





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بدر کی لڑائی میں فرمایا تھا کہ یہ ہیں جبریل (علیہ السلام)، اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوئے اور آلاتِ حرب سے لیس ہیں۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔حدیث کا موضوع غزوۂ بدر میں فرشتوں کی حاضری ہے، ان کے سردار جبریل علیہ السلام تھے، نبی ﷺ نے خبر دی کہ غزوۂ بدر میں آپ نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ سامانِ حرب و ضرب سے لیس گھوڑے پر سوار ہیں تاکہ مومنین کے ساتھ جہاد کریں، نبی ﷺ کے معاون و مددگار اور صحابۂ کرام کے مؤید و حامی بنیں۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں غبار کی طرف جو بنی غنم کی گلیوں میں اٹھی تھی وہ حضرت جبریل علیہ السلام کے قافلے کی تھی یہ اس وقت کا ذکر ہے جب رسول اللہ ﷺ بنی قریظہ سے لڑنے کے لیے چلے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔انس بن مالك رضی اللہ عنہ خبر دے رہے ہیں کہ انہوں نے بنی غنم (خزرج کا ایک خاندان) کے کوچہ میں جو غبار اٹھتا ہوا دیکھا تھا وہ فرشتوں کے سپاہیوں کےاثر سے تھا، اور ان کے سربراہ حضرت جبریل علیہ السلام تھےجس وقت رسول اللہ ﷺ بنی قریظہ سے لڑنے کے لیے چلے تھے“ اور اثر یا نشان کو دیکھنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انہوں نے فرشتوں کو دیکھا ہو گا ممکن ہے دیکھا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ نہ دیکھا ہو، اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ انہیں جبریل علیہ السلام کے قافلے کا علم رسول اللہ ﷺکے ذریعہ ہوا ہو گا۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ بنو زریق کے ایک شخص لبید بن اعصم نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کر دیا تھا اور اس کی وجہ سے نبی ﷺ کسی چیز کے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے وہ کام کرلیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا- ایک دن یا (راوی نے بیان کیا کہ) ایک رات نبی ﷺ میرے یہاں تشریف فرما تھے اور مسلسل دعا کر رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! تمہیں معلوم ہے اللہ سے جو بات میں پوچھ رہا تھا، اس نے اس کا جواب مجھے دے دیا۔ میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سرہانے کھڑا ہو گیا اور دوسرا میرے پاؤں کی جانب - ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے پوچھا ان صاحب کی بیماری کیا ہے؟ دوسرے نے کہا کہ ان پر جادو ہوا ہے - اس نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے - پوچھا کس چیز میں؟ جواب دیا کہ کنگھے اور سر کے بال میں جو نر کھجور کے خوشے میں رکھے ہوئے ہیں- سوال کیا اور یہ جادو ہے کہاں؟ جواب دیا کہ ذرو ان کے کنویں میں۔ پھر نبی ﷺ اس کنویں پر اپنے چند صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے اور جب واپس آئے تو فرمایا: ”عائشہ! اس کا پانی ایسا (سرخ) تھا جیسے مہندی کا نچوڑ ہوتا ہے اور اس کے کھجورکے درختوں کے سر (اوپر کا حصہ) شیطان کے سروں کی طرح تھے“ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے اس جادو کو باہر کیوں نہیں کر دیا؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے عافیت دے دی اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اب میں خواہ مخواہ لوگوں میں اس برائی کو پھیلاؤں“ پھر نبی ﷺ نے اس جادو کے سامان کو دفن کرنے کا حکم دیا چنانچہ اسے دفن کر دیا گیا۔
متفق علیہاُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ بنو زریق کے ایک شخص نے جس کا نام لبید بن اعصم ہے، رسول ﷺ پرجادوکر دیا تھا جس کی وجہ سے نبی ﷺ کسی چیزکے متعلق خیال کرتے کہ آپ نے وہ کام کر لیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔ ایک دن آپ ﷺ میرے پاس موجود تھےاور کسی کام میں مشغول نہیں تھے صرف دعا کر رہے تھے اور مسلسل دعا کر رہے تھے یہاں تک کہ اللہ نے آپ ﷺ کے لیے معاملہ کی حقیقت کو واضح کر دیا، پھر آپ ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمالی،آپ کے پاس دوفرشتے حاضر ہوئے، ان میں سے ایک آپ کے سرکے پاس اور دوسرا پیرکے پاس کھڑا ہوا، ایک نے دوسرے سے کہا: ”ان صاحب کی بیماری کیاہے؟“ یعنی نبی ﷺ کی، جواب دیا: ”مطبوب“ یعنی جادو کیے گیے ہیں۔ کہا: ”کس نے جادوکیا ہے؟“ بتایا: لبید بن اعصم نے۔ پوچھا:کس چیز میں؟ یعنی کون سی چیز جادوکے لیے استعمال کی گئی ہے؟ جواب دیا: ”کنگھے اور سر کے بال میں، جو نر کھجور کے خوشے میں رکھے ہوئے ہیں“ یعنی کنگھا، آپ کے سر سے نکلے ہوئے بال اور کھجور کے خوشے میں جادو کیا گیا، پوچھا: وہ کہاں ہے؟ بتایا: ”ذروان کے کنویں میں“یہ مدینہ کا ایک کنواں ہے، نبی ﷺ اس کنویں پر اپنے چند صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے، پھر عائشہ رضی اللہ عنہاکے پاس واپس آئے اور بتایا کہ کنویں کا پانی سرخ تھا جیسے اس میں مہندی نچوڑ دیا گیا ہو یعنی اس کے پانی کا رنگ جادو کی قباحت یا جادو کی ملاوٹ کی وجہ سے بدل گیا تھا اور کھجور کے سروں کو ان کی کراہت و بد شکلی کی وجہ سے شیاطین کے سروں کے مشابہہ قراردیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نےعرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے اس جادو کو باہر کیوں نہیں کر دیا؟“ یعنی جادو کو نکالتے، لوگوں کے درمیان اسے جلاتے اورجو کچھ آپ پر گزرا ہے لوگوں کو اس سے باخبر کرتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے عافیت دے دی ہے اس لیے میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اب میں خواہ مخواہ لوگوں میں اس برائی کو پھیلاؤں“ یعنی اللہ نے مجھے جادو سے شفا دے دی اور میں نے لوگوں کے درمیان پھیلانا ناپسند کیا کہ ان پر برائی کا ایک دروازہ کھولوں کہ منافقین جادو کو جان کر اسے سیکھیں اور مومنوں کو اذیت و تکلیف دیں اور یہ فساد کے خوف سے مصلحت کو ترک کرنے کی قبیل سے ہے۔ نبی ﷺ نے کنویں میں اسے دفن کرنے کا حکم دیا چنانچہ اسے وہیں دفن کر دیا گیا۔ بعض لوگوں نے نبی ﷺ پر جادو کیے جانے والے قصے کا انکار کیا ہے، ان کا گمان ہے کہ اس سے عصمتِ نبی ﷺ پرحرف آتا ہے، اس احتمال کی وجہ سے کہ آپ ﷺ کو خیال ہوتا تھا کہ جبریل کو دیکھا ہے حالانکہ انہیں نہیں دیکھے ہوتے، خیال ہوتا کہ آپ ﷺ کی طرف وحی کی گئی اور وحی نہیں کی گئی ہوتی۔ یہ ساری کی ساری باتیں مردود ہیں کیوں کہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ باتوں کی حفاظت اور تبلیغ سے متعلق عصمت پر دلیل ثابت شدہ ہے۔ جادو کے ضرر کی وجہ سے آپ ﷺ کو جو تکلیف پہنچی تھی وہ تبلیغ کے سلسلے میں کسی کمی سے متعلق نہیں تھی بلکہ وہ دیگر امراض وآفات کے قبیل سے تھی جس کا صدور ممکن ہے اور جادو سے جو تکلیف آپ ﷺ کو پہنچی تھی اس کی تشریح ووضاحت اور دیگر روایات میں موجود ہے، اور وہ تکلیف یہ تھی کہ آپ ﷺ کوخیال گزرتا کہ آپ اپنی بیوی کے پاس گئے ہیں حالانکہ کسی بیوی کے پاس نہیں گیے ہوتے۔
ابو قتادہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا اور کہا: تم اپنی (پوری) شام اور (پوری) رات چلتے رہو گے تو ان شاء اللہ کل تک پانی پر پہنچ جاؤ گے۔ لوگ چل پڑے،کوئی مڑ کر دوسرے کی طرف دیکھتا بھی نہ تھا۔ ابو قتادہ نے کہا اسی عالم میں رسول اللہ ﷺچلتے رہے یہاں تک کہ رات آدھی گزر گئی، میں آپ کے پہلو میں چل رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو اونگھ آگئی اور آپ سواری سے ایک طرف جھک گیے، میں آپ کے پاس آیا اور آپ کو جگائے بغیر آپ کو سہارا دیا حتی کہ آپ اپنی سواری پر سیدھے ہو گیے، پھر آپ چلتے رہے یہا ں تک کہ رات کا بیشتر حصہ گزر گیا، آپ (پھر) سواری پر (ایک طرف)جھکے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو جگائے بغیر آپ کو سہارا دیا یہاں تک کہ آپ اپنی سواری پر سیدھے ہو گیے، وہ کہتے ہیں پھر چلتے رہے حتیٰ کہ سحری کا آخری وقت تھا تو آپ (پھر) جھکے، یہ جھکنا پہلے دونوں بار کے جھکنے سے زیادہ تھا، قریب تھا کہ آپ اونٹ سے گر پڑتے، میں آپ کے پاس آیا اور آپ کو سہارا دیا تو آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا یہ کون ہے؟میں نے عرض کی:ابو قتادہ ہوں۔ فرمایا تم کب سے میرے ساتھ اس طرح چل رہے ہو؟ میں نے عرض کی: میں رات ہی سے اس طرح سفر کر رہا ہوں۔فرمایا:ا للہ تعالیٰ اسی طرح تمھاری حفاظت کرے جس طر ح تم نے اس کے نبی کی حفاظت کی، پھر فرمایا کیا تم دیکھ رہے ہو (کہ) ہم لوگوں سے اوجھل ہیں؟ پھر پوچھا :تمھیں کوئی (اور) نظر آر ہا ہے؟میں نے عرض کی: یہ ایک سوار ہے۔ پھر عرض کی:یہ ایک اور سوار ہے حتی کہ ہم اکٹھے ہوئے تو سات سوار تھے، ابوقتادہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ راستے سے ایک طرف ہٹے، پھر سر (نیچے ) رکھ دیا (اور لیٹ گیے) پھر فرمایا ہمارے لیے ہماری نماز کا خیال رکھنا۔پھر جو سب سے پہلے جاگے، وہ رسول اللہ ﷺ ہی تھے، سورج آپ کی پشت پر (چمک رہا) تھا۔ وہ کہتے ہیں ہم سخت تشویش کے عالم میں کھڑے ہوئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا سوار ہوجاؤ۔ ہم سوار ہوئے اور (آگے) چل پڑے حتی کہ جب سورج بلند ہو گیا تو آپ ﷺ اترے، پھر آپ ﷺ نے وضو کا برتن مانگا جو میرے ساتھ تھا، اسی میں کچھ پانی تھا۔ راویٔ حدیث) کہتے ہیں کہ پھر آپ نے اس سے (مکمل) وضو کے مقابلے میں کچھ ہلکا وضو کیا اور اس میں کچھ پانی بچ بھی گیا، پھر آپ نے (مجھے )ابو قتادہ سے فرمایا:ہمارے لیے اپنے وضو کا برتن محفوظ رکھنا،ا س کی ایک شان ہو گی۔پھر بلال رضی اللہ عنہ نے نماز کے لیے اذان کہی، رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ نے اسی طرح جس طرح روز کرتے تھے، صبح کی نماز پڑھائی۔ راوی مزید بیان کرتے ہیں :اور رسول اللہ ﷺ سوار ہو گیے، ہم بھی آپ کی معیت میں سوار ہو گیے، راوی نے کہا: ہم میں سے کچھ لوگ ایک دوسرے سے کانا پھوسی کرنے لگے کہ ہم نے نماز میں جو کوتاہی کی ہے اس کا کفارہ کیا ہے؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:کیا تمہارے لیے میرے عمل میں نمونہ نہیں؟، پھر آپ نے فرمایا: سمجھ لو! نیند (آجانے) میں (کسی کی) کوئی کوتاہی نہیں۔ کوتاہی تو اس شخص میں ہے جو نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ دوسری نماز کا وقت ہو جائے، جو اس طرح کرے (سوجائے) تو جب اس کے لیے جاگے تو یہ نماز پڑھ لے، پھر جب دوسرا دن آئے تو اسے وقت پر ادا کرے۔ پھر فرمایا تم کیا دیکھتے ہو (دوسرے) لوگوں نےکیا کیا؟ راوی نے کہا پھر آپ نے فرمایا:لوگوں نے صبح کی تو اپنے نبی کو گم پایا۔ ابو بکر اور عمر نے کہا:اللہ کے رسول ﷺ تمھارے پیچھے ہیں، وہ ایسے نہیں کہ تمھیں پیچھے چھوڑ دیں۔(دوسرے) لوگوں نے کہا:بے شک رسول اللہ ﷺ تم سے آگے ہیں۔ اگر وہ ابو بکر اور عمر کی اطاعت کریں تو صحیح راستے پر چلیں گے ۔ ،کہا : تو ہم لوگوں تک (اس وقت )پہنچ پائے جب دن چڑھ آیا تھا اور ہر شے تپ گئی تھی اور وہ کہہ رہے تھے اے اللہ کے رسول ! ہم پیاسے مر گیے۔ تو آپ نے فرمایا: تم پر کوئی ہلاکت نہیں آنے والی ہے۔ پھر فرمایا کہ میرا چھوٹا پیالہ میرے پاس لاؤ۔ راویٔ حدیث کہتے ہیں کہ پھر وضو کے پانی والا برتن منگوایا، رسول اللہ ﷺ (اس سے پیالے میں) انڈیلتے گیے اور ابو قتادہ لوگوں کو پلاتے گیے، زیاد دیر نہ گزری تھی کہ لوگوں نے وضو کے برتن میں تھوڑا سا پانی دیکھ لیا تو اس پر جھرمٹ بناکر اکٹھے ہو گیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اچھا طریقہ اختیار کرو، تم میں سے ہر ایک اچھی طرح پیاس بجھا لے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ رسول اللہ ﷺ پانی (پیالے میں) انڈیلتے گیے اور میں لوگوں کو پلاتا گیا یہاں تک کہ میرے اور رسول اللہ ﷺ کے سوا اور کوئی نہ بچا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پھر پانی ڈالا اور مجھ سے فرمایا پیو۔ میں نے عرض کی:اے اللہ کے رسول! جب تک آپ نہیں پی لیں گے میں نہیں پیوں گا۔ فرمایا: قوم کو پانی پلانے والا ان سب سے آخر میں پیتا ہے۔ راوی نےکہتے ہیں تب میں نے پی لیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی نوش فرمایا۔ وہ مزید بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد لوگ اس حالت میں (اگلے ) پانی پر پہنچے کہ سب ( اپنے) برتن پانی سے بھرے ہوئے تھے اور (خوب) سیراب تھے۔ (ابوقتادہ کہتے ہیں کہ) عبداللہ بن رباح نے کہا کہ میں یہ حدیث جامع مسجد میں سب لوگوں کو سناؤں گا ۔ تب عمران بن حصین نے فرمایا : اے جوان ! خیال رکھنا کہ تم کس طرح حدیث بیان کرتے ہو، اس رات مَیں بھی قافلے کے سواروں میں سے ایک تھا۔ کہا:میں نے عرض کی: آپ اس حدیث کو زیادہ جاننے والے ہیں۔ تو انھوں نے پوچھا:تم کس قبیلے سے ہو؟ میں نے کہا انصار سے۔ فرمایا:حدیث بیان کرو تم اپنی احادیث سے زیادہ آگاہ ہو، کہا:میں نے لوگوں کو حدیث سنائی تو عمران نے کہا:اس رات میں بھی موجود تھا اور میں نہیں سمجھتاکہ اسے کسی نے اس طرح یا در کھا جس طرح تم نے اسے یا درکھا ہے۔
متفق علیہاس حدیث شریف میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے کہ ان کے ساتھ موجود سارا پانی ختم ہوگیا تو نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو یہ بشارت سنائی کہ انھیں آگےپانی مل جائے گا،جس کو سن کر قوم میں تیزی سے آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو اور وہ انتظار کیے بغیر نبی ﷺ سے آگے بڑھ گیے اورابوقتادہ کے بشمول کچھ صحابہ کرام (نبی ﷺ کے ہمراہ رہ گیے)، رات کا وقت تھا اور رسول اللہ ﷺ اونگھنے لگتے تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کو ایسے سہارا دیتے کہ آپ سواری سے گر نہ پڑیں یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ (آخری بار) ان کے سہارا دینے کی وجہ سے بیدار ہوگیے اور ان کے حق میں حفظ و امان کی ویسے ہی دعاء فرمائی جیسے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی حفاظت کرتے ہوئے کیا۔ پھر آپ ﷺ نے انھیں بتایا کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے (کہ آیا آپ ﷺ، آگے پہنچ جانے والوں سے آگے یا پیچھے ہیں) مقام کے تعلق سے لوگوں کی الگ الگ رائے ہوگی اور یقینا ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنھما انہیں یہ بتائیں گے کہ آپ ﷺ ان کے پیچھے ہیں اور یقینا اگر یہ لوگ ان دونوں کی بات مان لیں تو صحیح راہ پالیں گے، اور یہ نبی ﷺ کی نبوی نشانیوں میں سے ہے، پھر وہ سب رات کو سوگیے اور سورج کی تپش ہی نے انہیں نیند سے بیدار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس مسئلہ کی وضاحت فرمائی کہ جوشخص نماز سے سو جائے اور جان بوجھ کر اس نے نماز نہ چھوڑی ہو تو یہ تقصیر و کوتاہی نہ ہوگی، لیکن کوتاہ تو وہ شخص ہوگا جو اس نماز کو ادا کرنے کے بجائے، اسے چھوڑے رکھے یہاں تک کہ اس کا وقت ہی نکل جائے، جب نبی ﷺ اور آپ کے ہمراہی صحابہ کرام آگے بڑھ جانے والی قوم سے جاملے اور وہ اس حال میں تھے کہ قریب تھا کہ وہ پیاس کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے تو نبی ﷺ نے انہیں یہ بشارت سنائی کہ وہ بالکل ہلاک نہ ہوں گے بلکہ وہ سارے کے سارے لوگ ہی سیراب ہوں گے اور آپ ﷺ نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کاوہ برتن منگایا جس کو وہ آپ ﷺ کے وضو کے لیے استعمال کیا کرتے تھے اور وہ چھوٹا سا برتن تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں وضو فرمایا اور لوگوں کو اس میں سے پینے کے لیے بلایا۔ تمام لوگ پی چکے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ باقی رہ گیے۔ نبی ﷺ کی اس خبر و آگہی کے بعد کہ قوم کو پلانے والے پر ضروری ہے کہ وہ سب سے آخر میں پیئے،ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے پی لیا۔ اور یہ نبی ﷺ کے معجزات میں سے ہے۔
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران جماعت میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے ”یَرحَمُکَ اللہ“ کہہ دیا۔ اس پر لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ میں نے کہا: میری ماں مجھے گم پائے، تم مجھے کیوں گھور رہے ہو؟ یہ سن کر وہ لوگ اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنے لگے۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہو گئے، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان جائیں، میں نے آپ ﷺ سے پہلے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ سے بہتر کوئی معلِّم دیکھا۔ اللہ کی قسم نہ آپ ﷺ نے مجھے جھڑکا اور نہ ہی مجھے مارا۔ آپ ﷺ نے بس اتنا فرمایا کہ نماز میں لوگوں کی بات چیت درست نہیں ہے۔ نماز تو تسبیح و تکبیر اور قرآن پڑھنے کا نام ہے۔یارسولﷺ نے اس جیسی بات کہی۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جاہلیت کو ترک کیے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام بھیجا ہے (اور مجھے اس سے شرف یاب کیا ہے) ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں (اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟) آپ ﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ۔ میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو بدشگونی لیتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (ایک طرح کا وہم ہے) یہ وہم انھیں ان کے کسی کام سے نہ روکے ۔ تم اس طرح نہ کرو۔ پھر میں نے عرض کیا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: انبیائے کرام میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے۔ چنانچہ جس آدمی کا لکیر کھینچنا اس کے مطابق ہو وہ صحیح ہے۔ راوئ حدیث معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے علاقوں میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ایک دن میں وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا میری ایک بکری کو اٹھا کر لے گیا ہے۔ آخر میں بھی انسانوں میں سے ایک انسان ہوں۔ مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح کہ دوسرے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے۔ میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ مجھ پر اسے تھپڑ مارنا بہت گراں گزرا تھا۔ میں نے عرض کیاکہ کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے میرے پاس لاؤ۔ میں اسے آپ ﷺ کے پاس لے آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے؟ اس لونڈی نے جواب دیا: آسمان میں۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس لونڈی نے کہا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دے کیونکہ یہ لونڈی مومنہ ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ وہ قصہ بیان کر رہے ہیں جواس وقت پیش آیا جب وہ نبی ﷺ کے ساتھ باجماعت نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھ رہے تھے۔ انہیں سنائی دیا کہ ایک شخص نے چھینک مار کر الحمدللہ کہا ہے۔ چنانچہ انہوں نے یرحمک اللہ کہہ کر اس کے اس قول کا جلدی سے جواب دیا جیسا کہ قاعدہ ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمد للہ کہےاور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی یرحمک اللہ کہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ علم نہیں تھا کہ چھینکنے والے کا جواب دینے کا استحباب نماز کے علاوہ دیگر اوقات میں ہے۔ ” لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا“ یعنی بغیر بولے انہوں نے آنکھوں سے ان کو اشارہ کیا اور خشمگیں نظروں سے انہیں گھورا تاہم معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی اس ناگواری کا سبب نہ جان سکے چنانچہ وہ ان سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: ” میری ماں مجھے گم پائے“ يعنی ہائے میری ماں مجھے گم پائے اور میں ہلا ک ہوا۔ تمہیں کیا ہوا ہے اور کیا بات ہے؟ تم غصہ بھری نگاہوں سے میری طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟ ”وہ لوگ اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنے لگے“ یعنی ان لوگوں کی ان پر ناگواری مزید بڑھ گئی اور وہ ہاتھوں کو رانوں پر مارنے لگے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ خاموش ہو جائیں اور بولنا بند کر دیں چنانچہ وہ چپ ہو گئے۔ پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا یعنی جب میں جان گیا کہ وہ مجھے گفتگو سے خاموش ہونے کو کہہ رہے ہیں تو مجھے ان کی طرف سے بہت زیادہ ناگواری کے اظہار پرحیرت ہوئی کیونکہ اپنےعمل کی برائی سے میں ناواقف تھا۔ میں نے ارادہ تو کیا کہ ان سے جھگڑوں تاہم حکم کی تعمیل میں مَیں چپ ہو گیا کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ باعلم تھے۔ چنانچہ میں نے اپنے غصے کو چھوڑ دیا اور وجہ دریافت نہ کی۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہو گئے یعنی جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی نماز ختم کی اور اس سے فارغ ہوئے۔ ”فَبِأَبِي هو وأمِّي“ یعنی میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان۔ یہ قسم نہیں۔ بلکہ یہ صرف ماں باپ کو فدا کرنے کا اظہار ہے۔ میں نے آپ ﷺ سے پہلے اور نہ ہی آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ سے بہتر کوئی معلِّم دیکھا کیونکہ نبی ﷺ نہ ان سے درشتگی سے پیش آئے اور نہ ہی انہیں جھڑکا۔ بلکہ آپ ﷺ نے ایسے طریقے سے شرعی حکم کی وضاحت کی جسے انسان فورا قبول کرلیتا ہے اور اس کی تعمیل کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے نہ تو مجھے ڈانٹا اور نہ کوئی سخت بات کہی۔ نہ ہی مجھے مارا میں نے حکم شرعی کی جو مخالفت کی تھی اس پر آپ ﷺ نے مار کر میری تادیب نہ کی۔ اور نہ ہی آپ ﷺ نے مجھ سے کوئی درشت بات کہی بلکہ آپ ﷺ نے نرمی کے ساتھ میرے سامنے حکم شرعی کی وضاحت فرمائی اور فرمایا: ”اس نماز میں لوگوں کی آپس کی بات چیت درست نہیں، بلکہ نماز تو تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت کا نام ہے“ یعنی نماز میں لوگوں کا آپس میں بات چیت کرنا جائز نہیں۔ ابتدائےاسلام میں اسے روا رکھا گیا تھا لیکن بعد میں اسے منسوخ کر دیا گیا۔ نماز میں صرف تسبیح و تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہوتی ہے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جاہلیت کو ترک کیے زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ یعنی مجھے جاہلیت کو چھوڑے کچھ ہی عرصہ گزرا ہے۔ جاہلیت کا اطلاق اس حالت پر ہوتا ہے جو شریعت کے آنے سے پہلے تھی۔ اسے جاہلیت کا نام ان لوگوں کی بہت زیادہ جہالت اور برائی کی وجہ سے دیا گیا۔ میں کفر سے اسلام کی طرف منتقل ہو گیا ہوں لیکن ابھی تک مجھے دین کے احکام کا علم نہیں ہے۔ ان کے کچھ ساتھی کاہنوں کے پاس جاتے اور ان سے مستقبل میں پیش آنے والے غیبی امور کے بارے میں پوچھتے۔ آپﷺ نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جاؤ، کاہنوں کے پاس آنے سے اس لیے منع کیا گیا کیونکہ وہ غیبی امور کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی بات صحیح نکل آتی ہے جس کی وجہ سے انسان کے فتنے میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے کیونکہ یہ لوگوں کے لیے بہت سے شرعی امور کو مشتبہ بنا دیتے ہیں۔ کئی صحیح احادیث میں کاہنوں کے پاس آنے اور ان کی باتوں کی تصدیق کرنے کی ممانعت اور ان کی دی گئی شیرینی کے حرام ہونے کا حکم آیا ہے۔ ہم میں سے کچھ لوگ برا شگون لیتے ہیں، تَطَیّر کا معنی ہے کسی دیکھی یا سنی گئی بات یا پھر کسی وقت یا جگہ سے برا شگون لینا۔ عرب لوگ بدشگونی لینے میں معروف تھے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی اچھے کام کا ارادہ کرتا اور پھر پرندے کو دائیں یا بائیں جانب جاتے ہوئے دیکھ لیتا جیسا کہ ان کے ہاں معروف تھا تو وہ اپنے ارادے سے بازآجاتا۔اسی طرح کوئی شخص کسی آواز کو سن کر یا کسی آدمی کو دیکھ کر اس سے برا شگون لیتا۔ بعض لوگ نکاح کے سلسلے میں شوال کے مہینے سے بد شگونی لیتے۔ بعض لوگ بدھ کے دن یا صفر کے مہینے سے بد شگونی لیتے۔ ان سب باتوں کو شریعت نے باطل قرار دیا ہے کیونکہ اس سے انسان کی عقل، سوچ اور طرزِعمل کو ضرر لاحق ہوتا ہے۔ انسان کا ان امور کی پرواہ نہ کرنا ہی دراصل اللہ پر توکل ہے۔ ”یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (ایک طرح کا وہم ہے) یہ وہم انھیں ان کے کسی کام سے نہ روکے“ یعنی بدشگونی ایسی شے ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہو ہی جاتی ہے اور اس سلسلے میں ان پر کوئی عتاب بھی نہیں۔ اسے وہ خود سے نہیں لاتے چنانچہ اس کی ذمہ داری بھی ان پرعائد نہیں ہوتی۔ تاہم انہیں چاہیے کہ وہ اس کی وجہ سے اپنے امور میں تصرف کرنے سے نہ رکیں۔ اس بات پر انہیں قدرت حاصل ہے چنانچہ اس کی ذمہ داری ان پرعائد ہوتی ہے۔ اس لیے نبی ﷺ نے بدشگونی پرعمل کرنے اور اس بات سے منع فرمایا کہ وہ اس کی وجہ سے اپنے کاموں سے رک جائیں۔ بہت سی صحیح احادیث میں بدشگونی کی ممانعت آئی ہے۔ بدشگونی کو یہاں بدشگونی پر عمل کرنے پر محمول کیا جائے گا نہ کہ اس سوچ پر جو انسان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے تاہم لوگوں کے ہاں اس کا جو تقاضا ہوتا ہے اس پر وہ عمل نہیں کرتا۔ ”ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں“ عربوں کے ہاں ”خط“ یہ تھا کہ کاہن آکر اپنے سامنے موجود لڑکے کو حکم دیتا کہ وہ ریت میں بہت سی لکیریں کھینچے۔ پھر اسے کہتا کہ وہ دو دو کر کے ان کو مٹاتا جائے۔پھر وہ ان لکیروں میں جوآخری لکیریں بچ جاتی ان کو دیکھتا۔ اگر باقی ماندہ لکیریں جفت (جوڑ) ہوتیں تو یہ فلاح و کامیابی کی دلیل ہوتی اور اگر اکیلی (طاق) ہوتی تو یہ نامرادی اور مایوسی کی دلیل ہوتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: انبیائے کرام میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے یعنی وہ نبی ریت میں کھینچی گئی لکیروں کی طرح لکیرں کھینچتے اور ان لکیروں کے توسط سے فراست کے بل بوتے پر امور کو جاننے کی کوشش کرتے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ نبی ادریس علیہ السلام یا دانیال علیہ السلام تھے۔ ”فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ“ یعنی جس کا خط اس نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے خط کے موافق ہو گیا۔ ”فَذَاك“ یعنی جس کا خط اس نبی کے خط کے موافق ہو گیا اس کے لیے یہ جائز ہے۔ لیکن چونکہ ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے اس موافقت کا یقینی طور پرعلم ہو سکے اس لیے ایسا کرنا مباح نہیں ہے۔ مقصد یہ کہ ایسا کرنا حرام ہے کیونکہ یہ جائز صرف اسی وقت ہو گا جب موافقت کا یقین ہو جائے اوراس کا یقین ہمیں ہو نہیں سکتا۔ اس بات کا بھی احتمال ہے کہ ایسا کرنا ہماری شریعت میں منسوخ ہو۔ یہ بھی احتمال ہے کہ علم رمل اس نبی کی نبوت کی علامت ہو اور چونکہ ان کی نبوت ختم ہو چکی اس لیے ہمیں اسے اپنانے سے منع کر دیا گیا۔ بہرحال یہ حدیث علم رمل پر عمل کرنے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے نہ کہ اس کے جائز ہونے پر۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں علم رمل کے بارے میں لوگوں کے طرزِعمل اور اس کے فاسد ہونے کی بھی نشاندہی ہے کیونکہ موافقت کا تقاضا ہے کہ اس کا علم ہو اور علم دو طریقوں میں سے کسی سے حاصل ہو سکتا ہے: اول: اس علم کی کیفیت کے بیان میں کوئی صریح اورصحیح نص موجود ہو۔ دوم: اس نبی سے لے کر ہمارے نبی ﷺ کے دور تک یہ تواتر کے ساتھ منقول ہو۔ اور یہ دونوں ہی باتیں موجود نہیں۔ یہاں یہ جان لینا مناسب ہے کہ انبیاء علمِ غیب کی طرف دعوت نہیں دیتے اور نہ ہی لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ان کو علمِ غیب حاصل ہے۔ لوگوں کو انہوں نے امورِغیب میں سے جو کچھ بتایا وہ انہیں اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی علم ہوا تھا۔ چنانچہ وہ اسے اپنی طرف منسوب نہیں کرتے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿عَالِمُ الْغَيْبِ فَلا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا، إِلاَّ مَنِ ارْتَضَى مِن رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا﴾ ”وہ عالم الغیب ہے، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوائے اُس رسول کے جسے اُس نے(غیب کا کوئی علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو، تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے“۔ (الجن 26، 27) کیونکہ علمِ غیب اللہ نے اپنے لیے خاص کر رکھا ہے۔ چنانچہ جو شخص بھی اپنے بارے میں اس کا دعوی کرے گا وہ ربوبیت کی بعض خصوصیات کا حامل ہونے کا مدعی ہو گا اور یہی کچھ اس کاروبار کے کرنے والے کرتے ہیں۔ اس حدیث سے ان لوگوں کے اس جھوٹے دعوے کا پول کھل جاتا ہے کہ یہ نبی ان کے استاد ہیں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے علاقوں میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی یعنی ان کی ایک باندی تھی جو احد کے قریب واقع ایک جگہ پر ان کی بھیڑ بکریاں چراتی تھی۔ ایک دن میں وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا میری ایک بکری کو اٹھا کر لے گیا ہے یعنی انہیں پتا چلا کہ بھیڑیے نے ایک بھیڑ کو چیر پھاڑ ڈالا ہے۔ اگرچہ بھیڑ بکریاں ان کی تھیں تاہم انہوں نے کہا کہ ”اس باندی کی بھیڑ بکریاں“یعنی جن کی وہ دیکھ بھال کرتی تھی۔ آخر میں بھی انسانوں میں سے ایک انسان ہوں۔ مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح کہ دوسرے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے، ”اسف“ کا معنی ہے: غصہ، یعنی بھیڑیے کے بھیڑ کو کھا لینے کی وجہ سے میں اس پر غصے ہوا۔ چنانچہ میں نے اسے سختی کے ساتھ مارنے کا ارادہ کیا جیسا کہ غصے میں ہوتا ہے۔ میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا، لیکن میں نے ایسا نہ کیا بلکہ اسے ایک تھپڑ مارنے پر ہی اکتفاء کیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا۔ مجھ پر اسے تھپڑ مارنا بہت گراں گزرا تھا، اس باندی کو تھپڑ مارنے کے بعد وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپﷺ کو سارا ماجرا سنایا۔ آپ ﷺ نے ان کا باندی کو تھپڑ مارنا بہت بڑا عمل جانا۔ جب معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی ﷺ پر ان کے اس عمل کا بہت اثر ہوا اور آپ ﷺ نے اسے دل پر لیا ہے تو وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ یعنی اسے مارنے کے بدلے میں اسے میں غلامی سے آزاد کر دیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کرآؤ۔چنانچہ میں اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ یعنی وہ معبود کہاں ہے جو عبادت کا حق دار اور صفات کمال سے متصف ہے؟ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے پوچھا: تیرا رب کہاں ہے؟ نبی ﷺ نے اس سوال کے ذریعے اس بات کی یقین دہانی کرنا چاہی کہ وہ موحّد ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے ایسی بات پوچھی جس کا مقصود سمجھ میں آتا ہے کیونکہ اللہ کے آسمان میں ہونے پر اعتقاد رکھنا موحدین کی علامت ہے۔ اس نے کہا: آسمان میں۔ یہاں سے ”السماء“ سے مراد ”اوپر“ ہے اور یہ کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہرشے سے بالا تر اپنے عرش کے اوپر ہے جو کہ مخلوقات کے لیے چھت ہے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو۔ یہ مومنہ ہے۔ جب اس نے اللہ کےاوپر ہونے اور آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دے دی تو آپ ﷺ نے اسے آزاد کرنے کا حکم دیا کیونکہ یہ اس کے ایمان اور عقیدہ کی درستگی کی دلیل تھی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں بہترین شخص وہ ہے جو میرے بعد میرے اہل خانہ کے ساتھ اچھاسلوک کرنے والا ہو“۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف نے اپنا ایک باغ چار لاکھ میں فروخت کیا اور اس کی رقم نبی کریم ﷺ کی بیویوں میں تقسیم کر دی۔
اسے ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔میرے صحابہ! تم میں بہترین شخص وہ ہے جو میرے اہل کے لیے بہتر ہے یعنی میری وفات کے بعد میری بیویوں میرے بچوں اور میرے عزیز واقارب کے ساتھ (اچھا سلوک کرے)۔صحابہ آپ ﷺ کی وصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ ﷺ کے اہل خانہ کے ساتھ ہمیشہ عزت و احترام سے پیش آتے تھے۔اسی قبیل سے یہ واقعہ ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنا ایک باغ چار لاکھ میں فروخت کرنے کے بعد اس کی رقم امہات المؤمنین میں تقسیم کر دیا۔
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی وفات ہوئی، تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”ان کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ کے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا جو کہ حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھے، وفات کے وقت ان کی عمر اٹھارہ ماہ کی تھی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں ان کے لیے ایک دودھ پلانے والی کو مقرر کر رکھا ہے، جو انہیں دودھ پلائے گی اور ان کے ایامِ رضاعت کو پورا کرے گی۔
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُحد کے دن رسول اللہ ﷺ دو زرہیں پہنے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ ایک چٹان پر چڑھنے لگے، لیکن چڑھ نہ سکے تو آپ ﷺ نے اپنے نیچے طلحہ رضی اللہ عنہ کو بٹھا لیا اور اوپر چڑھنے لگے، یہاں تک کہ چٹان پرسیدھے کھڑے ہوگئے۔ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: طلحہ نے اپنے لیے (جنت) واجب کرلی۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے غزوۂ احد کے دن دشمنوں کے نیزوں اور تیروں سے بچنے کے لیے لوہے سے بنی دو قمیصیں پہن رکھی تھیں۔ آپ ﷺ ایک چٹان کی طرف جانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ اس پر چڑھنا چاہتے تھے، لیکن نہیں پا رہے تھے۔ اس پر طلحہ رضی اللہ عنہ آکر نبی ﷺ کے نیچے بیٹھ گئے۔ نبی ﷺ ان پر سوار ہو کر چٹان پرچڑھ گئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: "طلحہ نے واجب کر لی۔" یعنی طلحہ نے اپنے اس عمل کی وجہ سے یا غزوۂ احد میں انھوں نے جو کچھ کیا، اس کی وجہ سے اپنے لیےجنت واجب کر لی اور اپنے عمل کی وجہ سے اس کے حق دار ہو گئے۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے ماموں ہیں، اگر کوئی شخص ایسا ماموں رکھتا ہے تو وہ مجھے دکھائے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی مجلس مبارک کی طرف آ رہے تھے۔ جب نبی ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: یہ میرے ماموں ہیں جن پر مجھ فخر ہے۔ کوئی مجھے اپنا ماموں دکھائے تاکہ معلوم ہوجائے کہ میرے ماموں جیسا کوئی ماموں نہیں ہے۔ سعد بن وقاصرضی اللہ عنہ قبیلہ بنی زھرہ میں سے تھے اور نبی ﷺ کی والدہ بی بی آمنہ بھی بنی زھرہ سے تھیں۔ سعد رضی اللہ عنہ بی بی آمنہ کے رشتہ دار تھے اور ماں کی طرف کے رشتہ دار ماموں ہوا کرتے ہیں۔