





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا“۔
رواه أبو داود والترمذي وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جو لوگ دوسروں پر رحم کرتے ہیں، ان پر نہایت رحم والا اللہ رحم کرتا ہے، جس کی رحمت نے ساری چیزوں کو اپنے دائرے میں لے رکھا ہے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے روئے زمین کے اوپر رہنے والی تمام چیزوں، جیسے انسانوں، جانوروں اور پرندوں وغیرہ پر رحم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا بدلہ یہ ہے کہ اللہ آپ پر آسمانوں کے اوپر سے رحم کرے گا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سب سے ہلکے عذاب کا سامنا کر رہے دوزخی سے فرمائے گا کہ اگر اس وقت تیرے پاس روئے زمین کی ساری دولت موجود ہوتی، تو کیا تو اپنے آپ کو آزاد کرانے کے لیے اسے دے دیتا؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اس پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: تم جب آدم کی پشت میں تھے، تو مَیں نے تجھ سے اس کے مقابلے میں بہت ہی آسان بات کا مطالبہ کیا تھا۔ مطالبہ یہ کیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ لیکن تونے میری یہ بات نہ مانی اور شرک کیا۔“
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ تعالی ایک ایسے شخص سے کہے گا، جو جہنم میں داخل ہونے کے بعد سب سے کم تر عذاب کا سامنا کر رہا ہوگا: اگر آج تیرے پاس دنیا اور اس کے ساری دولتیں آجائيں، تو کیا اس عذاب سے آزاد ہونے کے لیے انھیں فدیہ کے طور پر دے دیگا؟ وہ عرض کرے گا: ضرور۔ یہ جواب سننے کے بعد اللہ فرمائے گا: جب تم آدم کی پشت میں تھے اور تم سے عہد و پیمان لیا گيا تھا، تو تم سے اس سے کہیں کم تر بات کا مطالبہ کیا تھا۔ تم سے بس اتنا کہا گیا تھا کہ کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرانا۔ لیکن تم نے میری ایک نہ سنی۔ جب میں نے تم کو دنیا میں بھیجا، تو تم شرک کی راہ پر چل پڑے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں : کچھ لوگوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے فرمایا : "وہ کچھ نہيں ہیں۔" ان لوگوں نے عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسول! وہ کبھی کبھی کوئی بات کہہ جاتے ہیں، جو صحیح نکل آتی ہے۔ اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اس ایک صحیح بات کو جِن اچک لیتا ہے اور اپنے دوست کے کان میں ایسی آواز میں ڈالتا ہے، جو مرغی کے کڑکڑانے جیسی ہوتی ہے اور یہ کاہن اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا لیتے ہیں۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا، جو آنے والے وقت سے متعلق غیب کی باتیں بتایا کرتے ہيں، تو آپ نے کہا کہ ان پر دھیان مت دو، ان کی بات پر عمل نہ کرو اور ان کی پرواہ مت کرو۔ لوگوں نے کہا کہ کبھی کبھی ان کی کہی ہوئی کوئی بات اصل صورت حال کے مطابق نکل آتی ہے۔ مثلا وہ کسی مہینے کے کسی دن کوئی واقعہ پیش آنے کی بات کہتے ہیں اور وہ واقعہ پیش آ بھی جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : دراصل ہوتا یہ ہے کہ جن آسمان کی جو خبر سنتے ہيں، اسے اچک لیتے ہیں اور اپنے کاہن دوستوں کے پاس آکر بتا دیتے ہيں اور پھر جن سے سنی ہوئی اس ایک بات میں کاہن سو جھوٹ ملا لیتے ہیں۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے، جب کہ معاذ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، فرمایا : "اے معاذ!" انھوں نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول! حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا : "اے معاذ!" انھوں نے جواب دیا : حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اس طرح تین بار خطاب کیا۔ پھر فرمایا: ”جو بندہ سچے دل سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے رسول ہیں، اسے اللہ جہنم پر حرام کر دیتا ہے“۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس کی اطلاع نہ دے دوں، تا کہ وہ خوش ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے“۔ چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت (کتمانِ علم کے) گناہ سے بچنے کے لیے اس حدیث کو بیان کر دیا۔
متفق عليهمعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے ان کا نام لے کر تین بار کہا : اے معاذ! آپ کے ان کو تین بار پکارنے کا مقصد دراصل آگے کہی جانے والی بات کی اہمیت کو واضح کرنا تھا۔ چنانچہ ہر بار معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب میں کہا کہ اے اللہ کے رسول! میں آپ کی ہر آواز پر کھڑا ہوں اور اسے اپنے لیے سرمايۂ افتخار سمجھتا ہوں۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جو بندہ سچے دل سے اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں اور پھر وہ اسی حالت میں مر جاتا ہے، تو اللہ اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔ یہ سننے کے بعد معاذ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے اس بات کی اجازت طلب کی کہ وہ یہ حدیث لوگوں کو سنا دیں، تاکہ لوگوں میں مسرت کی لہر دوڑ جائے۔ لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اس بات کا اندیشہ ہوا کہ کہیں لوگ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ نہ جائیں اور عمل کے میدان میں پیچھے رہ جائیں۔ لہذا معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث کسی کو نہیں بتائی۔ موت سے پہلے اس ڈر سے بتا دی کہ کہیں علم چھپانے کا گناہ سر پر لد نہ جائے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ہمارا رب تبارک وتعالیٰ ہر رات جب کہ رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جا تا ہے، آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ میں اسے دوں؟ ہے کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا کہ میں اس کو بخش دوں؟"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ ہمارا برکت والا اور اعلى وبرتر پروردگار ہر رات، جب کہ رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، آسمان دنیا پر اترتا ہے اور اپنے بندوں کو اس سے دعا کرنے کی ترغیب دیتا ہے، کیوں کہ وہ دعا کرنے والے کی دعا سنتا ہے۔ وہ ان کو اس سے اپنی مرادیں مانگنے پر ابھارتا ہے، کیوں کہ وہ مانگنے والوں کی جھولیاں بھر دیتا ہے۔ وہ ان کو اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرنے پر آمادہ کرتا ہے، کیوں کہ وہ اپنے مؤمن بندوں کو بخشتا ہے۔
ابو مَرثَد غَنَوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "قبروں پر مت بیٹھو اور ان کی جانب منہ کرکے نماز نہ پڑھو۔"
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قبروں کے اوپر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح قبروں کی جانب اس طرح منہ کرکے نماز پڑھنے سے منع کیا ہے کہ قبر نمازی کے قبلے کی جانب ہو۔ ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ یہ شرک کا ذریعہ ہے۔
امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ: ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے ایک گرجا کا ذکر کیا، جس کو انھوں نے حبشہ کے علاقے میں دیکھا تھا اور اس کا نام ماریہ تھا۔ اس میں جو تصویریں دیکھی تھیں وہ بیان کیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر ان میں سے کوئی نیک بندہ (یا یہ فرمایا کہ) نیک آدمی مر جاتا، تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا ڈالتے۔ وہ لوگ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین مخلوق ہیں"۔
متفق عليهام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ذکر کیا کہ جب وہ حبشہ میں تھیں، تو انھوں نے وہاں ماریہ نام کا ایک گرجا گھر دیکھا تھا، جس میں بہت سی تصویريں اور نقش و نگار تھے۔ دراصل ان کو ان باتوں پر تعجب ہو رہا تھا۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان تصویروں کو گرجا گھروں میں رکھے جانے کے اسباب بتائے۔ آپ نے کہا : تم جن لوگوں کا ذکر کر رہی ہو، جب ان کے سماج کا کوئی صالح بندہ مر جاتا، تو وہ اس کی قبر پر مسجد بناکر اس میں نماز پڑھتے اور اس کے اندر ان کی تصویریں بنا ڈالتے۔ آپ نے بتایا کہ اس طرح کا کام کرنے والا انسان اللہ کی نظر میں سب سے بری مخلوق ہے۔ کیوں کہ اس کے اس کام سے شرک کے دروازے کھلتے ہيں۔
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، خانۂ کعبہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔“
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اسلام کو پانچ ارکان پر کھڑی ایک عمارت کے مشابہ قرار دیا ہے۔ اسلام کے باقی کام اس عمارت کے تتمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان پانچ ارکان میں سے پہلا رکن اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں۔ یہ دونوں گواہیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور ایک ہی رکن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بندہ ان کو اپنی زبان سے، اللہ کے ایک ہونے اور بس اسی کے عبادت کا حق دار ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے، ان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے رسول ہونے کا یقین رکھتے ہوئے اور آپ کا اتباع کرتے ہوئے، ادا کرے گا۔ دوسرا رکن نماز قائم کرنا ہے۔ دن اور رات میں پانچ فرض نمازیں ہيں۔ فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ ان پانچ نمازوں کو ان کی شرطوں، ارکان اور واجبات کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔ تیسرا رکن فرض زکاۃ دینا ہے۔ دراصل زکاۃ ایک مالی عبادت ہے، جو شریعت کی جانب سے مال کی ایک متعینہ مقدار پر واجب ہوتی ہے اور جسے اس کے حق داروں کو دیا جاتا ہے۔ چوتھا رکن حج ہے۔ حج در اصل اللہ کی عبادت کے طور پر مناسک کی ادائیگی کے لیے مکہ کا قصد کرنے کا نام ہے۔ پانچواں رکن رمضان مہینے کے روزے رکھنا ہے۔ روزہ نام ہے کھانے، پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چیزوں سے فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک اللہ کی عبادت کی نیت سے رکے رہنے کا۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے, وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "تم میں سے جو شخص منکر (غلط کام ) دیکھے، وہ اسے اپنے ہاتھ (قوت) سے بدل دے۔ اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے اس کی نکیر کرے۔ اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل میں (اسے برا جانے اور اسے بدلنے کی مثبت تدبیر سوچے) اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے"۔
رواه مسلمنبی صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں حسب استطاعت منکر کو بدلنے کا حکم دے رہے ہیں- منکر سے مراد ہر وہ عمل ہے، جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے- جو شخص کوئی منکر (غلط کام) دیکھے، تو اس پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ اگر اس کے پاس طاقت ہو تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ اگر اس کے پاس اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے اس پر نکیر کرے۔ یعنی غلط کام کرنے والے کو اسے کرنے سے منع کرے، اسے اس کا نقصان بتائے اور اس کی رہنمائی اس برے کام کی جگہ پر کسی اچھے کام کی جانب کرے۔ اگر اس سے بھی عاجز ہو، تو اس کے دل میں اس غلط کام کے خلاف رد عمل ہونا چاہیے۔ یعنی اس غلط کام کو برا جانے اور یہ عزم کرے کہ اگر اس کے پاس اس سے روکنے کی طاقت آ جائے تو ضرور روکے گا۔ دل کے اندر پیدا ہونے والا یہ رد عمل ایمان کا سب سے کمزور مرتبہ ہے۔