





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
سہل بن معاذ بن انس اپنے والد سے روایت کرتے ہيں، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جس نے کھانا کھانے کے بعد یہ دعا پڑھی : "الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلاَ قُوَّةٍ" (ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور اس کى روزی دی, جب کہ اس میں میری طاقت اور قوت کا کوئی دخل نہيں ہے۔ "غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِا" تو اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمدنبی صلی اللہ علیہ و سلم کھانا کھانے والے کو اللہ کی تعریف کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کی توفیق اور مدد کے بغیر انسان کے پاس نہ غذا حاصل کرنے کی طاقت ہے اور نہ کھانے کی۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس دعا کا اہتمام کرنے والے کو خوش خبری دی ہے کہ اللہ اس کے پچھلے صغیرہ گناہوں کو بخش دے گا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے خوف ہوتا ہے وہ اولین شب ہی میں سفر پر نکل پڑتا ہے اور جو رات کے ابتدائی حصے ہی میں سفر کا آغاز کر دیتا ہے وہ منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ آگاہ رہو کہ اللہ کا سودا گراں قیمت ہے، جان لو کہ اللہ کا سودا جنت ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اسے چاہیے کہ وہ گناہوں سے دور رہے اور خوب اچھی طرح اللہ کی اطاعت گزاری میں لگ جائے۔ اللہ کے پاس جو سامان ہے وہ بہت قیمتی ہے اور وہ جنت ہے اور اس کی قیمت سوائے جان و مال خرچ کرنے کے کوئی اور چیز نہیں ہو سکتی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ تم کو ختم کردے گا اور تمہاری جگہ ایسے لوگ لائے گا جو گناہ کر کے اللہ سے مغفرت طلب کریں گے اور اللہ ان کو بخش دے گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ اپنے رب کی قسم کھا کر فرما رہے ہیں کہ اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں ختم کر کے ایسے لوگ لے آئے گا جو گناہ کرنے کے بعد سچی نیت اور یقین دل سے توبہ کریں گے تا کہ وہ انہیں بخش دے۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس دن (قیامت کے دن) جہنم کو اس حالت میں لایا جائے گا کہ اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔قیامت کے دن جہنم کو اس حالت میں لایا جائے گا کہ اس کی ستر ہزار رسیاں ہوں گی جن سے اسے کھینچا جارہا ہوگا، اور ہر رسی پر ستر ہزار فرشتے مقرر ہوں گے جو اس کے ذریعے اسے کھینچ رہے ہوں گے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہيں ہوتی۔"
رواه أبو داود والترمذي والنسائياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں اذان اور اقامت کے درمیان دعا کرنے کی فضیلت بتائی ہے۔ فضیلت یہ ہے کہ اس وقت کی جانے والی دعا رد نہيں ہوتی اور قبول کی جاتی ہے۔ اس لیے اس درمیان اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے: "اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست کردے، جو میرے حالات کے تحفظ کا ضامن ہے اور میری دنیا کو درست کردے، جس میں میری گزر بسر ہے اور میری آخرت کو درست کردے، جہاں لوٹ کر مجھے جانا ہے اور میری زندگی کو ہر خیر میں اضافے کا سبب بنادے اور موت کو میرے لیے ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنادے۔"
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک ایسی دعا فرمائی، جس میں تمام بنیادی مکارم اخلاق کو جمع کر دیا، جن کے اتمام کے لیے آپ کو مبعوث کیا گيا تھا۔ یہ مکارم اخلاق ہیں؛ دین، دنیا اور آخرت کی درستگی۔ آپ نے مختصر الفاظ میں تینوں چیزوں کی درستگی کی دعا مانگنے کا طریقہ سکھا دیا۔ اس میں بھی آغاز دین کی درستگی سے کیا، کیوں کہ اسی سے دونوں جہانوں کی درستگی اور فلاح وابستہ ہے۔ فرمایا : "اللهم أصلح لي ديني"۔ یعنی اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست کر دے، بایں طور کہ اس کے آداب کو پورے طور پر بجا لانے کی توفیق دے۔ "الذي هو عصمة أمري"۔ جس سے میرے تمام امور کی حفاظت وابستہ ہے۔ میرا دین بگڑ گیا، تو میرے سارے امور بگڑ جائيں گے اور میری نیا ڈوب جائے گی۔ ساتھ ہی یہ کہ مطلوبہ طور پر دین کی درستگی بھی دنیا کی درستگی کے بغیر انجام پذیر نہیں ہو سکتی، اس لیے آپ نے فرمایا: "وأصلح لي دنياي۔" میرے لیے میری دنیا کو درست کر دے، بایں طور کہ مجھے صحت و تندرستی، امن، روزی، نیک بیوی، صالح اولاد اور ضرورت کی چیزیں عطا کر۔ یہ ساری چیزیں حلال ہوں اور ان سے تیری عبادت میں مدد ملے۔ پھر دنیا کی درستگی کی دعا مانگنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : "التي فيها معاشي۔" جس میں مجھے جینا ہے اور زندگی گزارنی ہے۔ "وأصلح لي آخرتي التي فيها معادي"۔ میرے لیے میری آخرت کو درست کر دے، جہاں لوٹ کر مجھے جانا ہے اور تجھ سے ملنا ہے۔ لیکن یہ اسی وقت ہو پائے گا، جب اعمال اچھے ہوں اور اللہ کی جانب سے بندے کو عبادت، اخلاص اور حسن خاتمہ کی توفیق ملے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے آخرت کے بعد دنیا کا ذکر اس لیے کیا کہ دنیا کی درستگی آخرت کی درستگی کا زینہ ہے۔ جس نے دنیا کی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق گزار لی، اس کی آخرت سنور گئی۔ "واجعل الحياة زيادة لي في كل خير"۔ دنیا کی زندگی کو میرے لیے ہر خیر میں اضافے کا باعث بنا کہ میں اس میں زیادہ سے زیادہ نیکی کے کام کر سکوں۔ "واجعل الموت راحة لي من كل شرٍّ"۔ موت اور اس میں جلدی کو میرے لیے ہر برائی یعنی فتنہ، آزمائش، معصیت اور غفلت سے راحت، حصول آرام اور دنیا اور اس کی الجھنوں سے چھٹکارے کا سبب بنا۔
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعا کیا کرتے تھے : "اے اللہ! میرے گناہ، میری نادانی، میرے تمام کاموں میں میرے حد سے تجاوز کرنے کو اور ہر اس بات کو، جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، معاف فرما۔ اے اللہ! میرے گناہوں، مجھ سے سنجیدگی کے ساتھ ہونے والے کاموں، انجانے میں ہونے والے کاموں اور مذاق میں ہونے والے کاموں کو معاف فرما۔ ان میں سے ہر طرح کے کام مجھ سے ہوئے ہیں۔ اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے گناہ، رازداری کے ساتھ اور علانیہ ہونے والے گناہ معاف کر دے۔ تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہی ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے"۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک جامع ترین دعا یہ ہے : "رب اغفر لي خطيئتي" اے اللہ! میرے گناہوں کى مغفرت فرما۔ "وجهلي" انجانے میں ہونے والی کوتاہیاں کى بھی مغفرت فرما۔ "وإسرافي في أمري كله" اپنے تمام کاموں میں رہ جانے والی کوتاہیاں اور حد سے گزرنے کی کیفیتوں کى بھی مغفرت فرما۔ "وما أنت أعلم به مني" ان گناہوں کى بھی مغفرت فرما، جن کو تو جانتا ہے اور میں بھول چکا ہوں۔ "اللهم اغفر لي خطاياي وعمدي" ان گناہوں کى بھی مغفرت فرما، جن کو میں نے جان بوجھ کر کیا ہے۔ وہ گناہ بھی، جن کو میں نے سنجیدگی کے ساتھ اور مذاق مذاق میں کیا ہے۔ "وكل ذلك عندي" مجھے پتہ ہے کہ اس طرح کے سارے گناہ میں نے کیے ہیں۔ "اللهم اغفر لي ما قدمت" اے اللہ! میرے پچھلے گناہوں کى مغفرت کردے۔ "وما أخرت" آنے والے وقت میں ہونے والے گناہوں کى بھی مغفرت معاف کر دے۔ "وما أسررت" جن گناہوں کو رازداری کے ساتھ کیے ہيں، ان کى بھی مغفرت کردے۔ "وما أعلنت" جو گناہ علانیہ کیے ہيں، ان کى مغفرت کردے۔ تو اپنی جس مخلوق کو چاہتا ہے، اپنی پسندیدہ چیزوں کی توفیق دے کر اپنی رحمت کی جانب آگے بڑھا دیتا ہے اور جس مخلوق کو چاہتا ہے، اکیلا چھوڑ کر اس سے پیچھے رکھ دیتا ہے۔ جسے تو پیچھے کر دے، اسے کوئی آگے بڑھا نہيں سکتا اور جسے تو آگے بڑھا دے، اسے کوئی پیچھے کر نہیں سکتا۔ "وأنت على كل شيء قدير" تو کامل قدرت والا، مکمل ارادے والا اور جو چاہے کرنے والا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : "اللہ کے نبی ﷺ جب صبح اور شام کرتے، تو ان دعاؤں کو پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے : ”اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا، اہل و عیال اور مال میں عافیت طلب کرتا ہوں۔ اے اللہ! میری شرم گاہ کی ستر پوشی فرما، مجھے خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ۔ اے اللہ! میری حفاظت فرما آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے، بائیں سے اور اوپر سے۔ میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے اچک لیا جاؤں۔"
رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ صبح شام ان دعاؤں کو کبھی نہ چھوڑتے تھے : (اللهم إني أسألُكَ العافيةَ) اے اللہ! میں تجھ سے، برائیوں، بلاؤں، دنیوی مشکلات، شہوتوں اور دینی فتنوں سے تیری عافیت اور سلامتی کا سوالى ہوں۔ (في الدنيا والآخرة) دنیوی ہوں کہ اخروی، جلدى آنے والی ہوں یا تاخیر سے۔ (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي) اے اللہ! میں تجھ سے عفو و درگزر اور عیوب سے سلامتی کی دعا کرتا ہوں، خواہ عیوب دین سے متعلق ہوں، جیسے شرک، بدعت اور دیگر معاصی، یا دنیا سے متعلق ہوں‘ جیسے مصائب، اذیتيں اور شرور وفتن، یا اہل و عیال سے متعلق ہوں، جیسے بیوی بچوں اور رشتے داروں سے متعلق، یا پھر مال اور عمل سے سے متعلق ہوں۔ "اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِي -أَو: عَوْرَاتِي- وَآمِنْ رَوْعَاتِي"۔ اے اللہ! میرے عیوب، کمیوں اور کوتاہیوں پر پردہ ڈال دے اور میرے گناہ مٹا دے۔ مجھے خوف و خطر سے محفوظ رکھ۔ "اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي"۔ اے اللہ میری حفاظت فرما اور تمام تکلیف دہ چیزوں اور بلاؤں و مصیبتوں کو مجھ سے دور رکھ۔ تمام جہات سے میری حفاظت فرما۔ کیوں کہ مصیبتیں اور آفتیں مذکورہ جہات ہی سے آتی ہيں۔ "وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي"۔ میں اس بات سے تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں کہ نیچے کى جانب سے اچانک میرا مؤاخذہ ہو جائے اورغفلت کی حالت میں ہلاک ہو جاؤں پھر زمین میں دھنسا دیا جاؤں۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو یہ دعا سکھائی : " اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائیاں مانگتا ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طالب ہوں، جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس برائی سے جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ چاہی ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی، جو جنت سے قریب کر دے اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے، جو جہنم سے قریب کر دے۔ میں تجھ سے سوالی ہوں کہ میرے حق میں کیے گئے ہر فیصلے کو بہتر بنادے۔"
رواه ابن ماجه وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو کچھ جامع دعائيں سکھائی ہیں۔ یہ چار دعائيں ہيں : پہلی دعا : ساری بھلائیوں پر مشتمل ایک دعا : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ الْخَيْرِ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ۔" یعنی اے اللہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائیاں مانگتا ہوں، جو قریب وقت کى ہوں اور دور وقت کى ہوں جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم, جنھیں بس تو ہی جانتا ہے۔ اس میں سارے معاملات کو اللہ کے حوالے کر دیا گیا ہے، جو سب کچھ جاننے والا، ہر بات کی خبر رکھنے والا اور رازہائے سربستہ سے واقف ہے، تاکہ وہ مسلمان کی جھولی میں وہی ڈالے جو افضل اور بہتر ہو۔ "وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الشَّرِّ كُلِّهِ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ۔" یعنی میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے، جو قریب زمانہ کى ہوں اور دور وقت کى ہوں، جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو نہیں معلوم۔ دوسری دعا : یہ ایسی دعا ہے جس کے ذریعہ مسلمان دعا میں تجاوز کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔ "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ"۔ یعنی اے اللہ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طالب ہوں، جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے، اور میں اس برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ طلب کی ہے۔ اس میں اللہ سے دعا کی گئی ہے کہ وہ دعا کرنے والے کو وہ بھلائياں عطا کرے، جو آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے خود اپنے لیے مانگی ہیں۔ مختلف طرح کی ان دعاؤں کو گنوانے سے گریز کیا گیا ہے، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مانگی ہيں۔ تیسری دعا : جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے دور رہنے کی دعا، جو ہر مسلمان کا مقصد ومنزل اور اس کے اعمال کى غایت ہے۔ "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ، وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ۔" یعنی اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور تجھے راضی کرنے والے ہر اس قول و عمل کا بھی، جو جنت سے قریب کر دے اور میں جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور تجھے ناراض کرنے والے ہر اس قول و عمل سے، جو جہنم سے قریب لے جائے۔ تیری مہربانی شامل حال نہ ہو، تو کوئی شخص برے اعمال سے بچ نہيں سکتا۔ چوتھی دعا : اللہ کے ہر فیصلے پر رضامند رہنے کی دعا۔ "وأسألك أن تجعل كل قضاء قضيتَه لي خيرًا۔" میں تجھ سے سوالی ہوں کہ تو اپںے کیے ہوئے ہر فیصلے کو میرے حق میں بہتر بنا دے۔ یہ دراصل راضی بہ رضا رہنے کی دعا ہے۔