





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت اور دوزخ نے باہم بحث ومباحثہ کیا۔ دوزخ نے کہا: میں سرکش ومتکبر اور جابر وظالم لوگوں کے لیے مخصوص کردی گئی ہوں۔ جنت نے کہا: مجھے کیا ہوا کہ میرے اندر صرف کمزور، حقیر وکمتر اور بھولے بھالے (سادہ لوح) لوگ داخل ہوں گے؟ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے، میں تیرے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا اور دوزخ سے کہا: تو ميرا عذاب ہے میں تیرے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا۔ اور تم دونوں میں سے ہر ایک کے لیے اسے بھر دینے والی مقدار ہے۔ دوزخ تو اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ رب العزت اپنا پیر نہیں رکھ دے گا۔ تو وہ پکار اٹھے گی کہ بس، بس، بس۔ چنانچہ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ سے سمٹ کر مل جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ رہا جنت کا معاملہ تو اس کے (بھرنے کے) لیے اللہ تعالیٰ ایک (نئی) مخلوق پیدا فرمائے گا“۔
متفق علیہجہنم نے جنت پر فخر کیا کہ وہ ان سرکشوں، متکبروں اور مجرموں سے اللہ کے انتقام کی جگہ ہے جنہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا۔ البتہ جنت نے شکوہ کیا کہ اس میں تو زیادہ تر کمزور, فقیر اور مسکین لوگ ہی داخل ہوں گے بلکہ وہ اللہ کے سامنے فروتنی کا اظہار کرنے والے اور اس کى فرماں برداری کرنے والے ہوں گے۔ یہ بات جنت اور جہنم نے حقیقت میں کہی تھی، بایں طور کہ اللہ نے ان میں شعور و تمیز اور عقل پیدا فرما دی اور انہیں بولنے کی طاقت دے دی۔ اور اللہ کو کوئی شے عاجز نہیں کر سکتی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا: تو میری رحمت ہے۔ میں تیرے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا۔ اور دوزخ سے فرمایا: تو میرا عذاب ہے۔ میں تیرے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا عذاب دوں گا۔ یہ تھا وہ فیصلہ جو اللہ نے ان دونوں کے مابین کیا۔ یعنی اللہ تعالی نے جنت کو اس لیے پیدا فرمایا تاکہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس پر نوازش کرتے ہوئے اس کا اہل بنا دے اور اسے اس میں داخل کر کے اس پر رحم فرمائے۔ جب کہ دوزخ کو ان لوگوں کے لیے پیدا فرمایا جو اس کی نافرمانی کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس کا اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے اللہ انہیں عذاب دے گا۔ یہ سب اللہ كى ملکیت ہے، وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرتا ہے۔ وه اپنے کاموں کے لیے (کسی کے آگے) جواب ده نہیں اور سب (اس کے آگے) جواب ده ہیں۔ تاہم جہنم میں صرف وہی جائے گا جو اپنے عمل کی وجہ سے اس کا مستحق ٹھہرے گا۔ پھر فرمایا: ’’اور تم دونوں میں سے ہر ایک کے لیے اسے بھر دینے والی مقدار ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالی کا ان دونوں سے وعدہ ہے کہ وہ انہیں ان لوگوں سے بھر دے گا جو ان میں رہیں گے۔ دوزخ کی طرف سے تو واضح مطالبہ ہوگا جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِن مَّزِيدٍ﴾ ”جس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے کہ کیا تو بھر گئی ہے؟ وہ جواب دے گی کہ کیا کچھ اورزيادہ بھی ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ وہ جہنم کو ضرور جنوں اور انسانوں سے بھر دے گا۔ چنانچہ حساب كے بعد جنت و دوزخ، انسانوں اور جنات کے لیے جائے سکونت ہوں گی۔ جو ایمان لایا اور اس نے صرف اللہ ہی کی عبادت کی اور اس کے رسولوں کی اتباع کی تو اس کا جائے مقام جنت ہو گا اور جس نے نافرمانی، انکار اور تکبر کیاْ اس کا ٹھکانہ دوزخ ہو گا۔ آپﷺ نے فرمایا: دوزخ تو اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک اللہ رب العزت اپنا پیر نہیں رکھ دے گا۔ تو وہ پکار اٹھے گی کہ بس، بس، بس۔ چنانچہ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کا ایک حصہ دوسرے حصہ سے سمٹ کر مل جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ تو جہنم اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس پر اپنا قدم نہ رکھ دے گا۔ چنانچہ وہ سمٹ جائے گی اور اس کے حصے ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور وہ اپنے اندر موجود لوگوں پر تنگ ہو جائےگی۔ اس طرح وہ بھر جائے گی اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ اللہ تعالی کے لئے بغیر تحریف و تعطیل اور بغير تکییف و تمثیل کے پاؤں کو ثابت ماننا واجب ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: رہا جنت کا معاملہ تو اس کے (بھرنے کے) لیے اللہ تعالیٰ ایک (نئی) مخلوق پیدا فرمائے گا۔ یعنی جنت اس وقت تک نہیں بھرے گی جب تک کہ اللہ تعالی اس کے لیے ایک دوسری مخلوق پیدا نہ فرما دے گا، جن سے وہ بھر جائے گی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدم اور موسی علیہما السلام میں مباحثہ ہوا۔ موسی علیہ السلام نے ان سے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ہی ہماری محرومی کا سبب بنے اور آپ نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا۔ (اس پر) آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسی! آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے منتخب كيا اور آپ کے لیے اپنے ہاتھ سے تورات کو لکھا۔ کیا آپ مجھے ایک ایسی بات پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا؟ چنانچہ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسی علیہ السلام پر غالب آگئے۔ آدم علیہ السلام (دلیل میں) موسی علیہ السلام پر غالب آگئے“۔
متفق علیہ”آدم اور موسی علیہما السلام میں مباحثہ ہوا“ یعنی ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کے سامنے اپنی دلیل بیان کی۔ ممکن ہے کہ ایسا موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوا ہو یا پھر خواب میں ہوا ہو کیونکہ انبیاء کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں۔ اس طرح کی بات کو تسلیم کرنا ضروری ہے، اور ہم اس کی حقیقت سے آگاہ ہونے سے قاصر ہیں۔ ”موسی علیہ السلام نے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں۔ آپ ہی ہماری محرومی کا سبب بنے اور آپ نے ہمیں جنت سے نکلوا دیا“ یعنی آپ اس غلطی کے سبب ہماری محرومی اور دوری کی وجہ بنے جس کی وجہ سے آپ کو جنت سے نکال دیا گیا اور پھر ہم بھی شیطانوں کے بہکاؤں کے برسرِ پیکار ہوگئے۔ ”آدم علیہ السلام نے ان سے کہا: اے موسی! آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے منتخب کیا“ یعنی اپنا کلام سنانے کے لیے اللہ نے آپ کو چنا۔ تمام رسولوں میں سے صرف موسی علیہ السلام کا یہ خاصہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی واسطے کے ان سے ہم کلام ہوا اور انہیں اپنا وه کلام سنایا جو الله کی طرف سے انہی کے ليے تھا۔ ”اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے (تورات کو) لکھا“ یعنی توریت کو اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے لکھا۔ ہمارے اوپر واجب ہے کہ ہم اس بات پر بغیر کسی تکییف و تعطیل اور بنا کسی تحریف و تمثیل کے ایمان لائیں۔ ”کیا آپ مجھے ایسی بات پر ملامت کر رہے ہیں جو اللہ نے میری تخلیق سے چالیس سال پہلے میرے لیے مقدر کر دی تھی؟“ یعنی ایک ایسی بات پر آپ مجھے کیسے ملامت کر رہے ہیں جسے اللہ نے میری تخلیق سے چالیس سال پہلے لوح محفوظ میں اور توریت کے صحیفوں اور اس کی تختیوں میں لکھ دیا تھا۔ ”چنانچہ آدم علیہ السلام دلیل میں موسی علیہ السلام پر غالب آگئے“ یعنی حجت کے ذریعے ان پر غالب آ گئے۔ آدم علیہ السلام کی موسی علیہ السلام پر حجت یہ تھی کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو جب آدم علیہ السلام کے بارے میں اس بات کا علم تھا کہ وہ جنت سے نکل کر زمین پر اتر جائیں گے تو وہ اللہ کے علم کو کیسے رد کر سکتے تھے۔ آدم علیہ السلام کی حجت غالب آ گئی کیونکہ جو شے نوشتۂ تقدیر ہو اس میں رد و بدل نہیں ہوسکتا۔ بلکہ وہ تقدیر ہوتی ہے جسے علیم و قدیر ذات نے متعین کیا ہوتا ہے چنانچہ اسے ٹالا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس کے واقع ہونے کے بعد اس کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ اسے تسلیم کر لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ تاہم جو شے واقع نہیں ہوئی ہے اس میں تقدیر حجت نہیں بن سکتی کیونکہ انسان کو حکم ہے کہ وہ نیک اعمال کرےاور برائی سے اجتناب کرے اور اسے نہیں معلوم کہ اس کے حق میں کون سی شے مقدر ہے یہاں تک کہ وہ واقع ہو جائے۔ جب کوئی بات واقع ہو جائے اور اس کا ٹالنا ناممکن ہو جائے تو اس وقت وہ تقدیر کے سپرد کرے اور کہے کہ: یہ اللہ کی طرف سے مقدر تھا اور اس نے جو چاہا کیا۔ اور وہ اپنے گناہ پر معافی کا طلب گار ہو اور اپنے رب سے توبہ کرے۔ چنانچہ واضح ہو گیا کہ آدم علیہ السلام موسی علیہ السلام پر اس وقت دلیل میں غالب آ گئے جب موسی علیہ السلام نے آدم علیہ السلام کو اس (خطا) پر ملامت کرنا چاہا جس کی بدولت ان کی اولاد مصیبت سے دوچار ہوئی۔ آدم علیہ السلام نے دلیل دی کہ یہ مصیبت پہلے سے ہی مقدر تھی اور اس کو واقع ہو کر ہی رہنا تھا۔ چاہے مصائب وہ ہوں جو بندوں کے افعال کی وجہ سے آتے ہیں یا ان کے علاوہ ہوں، بندے پر (ہر صورت میں) صبر و تسلیم ہی واجب ہے، تاہم اس کی بنا پر مجرم سے ملامت اور اس کی سزا ساقط نہیں ہوتی۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک ایسی حدیث پہنچی جسے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا، تو میں نے ایک اونٹ خریدا، پھر میں نے اس پر اپنا رخت سفر باندھا، اور ان کا قصد کر کے ایک مہینہ چلتا رہا، یہاں تک کہ میں شام پہنچ گیا، وہاں مطلوبہ صحابی عبداللہ بن انیس سے ملاقات ہوئی میں نے چوکیدار سے کہا ان سے جا کر کہو دروازے پر جابر ہے، انہوں نے پوچھا عبد اللہ کے لڑکے؟ میں نے کہا : ہاں ، چنانچہ وہ اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے نکلے، اور مجھے گلے سے لگالیا اور میں نے بھی انہیں گلے سے لگا لیا، میں نے کہا کہ مجھے قصاص کے متعلق ایک حدیث کے بارے میں خبر پہنچی ہے کہ آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے تو مجھے خوف ہوا کہ اس حدیث کے سننے سے پہلے آپ یا میں مر نہ جاؤں، انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن لوگ، یا کہا بندے برہنہ، غیرمختون اور بہم اٹھائے جائیں گے“، کہتے ہیں : ہم نے پوچھا ” بُهْمًا“ کا کیا مطلب ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ پھر ان کو ایسی آواز سے پکار ے گا جسے وہ دور سے بالکل اسی طرح سنے گا جیسے اسے وہ قریب سے سنتا ہے کہ میں ہی حقیقی بادشاہ ہوں میں بدلہ لینے والا ہوں کسی جہنمی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں جائے اور اس کا کسی جنتی پرحق ہو یہاں تک کہ میں اس سے اس کا بدلہ دلا دوں اورکسی جنتی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو اور اس کا کسی جہنمی پر حق ہو یہاں تک کہ میں اس سے اس کا بدلہ دلادوں، حتی کہ ایک طمانچے کا بدلہ کیوں نہ ہو۔ ہم نے پوچھا کہ جب ہم اللہ کے سامنے برہنہ، غیرمختون اور خالی ہاتھ حاضر ہوں گے تو کیسا لگے لگا؟ تو (نبی ﷺ نے) جواب دیا کہ نیکی اور بدی کے ذریعہ۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہما خبر دے رہے ہیں کہ انہیں اس بات کا علم ہوا کہ عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے رسول ﷺ سے ایک ایسی حدیث سنی ہے جسے انہوں نے نہیں سنی ہے، تو انہوں نے ایک اونٹ خریدا، پھر اس پر اپنا رخت سفر باندھا اور ایک مہینہ تک سفر کرتے رہے یہاں تک کہ شام پہنچے اور عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کےپاس جاکر دربا ن سے کہا : کہہ دو جابر دروازہ پر ہیں، عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے پوچھا عبد اللہ کے لڑکے؟جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ، پس وہ تیزی سے نکلے اور اسی تیزی کی وجہ سے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے نکلے، اوردونوں گلے ملے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ : مجھے قصاص کے متعلق ایک حدیث کے بارے میں خبر پہنچی ہے کہ آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، تو مجھے خوف ہوا کہ کہیں اس حدیث کے سننے سے پہلے آپ یا میں مر نہ جاؤں، انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن لوگ، یا فرمایا: بندے برہنہ، غیرمختون اور بہم اٹھائے جائیں گے“، کہتے ہیں : ہم نے پوچھا ” بُهْمًا“ کا کیا مطلب ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جس کے پاس کچھ نہ ہو۔ یعنی اللہ تعالی قیامت کے دن لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرے گا تاکہ ان سے حساب لے اور انہیں ان کے عمل کے اعتبا سے بدلہ دے، اس وقت وہ سب ننگے اور غیر مختون ہوں گے جیسا کہ انہیں ان کی ماؤں نے جنا تھا، ان کے پاس دنیا کی کوئی چیز نہیں ہوگی پھر فرمایا: ”پھر ان کو ایسی آواز سے پکار ے گا“ پکار بغیر آواز کے نہیں پائی جاتی اور بغیر آواز کے پکار سے لوگ آگاہ نہیں ہو سکتے، تو یہاں پر آواز کا ذکر ندا کی تاکید کے لیے ہے اور یہ بات بالکل صریح اور واضح ہے کہ اللہ تعالی ایسا کلام فرماتا ہے جسے سنا جاتا ہے اور اس کلام میں آواز ہوتی ہے لیکن اس کی آواز مخلوق کی آواز کے مشابہ نہیں ہے اسی لیے فرمایا: ”اسے وہ بالکل اسی طرح سنے گا جیسے اسے وہ قریب سے سنتا ہے“۔ یہ صفت اللہ تعالی کی آواز کے ساتھ خاص ہے اور مخلوق کی آواز کو آواز کی قوت و ضعف کے لحاظ سےصرف قریب سے سنا جا سکتا ہے اور اس کے ثبوت میں کثرت سے نصوص وارد ہیں، اس میں سے ایک اللہ تعالی کا یہ فرمان:﴿وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا﴾ ”اور ان کے رب نے ان کو پکارا، کیا میں تم دونوں کو اس درخت سے منع نہ کرچکا تھا؟“۔ اور اللہ تعالی کا یہ فرمان: ﴿وَنَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا﴾ ”ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے ندا کی اور رازگوئی کرتے ہوئے اسے قریب کر لیا“۔ نیز اللہ تعالی کا یہ فرمان: ﴿وَإِذْ نَادَىٰ رَبُّكَ مُوسَىٰ أَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ﴾ ”اور جب تمہارے رب نے موسی کو آواز دی کہ تو ظالم قوم کے پا س جا“۔ پھر فرمایا: ”میں بادشاہ ہوں میں بدلہ دینے والا ہوں“ یعنی محشر میں کھڑے ہوئے سبھی جس ندا کو سنیں گے وہ، اس ندا کو دور کی مسافت سے اسی طرح سنیں گے جس طرح وہ قریبی مسافت سے سنتے ہیں۔ ”میں بادشاہ ہوں میں بدلہ دینے والا ہوں“ پس وہی بادشاہ ہے جس کے ہاتھ میں آسمان و زمین اور جو کچھ اس میں ہے اس کی بادشاہت ہے، وہ الديّان ہے جو بندوں کو ان کے عمل کے مطابق بدلہ دے گا، پس جس نے خیر کے کام کیے اسے اس کے عمل سے بہتر بدلہ دیگا اور جس نے شر کے کام کیے اسے اس کے مستحق بدلہ دے گا۔ پھر فرمایا: ”کسی جہنمی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں جائے اور اس کا کسی جنتی پر حق ہو یہاں تک کہ میں اس سے اس کا بدلہ دلادوں، اور کسی جنتی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو اور اس کا کسی جہنمی پر حق ہو یہاں تک کہ میں اس سے اس کا بدلہ دلادوں، یہاں تک کہ تھپڑ کا بدلہ بھی۔ یعنی: اللہ تعالی اپنے بندوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا اور ظالم سے مظلوم کا حق لے گا، چنانچہ کوئی جہنمی اس حال میں جہنم میں داخل نہیں ہو گا کہ اس کا کسی جنتی پرحق ہو، یہاں تک کہ اس کا حق اس سے دلائے گا، اور یہی مکمل عدل کا تقاضا ہے کیونکہ کافر اور ظالم باوجود اس کے کہ وہ جہنم میں جائیں گے مگر ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا، اگر جنت والوں میں سے کسی کے پاس اس کا حق ہوگا تو ان سے لے کر اس کو دلایا جائے گا اور بالکل اسی طرح اہل جنت کے ساتھ کیا جائے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ سے پوچھا: لوگوں کو کیسے ان کے حقوق دلائے جائیں گے جب کہ ان کے پاس دنیا کی کوئی چیز نہیں ہوگی؟۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”نیکی اور بدی کے ذریعہ“ یعنی حقوق کی ادائیگی اس طرح ہوگی کہ مظلوم ظالم کی نیکیاں لے لے گا اور جب ظالم کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو مظلوم کے گناہوں کو لے کر ظالم کے گناہوں پر لاد دیا جائے گا پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔
ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سےجنت میں سب سے ادنیٰ درجے کے جنتی کا مرتبہ یہ ہوگا کہ اس سے اللہ کہے گا کہ تو اپنی خواہشات بیان کر، وہ اپنی تمنائیں بیان کرے گا پھر اس سے پوچھے گا کہ کیا تیری ساری تمنائیں پوری ہوگئیں؟وہ کہے گا:جی ہاں تو اللہ فرمائے گا کہ تونے جتنی تمنائیں ظاہر کیں وہ بھی تجھے دی جائیں گی اور اتنی ہی مزید عطا کی جائیں گی“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔جنتيوں ميں سے ملكيت و مرتبے كے اعتبار سے سب سے کم تر وہ ہوگا جس کی سب خواہشات پوری ہوں گی بایں طور کہ اس کی کوئی ایسی خواہش نہیں رہے گی جو پوری نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا کہ ’خواہش کر‘، چنانچہ وہ جو چاہے گا خواہش کرے گا یہاں تک کہ جب اپنی سب خواہشات کا اظہار کرچکے گا تو اللہ تعالی اس سے فرمائےگا کہ تو نے جتنی تمنائیں ظاہر کیں وہ بھی تجھے دی جائیں گی اور اتنی ہی مزید عطا کی جائیں گی۔ ایسا اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑھا کر دینے اور ازراہ نوازش و کرم ہوگا۔
ام شریک رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ ابراہیم علیہ السلام (کی آگ) پر پھونک مارتی تھی“۔
متفق علیہنبی ﷺ نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا اور بتایا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام کے لئے جلائی گئی آگ پر پھونک مارتی تھی تاکہ اس کے شعلے مزید بھڑکیں۔ اس بات سے اس کی موحدین وصاحب اخلاص کے تئیں مکمل دشمنی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اور ہر اس چیز کا کھانا ناجائز ہے جسے قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اُسید بن ابی اسید تابعی ایک خاتون سے بیان کرتے ہیں جس نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی، وہ کہتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جن بھلی باتوں کا ہم سے عہد لیا تھا کہ ان میں ہم آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے وہ یہ تھیں کہ ہم (کسی کے مرنے پر) نہ منہ نوچیں گے، نہ تباہی و بربادی کو پکاریں گے، نہ کپڑے پھاڑیں گے اور نہ بال بکھیریں گے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ بیعت کرتے وقت صحابیات سے اس بات کا عہد لیتے تھے کہ وہ آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی اور یہ بھی کہ عورت اپنا چہرہ نہ نوچے، یا اپنا چہرہ یا اپنے رخسار کو نہ پیٹے اور نوحہ کر کے اپنی آواز بلند نہ کرے جس سے کہ روکا گیا ہے، اپنے کپڑے نہ پھاڑے اور نہ اپنے بال بکھیرے اور نہ مصیبت کے وقت اسے نوچے۔
ابوہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ ایک آدمی راستے میں چلا جا رہا تھا کہ اسے پیاس نے ستایا۔ اسے ایک کنواں دکھائی دیا اور تو وہ اس میں اترا اور پانی پیا ۔ جب باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتاہا نپتے ہوئے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے کیونکہ اسے شدید پیاس لگی ہوئی تھی‘ اس آدمی نے سوچا کہ اس کتے کو بھی اس طرح پیاس لگی ہے جیسے مجھے پیاس لگی تھی۔ لہٰذا وہ پھر کنویں میں اترا، اپنے موزے کو پانی سے بھرا، اسے اپنے منہ سے تھاما اورباہر آ کر کتے کو پانی پلا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کی نیکی کا صلہ دیا اور اسے بخش دیا۔ صحابہ کرام ۔ رضی اللہ عنہم۔ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا جانوروں کی وجہ سے بھی ہمیں اجرو ثواب ملتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہرتر کلیجے (زندہ چیز) کی وجہ سے اجرو ثواب ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: ”اللہ تعالی نے (اس کے اس فعل کی قدر دانی میں) اسے صلہ دیتے ہوئے بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: ”ایک کتا کنویں کی منڈیر کے گرد چکر لگا رہا تھا اور قریب تھا کہ پیاس کی شدت سے مر جائے کہ اسے بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت نے دیکھ لیا اس نے اپنا موزہ اتارا اور اس سے کنویں سے پانی نکال کر اسے پلا دیا۔ اسے اس کے اس عمل کی وجہ سے معاف کردیا گیا“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہایک شخص سفر کرتا ہوا راستے میں جا رہا تھا کہ اسے پیاس لگی۔اس نے ایک کنویں میں اتر کر پانی پیا اور یوں اس کی پیاس ختم ہوئی۔ جب وہ باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی شدت سے گیلی مٹی کو کھا رہا ہے تاکہ اس میں موجود پانی کو چوس سکے۔ اس پر اس آدمی نے کہا کہ: اللہ کی قسم! اس کتے کو بھی ویسے ہی پیاس لگی ہے جیسے مجھے لگی تھی۔ وہ کنویں میں داخل ہوا، اپنا موزہ پانی سے بھرا، اسے اپنے منہ سے تھاما اور اپنے ہاتھوں کی مدد سے اوپر چڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ کنویں سے باہر آکر اس نے کتے کو پانی پلا دیا۔ جب وہ کتے کو پانی پلا چکا تو اللہ نے اس کے اس فعل کو پسند فرمایا اور اس کے بدلے میں اس کی بخشش کرتے ہوئے اسے جنت میں داخل کر دیا۔ نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو جب یہ حدیث سنائی تو انھوں نے آپ ﷺ سے سوال کیا کہ: اے اللہ کے رسول! کیا چوپایوں کے ساتھ نیکی کرنے میں بھی ہمیں ثواب ملتا ہے؟۔ یعنی کیا یہ بھی اجر و ثواب کا سبب ہیں؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر تر کلیجے کے ساتھ نیکی کرنے میں اجر ہے یعنی ہر تر کلیجے کو سیراب کرنے میں اجر ملتا ہے۔ کلیجے کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ اگر پانی نہ ہوتا تو یہ سوکھ جاتا اور جاندار ہلاک ہو جاتا۔ اور ایک روایت میں ہے: بنی اسرائیل کی ایک زانیہ عورت نے ایک کتے کو دیکھا جو پیاس کے مارے کنویں کے گرد گھوم رہا تھا، لیکن اس کی پانی تک رسائی ممکن نہیں ہوئی، چنانچہ اس عورت نے اپنا موزہ نکالا اسے پانی سے بھرا اور کتے کو پلا دیا لہٰذا اس عمل کے بدلے اللہ نے اس کی مغفرت کردی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کافر جب کوئی نیک عمل کرتا ہے تو اس کے بدلے میں دنیا ہی میں اسے رزق دے دیا جاتا ہے۔ جب کہ مومن کے لیے اللہ تعالی اس کی نیکیوں کو آخرت کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں اور اس کی نیکی پر اسے دنیا میں بھی رزق دیتے ہیں“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کسی مومن سے ایک نیکی کا بھی ظلم نہیں کرے گا دنیا میں اسے اس کا بدلہ عطا کیا جائے گا اور آخرت میں بھی اسے اس کا بدلہ عطا کیا جائے گا اور کافر کو دنیا میں ہی بدلہ عطا کردیا جاتا ہے جو وہ نیکیاں اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے یہاں تک کہ جب آخرت میں فیصلہ ہوگا تو اس کے لیے کوئی نیکی نہ ہوگی جس کا اسے بدلہ دیا جاتا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔کافر جب کوئی نیک کام کرتا ہے تو اللہ عزّ وجلّ اس کے بدلے میں اسے دنیا ہی میں رزق عنایت کر دیتا ہے لیکن مومن جب کوئی نیکی کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کا اجر محفوظ رکھ چھوڑتا ہے تاکہ آخرت میں اسے یہ دیا جا سکے ساتھ ہی دنیا میں اسے اس کی اطاعت گزاری پر رزق بھی دیتا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ تعالی مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلہ نہ دیں بلکہ اللہ تعالی اسے ان کے بدلے میں دنیا میں رزق دیتے ہیں اور آخرت میں بھی اسے ان کا ثواب ملے گا۔ جب کہ کافر کو اللہ تعالی اس کے اچھے کاموں کے بدلے میں دنیا ہی میں رزق دے دیتا ہے بایں طور کہ جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کی کوئی ایسی نیکی نہیں ہو گی جس پر اسے ثواب دیا جائے۔ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ کافر جب حالتِ کفر ہی میں مر جائے تو آخرت میں اسے کوئی ثواب نہیں ملتا اور نہ ہی جہان آخرت میں اس کے کسی ایسے عمل کا بدلہ ملے گا جسے اس نے دنیا میں اللہ کی خوشنودی کے لیے کیا ہو گا اس لیے کہ ایمان عمل کی قبولیت کی بنیادی شرط ہے۔ اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ اللہ کی خوشنودی کے لیے وہ دنیا میں جو نیک اعمال کرتا ہے جن کے درست ہونے کے لیے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی جیسے صلہ رحمی، صدقہ کرنا، آزاد کرنا، مہمان نوازی اور نیک اعمال کے لیے سہولت کاری وغیرہ، تو ان کے عوض میں اسے دنیا میں رزق عنایت کیا جاتا ہے۔ تاہم اگر کافر اس طرح کے نیک اعمال کرے اور پھر اسلام لے آئے تو اسے آخرت میں ان کا ثواب ملے گا جیسا کہ حدیث میں ہے (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:) ”تم اس بھلائی سمیت اسلام میں داخل ہوئے جو تم نے پہلے کی ہیں“۔
معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن اذان دینے والوں کی گردنیں تمام لوگوں سے لمبی ہوں گی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اذان دینے والوں کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی۔ ’أعناق‘ عُنق کی جمع ہے۔علمائے سلف و خلف کا اس کے معنی میں اختلاف ہے۔ ایک قول کی رو سے اس سے حقیقی لمبائی مراد ہے۔ جب روزِ قیامت لوگ پسینے میں شرابور ہوں گے تو ان کی گردنیں لمبی ہوں گی تاکہ ان تک وہ پریشانی اور پسینہ نہ پہنچ پائے۔ ایک دوسرے قول کی رو سے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اللہ کی رحمت کی طرف سب سے زیادہ اوپر ہو ہو کر دیکھ رہے ہوں گے کیوں کہ جھانک کر دیکھنے والا چیز کو دیکھنے کے لیے گردن کو لمبا کرتا ہے۔ چنانچہ گردن لمبی ہونے سے مراد اس ثواب کی کثرت ہے جسے وہ دیکھیں گے۔ ایک اور قول کی رو سے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ آقا اور سردار ہوں گے۔ اہلِ عرب، سرداروں کو لمبی گردن کے ساتھ موصوف کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا معنی ہے ان کے پیرو کار بہت زیادہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر اقوال منقول ہیں۔ ”قیامت ے دن“ جب اللہ تعالی لوگوں کو اٹھائے گا تو اذان دینے والوں کی ایک ایسی امتیازی شان ہو گی جو کسی اور کی نہیں ہو گی اور وہ یہ کہ ان کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی اور ان کے اظہار فضل و شرف کے لیے وہ اس سے پہچانے جائیں گے کیونکہ وہ اذان دیا کرتے تھے اور اللہ کی کبریائی کا اعلان کرتے تھے، اس کی توحید اور اس کے رسول ﷺ کی رسالت کا اعلان کرتے تھے، نماز اور فلاح کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔ وہ بلند جگہوں سے ان کا اعلان کرتے تھے اس لیے ان کے عمل کی جزا بھی ان کے عمل کی جنس سے ہی ہو گی کہ ان کے سر بلند ہوں گے اور ان کے چہرے اونچے ہوں گے۔ ایسا روزِ قیامت ان کی گردنیں لمبی کردینے سے ہو گا۔ چنانچہ انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ بھی مؤذن بنے اگرچہ کسی مسجد میں نہ بھی ہو تو تب بھی اسے اذان دینے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔