائیاں مقدر کر دی اور پھر فرشتوں کو بتایا کہ ان کو کیسے لکھا جائے۔ لہذا جس نے کوئی اچھا کام کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور اسے کر نہ کر سکا، تب بھی اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ اگر اسے کر لیا، تو اس کے لیے دس سے سات سو، بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ دراصل نیکی میں یہ اضافہ دل کے اندر موجود اخلاص اور اس کام سے دوسروں کو ہونے والے فائدے کے مطابق ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف جس نے کوئی برا کام کرنے کا پختہ ارادہ کیا اور پھر اسے اللہ کے لیے چھوڑ دیا، اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ لیکن اگر اسے دلچسپی نہ ہو نے کی وجہ سے چھوڑا اور اس کے اسباب پر بھی ہاتھ نہ لگایا، تو کچھ نہیں لکھا جاتا۔ جب کہ اسے قدرت نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑا، تو اس کی نیت کو اس کے خلاف لکھا جاتا ہے۔ اور اگر اسے کر لیا تو اس کے کھاتے میں ایک گناہ لکھا جاتا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے میرے کسی ولی (دوست) سے دشمنی کی میرا اس سے اعلانِ جنگ ہے۔ میرے نزدیک میرے فرض کردہ امور سے زیادہ محبوب کوئی اور چیز نہیں ہے جس کے ذریعے میرا بندہ میرا قرب حاصل کرے۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا جاتا ہے، یہاں تک میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں۔“
رواه البخارياللہ کے نبی ﷺ نے اس حدیث قدسی میں بتایا کہ اللہ عز و جل نے فرمایا: جس نے میرے اولیا میں سے کسی ولی کو اذیت دی، ناراض کیا اور اس سے بغض رکھا، اس کے خلاف میری جانب سے اعلان عداوت ہے۔ ولی سے مراد تقوی شعار مومن ہے۔ جس کے دامن میں ایمان اور تقوی کا جس قدر حصہ ہوگا، اسے اللہ کی ولایت کا اتنا ہی حصہ نصیب ہوگا۔ مسلمان اللہ کا تقرب جن چيزوں سے حاصل کرتا ہے، اللہ کے نزدیک ان میں سے سب سے محبوب چیزیں وہ ہیں، جو اللہ نے اس پر فرض کی ہیں۔ اس میں اطاعتوں پر عمل آوری اور محرمات سے اجتناب دونوں داخل ہيں۔ مسلمان فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرتا جاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے جب اسے اللہ کی محبت حاصل ہو جاتی ہے۔ جب اللہ اس سے محبت کرتا ہے تو اس کے درج ذیل چار اعضا کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے: اس کے کان کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ لہذا وہ وہی سنتا ہے، جو اللہ کو پسند ہو۔ اس کی نگاہ کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ وہ وہی دیکھتا ہے، جسے دیکھنا اللہ کو پسند ہو۔ اس کے ہاتھ کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھ سے وہی کام کرتا ہے، جو اللہ کو پسند ہو۔ اس کے پیر کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ وہ اسی سمت میں چلتا ہے، جس سمت میں چلنا اللہ کو پسند ہو اور وہی کام کرتا ہے، جس میں خیر ہو۔ ساتھ ہی اگر وہ اللہ کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے، تو اللہ اس کی جھولی بھر دیتا ہے۔ اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اگر اللہ کی پناہ طلب کرتا ہے، تو اللہ اسے اپنی پناہ میں لے لیتا ہے اور ہر خوف سے نجات عطا کرتا ہے۔
ابو محمد عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں س کوئی اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں۔"
یہ حدیث ہمیں کتاب الحُجہ میں صحیح اسناد کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔اللہ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہيں ہو سکتا، جب تک اس کی محبت اللہ کے رسول ﷺ کے لائے ہوئے اوامر ونواہی کے تابع نہ ہو جائے اور وہ ایسی چیزوں سے محبت نہ کرنے لگے، جن کا آپ نے حکم دیا ہے اور ایسی چیزوں سے نفرت نہ رکھنے لگے، جن سے آپ نے روکا ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ (مکمل) منافق ہو گا۔ جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی، جب تک وہ اسے چھوڑ نہیں دیتا: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالی گلوج کرے اور جب عہد کرے تو بد عہدی کرے۔“
اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہےاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے چار خصلتوں سے خبردار کیا ہے کہ جب کسی مسلمان کے اندر جمع ہو جائيں، تو وہ ان خصلتوں کی بنا پر منافقوں کے بے حد مشابہ ہو جاتا ہے۔ دراصل یہاں بات اس شخص کی ہو رہی ہے، جس کی شخصیت پر یہ اوصاف حاوی ہو جائيں۔ اگر کسی کے اندر یہ اوصاف کبھی کبھار دکھیں، تو وہ اس میں داخل نہیں ہوگا۔ یہ چار خصائل ہيں : 1- جب بات کرے تو جان بوجھ کر جھوٹ بولے اور سچ بولنے سے گریز کرے۔ 2- جب کوئی معاہدہ کرے، تو اسے پورا نہ کرے اور سامنے والے کے ساتھ دھوکہ کر ڈالے۔ 3- جب کوئی وعدہ کرے، تو اسے نہ نبھائے۔ توڑ ڈالے۔ 4- جب کسی کے ساتھ جھگڑا کرے، تو بڑے سخت انداز میں جھگڑا کرے۔ حق سے گریز کر جائے، حق کی تردید اور اسے باطل ثابت کرنے کے لیے بہانے تلاش کرنے لگے اور ناحق بات اور جھوٹ بکے۔ کیوں کہ نفاق نام ہے دل ميں کچھ اور رکھنے اور ظاہر کچھ اور کرنے کا۔ اور یہ معنی ان خصائل کے حامل شخص کے اندر پایا جا رہا ہے۔ یہاں یہ یاد رہے کہ ان خصائل کے حامل شخص کا نفاق دراصل اس شخص کے حق میں ہوگا، جس نے اس سے بات کی ہے، عہد کیا ہے، اس کے پاس امانت رکھی ہے اور جھگڑا کیا ہے۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اسلام کے سلسلے میں منافق ہے۔ مسلمان ہونے کا دکھاوا کرتا ہے اور اندر کفر چھپائے رکھتا ہے۔ جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی، اس کے اندر نفاق کی ایک صفت ہوگی۔ جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اس امت کا کوئی بھی انسان جو میرے بارے میں سنے، وہ یہودی ہو یا نصرانی اور وہ اس شریعت پر ایمان نہ لائے، جسے دے کر میں بھیجا گیا ہوں اور اسی حالت میں اس کی موت ہو جائے، تو وہ جہنمی ہوگا"۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کی قسم کھا کر بتا رہے ہیں کہ اس امت کا جو بھی شخص آپ کے بارے میں سنے گا، خواہ یہودی ہو ، عیسائی ہو یا کوئی اور، پھر وہ آپ پر ایمان لائے بغیر ہی مر جائے گا، تو وہ جہنمی ہوگا اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔
عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، دونوں کہتے ہیں: جب اللہ کے رسول ﷺ کی وفات کا وقت آیا، تو آپ اپنی ایک چادر اپنے چہرے پر ڈالنے لگے اور جب اس سے منہ ڈھک جانے کی وجہ سے دم گھٹنے لگتا، تو اسے اپنے چہرے سے ہٹا دیتے۔ اسی (بے چینی) کی حالت میں آپ نے فرمایا : ”یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا“۔ (راوی کہتے ہیں کہ) آپ ﷺ اپنی امت کو یہود و نصاریٰ کے عمل سے خبردار کر رہے تھے۔
متفق عليهعائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم بتا رہے ہیں کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے انتقال کا وقت آیا، تو آپ اپنے چہرے پر کپڑے کا ایک ٹکڑا رکھنے لگے۔ پھر جب موت کی تکلیفوں کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی، تو اسے اپنے چہرے سے ہٹا دیا۔ پھر اسی مشکل حالت میں آپ نے فرمایا : اللہ کی لعنت ہو یہودیوں اور عیسائیوں پر۔ یعنی اللہ ان کو اپنی رحمت سے دور رکھے۔ ایسا اس لیے کہ انھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کے اوپر مسجدیں بنا ڈالیں۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اگر قبروں کے اوپر مسجد تعمیر کرنے کا مسئلہ ایک سنگین مسئلہ نہ ہوتا، تو آپ اس مشکل گھڑی میں اس کا ذکر نہ کرتے۔ اس مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہی آپ نے اپنی امت کو یہودیوں اور عیسائیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس طرح کا کام کرنے سے منع کیا ہے۔ اس کام سے منع کرنے کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے شرک کے دروازے کھلتے ہیں۔