





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس نئے نکاح کے ساتھ بھیج دیا۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں، جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ابو جُہیم بن حارث بن صَمّہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو پتہ چل جائے کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کا چالیس سال تک کھڑا رہنا اس سے بہتر ہو کہ وہ اس کے سامنے سے گزرے“۔ ابو نضر راوی کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ آیا انہوں نے چالیس دن کہا، یا چالیس ماہ کہا یا پھر چالیس سال کہا۔
متفق علیہنماز پڑھنے والا اپنے رب کے حضور کھڑا ہو کر اس سے مناجات کررہا ہوتا ہے اور اسے پکار رہا ہوتا ہے۔ جب اس حالت میں کوئی گزرنے والا اس کے آگے سے گزرتا ہے تو وہ مناجات میں انقطاع پیدا کرتا ہے اور نمازی کی عبادت میں خلل ڈالتا ہے۔ اس لیے جو شخص اپنے گزرنے کی وجہ سے نمازی کی نماز میں خلل انداز ہوتا ہے اس کا گناہ بہت بڑا ہے۔ شارع نے بتایا کہ اگر اسے علم ہو جائے کہ اس کے گزرنے پر اُسے کتنا گناہ ملتا ہے تو وہ نمازی کے آگے سے گزرنے کے بجائے لمبی مدت تک اپنی جگہ پر کھڑا رہنے کو ترجیح دے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عمل سے بچنا چاہیے اور اس سے دور رہنا چاہیے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی ایسی شے کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھ رہا ہو جو اس کے اور لوگوں کے مابین حائل ہو اور پھر بھی کوئی اس کے سامنے سے گزرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے روکے اور اگر وہ نہ رُکے تو اس سے لڑے اس لیے کہ وہ شیطان ہے“۔
متفق علیہشریعت نے تمام امور میں پختگی اور احتیاط کا حکم دیا ہے۔ دین و دنیا کا سب سے اہم کام نماز ہے۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے اس کا اہتمام کرنے کی ترغیب دی اور اس کے لیے سترہ رکھنے کا حکم دیا تاکہ جب نمازی نماز شروع کرے تو اس کے اور لوگوں کے مابین وہ آڑ بن جائے اور وہ اس کے سامنے سے گزر کر اس کی نماز میں خلل انداز نہ ہوں اور وہ پوری توجہ سے اپنے رب سے مناجات کرے۔ جب کوئی شخص اس کے سامنے سے گزرنے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ نرم سے نرم تر انداز میں اسے روکنے کی کوشش کرے۔ اگر وہ نرمی اور آسانی سے نہ ہٹے تو پھر اس کی حرمت ختم ہوجاتی ہے اور وہ حد سے تجاوز کرنے والا بن جاتا ہے اور ایسے شخص کی زیادتی کو روکنے کا راستہ یہی ہے کہ اس سے ہاتھ کے ذریعے لڑا جائے کیونکہ اس کا یہ عمل شیاطین کی طرح کا عمل ہے جو لوگوں کی عبادات میں بگاڑ پیدا کرنے کے درپے رہتے ہیں اور ان کی نماز میں ان کی ترکیز کو گڈ مڈ کرتے ہیں۔
ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ان کے ذریعے سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ لوگوں میں سے کسی کے مرنے پر انہیں گرہن نہیں لگتا۔ جب تمہیں اللہ کی ان نشانیوں میں سے کوئی نظر آئے تو نماز پڑھا کرو اور دعا کیا کرو یہاں تک کہ تمھیں لاحق ہونے والی وہ کیفیت دور ہوجائے“۔
متفق علیہنبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں جو اس کی قدرت اور حکمت پر دلالت کرتی ہیں اور یہ کہ ان کے فطری نظام میں تبدیلی بڑے لوگوں کی زندگی یا موت کی وجہ سے نہیں ہوتی جیسا کہ زمانۂ جاہلیت میں لوگوں کا عقیدہ تھا۔ لہٰذا زمین پر رونما ہونے والے واقعات ان پر اثر انداز نہیں ہوتے ہیں ایسا تو بندوں کو ان کے گناہوں اور ان پر ملنے والی سزاؤں سے ڈرانے کے لئے ہوتا ہے تا کہ وہ نئے سرے سے اللہ سے توبہ کریں اور اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اسی لئے نبی ﷺ نے ان کی راہنمائی فرمائی کہ جب تک یہ گرہن زائل نہ ہو جائے اور چھٹ نہ جائے تب تک وہ نماز اور دعا میں لگے رہیں۔ اور اللہ تعالی کے اپنی کائنات میں بہت سے اسرار اور انداز تصرف ہیں۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: عنقریب علاقے تمہارے لئے فتح کردیئے جائیں گے اور (دشمنوں کے مقابلے میں) اللہ تمہارے لئے کافی ہو جائے گا چنانچہ تم میں سے کوئی بھی اپنے تیروں سے کھیلنے میں سستی نہ کرے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ اپنے صحابہ کو خبر دے رہے ہیں کہ عنقریب علاقے بغیر لڑے ان کے لئے فتح ہوجائیں گے۔ چنانچہ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ تیر اندازی سیکھنے میں سستی نہ کریں۔ یہ وہ سب سے بہترین مشغلہ ہے جس میں مسلمانوں کو مصروف رہنا چاہیے جب تکہ کہ اس میں کسی حقِ واجب کا ضیاع نہ ہو کیوں کہ یہ ایک ایسی شے ہے جو جہاد فی سبیل اللہ مین معاون ہوتی ہے جو کہ نہایت افضل مقصد اور بلند مرتبہ غایت ہے۔ ”لہو“ کا لفظ استعمال کیا گیا کیوں کہ دلوں میں فطری طور پر لہو و لعب کی محبت ہوتی ہے چنانچہ پیرایۂ تعبیر میں اس لفظ کو استعمال کیا گیا ورنہ تیر اندازی سیکھنے کا سب سے بڑا مقصد تو جہاد فی سبیل اللہ کی تیاری کرنا ہے نہ کہ محض لہو و لعب۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کی سیاحت، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ عبادات توقیفی (اللہ کی طرف سے متعین) ہوتے ہیں، ہر مسلمان کے لیے اسے اسی کیفیت پر ادا کرنا ضروری ہے جس طرح شریعتِ حنیف نے بتایا ہے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اس شخص سے کہا جو زمین میں اللہ کی عبادت کی غرض سے سفر کا ارادہ کرتا تھا کہ یہ عیسائیوں کا طریقہ ہے۔ اور زمین میں سفر کرنا اسلام پھیلانے کی غرض سے ہوتا ہے اور اہلِ اسلام کی سیر اللہ تعالی کے دین کی سربلندی کی خاطر جہاد کرنے میں ہے۔
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نکیل پڑی ہوئی اونٹنی لے کر آیا اور نبی ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ (یارسول اللہ!) یہ اونٹنی اللہ کے راستہ میں (دیتا ہوں) آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں قیامت کے دن اس کے بدلے میں ایسی سات سو اونٹنیاں ملیں گی کہ ان سب کی نکیل پڑی ہوئی ہوگی“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں ایک نکیل پڑی اونٹنی لے کر آیا۔ ”مَخْطُومَةٌ“ سے مراد ہے کہ وہ رسی سے بندھی ہوئی تھی۔ یہ رسی لگام کی طرح کی ہوتی ہے جس سے اونٹنی کو باندھا جاتا ہے۔ اس شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ اونٹنی اللہ کے راستے میں وقف ہے، یعنی میں اسے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے وقف کرتا ہوں تاکہ یہ جنگ میں کام آئے۔ آپ ﷺ نے اسے فرمایا: ”تمہیں اس کے بدلے سات سو اونٹنیاں ملیں گے“ کیوں کہ اللہ تعالی نیکی کا دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی کئی گنا بڑھا کر اس کا بدلہ دیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنے اس قول میں ارشاد فرمایا کہ: ﴿مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّـهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّـهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ﴾ ”جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راه میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں، اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اللہ تعالیٰ کشادگی واﻻ اور علم واﻻ ہے“۔ ”كُلُّهَا مَخْطُومَةٌ“ نکیل کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے اونٹنی کا مالک اونٹنی کے ساتھ جو چاہے کر سکتا ہے۔ یہ بہترین بدلہ دینا ہے، جیسے یہ شخص نبی ﷺ کے پاس اونٹنی کو اس حال میں لے کر آیا کہ وہ نکیل سے بندھی ہوئی تھی اسی طرح اللہ بھی اسے ایسی سات سو اونٹنیاں بطورِ جزاء عطاء فرمائے گا جو سب کی سب نکیل سے بندھی ہوں گی؛ جو شخص اس دنیا میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اسے جان لینا چاہیے کہ ہر وہ اضافی چیز جسے وہ خرچ کرتا ہے اس کا اسے بدلہ دیا جائے گا، نکیل کی ایک قیمت ہوتی ہے اور یہ اونٹنی میں خوبصورتی اور اضافی شے کی حیثیت رکھتی ہے۔
عائشہ رضي الله عنها کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نماز کا آغاز ”اللَّهُ أَكْبَرُ“ کہہ کر فرمایا کرتے تھے اور ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ سے قراءت شروع کر تے تھے اور جب آپ ﷺ رکوع کرتے تو نہ اپنا سر اونچا رکھتے اور نہ اُسے جھکائے رکھتے بلکہ درمیان میں رکھتے۔ اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ بالکل سیدھے بیٹھ جاتے اور ہر دو رکعت کے بعد ’’التحيات‘‘ پڑھتے اور جب بیٹھتے تو بایاں پاؤں بچھاتے اور داہنا پاؤں کھڑا رکھتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے سے اور درندوں کی طرح ہاتھ بچھانے سے منع کرتے نیز نماز سلام سے ختم کرتے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عائشہ رضی الله عنها اس مبارک حدیث کے ذکرسے نبی ﷺ کی نماز کی کیفیت بیان کر رہی ہیں- سنت کی نشروا شاعت اور علم کو ایک دوسرے تک پہنچانے کے مقصد سے بایں طور کہ آپ ﷺ اپنی نماز کا آغاز تکبیر تحریمہ یعنی ”اللَّهُ أَكْبَرُ“ کہہ کر فرمایا کرتے تھے۔ اور قراءت کی ابتداء فاتحۃُ الکتاب کے ذریعہ جس کی پہلی آیت ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ ہے۔ اور آپ ﷺ جب قیام کے بعد رکوع میں جاتے تو اپنا سر نہ بہت زیادہ اونچا رکھتے اور نہ اُسے جھکائے رکھتے بلکہ اسے درمیان میں رکھتے۔ اورجب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو سجدہ کرنے سے پہلے سیدھے کھڑے ہوجاتے۔ اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوبارہ سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہوجاتے۔ اور ہر دو رکعت کے بعد جب بیٹھتے ” التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ...“ آخر تک پڑھتے۔ اور جب بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں بچھاتے اور اس پر بیٹھتے اور اپنا داہنا پاؤں کھڑا رکھتے۔ آپ ﷺ اس بات سے منع کرتے کہ نمازی اپنی نماز میں کُتے کے بیٹھنے کی طرح بیٹھے بایں طورکہ اپنے دونوں قدموں کو زمین پر بچھادے اور ایڑیوں پر بیٹھ جائے یا دونوں قدموں کو گاڑ کر ایڑیوں پر سرین ركھ کر زمین پر بیٹھ جائے یہ دونوں ہی صورتیں ممنوع ہیں، اسی طرح آپ ﷺ نے اس بات سے بھی منع فرمایا کہ نمازی نماز میں اپنے دونوں بازوں کو بچھائے اور ان دونوں کو سجدے کی حالت میں پھیلائے درندوں کے ہاتھ بچھانے کی طرح۔ اور آپ ﷺ جس طرح نماز کا آغاز اللہ کی بڑائی اور کبریائی سے شروع کرتے تھے اسی طرح وہاں پر موجود فرشتے مصلیوں اور دیگر بندگانِ رب پر سلام سے اپنی نماز ختم کرتے اس لیے نمازی کے لیے ضروری ہے کہ اپنی دعا میں اس عموم کو حاضر رکھے۔