





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے پناہ مانگا کرو آزمائش کی مشقت، بدبختی کی پستی، برے خاتمے اور دشمن کے ہنسنے سے“۔ ایک روایت میں ہے، سفیان رحمہ اللہ نے کہا: مجھے شک ہے کہ میں نے ان میں سے ایک بات زیادہ بیان کی ہے۔ (معلوم نہیں وہ کون سی ہے)۔
متفق علیہیہ حدیث جوامع الکلم میں سے ہے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ نے چار چیزوں سے پناہ مانگی، اگر انسان ان چار چیزوں سے محفوظ رہا تو وہ دنیا و آخرت میں محفوظ رہے گا اور یہی حقیقی کامیابی ہے اور بڑی نجات ہے۔ جوامع الکلم ایسی باتوں کو کہتے ہیں جو کم لفظوں میں زیادہ معانی سمائے ہوں۔ آپ ﷺ نے چار چیزوں سے پناہ مانگی، وہ چار چیزیں درج ذیل ہیں: ”مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ“ یعنی مصیبتوں کی سختی اور مشقت سے (اللہ کی پناہ) اس لیے کہ جب مصیبت سخت ہو جائے، تو اللہ تعالیٰ کی مضبوط اور محکم تقدیر پر وہ اپنے آپ کو زد کوب سے نہیں بچا سکتا جس کی وجہ سے وہ دنیا اور آخرت میں وہ خسارہ اٹھاتا ہے۔ ”وَدَرَكِ الشَّقَاءِ“ یعنی بدبختی کا لاحق ہونا۔ یہ عام ہے اس میں آخرت کی بدبختی ترجیحی بنیاد پر شامل ہے جس کے بعد سُکھ نہیں بخلافِ دنیا کی بدبختی کے کہ دن تو ادلتے بدلتے رہتے ہیں کہ کبھی کوئی دن آپ کی خوشی کا ہوگا اور دوسرا دن بدبختی کا۔ ”وَسُوءِ الْقَضَاءِ“ یعنی جو مقدر میں ہو وہ ہوگا، جو انسان کو ناخوش حالات میں ڈال دے۔ یہ دنیا کے تمام امور کو عام ہے جیسے مال، اولاد، صحت اور بیوی وغیرہ۔ اسی طرح اُخروی امور کو بھی شامل ہے۔ یہاں پر قضاء سے مُراد حاصل شدہ امر ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور حکم سب کے سب خیر ہیں۔ ”وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ“ دُشمنوں کی ہنسی سے یعنی جس سے انسان متاثر ہوتا ہے جیسے دشمن کا تمہیں مصیبت میں دیکھ کر خوش ہونا، دینی دشمنوں کا اس حدیث میں داخل ہونا حقیقی ہے اور دنیا کے دشمنوں کا داخل ہونا ثانوی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لیے اور تین کا کھانا چار کے لیے کافی ہوتا ہے“۔ صحیح مسلم کی حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی نبی ﷺ نے فرمایا: ”ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے، دو کا کھانا چار کے لیے اور چار کا کھانا آٹھ آدمیوں کے لیے کافی ہوتا ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہحدیث میں کھانے کے معاملے میں ایک دوسرے سے ہمدردی کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس بات کا بیان ہے کہ کھانا اگرچہ کم ہی کیوں نہ ہو یہ پورا آجاتا ہے اور اس میں ایسی برکت پیدا ہوجاتی ہے جس سے سب حاضرین بہرہ مند ہوتے ہیں۔ یہ نبی ﷺ کی طرف سے ایثار کی ترغیب ہے۔ یعنی اگر آپ اپنا کھانا لائیں جس کے بارے میں آپ کا خیال ہو کہ وہ آپ کے لیے کافی ہے اور اسی اثناء میں کوئی اور آدمی آجائے تو بخل سے کام نہ لیں کہ یوں سوچنے لگ جائیں کہ یہ صرف میرا کھانا ہے بلکہ اسے بھی اس کھانے میں شریک کرلیں جو دونوں کے لیے کافی ہوجائے گا۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعا مانگا کرتے تھے ”اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ شَرِّ الْغِنَى، وَالْفَقْرِ“ اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے، آگ کے عذاب سے نیز مال داری اور محتاجی کے شر سے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔نبیٔ مختار ﷺ چار امور سے پناہ مانگا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں آگ کے فتنے سے“ یعنی وہ فتنہ جو آگ کی طرف لے جانے والا ہو، یہ بھی احتمال ہے کہ آگ کے فتنے سے مُراد زجر اور توبیخ کے لیے جہنم کے داروغے کا وہ سوال کرنا ہو جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں اشارہ کیا گیا ہے: ﴿كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ﴾ ”کہ جب کبھی اس میں کوئی گروه ڈاﻻ جائے گا اس سے جہنم کے داروغے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس ڈرانے واﻻ کوئی نہیں آیا تھا؟“۔ ”آگ کے عذاب سے“ یعنی میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں جہنمیوں میں سے ہو جاؤں۔ جہنمی لوگ کافر ہیں جنہیں عذاب دیا جائے گا۔ جہاں تک موحد لوگوں کا تعلق ہے تو انہیں آگ سے عذاب نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کی تادیب و تہذیب کی جائے گی۔ ”مالداری کے شر سے“ یعنی اکڑ، سرکشی، حرام طریقے سے مال کا حصول، نافرمانی میں اس کا خرچ کرنا، مال و منصب پر فخر و نمود، مال کو جمع کرنے کی حرص، اسے حلال طریقہ سے حاصل نہیں کرنا اور جہاں خرچ کرنا ہے وہاں مال خرچ کرنے سے روکے رکھنا ہے۔ ”فقیری اور محتاجی کے شر سے“ یعنی وہ محتاجی ہے جس کے ساتھ صبر اور تقویٰ نہ ہو اور اپنے فقر کی وجہ سے وہ ایسی چیزوں میں پھنس جائے جو دیندار اور صاحبِ مروّت لوگوں کے شایانِ شان نہیں۔ ساتھ ہی مال داروں سے حسد کرنا، ان کے مال کی لالچ رکھنا، اس طرح اپنے آپ کو گرا دینا جو عزت و دین کے منافی ہے، اللہ کی تقسیم پر راضی نہ ہونا اور اس کے علاوہ وہ ساری چیزیں جن کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سفر پر جانا چاہتا ہوں چنانچہ مجھے کوئی نصیحت فرما دیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا تقوی اختیار کرو اور ہر بلند جگہ پر اللہُ أکبر کہو۔ جب وہ شخص واپس ہو لیا تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ! اس کے لیے مسافت کو لپیٹ دے اور اس کے لیے سفر آسان کردے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ایک شخص نے سفر کا ارادہ کیا اور (نبی کریم ﷺ سے) کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی نصیحت فرما دیں۔ آپ ﷺ نے اسے نصیحت کی کہ وہ اللہ عز و جل کا تقوی اختیار کرو اور ہر بلند اور اونچی جگہ پر ’’اللہُ اکبر‘‘ کہے۔ جب وہ شخص واپس ہوا تو نبی ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی کہ اسے چستی حاصل ہو اور اس کی سواری اچھے سے اس طرح چلے کہ آرام سے اُسے منزل تک پہنچا دے اور یہ کہ اللہ تکلیف دہ اشیاء کو اس سے دور کر کے اس کا سفر اس کے لیے آسان کردے۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو اور قیدی کو آزاد کراؤ"۔
رواه البخارياللہ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ حق ہے کہ بھوکے کو کھانا کھلائے، مریض کی عیادت کرے اور قیدی کو رہا کرائے۔
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے، جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پر ہے“، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور آسمان اور زمین والے یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں اس شخص کے لیے دعائيں کرتی ہیں، جو نیکی و بھلائی کی تعلیم دیتا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں علم اور اس شرعی علوم کے حامل شخص کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جو فرض عبادات کی ادائیگی کے ساتھ حتی المقدور نوافل کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ ”عابد“ یعنی خود کو عبادت کے لیے وقف کردینے والے پر۔ ”جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی شخص پر“ یعنی عالم کا فضل و شرف، عابد کے مقابلے میں ویسا ہی ہے، جیسا رسول اللہ ﷺ کا فضل و شرف ایک ادنی صحابی کے مقابلے میں۔ ادنی صحابی رسول، مراد لینے کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت آپ کےاس قول”ادناکم“ کے مخاطب صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم ہی تھے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:”یقینا اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور آسمانوں اور زمین میں بسنے والے“ یعنی زمین پر رہنے والے تمام انسان، جنات اور تمام حیوانات، یہاں تک کہ بلوں یعنی سوراخوں میں رہنے والی چیونٹیاں اور مچھلیاں بھی لوگوں کو خیر کی تعلیم دینے والوں کے حق میں خیر و برکت کی دعائیں کرتی ہیں۔ یہاں خیر سے مراد علم دین اور وہ چیزیں ہیں، جن سے دنیا و آخرت کی نجات وابستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے صلاۃ سے مراد، اس کے مقرب فرشتوں کے گروہ کے روبرو، بندے کی تعریف و ستائش ہے اور فرشتوں کی جانب سے صلاۃ سے مراد بندے کے حق میں استغفار ہے۔ اس شخص سے بڑھ کر کسی کا کوئی مقام نہیں ہوسکتا، جس کے حق میں روزقیامت تک فرشتے اور تمام مخلوقات، استغفار اور دعا میں مصروف ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے اجر وثواب کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا۔
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور حفصہ بنت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال مبارک کے نیچے رکھتے اور پھر کہتے: ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ اے اللہ! مجھے اس دن اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ایسا تین دفعہ کہا کرتے تھے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں نبی ﷺ کی سنتوں میں سے ایک فعلی اور قولی سنت کا بیان ہے اور دونوں سنتیں نیند سے متعلق سنتوں میں سے ہیں۔فعلی سنت: اس سے مراد وہ ہیئت ہے جس پر نبی ﷺ سویا کرتے تھے۔حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نبی ﷺ کے سونے کے انداز کے بارے میں بتایا کہ آپ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار مبارک کے نیچے رکھ لیا کرتے تھے۔ اس میں آپ ﷺ کے دائیں پہلو پر سونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ جب اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار تلے رکھتے تھے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ لامحالہ اپنے دائیں پہلو پر سوتے تھے اور دیگر روایات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں(کہ آپ ﷺ دائیں پہلو پر سویا کرتے تھے)۔ تاہم اس حدیث میں ایک بات زائد ہے کہ آپ ﷺ رخسار تلے اپنا ہاتھ رکھا کرتے تھے۔چنانچہ جو شخص ایسا کرسکتا ہو وہ آپ ﷺ کی پیروی میں ایسا کرے اور جو شخص دائیں پہلو کے بل لیٹنے پر اکتفاء کر لے تو یہ بھی اس کے لیے کافی ہو گا کیونکہ بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ ﷺ اپنے دائیں پہلو پر سویا کرتے تھے اور ان میں رخسار کے نیچے ہاتھ رکھنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ شاید نبی ﷺ ایسا بعض اوقات کیا کرتے تھے۔ اس کی طرف اشارہ اس بات سے ہوتا ہے کہ کچھ صحابہ نے اسے ذکر کیا ہے اور بعض نے اسے ذکر نہیں کیا۔ تاہم تمام روایات کا دائیں پہلو کے بل سونے پر اتفاق ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی عین سنت ہے۔ ”پھر آپ ﷺ فرماتے“ یہاں ثم کا لفظ ترتیب اور تراخی پر دلالت کرتا ہے اور یہ اس شخص کی حالت سے مناسبت رکھتا ہے جس کا سونے کا ارادہ ہو۔ ایسا شخص پہلے اپنے داہنے پہلو پر لیٹے گا اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں گال کے نیچے رکھے گا پھر اس کے بعد دعا پڑھے گا۔ یہ شرط نہیں ہے کہ انسان لیٹنے کے فورا بعد یہ دعا کرے کیونکہ ”ثم“ کا لفظ تاخیر پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ اگر انسان اپنی بیوی کے ساتھ بات چیت کرتا رہے اور پھر اس کے بعد دعا پڑھے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ”اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ یعنی قیامت کے دن مجھے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ لفظ ”قنی“ میں اللہ کے فضل و احسان کی بدولت حفاظت کا معنی ہے یا یہ لفظ بندے کو ایسے فعل کی توفیق دینے پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے اور عذاب سے نجات مل جاتی ہے۔ کیونکہ اصل عموم ہی ہوتا ہے اور تخصیص کی طرف صرف اسی وقت جایا جاتا ہے جب کوئی دلیل ہو اور جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں یہ لفظ دونوں ہی معانی کا احاطہ کرتا ہے۔ " عذابك "۔ یہ عذاب کی تمام اقسام کو شامل ہے۔ اس میں جہنم کا عذاب بدرجہ اول داخل ہے۔ تاہم اس دن کو اللہ نے القارعة، الصاخة، الطامة اور القیامۃ جیسے ناموں سے موسوم کیا ہے۔ اور یہ بات اس کی ہولناکی اور سختی پر دلالت کرتی ہے چنانچہ مناسب یہ ہے کہ اللہ سے اس دن کے عذاب سے نجات کی دعا کی جائے۔ ”عذابك“ اس میں نبی ﷺ نے عذاب کی نسبت اللہ تعالی کی طرف کی تاکہ اس سے اس کی ہولناکی، شدت او عظمت کی نشاندہی ہو سکے۔ اسی طرح اس میں سپردگی کا معنی بھی ہے کیونکہ بندوں میں صرف اللہ ہی کا اختیارِ تصرف چلتا ہے اور اس عذاب پر اس غالب و مالک کا تصرف ہے۔ لفظ دونوں ہی معانی (عذاب کی سختی اورسپردگی) کو شامل ہے۔ اس لطیف مناسبت پر غور کریں جو نیند جو کہ موت کی بہن یا چھوٹی موت ہے اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے مابین ہے۔ حدیث میں شے (موت) اور اس کے تابع (بعث بعد الموت) کے مابین بہت ہی لطیف اور باریک قسم کی مناسبت کا بیان ہے اور یہ بات نبی ﷺ کے الفاظ کی عظمت و جمال کی دلیل ہے۔
طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب چاند دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: ”اللّهمَّ أهِلَّهُ عليْنا بالأمْن والإيمان، وَالسَّلامَةِ وَالإسلامِ، ربِّي وربُّكَ اللهُ، هِلالُ رُشْدٍ وخيرٍ“ اے اللہ! اس چاند کو ہم پر، امن اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع فرما۔ (اے چاند!) میرا اور تیرا رب اللہ ہی ہے۔ اے اللہ! یہ ہدایت اور بھلائی کا چاند ہو۔
اسے ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ نبی ﷺ جب کبھی پہلی یا دوسری یا تیسری رات کا چاند دیکھتے، تو اس اہم دعا کو پڑھتے، جس میں اللہ سے یہ مانگا گیا ہے کہ وہ اس چاند کو اس طرح طلوع فرمائے کہ دینی اور دنیوی تشویش ناک امور سے امن و امان نصیب ہو، ایمان قائم و دائم رہے اور ان تمام امور کا خاتمہ ہوجائے جو ایمان میں کج روی کا باعث بنیں، نیز اس میں یہ بھی مانگا گیا ہے کہ سلامتی اور اسلام کی دولت سے نوازدے۔ امن و سلامتی کے ذکر سے ہر قسم کے ضرر کو دور کرنے کی دعا اور ایمان و اسلام کے ذکر سے ہر نفع بخش چیز کے حصول کی جانب توجہ مبذول کرائی جارہی ہے۔ پھر دعا کے آخر میں چاند سے خطاب کرتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ ”میرا اور تیرا پروردگار ایک اللہ ہی ہے“، جس میں اس بات کا اشارہ پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ، اپنی مخلوق کی تدبیر میں غیر اللہ کی شراکت و ساجھے داری کے تمام عیوب و نقائص سے منزہ و پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا مانگی جارہی ہے کہ یہ چاند ہدایت اور بھلائی کا باعث بنے۔
ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ایک تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ ﷺ اٹھتے اور فرماتے: اے لوگو! اللہ کا ذکر کرو۔ بھونچال آیا ہی چاہتا ہے، اس کے پیچھے ایک اور بھونچال آئے گا۔موت اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ آنے کے لیے تیار کھڑی ہے، موت اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ آنے کے لیے تیار کھڑی ہے۔ میں نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں آپ پر کثرت کے ساتھ درود بھیجتا ہوں۔ میں اپنی دعا کا کتنا حصہ آپ پر درود کے لیے مخصوص کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جتنا تم چاہو۔ میں نے پوچھا: چوتھائی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جتنا تم چاہو، اگر تم زیادہ کر دو تو یہ تمہارے لیے اچھا ہو گا۔ میں نے پوچھا: نصف؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: جتنا تم چاہو۔ اگر تم زیادہ کر دو تو تمہارے لیے بہتر ہو گا۔ میں نے پوچھا: دو تہائی؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: جتنا تم چاہو۔ اگر تم زیادہ کر دو تو تمہارے لیے بہتر ہو گا۔ میں نے پوچھا کہ: میں اپنی پوری دعا ہی آپ پر درود کے لیے مخصوص کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (اگر تم ایسا کرو گے ) تو پھر یہ تمہارے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوجائے گا اور تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔حدیث کے آغاز میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ رات کے تہائی حصے میں جب اٹھتے تو اپنی امت کو غفلت سے بیدار کرنے کے لیے اور انہیں اس عمل کے ترغیب دینے کے لیے جو اللہ کی خوشنودی اور اس کی رحمت کاملہ کا باعث ہوتا ہے فرماتے: اے لوگو! اللہ کا ذکر کرو۔یعنی دل و زبان سے اللہ کا ذکر کرو تاکہ ذکر کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ عمل خیر کرنے کی انگیخت ملے اوربرے اعمال چھوٹ جائیں۔ حدیث میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ دعا مانگنے والا بعض اوقات اپنے لیے دعا کرتا ہے۔ چنانچہ اس کے لیے ممکن ہے کہ وہ اپنی دعا کا تہائی یا نصف حصہ نبی ﷺ پر درود بھیجنے کے لیے مخصوص کر دے یا پھر اپنی ساری دعا ہی کو نبی ﷺ کے لیے درود بنا دے۔ مثلا دعا کرنے کے بجائے آپ ﷺ پر درود بھیجے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: جو آپ ﷺ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اس پر دس دفعہ رحمت کا نزول فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم)۔ اس کے اس درود بھیجنے کا اجر اس کے لیے کافی ہوجائے گا۔ اسی لیے فرمایا: ”يَكفِيْ همَّك ويَغفِر ذنبَك“ یعنی تم اس ضرر رساں شے کو دور کرنا چاہتے ہو جو غم زدہ کرتی ہے اور گناہ کا باعث ہوتی ہے۔ جب تم اپنی دعا کے بجائے میرے اوپر درود بھیجو گے تو تمہیں تمہارا مقصد حاصل ہوجائے گا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس حدیث کا مقصد آپ ﷺ کو اپنی دعا میں شریک کرنا ہو۔ گویا کہ ان کا کہنا تھا کہ: میں جب بھی دعا کروں گا آپ پر درود بھیجوں گا۔ اس میں اس معنی پر دلالت نہیں ہے کہ دعا کے بجائے صرف درود ہی پر اکتفاء کیا جائے بلکہ تمام نصوص پر عمل کرتے ہوئے دعا اور درود دونوں کو جمع کیا جائے گا۔