





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو عزۃ الھذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے ابو داؤد الطیالسی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی روح کسی مخصوص زمین میں نکالنے کا ارادہ کر لے اور بندہ اس جگہ نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اس جگہ اس کی کوئی ضرورت پیدا کر دیتا ہے۔ جب بندہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس جگہ جاتا ہے تو اللہ اسے وہاں موت دے دیتا ہے۔ جو کچھ اللہ تعالی نے بندے کے حق میں مقدر اور لکھ کر رکھا ہے وہ ویسے ہی ہو کر رہے گا، یہ قضاء و قدر پر ایمان رکھنے کا حصہ ہے۔
نافع بن عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ کے پاس کچھ لوگ مغرب کی طرف سے آئے جو اون کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ سے ایک ٹیلے کے پاس آ کر ملے۔ وہ لوگ کھڑے تھے اور آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ میرے دل نے کہا کہ تو چل اور ان لوگوں اور آپ ﷺ کے درمیان میں جا کر کھڑا ہو، ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ فریب سے آپ ﷺ کو مار ڈالیں۔ پھر میرے دل نے کہا کہ شاید آپ ﷺ وسلم ان سے چپکے چپکے باتیں کر رہے ہوں (اور میرا جانا آپ ﷺ کو ناگوار گزرے)۔ پھر بھی میں وہاں چلا گیا اور ان لوگوں کے اور آپ ﷺ کے درمیان میں کھڑا ہو گیا۔ پس میں نے اس وقت آپ ﷺ سے چار باتیں یاد کیں، جن کو میں اپنے ہاتھ پر گنتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم عرب کے جزیرہ میں(کافروں سے) جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس کو فتح کر دے گا۔ پھر ملکِ فارس (ایران) سے جنگ کروگے، اللہ تعالیٰ اس پر بھی تمہیں فتح دے گا، پھر روم والوں سے جنگ کرو گے، اللہ تعالیٰ روم کو بھی زیر کر دے گا، پھر دجال سے جنگ کرو گے اور اللہ تعالیٰ اس پر بھی فتح دے گا۔ نافع نے کہا کہ اے جابر بن سمرہ! ہم سمجھتے ہیں کہ دجال روم فتح ہونے کے بعد ہی نکلے گا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ کے پاس کچھ لوگ مغرب کی طرف سے آئے جو اونی کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ ایک ٹیلے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ لوگ کھڑے تھے اور رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔ میرے دل نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو اکیلے ان اجنبیوں کے ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے ۔تو بھی وہاں چل کہیں وہ آپ کو قتل نہ کر دیں اور ان کو کوئی دیکھ بھی نہ سکے۔ پھر میرے دل نے کہا کہ شاید آپ ﷺ چپکے سے کچھ باتیں کرنا چاہتے ہوں جو وہ کسی کو بتانا نہ چاہتے ہوں۔ پھر بھی میں وہاں چلا گیا اور ان لوگوں کے اور آپ ﷺ کے درمیان میں کھڑا ہو گیا۔ نافع کہتے ہیں کہ میں نے اس وقت آپ ﷺ سے چار باتیں یاد کیں، جن کو میں اپنے ہاتھ پر گنتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان پہلے تو عرب کے جزیرہ میں (کافروں سے) جہاد کریں گے، اور سارا عرب اسلام میں داخل ہو جائے گا اور سارے کا سارا جزیرہ عرب مسلمانوں کے زیرِ نگیں ہو گا۔ پھر انہیں بتایا کہ وہ پھر ملکِ فارس (ایران) سے جہاد کریں گے، ان کی مدد ہو گی اور پورے فارس پر فتحیاب ہو جائیں گے، پھر روم والوں سے جہاد کریں گے، پھر وہ ان پر غالب ہوں گے، اور ان کے شہروں کو فتح کر لیں گے ۔ پھر دجال سے لڑیں گے اللہ تعالیٰ اس کو بھی مقہور و مغلوب کر دے گا۔ پھرنافع نے جابر بن سمرہ سے کہا کہ :اے جابر! ہم سمجھتے ہیں کہ دجال روم فتح ہونے سے پہلے نہیں نکلے گا۔ اور (یہ) سب کچھ وقوع پذیر ہو گیا،صرف دجال کا قتل باقی ہے اور یہ قربِ قیامت کے وقت ہی ہو گا۔
رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنھیں اللہ نے جہنم سے محفوظ کردیا ہے؛ ایک گروہ وہ جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور ایک گروہ وہ ہو گا جو عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے ساتھ ہو گا“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔محمد ﷺ کی امت کے دو گروہ ایسے ہیں جنھیں اللہ نے جہنم سے محفوظ کر رکھا ہے؛ ایک گروہ وہ جو ہند پر لشکر کشی کرے گا اور اللہ کی راہ میں کفار سے جہاد کرے گا اور دوسرا گروہ وہ جو عیسی علیہ السلام کا ساتھ دے گا جب کہ وہ آخری زمانے میں دجال کے خروج کے بعد (آسمان سے) نازل ہوں گے اور اسے قتل کریں گے۔
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: ”خون و مال سے متعلق جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان اقدار میرے پاؤں تلے ہیں سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اورخانۂ کعبہ کی دربانی کے"۔ اس کے بعدآپ ﷺ نےفرمایا کہ " آگاہ ہو جاؤ کہ قتلِ خطا کی دیت قتلِ عمد کی سی ہےجو کہ کوڑے یا لاٹھی سے واقع ہو۔ اس کی دیت سو اونٹ ہیں جن میں سے چالیس اونٹنیاں ایسی ہونی چاہیے جن کے پیٹ میں ان کے بچے ہوں“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے آگاہ کیا کہ اہل جاہلیت کی تمام قابل ذکر و بیان فخریہ باتیں باطل و ساقط ہیں ماسوا حاجیوں کو پانے پلانے اور بیت اللہ کی خدمت اور اس کی دیکھ بھال کے۔ یعنی یہ دونوں ویسے ہی باقی ہیں جیسے تھیں۔ زمانۂ جاہلیت میں بیت اللہ کی دیکھ بھال بنو عبد الدار کے پاس تھی اور حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری بنو ہاشم کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس پر باقی رکھا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ قتلِ شبہ عمد کی دیت بھی دیتِ مغلظہ ہے جو کہ سو اونٹ ہوتی ہے جن میں سے چالیس حاملہ ہوتے ہیں۔ قتلِ شبہ عمد سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی ایسے آلے سے مارے جس سے عموماً قتل واقع نہ ہوتا ہو جیسے کوڑا اور لاٹھی (اور اس طرح سے مارنے سے آدمی مر جائے)۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایمان کی ستّر سے زیادہ شاخیں ہیں یا فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے زیادہ شاخیں ہیں جن میں سے سب سے افضل لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے کم راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے“۔
متفق علیہایمان صرف ایک ہی خصلت یا ایک ہی شعبے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے بہت سے شعبہ جات ہیں، ستّر سے کچھ اوپر یا ساٹھ سے کچھ اوپر شعبہ جات ہیں۔ تاہم ان میں سے افضل ترین کلمہ لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے ہلکا شعبہ ہر اس شے کو راستے سے ہٹانا ہے جس سے راہ گیروں کو تکلیف پہنچے جیسے پتھر، کانٹا وغیرہ جیسی اشیاء۔ اور حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز، گھر یا بازار میں پڑھی جانے والی نماز سے پچیس درجہ بہتر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جب ایک شخص وضو کے تمام آداب کو ملحوظ رکھ کر اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد کی راہ لیتا ہے اور سوائے نماز کے اور کوئی دوسرا ارادہ اس کا نہیں ہوتا، تو ہر قدم پر اس کا ایک درجہ بڑھتا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا جاتا ہے۔ وہ جب نماز سے فارغ ہو جاتا ہے، تو فرشتے اس وقت تک اس کے لیے برابر دعائیں کرتے رہتے ہیں، جب تک وہ نماز کی جگہ پر بیٹھا رہتا ہے۔ فرشتے دعا کرتے ہیں: اے اللہ! اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما، اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ جب تک آدمی نماز کے انتظار میں رہتا ہے، تب تک وہ گویا نماز ہی میں ہوتا ہے“۔
متفق علیہنبی ﷺ نے بتایا کہ آدمی کی جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز کا اجر و ثواب اپنےگھر یا بازار میں پڑھی جانے والی نماز سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس سے مراد تنہا پڑھی جانے والی نماز ہے، جیسا کہ اس کے مقابلے میں باجماعت نماز کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے؛ کیوںکہ آدمی گھر یا بازار میں زیادہ تر تنہا ہی نماز پڑھتا ہے۔ ثواب پچیس گنا تک بڑھ جاتا ہے۔ آپ ﷺ کے فرمان: ”وذلك“۔ میں مشار الیہ اگر نماز باجماعت کی تنہا شخص کی نماز پر فضیلت ہے، تو اس کی رو سے یہ فضیلت مسجد کی جماعت کے ساتھ خاص ہو گی۔ آپ ﷺ کے فرمان: ”أنه“۔ میں ضمیر یا تو ضمیر شان ہے یا مراد یہ ہے کہ وہ شخص جب اچھی طرح سے وضو کرتا ہے، یعنی سنن و آداب کو پورا کرتے ہوئے کامل طریقے سے وضو کرتا ہے، پھر نکل کر مسجد کی طرف چل پڑتا ہے اور نماز کے علاوہ اس کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا، تو ہر اٹھائے جانے والے قدم پر اس کا ایک درجہ بلند اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے۔ یعنی ان صغیرہ گناہوں میں سے ایک گناہ جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہوتا ہے۔ اگر وہ کسی اور غرض سے نکلا ہو یا پھر نماز کے ساتھ ساتھ اس کا کوئی اور بھی ارادہ ہو، تو اس صورت میں اسے یہ ثواب نہیں ملتا۔ جب وہ نماز پڑھ لیتا ہے تو فرشتے اس کے لیے تب تک دعاے رحمت کرتے رہتے ہیں اور اس کے لیے برابر رحم اور مغفرت مانگتے رہتے ہیں، جب تک وہ اپنی نماز کی جگہ بیٹھا رہتا ہے۔ یہ بھی احتما ل ہے کہ اس سے مراد اس جگہ موجود رہنا ہو، چاہے وہ لیٹا ہوا ہی کیوں نہ ہو، جب تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹ جائے۔ فرشتے کہتے ہیں:اے اللہ اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ نمازی جب تک نماز کے انتظار میں رہتا ہے، تب تک وہ گویا نماز میں ہی ہوتا ہے۔ یعنی نماز کے انتظار کی مدت نماز ہی میں شمار ہوتی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ام ربیع بنت براء جو حارثہ بن سراقہ کی والدہ تھیں، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ! آپ مجھے حارثہ کے بارے نہیں بتائیں گے (کہ وہ کس حال میں ہے) -وہ جنگ بدر میں شہید ہو گئے تھے- اگر تو وہ جنت میں ہے، تو میں صبر کروں اور اگر جنت میں نہیں، تو میں اس پر خوب رؤوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ام حارثہ! جنت میں بہت سی جنتیں ہیں ہیں، تیرے بیٹے نے تو فردوس اعلی پائی ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ کی جنگ بدر کے دن ایک نامعلوم سمت سے آنے والے تیر سے شہادت ہوگئی، جس کا پتہ نہ چل سکا کہ وہ کہاں سے آیا تھا۔ ان کی والدہ نبی ﷺ کے پاس آئیں اور ان کے انجام کے بارے پوچھنے لگیں۔ انھيں یہ اندیشہ تھا کہ ہو سکتا ہے، وہ شہدا میں شمار نہ ہوں۔ کیوں کہ ان کی وفات ایک نامعلوم سمت سے آنے والے تیر سے ہوئی تھی اور وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے، جو معرکے میں شریک تھے۔ جیسا کہ حدیث میں اس کی وضاحت آئی ہے کہ: "وہ بدر کے دن ایک ایسے تیر کا شکار ہو کر مارے گئے تھے، جس کے مارنے والے کا کوئی پتہ نہیں تھا۔" یعنی یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کس جانب سے آیا ہے۔ امام احمد اور نسائی کی روایت میں ہے کہ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حارثہ دشمنوں کی تاک لگانے والے کے طور پر نکلے۔ (یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اونچی جگہ تلاش کرکے دشمنوں کو دیکھتے ہیں اور ان کے بارے بتاتے ہیں)۔ اسی درمیان انھيں ایک تیر لگا، جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔ اسی لیے ان کی والدہ نے کہا: اگر وہ جنت میں ہے، تو میں اس پر صبر کروں، یعنی اس کی جدائی پر صبر کروں اور اللہ کے ہاں سے اس پر اجر کی امیدوار رہوں اور اللہ کی راہ میں اس کے مارے جانے اور درجہ شہادت پر فائز ہونے پر خوشی کا اظہار کروں۔ اور اگر وہ جنت میں نہیں، تو پھرمیں خوب رؤوں، کیوں کہ میں نے اسے کھو دیا اور اس نے بلا فائدہ اپنی جان گنوائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ام حارثہ! جنت میں بہت سی جنتیں ہیں، جیسا کہ بخاری شریف کی ایک روایت میں وضاحت کے ساتھ آیا ہے کہ: کیا یہ ایک ہی جنت ہے؟ جنتیں تو بہت ساری ہیں اور وہ فردوس اعلی میں ہے۔ اس سے مراد جنت میں ایک مخصوص جگہ ہے، جو جنت کا سب سے افضل اور بلند مقام ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم اللہ سے مانگو، تو جنت الفردوس مانگو، یہ جنت کا درمیانی اور سب سے بلند حصہ ہے۔ اس کے اوپر اللہ تعالی کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ جنت کے درمیانی حصے سے مراد اس کا سب سے بہترین، افضل اور سب سے کشادہ حصہ ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”داؤد علیہ السلام صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھایا کرتے تھے“۔ مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کسی نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ بہتر کمائی کبھی نہیں کھائی۔ اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی کھایا کرتے تھے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ داود علیہ السلام صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھایا کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام ایک کاریگر تھے اور بہت اچھی طرح زرہیں اور دیگر آلات جہاد بنانے کا فن جانتے تھے۔ جب انبیا علیہم السلام کاریگری، کھیتی باڑی اور مویشیوں کو چرانے جیسے کام کر کے اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے، تو ان سے کم تر لوگوں کو تو بدرجۂ اولی چاہیے کہ وہ یہ کام کریں؛ تاکہ ان کی بدولت لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض الموت میں ارشاد فرمایا: ”يہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انھوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر یہ بات نہ ہوتی، تو آپ ﷺ کی قبر مبارک ظاہر کر کے بنائی جاتی؛ لیکن آپ ﷺ کو خدشہ تھا کہ کہیں اسے سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے۔
متفق علیہاللہ تعالی نے رسولوں کو توحید کے پرچار کے لیے بھیجا۔ رسولوں میں سے سب سے افضل رسول نبی کریم ﷺ ہیں، جو توحید کے پرچار اورشرک کے تمام وسائل کا سد باب کرنے کے بہت حریص تھے۔ آپ ﷺ کے مرض وفات میں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی آپ ﷺ کی دیکھ بھال کرتیں اور جب آپ ﷺ کی روح مبارک قبض ہوئی، تو اس وقت بھی وہ وہاں موجود تھیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ذکر کرتی ہیں کہ اس مرض میں، جس سے آپ ﷺ جاں بر نہ ہو سکے، آپ ﷺ نے اس اندیشے کا اظہار کیا کہ کہیں آپ ﷺ کی قبر مبارک کو سجدہ گاہ نہ بنا لیا جائے اور پھر حالت یہ ہو کہ اللہ کی عبادت کی بجائے آپ ﷺ ہی کی عبادت شروع ہوجائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاری پر، جنھوں ںے اپنے انبیا کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“، آپ ﷺ ان کے لیے یا تو بد دعا فرما رہے ہیں یا یہ بتا رہے ہیں کہ ان پر اللہ تعالی کی لعنت ہے۔ اس سے واضح ہے کہ یہ آپ ﷺ کی زندگی کے آخری ایام کی بات ہے اور آپ ﷺ کا یہ فرمان منسوخ نہیں ہوا ہے۔ اللہ کے نبی ﷺ یہود و نصاری کے عمل سے ڈرا رہے ہیں۔ چنانچہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کی مراد سمجھ گئے اور انھوں نے قبرمبارک عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں بنائی۔ نیز نہ تو صحابۂ کرام سے اور نہ ان کے بعد آنے والے سلف صالحین سے منقول ہے کہ کبھی وہ آپ ﷺ کی قبر مبارک کی طرف، وہاں نماز پڑھنے اور دعا کرنے کے ارادے سے گئے ہوں۔ جب سنت کی جگہ بدعت نے لے لی اور قبروں کی طرف سفر کرنے کا رواج ہو گیا، تب بھی اللہ تعالی نے اپنی نبی ﷺ کی قبر مبارک کو ان باتوں سے محفوظ رکھا، جو آپ ﷺ کو ناپسند تھیں۔ اللہ تعالی نے قبر مبارک کی تین مضبوط رکاوٹوں کے ذریعے سے حفاظت کی، جن سے گزرنے کا کسی بدعتی کو موقع نہیں ملتا۔