





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو دعائيں کیا کرتے تھے، ان میں سے ایک یہ ہے: "اے اللہ! میں تیری نعمت کے زائل ہونے سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پھر جانے سے، تیرى ناگہانی گرفت سے، اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے تيری پناہ مانگتا ہوں۔"
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے چار چيزوں سے پناہ مانگی ہے : پہلی : "اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ۔" یعنی اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیری دینی اور دنیوی نعمت کے زائل ہونے سے۔ تجھ سے دعا ہے کہ میں اسلام پر ثابت قدم رہوں اور ایسے گناہوں میں ملوث ہونے سے دور رہوں، جو نعمتوں کو زائل کر دیتے ہيں۔ دوسری : "وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ"۔ اور اس بات سے کہ تیری جانب سے ملی ہوئی عافیت ابتلا و آزمائش میں بدل جائے۔ دعا ہے کہ مجھے دائمی عافیت اور دکھوں اور بیماریوں سے سلامتی عطا فرما۔ تیسری : "وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ۔" اس بات سے کہ اچانک تیری بلا یا مصیبت آن پڑے۔ کیوں کہ مصیبت اور سزا جب اچانک آن پڑتی ہے، تو انسان کو توبہ اور اپنی اصلاح کا موقع نہيں مل پاتا۔ لہذا مصیبت زیادہ بڑی اور زیادہ سخت ہو جاتی ہے۔ چوتھی : "وَجَمِيعِ سَخَطِكَ"۔ تیری ناراضگی کا سبب بننے والی تمام چيزوں سے۔ کیوں کہ جس سے تو ناراض ہوگیا، اس کی قسمت پھوٹ گئی۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے لفظ "جمیع" کا استعمال اس لیے کیا ہے، تاکہ اس کی ناراضگی کا سبب بننے والے تمام اقوال، اعمال اور اعتقادات شامل ہو جائيں۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعائيں کیا کرتے تھے: "اے اللہ! میں قرض کے غلبے، دشمن کے غلبے اور مصیبت میں دشمنوں کی خوشی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔"
رواه النسائي وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے درج ذیل چیزوں سے پناہ مانگی ہے: 1- "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ"۔ اے اللہ! میں صرف اور صرف تیری پناہ مانگتا ہوں قرض کے دباؤ، بوجھ، غم اور بے چینی سے۔ میں تیری مدد مانگتا ہوں اس بات پر کہ اسے ادا کر سکوں۔ 2- "وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ"۔ دشمن کے قہر و تسلط سے۔ دعا ہے کہ تو اس کے ظلم و ستم کو روک لے اور مجھے اس پر فتح یاب کر۔ 3- "وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ"۔ مسلمانوں کے اوپر آنے والی بلا و مصیبت پر دشمنوں کے خوش ہونے سے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جب صبح ہوتی تو رسول اللہ ﷺ یہ دعا پڑھتے: ”اللَّهُمَّ بِك أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِك نَحْيَا، وَبِك نَمُوتُ، وَإِلَيْك النُّشُورُ“ (اے اللہ ! تیری حفاظت میں ہم نے صبح کی اور تیری حفاظت میں ہی شام کی اور تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں اور تیری ہی طرف اٹھ کر جانا ہے)۔ اورجب شام ہوتی تو آپ ﷺ یہ دعا پڑھتے: ”بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ“ (اے اللہ ! تیری حفاظت میں ہم نے شام کی اور تیری حفاظت میں ہم نے صبح کی اور تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے)۔ کبھی کبھی آپ (وَإِلَيْكَ النُّشُورُ) کی جگہ پر (وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ) بھی کہتے تھے۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے جب صبح آتی، یعنی طلوع فجر کے ساتھ دن کا پہلا حصہ نمودار ہوتا، تو یہ دعا پڑھتے : "اللهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ۔" اے اللہ! ہم نے تیری حفاظت میں، تیری نعمتوں سے فیض یاب ہوتے ہوئے، تیرے ذکر میں مشغول ہوکر، تیرے نام کے ساتھ مدد طلب کرتے ہوئے، تیری توفیق کے سائے میں اور تیری دی ہوئی قوت سے رواں دواں ہوکر صبح کی۔ (وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ) یعنی مذکورہ دعاؤں کو شام میں ادا کرے سو کہے: تیرے ہی زندگی دینے والے نام پر ہم زندہ ہوتے اور تیرے موت دینے والے نام پر ہم مرتے ہیں۔ ہمیں تیری ہی طرف اٹھ کر جانا ہے۔ اس دعا میں آئے ہوئے لفظ "النُّشُورُ" کے معنی ہیں، موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا اور جمع ہونے کے بعد الگ الگ ہونا۔ ہمارا حال تمام اوقات میں اسی روش پر قائم ہے۔ میں نہ اس سے الگ ہوں اور نہ جدا۔ اسی طرح جب آپ کے سامنے شام آتی، جو عصر کے بعد شروع ہوتی ہے، تو فرماتے : "اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وبكَ أصبحنا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ المَصِيْر۔" یعنی اے اللہ ! تیری حفاظت میں ہم نے شام کی اور تیرے ہی نام پر ہم زندہ ہوتے اور تیرے ہی نام پر ہم مرتے ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس دعا میں آئے ہوئے لفظ "المَصِيْر" کے معنی ہیں، دنیا میں لوٹنے کی جگہ اور آخرت کا انجام کار۔ پس تو ہی ہمیں زندگی دیتا ہے اور تو ہی موت دیتا ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راستوں ميں بیٹھنے سے پرہیز کرو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسولﷺ! ان مجلسوں کے بغیر تو چارہ نہیں کیوں کہ ہم انہی میں ہی ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم بیٹھنے پر مصر ہی ہو تو پھر راستے کو اس کا حق دو۔ صحابہ کرام نے سوال کیا کہ: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا، کسی کو ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، اچھی بات کی تلقین کرنا اور بری بات سے روکنا۔
متفق علیہنبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو راستوں میں بیٹھنے سے ڈرایا۔ وہ کہنے لگے کہ اس کے بغیر تو چارہ ہی نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اگر تم نہیں رکتے اور تمہارے بیٹھے بغیر کوئی چارہ نہیں تو پھر تمہارے اوپر واجب ہے کہ تم راستے کو اس کا حق دو۔ انہوں نے دریافت کیا کہ راستے کا حق کیا ہے؟۔ آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ راستے کا حق یہ ہے کہ وہ ان عورتوں سے اپنی نگاہیں پست رکھیں جو ان کے سامنے سے گزرتی ہیں، راہ گیروں کو قول و فعل کے ذریعے سے ایذاء نہ دیں، جو انہیں سلام کرے اس کے سلام کا جواب دیں، اچھی بات کی تلقین کریں اور اپنے سامنے جب کوئی برا کام ہوتے دیکھیں تو اس صورت میں ان پر واجب ہے کہ وہ اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کریں۔
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : "اللہ کے نبی ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : ”رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ“۔ (اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا )۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اکثر جامع ترین الفاظ میں دعا کیا کرتے تھے۔ اس طرح کی ایک دعا ہے : "اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔" اس دعا میں جہاں دنیا کی بھلائی جیسے وافر مقدار میں خوش گوار حلال روزی، نیک بیوی، آنکھ کی ٹھنڈک بننے والی اولاد، راحت، نفع بخش علم اور عمل صالح وغیرہ جیسی محبوب اور مباح چيزیں شامل ہیں، وہیں آخرت کی بھلائی جیسے قبر، حشر کے میدان اور جہنم کی سزاؤں سے سلامتی، اللہ کی خوش نودی سے سرفرازی، دائمی نعمتوں کا حصول اور رحمت والے رب کی قربت جیسی جيزیں بھی شامل ہیں۔
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا : "سید الاستغفار یہ ہے کہ تم کہو : اے اللہ ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں اپنے کیے ہوئے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیرے حضور تیری جانب سے ملنے والی نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں۔ ایسے ہی اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں۔ لہذا میرى مغرفت فرما، کیوں کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کى مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا : ”جس شخص نے کامل یقین کے ساتھ دن کے وقت اسے پڑھا اور اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کی موت ہوگئی، وہ جنتی ہے۔ اسی طرح جس نے رات کے وقت کامل یقین کے ساتھ اسے پڑھا اور صبح ہونے سے قبل ہی فوت ہو گیا، تو وہ بھی جنتی ہے۔“
رواه البخارياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ استغفار کے کچھ کلمات ہیں، جن میں سب سے افضل اور عظیم ترین کلمات یہ ہیں : "اے اللہ ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ میں اپنے کیے ہوئے اعمال کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیرے حضور تیری جانب سے ملنے والی نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں۔ ایسے ہی اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں۔ لہذا میرى مغفرت فرما، کیوں کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کى مغفرت کرنے والا نہیں ہے۔" ان کلمات میں بندہ اللہ کی وحدانیت اور اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ اس کا خالق اور معبود ہے۔ اس کا کوئی شریک نہيں ہے۔ وہ حتی المقدور اللہ سے کیے ہوئے ایمان اور اطاعت گزاری کے وعدے پر قائم ہے۔ کیوں کہ بندہ جتنی بھی عبادت کر لے، اللہ تعالی کے تمام اوامر کو انجام نہيں دے سکتا اور اس کی نعمتوں کا کما حقہ شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔ وہ اللہ کی بارگاہ میں پناہ لیتا ہے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے، کیوں کہ بندے کے کیے ہوئے برے کاموں سے پناہ وہی دیتا ہے۔ وہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا بھی اقرار و اعتراف کرتا ہے اور اپنے گناہوں اور معصیتوں کا بھی اقرار و اعتراف کرتا ہے۔ اس کے بعد اپنے رب سے دعا کرتا ہے کہ اس کے گناہوں کی پردہ پوشی کرے، اسے اپنے عفو و درگزر، فضل و کرم اور رحمت کی بنا پر اس کے گناہوں کے برے نتائج سے بچائے۔ کیوں کہ گناہوں کو بخشنے کا کام اللہ عز و جل کے علاوہ کوئی نہيں کر سکتا۔ پھر آپ نے بتایا کہ یہ صبح و شام کے اذکار میں سے ہے۔ جس نے اسے یقین کے ساتھ، معانی کو سمجھتے ہوئے اور ان پر ایمان لاتے ہوئے دن کے آغاز میں یعنی طلوع آفتاب سے زوال آفتاب کے درمیان کہا اور پھر مر گیا، تو جنت میں داخل ہوگا۔ اسی طرح جس نے اسے رات میں یعنی سورج غروب ہونے کے وقت سے فجر طلوع ہونے کے وقت کے درمیان کہا اور صبح ہونے سے پہلے مر گیا، وہ بھی جنت میں داخل ہوگا۔
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو گفتگو کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو ہنسائے۔ اس کے لئے ہلاکت ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں جھوٹ سے سختی سے ڈرایا گیا ہے اور اس شخص کے لئے ہلاکت کی وعید بیان کی گئی ہے جو از راہِ مزاح اور محض لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے۔ یہ بہت ہی بری بات ہے اور سختی کے ساتھ حرام ہے۔ یہ برے اخلاق میں سے ہے جس سے مومن کو اپنا دامن بچا کر رکھنا چاہیے اور اس سے دور رہنا چاہیے اور اپنی زبان کو ہر حال میں جھوٹ سے پاک رکھنا چاہیے، ماسوا ان صورتوں کے جن میں شارع کی طرف سے جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ جس طرح از راہِ مذاق جھوٹ بولنا حرام ہے، اسی طرح سننے والوں کے لیے اس کا سننا بھی حرام ہے اگر انھیں اس کے جھوٹ ہونے کا علم ہوجائے، بلکہ ان پر واجب ہوجاتا ہے کہ وہ اس کا انکار کریں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جب تک بندہ میرا ذکر کرتا رہتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر میں متحرک رہتے ہیں، میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - امام بخاری نے اسے صیغۂ جزم کے ساتھ تعلیقاً روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے اللہ اس کے قریب ہوتا ہے اور تمام امور میں اس کے ساتھ ہوتا ہے اور ان میں اسے توفیق و ہدایت دیتا ہے، اس کی مدد کرتا ہے اور اس کی دعا کو قبول کرتا ہے۔ مذکورہ حدیث کا مفہوم صحیح بخاری کی ایک حدیث میں آیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اللہ تعالی فرماتا ہے): ”میں اپنے بندے کے اس گمان کے مطابق ہوتا ہوں جیسا وہ میرے متعلق گمان رکھتا ہے۔ اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ اپنے دل میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں ایسی مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں جو ان سے بہتر ہے“۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے کوئی خوشبو پیش کی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے، اس لیے کہ وہ ہلکی پھلکی چیز ہے اور اس کی مہک خوشگوار ہوتی ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔جسے خوشبو پیش کی جائے یا بطور تحفہ دی جائے اسے چاہیے کہ وہ اسے قبول کر لے کیونکہ اس کے اٹھانے میں کوئی مشقت نہیں ہوتی اور اس پر مستزاد یہ کہ اس کی مہک خوشگوار بھی ہوتی ہے ۔