





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے تیار کیے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک کرائی تھی اور جو گھوڑے تیار نہیں كیے گئے تھے، ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد زریق تک کرائی تھی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں بھی گھوڑ دوڑ میں شریک ہونے والوں میں تھا۔ سفیان نے بیان کیاکہ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک پانچ یا چھےمیل کا فاصلہ ہے اور ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق صرف ایک میل کے فاصلے پر ہے۔
متفق علیہنبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ آپ جہاد کے لیے ہمیشہ تیار رہتے، اس کے تمام اسباب و وسائل کو اختیار فرماتے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول ((وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّـهِ وَعَدُوَّكُمْ)) ”تم ان کے مقابلے کے لیے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زده رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی“ کی تعمیل میں گھوڑوں کو تیار فرماتے اور اپنے صحابہ کو گھوڑ سواری کے مقابلہ کی ٹریننگ دیتے؛ تاکہ وہ اس کی سواری میں مہارت حاصل کر لیں، وار اور پلٹ وار کے گر سیکھ جائیں، ان کے لیے دوڑ کی ابتداء اور انتہاء کی جگہ مقرر فرماتے، جہاں تک کے لیے تیار کیےگئے گھوڑوں کی دوڑ الگ اور عام گھوڑوں کی دوڑ الگ ہوتی؛ تاکہ گھوڑے ٹرینڈ ہو جائیں۔ نیز صحابۂ کرام جہاد کی تیاری کے لیے ہمیشہ چوکس رہیں، اس بات کا لحاظ کرتے ہوئے کہ تیار کیے گئے گھوڑوں یعنی ان گھوڑوں کی، جنھیں اعتدال و توازن کے ساتھ اس انداز میں کھلایا اور بھوکا رکھا گیا کہ وہ مضبوط ہوگئے، دوڑ لگ بھگ چھے میل اور غیر تیار کردہ گھوڑوں کی دوڑ ایک میل مقرر فرمائی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما، اس دوڑ میں حصہ لینے والے نوجوان صحابۂ کرام میں سے ایک تھے۔
عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے عورت کے املاص (اسقاط حمل) کے بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا (کہ اس کی دیت کیا ہو گی؟)۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس کوئی ایسا شخص لاؤ جو تمہارے ساتھ اس کی گواہی دے۔ چنانچہ ان کے ساتھ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے گواہی دی۔
متفق علیہایک عورت نے اپنے اوپر ہونے والی زیادتی کے نتیجے میں اپنے بچے کو مردہ حالت میں قبل از وقت جن دیا۔ خلیفۂ عادل عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ وہ اپنے معاملات اور قضایا میں اپنے اصحاب اور ان میں سے اہلِ علم لوگوں سے مشورہ لیتے تھے۔ جب اس عورت نے ایک مردہ اور ناتمام بچے کو جن دیا تو اس کی دیت کے حکم کے بارے میں انہیں اشکال ہوا۔ لھٰذا انہوں نے اس مسئلے کے بارے میں صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ نے جنین کی دیت کے بارے میں ایک غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس حکم کی توثیق وتصدیق کرنا چاہا جو قیامت تک کے لیے ایک عام قانون بننے والا تھا۔ لھٰذا انہوں نے مغیرہ رضی اللہ عنہ پر زور دیا کہ وہ کوئی ایسا شخص پیش کریں جو ان کے قول کی سچائی اور ان کی نقل کردہ بات کی صحت کی گواہی دے۔ چنانچہ محمد بن مسلمہ انصاری نے ان کی بات کی سچائی کی گواہی دی۔ رضی اللہ عنہم اجمعین۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قبیلہ ہذیل کی دو عورتیں لڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر پھینک کر مارا تو وہ اور جو اس کے پیٹ میں (بچہ) تھا ہلاک ہوگئے۔ لوگ مقدمہ لے کر نبی ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ نے فیصلہ فرمایا کہ: جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے، اور آپ نے فیصلہ کیا کہ عورت کی دیت اس (قاتلہ) کے عاقلہ (یعنی اقارب) کے ذمے ہے ،اور دیت کا وارث اس عورت کی اولاد اور ان ورثاء کو بنایا جو ان کے ساتھ تھے۔ حمل بن نابغہ ہذلی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کی دیت کیسے دی جائے جس نے ابھی نہ پیا نہ کھایا نہ بولا اور نہ ہی چیخا ،اس جیسے کو تو رائیگاں کیا جانا چاہئے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تو کاہنوں کے بھائیوں میں سے ہے۔ (آپﷺ نے یہ اس لیے فرمایا) کہ انہوں نے کاہنوں جیسا مسجع کلام کیا ہے۔
متفق علیہقبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں جو کہ آپس میں سوکن تھیں جھگڑا ہوا ،ان میں سے ایک نے دوسری کو ایک چھوٹا پتھر پھینک کر مارا جس سے عام طور پر آدمی مرتا نہیں، لیکن اس نے اسے اس کے ذریعہ قتل کر ڈالا اور اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا اسے بھی مار ڈالا. تو نبی ﷺ نے فیصلہ کیا: جنین کی دیت ایک غلام یا لونڈی ہے قطع نظر اس کے کہ پیٹ میں جو بچہ ہے وہ لڑکا ہے یا لڑکی اور اس کی دیت قتل کرنے والی عورت پر ہوگی۔ اور ماری گئی عورت کی دیت کا فیصلہ (اور یہ فیصلہ اس لیے دیا کیوں کہ اس قتل کا تعلق جان بوجھ کر قتل کرنے کے مشابہ تھا) دیا کہ یہ اس کے عصبہ و خاندان (اقارب) پر ہوگی کیوں کہ اس کی بنیاد آپسی تعاون اور انصاف پر تھا اور چونکہ یہ قتل جان بوجھ کر نہیں ہوا تھا۔ اور چونکہ مقتولہ کے بعد دیت اس مقتولہ کی میراث مانی جائے گی اس لئے اس کا وارث مقتولہ کی اولاد ہوگی اور اس کے ساتھ کےجو ورثاء ہونگے وہ لیں گے اور اس میں سے کچھ بھی عصبہ کو نہیں ملے گا۔ حمل بن نابغہ ہذلی نے کہا: -جو کہ قاتلہ کے والد تھے- اے للہ کے رسول! میں ایسی جان کی دیت کیوں ادا کروں جو مردہ پیدا ہوا اس نے نہ کھایا نہ پیا اور نہ ہی بولا کہ اس کا زندہ ہونا معلوم ہو سکے؟اس کو انہوں نےخطیبانہ اسلوب میں مسجع انداز سے کہا۔ رسول اللہ ﷺ کو ان کا اسلوب ناگوار لگا کیوں کہ انہوں نے شریعت کے احکام کو پر تکلف اور مسجع پیرایہ میں رد کیا جو کہ لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھانے والے کاہنوں کے انداز کے مشابہ تھا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا تھا۔ اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے، فلاں نے؟ یہاں تک کہ جب ایک یہودی کا نام آیا، تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا (کہ ہاں)، یہودی پکڑا گیا اور اس نے جرم کا اقرار کر لیا۔ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا جائے۔ صحیح مسلم اور سنن نسائی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ایک یہودی نے چاندی کے زیورات کی لالج میں ایک لڑکی کو قتل کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس یہودی کو قصاص میں قتل کیا۔
متفق علیہنبی ﷺ کے زمانے میں ایک لڑکی اس حال میں پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا تھا اور اس میں زندگی کی کچھ رمق باقی تھی۔ لوگوں نے اس کے قاتل کے بارے میں تحقیق کرنے لیے، اس کے سامنے ان افراد کے نام گنانے شروع کر دیے، جن کے بارے میں اس بات کا گمان تھا کہ وہ اس کو قتل کرسکتے ہیں، تا آں کہ ایک یہودی کا نام لینے پر اس لڑکی نے اپنے سر سے مثبت اشارہ دیا کہ ہاں! اسی شخص نے اس کا سر کچلا ہے۔ چنانچہ وہ اس کے قتل کا ملزم قرار پاگیا۔ لوگوں نے اس کو پکڑ لیا اور اس سے جرم کا اقرار کروایا، تاآں کہ اس نے اس لڑکی کو، اس کے چاندی کے زیورات کو حاصل کرنے کی غرض سے قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔ لہٰذا نبی ﷺ نے ”جیسے کو تیسا“ کے اصول کے مطابق، اس کو سزا دیتے ہوئے اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دینے کا حکم دیا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہودی حاضر ہوئے اور بتایا کہ ان کے یہاں ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ آپﷺ نے ان سے پوچھا: رجم کے بارے میں تورات میں کیا حکم ہے؟ وہ بولے: یہ کہ ہم انھیں رسوا کریں اور انھیں کوڑے لگائے جائیں۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ جھوٹے ہو۔ تورات میں رجم کی آیت موجود ہے۔ پھر یہودی تورات لائے اور اسے کھولا۔ لیکن رجم سے متعلق آیت کو ایک یہودی نے اپنے ہاتھ سے چھپا لیا اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کی عبارت پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ذرا اپنا ہاتھ تو اٹھاؤ۔ جب اس نے ہاتھ اٹھایا، تو وہاں آیت رجم موجود تھی۔ اب وہ کہنے لگے: سچ ہے اے محمد! (ﷺ)۔ چنانچہ آپ ﷺ کے حکم سے ان دونوں کو سنگ سار کردیا گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھک جھک جایا کرتا تھا۔
متفق علیہنبی کریم ﷺ کے عہد میں یہودیوں کے اندر ایک مرد اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا، تو وہ آپ ﷺ کی خدمت میں ان دونوں کا فیصلہ کرانے کے ارادے سے حاضر ہوئے۔ وہ اس گمان میں تھے کہ شاید تورات میں موجود رجم (سنگ سار کرنے) کے حکم سے ہلکی سزا انھیں مل جائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے تورات میں موجود اللہ تعالیٰ کے حکم کی بابت دریافت فرمایا۔ آپ کے دریافت کرنے کا مقصد اس پر عمل کرنا نہیں، بلکہ ان کی جگ ہنسائی کا سامان کرنا تھا۔ لیکن انھوں نے آپ ﷺ سے جھوٹ کہا کہ ان کے یہاں زناکاری کی سزار زانی اور زانیہ کو ذلیل و رسوا کرنا ہے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ان کی اس بات کو جھٹلایا اور جب انھوں نے تورات کھولی، تو اس میں شادی شدہ زانی کو رجم (سنگ سار) کرنے کا حکم ملا۔ چنانچہ آپ ﷺ کے حکم سے دونوں کو سنگ سار کیا گیا۔ ہماری شریعت دوسری تمام شریعتوں پر حاکم اور ان تمام شریعتون کی ناسخ ہے۔ البتہ نبی ﷺ نے اس حدیث میں یہودیوں سے رجم کی سزا کے تئیں تورات کا حکم صرف اس لیے دریافت کیا تاکہ ان پر ان ہی کی کتاب سے حجت قائم ہوجائے جس کے بارے میں وہ انکار کر رہے تھے کہ تورات میں شادی شدہ زانی کی سزا سنگ سار کرنا نہیں ہے، نیز اس لیے لیے بھی کہ انہیں یہ واضح کردیں کہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتابیں اس سزا کے حکم میں متفق ہیں جس میں (معاشرے میں) فساد پھیلانے والوں کے لیے سخت تنبیہ اور پھتکار ہے۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے ہاتھ کو (دانتوں سے) کاٹ لیا، تو اس نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو کاٹنے والے کے اگلے دانت ٹوٹ کر گر گئے۔ وہ دونوں یہ جھگڑا لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اس طرح کاٹتا ہے جس طرح کوئی سانڈ۔ کاٹتا ہے؛ (جاؤ) تمہارے لئے کوئی دیت نہیں۔“
متفق علیہایک آدمی نے دوسرے آدمی پر حملہ آور ہو کر اس کے ہاتھ پر کاٹ لیا۔ جس شخص کے ہاتھ پر کاٹا گیا تھا اس نے کاٹنے والے کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے کے دو دانت گر گئے۔ دونوں اپنا مقدمہ نبی ﷺ کے پاس لے کر آئے۔ دانت کاٹنے والا اپنے گر جانے والے دونوں دانتوں کی دیت مانگ رہا تھا، جب کہ جس کے ہاتھ پر کاٹا گیا تھا وہ اپنے دفاع میں یہ دلیل دے رہا تھا کہ اس نے تو اپنے ہاتھ کو اس کے دانتوں کی گرفت سے آزاد کرنا چاہا تھا۔ نبی ﷺ نے دانت کاٹنے والے مدعی پر نکیر کی کہ اس نے کیسے ایسا عمل کیا جسے اکھڑ (اجڈ) جانور کرتے ہیں؟ اور فرمایا: تم میں سے ایک شخص اپنے بھائی کو دانت کاٹتا ہے اور پھر زیادتی کا مرتکب ہونے والے اپنے دانتوں کی دیت کا مطالبہ کرنے کے لئے آجاتا ہے؟! تمہارے لئے کوئی دیت نہیں؛ کیونکہ آغاز کرنے والا ہی جارح اور زیادتی کرنے والا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ: ’’قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملہ نے، جس نے چوری کا ارتکاب کیا تھا، فکر مند کردیا تھا، وہ (آپس میں) کہنے لگے: اس عورت کے سلسلہ میں کون رسول اللہ رسول اللہ ﷺ سے بات کرے گا؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہﷺ کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا اور کس کو اس کی جرأت ہو سکتی ہے؟ چناں چہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے (اس سلسلہ میں) گفتگو کی تو آپ نے فرمایا: ”اسامہ! کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے سلسلہ میں سفارش کرتے ہو؟“، پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر خطاب فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگوں کو بھی اسی چیز نے ہلاک کیا ہے کہ جب ان میں سے کوئی معزز آدمی چوری کر لیتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں کا کوئی کمزور و ضعیف آدمی چوری کرتا تو اس پر حد قائم کردیتے، یاد رکھو، اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد (ﷺ) بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا“۔ دوسری حدیث کے الفاظ کجھ اس طرح ہیں: ”ایک عورت سامان مانگ کر لے جایا کرتی تھی اور واپسی کے وقت اس کا انکار کردیا کرتی تھی، تو نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔“
متفق علیہبنو مخزوم کی ایک عورت تھی جو لوگوں کا سامان بہانہ بنا کر مستعار لیتی اور پھر اسے دینے سے انکار کردیتی ایک مرتبہ اس نے زیور مانگ کر لیا اور پھر اس کا انکار کردیا۔ (تفتیش پر) سامان اس کے پاس پایا گیا ،چناں چہ اس کا معاملہ نبی ﷺ تک پہنچا تو آپ نےاللہ تعالیٰ کے حد کو نافذ کرنے کا عزم کر لیا یعنی اس کے ہاتھ کو کاٹنے کا۔ وہ عورت شرف و منزلت والی تھی اور اس کا تعلق قریش کے ایک معزز گھرانے سے تھا۔ اس ناطے قریش اس عورت اور اس پر نافذ ہونے والے فیصلہ کے متعلق فکرمند ہوئے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس عورت کے سلسلہ میں کس کو نبی ﷺ تک رسائی کا ذریعہ بنائیں اور وہ اس کے بچاؤ کے لئے آپ سے بات کرے، انہوں نے اسامہ بن زید سے زیادہ مناسب کسی کو نہیں پایا کیوں کہ وہ نبی ﷺ کے چہیتے ہیں۔ چناں چہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس سلسلہ میں گفتگو کی تو آپ ﷺ غصہ ہو گئے اور اس بات پر اسامہ کی تنکیر کرتے ہوئے فرمایاکہ کیا تم اللہ کے حدود میں سے ایک حد کے سلسلہ میں مجھ سے سفارش کرتے ہو! پھر آپ ﷺ لوگوں کے بیچ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا تاکہ اس قسم کی سفارش کے نقصان کو لوگوں پر واضح کیا جا سکے جس کی وجہ سے اللہ کے حدود کے نفاذ میں رکاوٹ پیدا ہو، اور چوں کہ موضوع ان میں سے بہت سے لوگوں کے لئے اہمیت کا حامل تھا تو آپ نے لوگوں کو خبر دار کیا کہ تم سے پہلے کے لوگوں کی ہلاکت کی وجہ دینی اور دنیاوی اعتبار سے یہی تھی کہ وہ اللہ کے حدود کا نفاذ کمزور اور فقیر لوگوں پر کرتے تھے اور مالدار اور طاقتور لوگوں کو چھوڑ دیتے تھے، اس ناطے ان کے بیچ انارکی پھیل جاتی اور شر وفساد پھوٹ پڑتے اور وہ اللہ کے غضب اور اس کے عذاب کے حق دار بن جاتے۔ پھر آپ نے قسم کھائی -اور آپ صادق و مصدوق ہیں- کہ اگر یہ کام دونوں جہان کی عورتوں کی سردار، آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سرزد ہوا ہوتا -اللہ انھیں اس سے محفوظ رکھے- تو آپ ﷺ ان پر بھی اللہ کا حکم نافذ کرتے۔
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے مر ظہران کے مقام پر ایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ کچھ لوگ اس کے پیچھے بھاگے، لیکن تھک کر رک گئے۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے لے کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا۔حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے ذبح کیا اور اس کے پٹھے اور رانوں کا گوشت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا، تو آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا۔
متفق علیہنبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ایک سفر میں تھے۔ شاید انھوں نے اس جگہ پر پڑاؤ کیا، جو مر الظہران کے نام سے معروف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے ساتھ اس جگہ پر فتح مکہ کے سال پڑاؤ کیا تھا۔ انھوں نے ایک خرگوش کو بدکایا تو وہ بھاگ اٹھا۔ لوگ اس کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑ پڑے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ سب تو تھک کر رک گئے، لیکن میں نے اسے جا لیا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس وقت عین جوانی میں تھے۔ اسے پکڑ کر اپنے سوتیلے والد ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انھوں نے اسے ذبح کیا اور اس میں سے کچھ گوشت یعنی رانیں اور پٹھے آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کی۔ "ورک" اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں پٹھا، ٹانگ کے جوڑ سے ملتی ہے۔ آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا اور شاید اس میں سے تناول بھی فرمایا۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری شخص نے اپنے ایک غلام کو مدَبَّرْ (یعنی اسے اپنے مرنے کے بعد کی شرط کے ساتھ آزاد) قرار دے دیا۔ ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ: نبی ﷺ کو اطلاع ملی کہ آپ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص نے بطور مدبر اپنے ایک غلام کو آزاد کر دیا ہے۔ اس شخص کے پاس اس غلام کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے اس غلام کو آٹھ سو درہم کے عوض بیچ دیا اور ا س کی قیمت اس (انصاری) کی طرف بھجوا دی۔
متفق علیہایک انصاری آدمی نے اپنے غلام کی آزادی کو اپنی موت کے ساتھ معلق کر دیا(اسی کو غلاموں کی تدبیر کہتے ہیں)۔ اس غلام کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا مال نہیں تھا۔ جب نبی ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے اس آزادی کو تفریط گردانتے ہوئے اس کے اس فعل کی تایید نہیں فرمائی بلکہ آپ ﷺ نےاسے مسترد کرتے ہوئے اس غلام کو آٹھ سو درہم کے عوض بیچ دیا اور یہ دراہم اس کی طرف بھیج دیئے۔ اس شخص کا اپنی اور اپنے اہل خانہ کی کفالت کرنا آزاد کرنے سے بہتر اور افضل تھا تاکہ وہ لوگوں کا دست نگر نہ ہو جائے۔ اس طرح کی احادیث میں ایسے احکام ہوتے ہیں جن سے انسان کو واقف ہو نا چاہیے، اگرچہ وہ ان پر عمل نہ ہی کرے۔ یہ مناسب نہیں کہ اس حجت کی بنا پر وہ انھیں سیکھنا اور سمجھنا ہی چھوڑ دے کہ آج کل غلام پائے ہی نہیں جاتے۔ غلامی افریقہ کے بعض علاقوں میں ابھی بھی موجود ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ پھر سے رائج ہو جائے جب کہ یہ قدیم زمانے سے لے کر اسلام کی آمد اور اس کے بعد تک موجود رہی ہے۔ تاہم غلامی کی صورت میں اسلام حریت اور آزادی کی طرف میلان رکھتا ہے۔