





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ ایک خیمے میں چالیس کے قریب افراد بیٹھے ہوئے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش اور راضی ہو کہ تم تمام اہلِ جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر پوچھا: کیا تم ایک تہائی حصہ ہونے پر خوش ہو؟ ہم نے پھر اثبات میں جواب دیا، فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم تمام اہل جنت کا نصف ہوگے، کیونکہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہوسکے گا جو مسلمان ہو۔ اور اہلِ شرک کے ساتھ تمہاری نسبت ایسی ہی ہے جیسے سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال یا سرخ بیل کی کھال میں سیاہ بال ہوتا ہے“۔
متفق علیہاللہ کے رسول ﷺ تقريبا جاليس صحابہ کرام کے ساتھ ايک چھو ٹے سے خيمہ ميں بيٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم اس بات پر خوش اور راضی ہو کہ تم تمام اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر فرمايا: کیا تم اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہونے پر خوش ہو؟ انہوں نے پھر اثبات میں جواب دیا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا کر کہا کہ مجھے امید ہے کہ تم تمام اہل جنت کا نصف ہوگے اور دوسرا نصف باقی ساری امتوں سے ہوں گے۔کیونکہ جنت میں صرف مسلمان داخل ہوں گے، اس میں کوئی کافر نہیں جائے گا۔ اور اہلِ شرک کے ساتھ تمہاری نسبت ایسی ہی ہے جیسے سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال یا سرخ بیل کی کھال میں سیاہ بال ہوتا ہے۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا : "جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے اور ان کو لوٹنے کے لیے ان پر ہتھیار اٹھانے سے خبردار کر رہے ہیں۔ جس نے ناحق ایسا کیا، اس نے بہت بڑا جرم اور کبیرہ گناہ کیا اور اس سخت وعید کا حق دار ہو گیا۔
ابو بردہ بن ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ابو موسی اشعری رضی اللہ بہت زیادہ بیمار ہو گئے۔ (بیماری اتنی سخت تھی کہ) بے ہوش ہو گئے۔ ان کا سر ان کے گھر کی ایک عورت کی گود میں تھا، (جو اونچی آواز میں رو رہی تھی) اور وہ (بے ہوشی کے سبب) اسے کوئی جواب نہ دے سکے۔ لہذا جب ہوش میں آئے تو فرمایا: میں ان تمام لوگوں سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، جن سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے براءت کا اظہار کیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مصیبت کے وقت چیخ چیخ کر رونے والی، بال منڈوانے والی اور کپڑے پھاڑنے والی عورتوں سے براءت کا اظہار کیا ہے۔
متفق عليهابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو موسی رضی اللہ عنہ ایک بار بہت زیادہ بیمار ہو گئے۔ بیماری اتنی سخت تھی کہ نوبت بے ہوشی تک پہنچ گئی۔ اس وقت ان کا سر ان کے گھر کی کسی عورت کی گود میں تھا، جو ان کی بیماری دیکھ کر چیخ چیخ کر رونے اور نوحہ کرنے لگی۔ لیکن بے ہوشی کے سبب وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ لہذا ہوش میں آئے تو فرمایا : میں ان تمام لوگوں سے براءت کا اظہار کرتا ہوں، جن سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے براءت کا اظہار کیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے درج ذیل عورتوں سے براءت کا اظہار کیا ہے: صالقہ : مصیبت کے وقت چیخ چیخ کر رونے والی عورت۔ حالقہ : مصیبت کے وقت بال منڈوانے والی عورت۔ شاقہ: مصیبت کے وقت کپڑے پھاڑنے والی عورت۔ کیوں کہ یہ دور جاہلیت کے امور ہیں۔ اسلام کا حکم یہ ہے کہ مصیبتوں کے وقت صبر سے کام لیا جائے اور اللہ سے اجر وثواب کی امید رکھی جائے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں"۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ حقوق کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: "جب اس سے ملو، تو اسے سلام کرو، جب وہ تم کو دعوت دے، تو اس کی دعوت قبول کرو، جب تم سے مشورہ مانگے تو اسے اچھا مشورہ دو، جب چھینکے اور ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ کہے تو اس کا جواب دو (یعنی ’يَرْحَمُكَ اللَّهُ‘ کہو)، جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو اور جب مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ چلو“۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمایا کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حقوق ہیں، ان میں چھ چيزیں شامل ہیں: 1- ملاقات ہونے پر السلام علیکم کہہ کر سلام کرنا۔ جواب میں سامنے والا شخص وعلیکم السلام کہے گا۔ 2- ولیمہ وغیرہ کی دعوت میں مدعو کرنے پر اس کى دعوت قبول کرنا۔ 3- نصیحت طلب کرنے پر اسے نصیحت کرنا۔ چاپلوسی یا دھوکہ دہی سے گریز کرنا۔ 4- جب چھینکے اور الحمد للہ کہے، تو اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا۔ اس کے بعد چھینکنے والا شخص جواب میں يَهديكم الله ويُصلح بالكم کہے۔ 5- بیمار ہونے پر اس کی عیادت کے لیے جانا۔ 6- وفات ہو جانے پر اس کے جنازے کی نماز پڑھنا اور دفن ہونے تک اس کے جنازہ کے ساتھ رہنا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: اللہ کے رسول ﷺ نے عورت کا لباس پہننے والے مرد پر اور مرد کا لباس پہننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
رواه النسائي في الكبرى وابن ماجه بمعناه وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایسے مرد کے حق میں اللہ کی رحمت سے دھتکارے جانے اور دور کر دیے جانے کی بد دعا کی ہے، جو عورتوں کے ساتھ خاص لباسوں کو زیب تن کرنے میں ان کی مشابہت اختیار کرے۔ یہ مشابہت چاہے کپڑے کی ہیئت میں ہو، رنگ میں ہو، کیفیت میں ہو یا پہننے اور زینت اختیار کرنے وغیرہ کے طریقے میں ہو۔ اسی طرح آپ نے ہر ایسی عورت کے حق میں اللہ کی رحمت سے دور کر دیے جانے کی بد دعا کی ہے جو مردوں کے ساتھ خاص لباس پہن کر ان کی مشابہت اختیار کرے۔ یہ دراصل کبیرہ گناہ ہے۔
ابو ثعلبہ خشنی جرثوم بن ناشر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: "اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں انھیں ضائع نہ کرو، کچھ حدیں مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، کچھ چیزیں حرام کی ہیں ان کا ارتکاب کر کے ان کی حرمت پامال نہ کرو اور کچھ چیزوں سے تم پر شفقت کی بنا پر، نسیان کے شکار ہوئے بنا، خاموشی اختیار کی ہے، چنانچہ ان کے متعلق بحث وکرید نہ کرو۔"
اسے دارقطنی نے اپنی سنن وغیرہ میں روایت کیا ہےاللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ نے کچھ چیزیں واجب اور کچھ چیزیں فرض کی ہیں۔ لہذا ان کی پابندی کرو اور انھیں چھوڑنے یا ان کے بارے میں سستی کرنے سے بچو۔ اس نے اپنی ناپسندیدہ چیزوں سے روکنے کے لیے کچھ حدود مقرر کی ہیں، لہذا ان شرعی حدود میں کوئی اضافہ مت کرو۔ اس نے کچھ چیزیں حرام کی ہیں۔ لہذا تم ان میں ملوث ہونے اور ان کے قریب جانے سے بچو۔ ان کے بعد باقی ماندہ چیزوں کو اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے ایسے ہی چھوڑ رکھا ہے اور ان کے بارے میں خاموشی برتی ہے، چنانچہ یہ چیزیں اپنی اصلیت میں مباح ہی رہیں گی۔ لہذا ان کے بارے میں بحث وجستجو نہ کرو۔
اللہ کے رسول ﷺ کے نواسے اور آپ کے عزیز ابو محمد حسن بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے یہ بات یاد کی ہے: "جس چیز میں تمہیں شک ہو، اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو جس میں تمہیں کوئی شک نہ ہو۔"
رواه الترمذي والنسائياللہ کے نبی ﷺ نے ایسے اقوال واعمال سے دور رہنے کا حکم دیا ہے، جن کے بارے میں یہ شک وشبہ پیدا ہو کہ ممنوع ہیں یا نہيں؟ حلال ہیں یا حرام؟ انسان کو ایسی چیزیں اپنانی چاہیے، جن کے اچھے اور حلال ہونے کا یقین ہو۔
ابو یعلی شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب جانور ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ تمہیں چاہیے کہ اپنی چھری تیز کر لو اور ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچاؤ۔“
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہمارے اوپر تمام چیزوں میں احسان فرض کیا ہے۔ جب کہ احسان کا مطلب ہے ہمیشہ اللہ تعالی کا دھیان اپنے ذہن میں رکھنا۔ اس کی عبادت کرتے وقت اور بھلائی کرتے وقت اور لوگوں کی تکلیف دور کرتے وقت۔ قتل اور ذبح کرتے وقت احسان کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ کسی کو بطور قصاص قتل کرتے وقت احسان یہ ہے کہ قتل کا سب سے آسان، سب سے ہلکا اور سب سے تیز طریقہ اختیار کیا جائے۔ جب کہ ذبح کرتے وقت احسان یہ ہے کہ جانور پر رحم کرتے ہوئے ہتھیار کو تیز کر لیا جائے، ہتھیار کو ذبیحے کی نظروں کے سامنے تیز نہ کیا جائے اور ایک جانور کے سامنے دوسرا جانور ذبح نہ کیا جائے۔
ابو مالک حارث بن عاصم اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: "پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے۔ پھر یا تو خود كو آزاد کرنے والا ہوتا ہے يا خود کو تباہ کرنے والا"۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ ظاہری طہارت وضو اور غسل سے حاصل ہوتی ہے اور یہ طہارت نماز کے لیے شرط ہے۔ "الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے۔" الحمد للہ در اصل اللہ پاک کی حمد و ثنا بیان کرنے اور اسے صفات کمال سے متصف کرنے سے عبارت ہے۔ قیامت کے دن اس کلمہ کو ترازو پر وزن کیا جائے گا، تو اس سے عمل کو تولا جانے والا ترازو بھر جائے گا۔ "سبحان الله اور الحمد لله" یہ دونوں کلمات ہر قسم کے نقص سے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسے اس کی جلالت شان کے مطابق کمال مطلق کے وصف سے موصوف کرتے ہیں، جس کے ساتھ اس کی محبت اور اس کی تعظیم بھی ہم رکاب ہوتی ہے۔ یہ دونوں کلمات آسمان وزمین کے درمیان کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ "نماز نور ہے" جو بندے کے دل کو، اس کے چہرے کو، اس کی قبر کو اور اس کی آخرت کو منور کرتی ہے۔ "صدقہ دلیل ہے۔" صدقہ مؤمن کے سچے ایمان والے ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ اس منافق سے مختلف ہے، جو صدقہ سے دامن کش رہتا ہے، کیوں کہ وہ اس اجر وثواب کو سچ نہيں جانتا، جس کا وعدہ صدقہ کرنے والے سے کیا گیا ہے۔ "صبر روشنی ہے۔" صبر نفس کو جزع فزع کرنے اور تقدیر پر ناراضگی ظاہر کرنے سے روکنے کا نام ہے۔ ضیا ایسی روشنی کو کہتے ہیں، جس کے ساتھ حرارت اور جلانے کے اوصاف پائے جائیں۔ جیسے کہ سورج کی روشنی۔ صبر کو ضیا اس لیے کہا گیا ہے کہ صبر کرنا ایک مشکل کام ہے اور اس کے لیے نفس سے لڑنے اور اسے خواہشات سے روکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب انسان صبر سے کام لیتا ہے، تو اس کی راہیں روشن رہتی ہیں اور وہ صحیح راستے پر گامزن رہتا ہے۔ یہاں صبر سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت گزاری پر گام زن رہا جائے، اس کی نافرمانی سے اجتناب کیا جائے دنیاوی مصائب ومشکلات کا مقابلہ پامردی کے ساتھ کیا جائے۔ "قرآن تمہارے حق میں دلیل ہے۔" قرآن انسان کے حق میں دلیل اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اس کی تلاوت کرے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرے۔"یا پھر تمہارے خلاف دلیل ہے۔" قرآن انسان کے خلاف دلیل اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اس کی تلاوت کرنے سے گریز کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ تمام لوگ جد وجہد کرتے، زمین میں پھیل جاتے اور نیند سے بیدار ہوکر اپنے مختلف مشاغل کی غرض سے گھروں سے نکل جاتے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگ اللہ کی اطاعت پر قائم رہتے ہوئے اپنی جان کو جہنم سے آزاد کر لیتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ اس راہ سے بھٹک کر گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہيں، تو اللہ ان کو جہنم میں داخل کرکے ہلاک کردیتا ہے۔