





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : ہم ایک بارش اور سخت تاریکى والی رات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو نماز پڑھانے کے لیے ڈھونڈنے نکلے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے جب آپ کو پایا تو آپ نے کہا : "تم کہو۔" میں نے کچھ نہيں کہا، تو آپ نے دوبارہ کہا : "تم کہو۔" میں نے پھر بھی کچھ نہيں کہا تو آپ نے تیسری بار کہا : "تم کہو۔" اس بار میں نے عرض کیا کہ میں کیا کہوں؟ آپ نے جواب دیا : "تم صبح شام تین بار (قل ھو اللہ احد)، (قل اعوذ برب الفلق) اور (قل اعوذ برب الناس) کہہ لیا کرو۔ یہ تین سورتیں تمھارے لیے ہر چيز سے کافی ہوں گی۔"
رواه أبو داود والترمذي والنسائيبزرگ صحابی عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ بتا رہے ہيں کہ وہ شدید بارش والی اور تاریک ترین رات میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو ڈھونڈنے نکلے تاکہ آپ لوگوں کو نماز پرھا دیں، تو انہوں نے آپ کو پالیا، تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم پڑھو۔ لیکن انھوں نے کچھ نہيں پڑھا۔ تو آپ نے دوبارہ پڑھنے کے لئے کہا۔ اب کى بار عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! میں کیا پڑھوں؟ جواب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : {قل ھواللہ احد}، {قل اعوذ برب الفلق} اور {قل اعوذ برب الناس}، ان تینوں سورتوں کو صبح وشام تین تین مرتبہ پڑھ لیا کرو۔ یہ سورتیں ہر شر سے تمھاری حفاظت کریں گی اور ہر برائی سے تم کو بچائيں گی۔
ابان بن عثمان سے روایت ہے، کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : "جس نے تین بار یہ دعا پڑھی : " بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ، فِي الْأَرْضِ، وَلَا فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ" (اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین وآسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہ خوب سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔) اس پر صبح تک اچانک کوئی مصیبت نہيں آئے گی۔ اور جس نے اسے صبح کے وقت تین بار پڑھ لیا، اس پر شام ہونے تک اچانک کوئی مصیبت نہيں آئے گی۔" راوی کا کہنا ہے کہ بعد میں ابان بن عثمان پر فالج کا حملہ ہو گیا، تو ان کی طرف ان سے یہ حدیث سننے والا شخص دیکھنے لگا۔ چنانچہ ابان نے ان سے پوچھا : بات کیا ہے کہ تم میری طرف دیکھے جا رہے ہو؟ اللہ کی قسم نہ میں نے عثمان کی جانب منسوب کر کے جھوٹی بات کہی ہے اور نہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب منسوب کر کے جھوٹی بات کہی ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ جس دن مجھے یہ بیماری لاحق ہوئی، اس دن میں غصے کا شکار ہوکر اس دعا کو پڑھنا بھول گیا تھا۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجه وأحمدجس نے ہر دن صبح فجر طلوع ہونے کے بعد اور ہر دن شام کو سورج ڈوبنے سے پہلے تین بار یہ دعا پڑھی : "بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ، فِي الْأَرْضِ، وَلَا فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ"۔ میں اس اللہ کی مدد لیتا اور ہر اذیت ناک چیز سے اس کی حفاظت میں جاتا ہوں، جس کا نام لے لینے کے بعد کوئی بڑی سے بڑی چيز، زمین سے نکلنے والی بلا ہو کہ آسمان سے اترنے والی مصیبت، نقصان نہیں پہنچاتی۔ وہ ہماری باتوں کو سننے والا اور ہمارے حالات کی خبر رکھنے والا ہے۔ شام کے وقت پڑھنے کی صورت میں اسے صبح تک کوئی چیز اچانک نقصان نہيں پہنچائے گی اور صبح کے وقت پڑھنے کی صورت میں کوئی چیز شام تک اچانک نقصان نہيں پہنچائے گی۔ چنانچہ راوی حدیث ابان بن عثمان پر فالج کا حملہ ہو گیا۔ فالج ایک بیماری ہے، جس میں بدن کا ایک جانب ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔ لہذا ان سے حدیث سننے والا شخص تعجب سے ان کی جانب دیکھنے لگا، تو انھوں نے اس شخص سے کہا : بات کیا ہے کہ تم میری جانب دیکھے جا رہے ہو؟ اللہ کی قسم! نہ میں نے عثمان کی جانب منسوب کر کے جھوٹی حدیث سنائی ہے اور نہ عثمان نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جانب منسوب کر کے جھوٹی حدیث سنائی ہے۔ دراصل جس دن مجھ پر فالج کا حملہ ہوا، اس دن میں یہ دعا پڑھ نہيں سکا تھا۔ میں اس دن غصے کا شکار ہو گیا تھا اور مذکورہ دعا کو پڑھنا بھول گیا تھا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم میں سے کوئی جب اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملے، تو کیا وہ اس کے سامنے جھک جائے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں!، اس نے پوچھا: کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے ؟ آپ نے فرمایا: نہیں!، اس نے کہا: تو پھر وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے؟ آپ نے فرمایا: ہاں!۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔انسان کے اپنے (مسلمان) بھائی سے ملاقات کے وقت جھکنے کے متعلق نبی ﷺ سے سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: اس کے لیے جھکا نہیں جائے گا۔ پوچھنے والے نے کہا: کیا جھکنے کی بجائے اس سے چمٹ جائے اور معانقہ کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں! پھر سائل نے پوچھا: کیا مصافحہ کرے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔
سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : "ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے ایسا کلام سکھائیے، جسے میں پڑھتا رہوں۔ آپ نے فرمایا: "یہ کہا کرو: ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ۔“ (اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ بڑائی میں سب سے بڑا ہے اور بے حد و حساب تعریف اللہ کی ہے، اللہ ہر عیب اور نقص سے پاک ہے، جو کہ تمام جہانوں کا رب ہے، گناہ سے بچنے اور نیکی کے کام کرنے کی طاقت اللہ ہی سے مل سکتی ہے، جو غالب حکمت والا ہے) اس شخص نے کہا : ان سب کلمات کا تعلق تو میرے رب سے ہے، میرے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "یہ کہو: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي“ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما)"۔
رواه مسلمدیہات سے آئے ہوئے ایک شخص نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ انھیں ایک ذکر سکھا دیں، جسے وہ پڑھا کریں۔ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے کہا: تم کہو : "لا إله إلا الله وحده لا شريك له" آپ نے آغاز توحید کی گواہی سے کیا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہيں ہے۔ "الله أكبر كبيرًا" یعنی اللہ ہر چيز سے بڑا اور عظیم ہے۔ "والحمد لله كثيرًا" یعنی اللہ کی بہت زیادہ تعریف ہے، اس کی صفات وافعال اور اس کى بے شمار نعمتوں پر۔ "سبحان الله رب العالمين" یعنی اللہ تعالى ہر طرح کی کمی سے پاک اور منزہ ہے۔ "لا حول ولا قوة إلا بالله العزيز الحكيم" یعنی ایک حال سے دوسرے حال میں جانا اللہ کی مدد اور توفیق کے بغیر ممکن نہيں ہے۔ اس شخص نے کہا : یہ کلمات میرے رب کے لیے ہیں۔ یعنی اس کے ذکر اور تعظیم کے لیے ہیں۔ میں اپنے لیے دعا کن الفاظ میں کروں؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے کہا : تم کہو : "اللهم اغفر لي" یعنی میرے گناہوں کو مٹا دے اور ان پر پردہ ڈال دے۔ "وارحمني" یعنی میرے دینی اور دنیوی مصالح اور منافع کو بہم پہونچا کر مجھ پر رحم کر۔ "واهدني" یعنی بہتر احوال اور صراط مستقیم کی طرف میری رہنمائی فرما۔ "وارزقني" یعنی مجھے حلال مال، صحت اور ہر خیر و عافیت سے نواز۔
شکَل بن حمید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی دعا سکھا دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو: ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي“ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے اور اپنی شرم گاہ کے شر سے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں ہے کہ شکل بن حمید رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس دنیا و آخرت کی بھلائی کی تلاش میں آتے ہیں۔ وہ نبی ﷺ سے نہ تو اس دنیائے فانی کی کسی شے کا سوال کرتے ہیں اور نہ مٹھی بھر مال یا غلے کا ایک صاع مانگتے ہیں، بلکہ دعا کے بارے میں پوچھنے کے لیے آتے ہیں۔ وہ نبی ﷺ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ ﷺ انھیں کوئی ایسی دعا سکھا دیں، جو انھیں ان کے دین و دنیا میں فائدہ دے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایسے ہی ہوا کرتے تھے۔ وہ اللہ تعالی کے فضل اور اس کی رضا کے جویا رہا کرتے تھے۔ نبی ﷺ نے ان کی راہ نمائی اس عظیم الشان دعا کی طرف فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہو: ”اللهم“ اس میں اللہ کے اس نام سے دعا مانگی جارہی ہے اور اس کی طرف متوجہ ہوا جا رہا ہے، جو اس کے تمام اسمائے حسنی کو جامع ہے، یعنی اللہ۔ ”أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي“ 'أعوذ' یعنی میں اللہ تعالی کے ذریعے سماعت کے شر سے اپنے آپ کو بچاتا ہوں۔ اس سے مراد وہ تمام حرام باتیں ہیں، جو انسان کے کان میں پڑتی ہیں، جیسے جھوٹی گواہی، کفر و بہتان پر مشتمل کلام اور دین کی تحقیر اور وہ ساری حرام باتیں جو انسان کی سماعت سے ٹکراتی ہیں۔ ”وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي“ آنکھ کے شر سے مراد یہ ہے کہ انسان اسے حرام اشیا کو دیھکنے میں لگائے، جیسے حیا باختہ فلمیں اور برے مناظر۔ ”وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي“ یعنی زبان سے نکلنے والی ہر حرام بات سے، جیسے جھوٹی گواہی، گالی گلوج، لعنت، دین اور دین دار لوگوں کی توہین و تحقیر، لایعنی باتوں میں لگنا اور سود مند باتوں کو چھوڑنا وغیرہ۔ ”وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي“ دل کے شر سے مراد یہ ہے کہ انسان) دل کو اللہ کے ذکر کی بجائے دوسری اشیا سے آباد کرے یا پھر قلبی عبادات جیسے امید و بیم اور خوف و تعظیم کے ساتھ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کا رخ کرے یا پھر رب تعالی کے حضور جن قلبی عبادات کا بجا لانا اس پر واجب ہو انھیں ادا نہ کرے۔ "ومن شر منيي": یعنی شرم گاہ کے شر سے۔ مراد یہ کہ کسی ایسی شے میں واقع ہونے سے (اللہ کی پناہ مانگنا) جسے اللہ نے اس کے لیے حرام کیا ہو یا (پھر معنی یہ ہیں کہ) مجھے زنا کے مقدمات جیسے دیکھنا، چھونا، اس کی طرف چل کر جانا اور ارادہ کرنا وغیرہ سے محفوظ رکھ۔ اس دعا میں اعضا کی حفاظت کا سوال ہے، جو کہ اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں۔ نبی ﷺ نے انھیں یہاں اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالی سے اس نعمت کے شر سے پناہ مانگیں، نہ کہ خود اس نعمت سے، بایں طور کہ وہ یوں کہیں کہ میں اللہ سے اپنی سماعت کے شر سے پناہ مانگتا ہوں۔ کیوں کہ یہ اعضا تو نعمتیں ہیں اور انہی کے ذریعے اللہ کی عبادت ہوتی ہے۔ یہ کوئی شر محض نہیں کہ ان سے پناہ مانگی جائے، بلکہ پناہ تو ان سے جنم لینے والے شر سے مانگی جائے گی۔ (واضح رہے کہ) ان کی حفاظت اس طرح سے ہوتی ہے کہ ان امور کی رعایت کی جائے جن کے لیے انھیں پیدا کیا گیا ہے، ان سے نہ کوئی معصیت کا کام کیا جائے اور نہ ان کے ذریعے سے کسی برائی کو فروغ دیا جائے۔ کیوں کہ روز قیامت انسان سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا، اللہ تعالی کے اس فرمان کے بمصداق کہ :﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا﴾ ”جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو، اس کے پیچھے مت پڑ۔ کیوں کہ کان، آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے“۔ (سورہ بنی اسرائیل: 36)
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہوگا“، ایک شخص نے دریافت کیا کہ: آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اور جوتے عمدہ ہوں۔(کیا یہ بھی تکبر کے زمرے میں آتا ہے)؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: ”اللہ خوبصورت ہے اور وہ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے، تکبر کا مطلب ہے: حق کو ہٹ دھرمی کے ساتھ نہ ماننا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہو گا“ یہ حدیث وعید پر مشتمل احادیث میں سے ہے اور شرعی دلائل کی روشنی میں کچھ محتاج تفصیل ہے۔ جس شخص کے دل میں تکبر ہوتا ہے اس کی وجہ یا تو حق سے روگردانی ہوتی ہے یا حق کی ناپسند یدگی۔ ایسا شخص کافر ہے جو ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ کیوں کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ﴾ ”یہ اس لیے کہ وه اللہ کی نازل کرده چیز سے ناخوش ہوئے، پس اللہ تعالیٰ نے (بھی) ان کے اعمال ضائع کر دیے“۔ تاہم تکبر اگر مخلوق پر ہو اور اس میں مخلوق پر بڑائی جتلائی جاتی ہو لیکن وہ شخص اللہ کی عبادت سے روگردانی نہ کر رہا ہو تو اس کے بارے میں یہ وعید ہے کہ وہ سب سے پہلے گروہ کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ جب آپ ﷺ نے یہ حدیث بیان فرمائی تو ایک شخص نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! آدمی کو یہ بات پسند ہوتی ہے کہ وہ اچھا کپڑا اور عمدہ جوتا پہنے، کیا یہ بھی تکبر میں شمار ہوتا ہے؟۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ خوبصورت ہے اور وہ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے“ یعنی اللہ اپنی ذات، اپنے افعال اور اپنی صفات کے اعتبار سے خوبصورت ہے ۔ اللہ تعالی سے جس بات کا بھی صدور ہوتا ہے وہ خوبصورت ہی ہوتی ہے لہذا اس میں کوئی قباحت نہیں۔ آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ: ”وہ خوبصورتی کو پسند کرتا ہے“ تو اس کا معنی یہ ہے کہ: وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ انسان اپنے کپڑوں، اپنے جوتوں، اپنے جسم اور اپنے تمام امور میں خوبصورتی کو ملحوظ رکھے۔ کیوں کہ خوبصورتی کو اختیار کرنا دلوں کو انسان کی طرف کھینچتا ہے اور اسے لوگوں کے ہاں پسندیدہ بنا دیتا ہے بخلاف بدصورتی اختیار کرنے کے، جس کی وجہ سے انسان کے بالوں، اس کے کپڑوں اور اس کے لباس میں بگاڑ آجاتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی پسندیدگی سے نہیں سنتا، جتنی خوش الحان نبی کی زبان سے قرآن سنتا ہے، جو اسے خوش الحانی کے ساتھ بلند آواز سے پڑھتا ہو“۔
متفق علیہاس حدیث میں نماز وغیرہ میں قرآن مجید کی تلاوت کے موقع پر اچھی آواز سے تلاوت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے؛ اس طور پر کہ قرآن مجید کو بلند آواز سے، خوب دل نشین انداز میں، ترنم کے ساتھ، رقت آمیز انداز میں، دیگر ماضی کے واقعات سے بے نیازی اختیار کرتے ہوئے، اسی کے ذریعے نفس کی بے نیازی طلب کرتے ہوئے اور دنیاداروں کی مال داری سے بے نیازی کا امیدوار ہوکر اسے پڑھے۔ حدیث میں مذکور تغنی (سر آمیزی) سے مقصود دل کش و دل نشین انداز میں پڑھنا ہے، موسیقانہ نغموں کے آہنگوں کے مطابق پڑھنا نہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص سے علم کی بات پوچھی گئی اور اس نے اسے چھپالیا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں علم کو چھپانے پر سخت ترین تنبیہ وارد ہوئی ہے۔ جس شخص سے کوئی علمی مسئلہ دریافت کیا گیا اور دریافت کنندہ کو اس علمی مسئلہ سے واقفیت حاصل کرنے کی دینی ضرورت ہو، تو مسئول پر لازم ہے کہ وہ اس مسئلے کی وضاحت کرے، لیکن اگر اس نے جواب نہ کر یا نہ لکھ کر اس مسئلے کی وضاحت نہہیں کی، تو جیسے کو تیسا کے مطابق، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام ڈال دے گا۔ جس طرح اس نے جواب نہ دیتے ہوئے اپنےمنہ پر لگام لگا رکھی تھی۔ یقینا بدلہ عمل کی جنس سے ہی ملے گا۔ اس حدیث میں وارد وعید کے مستحق وہ لوگ ہوں گے، جو اس بات سے واقف ہو ں کہ سائل اپنے سوال سے رشد و ہدایت کا طلب گار ہے، لیکن جب مسئول کو پتہ چل جائے کہ سائل کا مقصد اس کا امتحان ہے، اس کا مقصد علم حاصل کرکے اس پر عمل کرنا نہیں ہے، تو مسئول کو اختیار ہےکہ چاہے تو اس کے سوال کا جواب دے یا نہ دے۔ ایسا شخص اس حدیث میں وارد وعید کا سزاوار نہ ہو گا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس نے قسم کھائی اور اپنے قسم میں کہا: ”لات و عزیٰ کی قسم“، تو وہ لا الہ الا ﷲ کہے، اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں، تو وہ (بطور کفارہ) صدقہ کرے"۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم غیر اللہ کی قسم کھانے سے خبردار کر رہے ہیں۔ کیوں کہ مومن قسم صرف اللہ کی کھاتا ہے۔ آپ بتا رہے ہیں کہ جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، جیسے وہ جس نے لات و عزی، جو دور جاہلیت میں پوجے جانے والے دو بت ہیں، کی قسم کھائی، اس کے بعد اس کے اوپر لا الہ الا اللہ کہنا، شرک سے اپنی براءت کا اعلان کرنے کے لئے اور اس قسم کے کفارہ کے طور پر چاہیے۔ اس کے بعد آپ نے بتایا کہ جس نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ جوا کھیلیں (جوا نام ہے دو یا دو سے زیادہ لوگوں کا اس شرط کے ساتھ مقابلے میں شریک ہونے کا کہ ان کے درمیان کوئی مال ہو اور مقابلہ جیتنے والا مال لے جائے گا۔ انسان اس میں یا تو جیتتا ہے یا پھر ہارتا ہے)، اس کے لیے کچھ نہ کچھ صدقہ کرنا مستحب ہے، تاکہ جوا کی دعوت دینے کی وجہ سے جو گناہ ہوا ہے، اس کا کفارہ ہو جائے۔