





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کے پاس گھبرائے ہوئے آئے اور کہنے لگے : "اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں، عرب کے لیے تباہی اس شر سے آئے گی، جس کے واقع ہونے کا زمانہ قریب آ گیا ہے۔ آج یاجوج اور ماجوج کی دیوار میں اتنا شگاف پیدا ہو گیا ہے۔" آپ ﷺ نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلیوں کے ذریعے حلقہ بنا کر اس کی وضاحت کی۔ ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! ہمارے درمیان نیک لوگ موجود ہوں گے، اس کے باوجود ہم ہلاک کر دیے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ‘‘ہاں! جب خباثتیں بڑھ جائیں گی"۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ڈرے اور گھبرائے ہوئے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے۔ آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے: "لا إله إلا الله"۔ یہ سب کچھ بتا رہا تھا کہ کوئی ناپسندیدہ امر سامنے آنے کی توقع ہے، جس سے نجات کا راستہ التجا الی اللہ کے سوا اور کچھ نہيں ہے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: عرب کی تباہی اس شر سے آنے والی ہے، جس کے واقع ہونے کا زمانہ قریب آگیا ہے۔ آج یاجوج اور ماجوج کی دیوار میں اتنا شگاف پیدا ہو گیا ہے۔ آپ ﷺ نے یہ کہتے وقت انگوٹھے اور شہادت کی انگلیوں کے ذریعے حلقہ بنا کر دکھایا۔ اور مذکورہ دیوار ذو القرنین کى بنائى ہوئى تھى۔ اتنا سننے کے بعد زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: بھلا اللہ ہمیں ہلاک کیسے کر دے گا، جب کہ ہمارے درمیان ایمان والے صالح لوگ بھی موجود رہيں گے؟ جواب میں آپ نے فرمایا: جب گندے کام، جیسے فسق و فجور، گناہ اور شراب نوشی وغیرہ، بڑھ جائیں گے، تو ہلاکت سب کو اپنے گھیرے میں لے لیگی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "مومن مرد اور مومن عورت پر اس کی جان، اولاد اور مال میں مصائب آتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اس حال میں اللہ سے ملتا ہے کہ اس کا کوئی گناہ باقی نہيں رہ جاتا"۔
رواه الترمذي وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہيں کہ آزمائشیں کبھی مومن مرد و عورت کا پیچھا نہيں چھوڑتیں۔ آزمائش کبھی اس کی جان سے جڑی ہوتی ہے، جیسے طبیعت خراب ہو گئی اور جسم ٹھیک نہیں رہا۔ کبھی بال بچوں سے جڑی ہوتی ہے، جیسے کوئی بیمار ہو گیا، کوئی فوت ہو گیا یا کوئی نافرمان نکل گیا وغیرہ وغیرہ۔ کبھی مال سے جڑی ہوئی ہوتی ہے، جیسے محتاجی کا سامنا کرنا پڑا، تجارت بیٹھ گئی، چوری ہو گئی، کساد بازاری کا دور آگیا اور روزی میں تنگی کا سامنا کرنا پڑ گيا۔ ان آزمائشوں کے نتیجے میں اللہ بندے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور آخر میں جب وہ اللہ سے ملتا ہے، تو اپنے کیے ہوئے تمام گناہوں سے پاک و صاف ہو چکا ہوتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:{فَلاَ تَجْعَلُواْ لِلّهِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ} ”خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو“ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”الأنداد: هو الشرك، أخفى من دَبِيبِ النمل على صَفَاةٍ سوداء في ظلمة الليل“ انداد: یہ ایسا شرک ہے جو کہ سیاہ چٹان پر سیاہ رات میں چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ تو اس طرح کہے: اے فلاں !اللہ اور تیری جان کی قسم، یا میری جان کی قسم۔ یا تو اس طرح کہے: اگر یہ کتا نہ ہوتا تو چور آجاتے، اگر بطخ نہ ہوتی تو چور داخل ہو جاتے۔ اور اسی طرح آدمی کا کسی کے بارے میں یہ کہنا کہ:جو اللہ چاہے اور تو چاہے۔ اور آدمی کا یہ کہنا:اگر اللہ اورفلاں نہ ہوتا۔اس میں فلاں کو شامل نہ کر، کیوں کہ یہ سب اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔
اسے ابنِ ابی حاتم نے روایت کیا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:{فَلاَ تَجْعَلُواْ لِلّهِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ} ”خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو“۔ لوگوں کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ وہ کسی کو اللہ کے مثل یا نظیر بنائیں اور اس کے لیے کسی قسم کی عبادت بجا لائیں ۔ان کو اس بات کا علم ہے کہ اللہ وحدہ خالق و رازق ہے اور جتنے بھی اس کے شریک ہیں وہ سارے اس کے سامنے فقیر ہیں اوراس کے اختیارات میں سے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انداد کی تعریف شرکاء سےکی ہے۔ شرک کا شکار ہونے کی مثال یہ بیان کی ہے کہ :یہ سیاہ چٹیل پتھر (چٹان) پر سیاہ رات میں چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے۔ پھراس کی یہ مثالیں پیش کیں کہ: تو غیر اللہ کی قسم اٹھائے،اوراس سے بھی بڑا شرک یہ ہے کہ تو کسی کو اللہ کے مساوی قرار دیتے ہوئے یہ کہے: اللہ کی قسم اور میری جان کی قسم، مسبب کو چھوڑ کر سبب کو ہی دیکھے، معاملے کو اللہ کی طرف نہ لوٹائے اور تو کہے: اگر یہ کتا ہماری رکھوالی نہ کرتا تو چور آجاتے۔ یا یہ کہے کہ: اگر گھر میں بطخ نہ ہوتی جو ہمیں گھر میں کسی اجنبی کے داخل ہونے سے بیدار کرتی تو چور داخل ہوجاتے۔ اسی طرح یہ بھی شرک ہے کہ آدمی کسی کے بارے میں یہ کہے: جو اللہ چاہے اور تو چاہے، اور آدمی کا یہ کہنا کہ: اگر اللہ اور فلاں نہ ہوتے تو اس میں فلاں کو شامل نہ کرو۔ پھر تاکید کے ساتھ یہ بات بتائی کہ یہ ساری کی ساری شرک اصغر کی صورتیں ہیں اور اگر کہنے والے کا یہ عقیدہ ہو کہ آدمی، بطخ اور کتا اللہ کو چھوڑ کر فی ذاتہ موثر ہیں تو یہ شرک اکبر ہے۔
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اس طرح مت کہو کہ جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے، بلکہ یہ کہو کہ جو اللہ چاہے اور اس کے بعد پھر جو فلاں چاہے۔"
رواه أبو داود والنسائي في الكبرى وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ایک مسلمان دوران گفتگو "جو اللہ چاہے اور جو فلاں چاہے" کہے۔ یا اسی طرح "جو اللہ اور فلاں چاہے" کہے۔ ایسا اس لیے کہ اللہ کی مشیت اور اس کا ارادہ مطلق ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ جب کہ عطف کے لیے "واو" کے استعمال سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کوئی شریک ہے اور دونوں برابر ہيں۔ اس لیے ایک مسلمان کو "جو اللہ چاہے اور پھر جو فلاں چاہے" کہنا چاہیے۔ اس لیے "واو" کی جگہ پر "ثم" کے استعمال سے بندے کی مشیت اللہ کی مشیت کے تابع ہو جائے گی۔ کیوں کہ "ثم" کسی کام کے کچھ دیر بعد ہونے کا فائدہ دیتا ہے۔
عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میرے نزدیک غیر اللہ کی سچی قسم اٹھانے کی بہ نسبت اللہ تعالی کی جھوٹی قسم اٹھانا زیادہ بہتر ہے“۔
اسے ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں کہ بالفرض اگر میں کسی ایسی بات پر اللہ کی قسم اٹھاؤں، جس میں میں جھوٹا ہوں، تو یہ مجھے اس سے زیادہ بہتر لگتا ہے کہ میں کسی ایسی شے پر غیر اللہ کی قسم اٹھاؤں جس میں میں سچا ہوں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ کی جھوٹی قسم کو غیر اللہ کی سچی قسم پر ترجیح دی؛ کیوں کہ اس حالت میں اللہ کی قسم اٹھانے میں توحید کی نیکی اور جھوٹ کی برائی پائی جاتی ہے، جب کہ غیر اللہ کی قسم اٹھانے میں سچائی کی نیکی اور شرک کی برائی پائی جاتی ہے۔ توحید کی نیکی صدق کی نیکی سے بڑی ہے اور جھوٹ کی برائی شرک کی برائی سے کم تر ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے سے پہلے لوگوں کی ضرور پیروی کروگے، بالشت بقدر بالشت اور ہاتھ بقدر ہاتھ (یعنی مکمل) ۔ اگر وہ کسی سانڈے کے بِل ميں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی اس ميں گھس جاؤگے“۔ صحابہ كرام نے عرض كيا : یا رسول اللہ! ان سے مراد يہود و نصارىٰ ہيں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : "پھر اور کون؟"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ آپ کے زمانے کے بعد آپ کی امت کے ایک طبقے کا کیا حال ہونے والا ہے۔ یہ طبقہ عقائد، افعال، عادات اور رسوم و رواج میں یہود و نصاری کی ہو بہو نقالی کرنے لگے گا۔ حال یہ ہوگا کہ وہ اگر سانڈہ کے بل میں گھسے ہوں گے، تو یہ بھی ان کے پیچھے پیچھے گھس جائيں گے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے کسی ہدایت کی طرف بُلایا، اسے اس کی پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا اور اس سے پیروی کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس نے کسی گمراہی کی طرف بلایا اُس کے اوپر اس کی پیروی کرنے والوں کے برابر گناہ (کا بوجھ) ہوگا اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔"
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے اپنے قول و عمل کے ذریعے لوگوں کو حق اور خیر کا راستہ دکھایا، اسے اس کے بعد اس راستے پر چلنے والے تمام لوگوں کے برابر اجر و ثواب ملے گا اور اس سے بعد میں چلنے والوں کے اجر و ثواب میں کوئی کٹوتی بھی نہيں ہوگی۔ اس کے برخلاف جس نے اپنے قول و عمل کے ذریعے لوگوں کو کسی برائی، گناہ یا کسی حرام کام کا راستہ دکھایا، اسے بعد میں اس راستے پر چلنے والے تمام لوگوں کے برابر گناہ ہوگا اور اس سے بعد کے لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی بھی نہيں ہوگی۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روايت ہے کہ: انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ جب اس نے اللہ کی صفات کے بارے میں نبی ﷺ کی ایک حدیث سنی تو - بطور انکار - اس پر جھرجھری طاری ہو گئی۔ تو انہوں نے فرمایا:ان لوگوں کا خوف کیسا ہے؟ محکم (واضح) نصوص سن کر ان پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور جب کوئی متشابہ نصوص سنتے ہیں تو ہلاک ہو جاتے ہیں (یعنی انکار کر بیٹھتے ہیں)۔
اسے ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی مجلس میں عوام الناس میں سے حاضر ہونے والے ایسے لوگوں پر نکیر کر ربے ہیں جو اللہ کی صفات کے بارے میں کوئی حدیث سنتے ہیں تو خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بطور انکار ان پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ چنانچہ وہ لوگ اس چیز پر واجب ایمان نہیں رکھتے جو رسول ﷺ سے صحیح ثابت ہے اور انہوں نے اس کے معنی کو قرآن سے جان لیا ہے۔ جو کہ برحق ہے جس میں کوئی مومن شک نہیں کر سکتا۔اور بعض اسے اس معنی پر محمول کرتے ہیں جو اللہ کی مراد نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوجا تا ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے۔ -آپ نے یہ بات تین بار کہی-" ویسے ہم میں سے ہر شخص کے دل میں اس طرح کی بات آتی ہے، لیکن اللہ عز و جل توکل کے ذریعے اسے ختم کر دیتا ہے۔
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی بھی سنی جانے والی یا دیکھی جانے والی چیز، جیسے پرندے، جانور، معذور انسان، عدد یا دن وغیرہ سے برا شگون لینے سے خبردار کیا ہے۔ لیکن یہاں پرندے کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں اس سے بد شگونی لینا ایک عام بات تھی۔ ہوتا یہ تھا کہ عرب کے لوگ جب کوئی کام، جیسے سفر یا تجارت وغیرہ شروع کرنے کا ارادہ کرتے، تو ایک پرندہ اڑاتے۔ اب اگر پرندہ دائیں اڑتا، تو نیک شگون لیتے اور اس کام میں قدم آگے بڑھاتے۔ لیکن اگر بائیں اڑتا، تو بدشگونی لیتے اور قدم پیچھے کھینچ لیتے۔ آپ نے اسے شرک بتایا ہے۔ شرک اس لیے کہ بھلائی لانے والا اور برائی سے بچانے والا اللہ کے سوا کوئی نہيں ہے۔ آگے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ کبھی کبھی مسلمان کے دل میں تھوڑی بہت بدشگونی آ ہی جاتی ہے۔ ایسے میں اسے اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اسے دور کرنا چاہیے اور ساتھ ہی اسباب بھی اختیار کرنا چاہیے۔