





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چلتے ہوئے کھا لیا کرتے تھے اور کھڑے ہی پانی پی لیا کرتے تھے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا فعل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کھڑے ہو کر پانی پینا جائز ہے؛ کیوں کہ آپ ﷺ نے اس سے منع نہیں فرمایا۔ تاہم کھانے پینے کے معاملے میں افضل یہی ہے کہ انسان بیٹھ کر کھائے پیے؛ کیوں کہ زیادہ تر نبی ﷺ کا یہی طریقہ تھا۔ کھڑے ہو کر پینے کے بارے میں تو نبی ﷺ کی حدیث بھی آئی ہے کہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا، لیکن یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ممانعت حرمت کے بیان کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس سے بس یہ وضاحت ہوتی ہے کہ ایسا کرنا خلاف اولی ہے، بایں معنی کہ زیادہ بہتر اور زیادہ درست تو یہی ہے کہ انسان بیٹھ کر کھائے اور پیے، تاہم اگر وہ کھڑے کھڑے کچھ کھا پی لے، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
ابوجری رضی اللہ عنہ جن کا نام جابر بن سلیم ہے کہتے ہیں کہ (جب میں مدینہ آیا تو) میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے کو قبول کرتے ہیں جب بھی وہ کوئی بات کہتا ہے لوگ اسی کو تسلیم کرتے ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ (راوی کہتے ہیں کہ) میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دو مرتبہ یہ کہا ’علیک السلام يا رسول اللہ‘۔ رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر کہا کہ ’علیک السلام‘ نہ کہو، یہ مُردوں کا سلام ہے اس کے بجائے ’السلام علیک‘ کہو! اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ کیا آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں اللہ کا رسول ہوں وہ اللہ کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف و مصیبت پہنچے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہاری تکلیف و مصیبت کو دور کرے، اگر تمہیں قحط سالی اپنی لپیٹ میں لے لے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہارے لیے سبزہ (غلہ وغیرہ) اگادے اور اگر تم کسی بے آب و گیاہ زمین میں، یا کسی ایسے جنگل میں ہو جو آبادی سے دور ہو اور تم اپنی سواری گم کر بیٹھو اور پھر تم اسے پکارو تو وہ تمہاری سواری تمہارے پاس واپس بھیج دے۔ جابر کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت فرما دیجیے! آپ ﷺ نے فرمایا کسی کو برا بھلا نہ کہو۔ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے کسی کو برابھلا نہیں کہا نہ آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو اور نہ بکری کو۔ کسی بھی نیکی کو حقیر نہ جانو اور جب تم اپنے کسی بھائی سے ملاقات کرو تو خندہ پیشانی اختیار کرو کیونکہ یہ بھی ایک نیکی ہے اور تم اپنی ازار (یعنی پاجامہ، لنگی وغیرہ) کو نصف پنڈلی تک اونچی رکھو، اگر اتنی اونچی رکھنا تمہیں پسند نہ ہو تو ٹخنوں تک رکھو مگر (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے سے بچو! اس لیے کہ (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانا تکبر کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔ نیز اگر کوئی شخص تمہیں گالی دے اور تمہارے کسی ایسے عیب پر تمہیں عار دلائے جسے وہ جانتا ہے تو تم انتقاما اس کے کسی عیب پر جسے تم جانتے ہو اسے عار نہ دلاؤ کیونکہ اس کا گناہ اسے ہی ملے گا۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے پاس لوگ آتے اور وہ جو کچھ وہ کہتا اس پر عمل کرتے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ۔ اس پر میں کہنے لگا کہ ’عليك السلام يا رسول الله، عليك السلام يا رسول الله‘‘۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علیک السلام نہ کہو۔ یہ تو مردہ لوگوں کا سلام ہے ۔ اس کے بجائے ’السلام علیک‘ کہو۔ میں نے پوچھا: کیا آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ ہاں ۔ یعنی میں ہی ہوں جسے اللہ نے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ وہ اللہ کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف و مصیبت پہنچے اور تم اسے عاجزی و لاچاری کے ساتھ پکارو تو وہ تم سے وہ مصیبت دور کردے۔اور اگرخشک سالی آن پڑے اور زمین سے کچھ پیدا نہ ہو اور تم اسے پکارو تو وہ اس میں تہمارے لیے غلہ اگا کر بڑا کردے ۔ اگر تم کسی ایسی زمین میں ہو جہاں نہ پانی ہے اور نہ کسی انسان کا نام و نشان اور تم اپنی سواری گم کر بیٹھو اور پھر تم اسے پکارو تو وہ تمہاری سواری کو تم تک لوٹا دے ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مجھے کوئی ایسی نصیحت فرما دیں جو میرے لیے سود مند ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’کسی کو برا بھلا مت کہو۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس کے بعد کسی کو برا بھلا نہیں کہا۔ نہ کسی آزاد انسان کو اور نہ کسی غلام کو ۔ نہ اونٹ کو اور نہ بکری کو ۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کسی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر اسے نہ چھوڑو۔ اورچہرے کی بشاشت کے ساتھ اپنے بھائی سے ملنے کو ہیچ نہ جانو کیونکہ یہ بھی نیکی ہے۔ اپنی ازار اور دیگر لباس کو نصف پنڈلی تک اونچا رکھو۔ اگر ایسا نہ کرسکو تو پھر ٹخنوں تک اونچا رکھو۔ ٹخنوں اور نصف پنڈلی کے درمیان رکھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اور اپنی ازار کو (ٹخنوں سے نیچے) لٹکانے سے پرہیز کرو کیونکہ یہ تکبر اور خودپسندی کی علامت ہے اور اللہ کو یہ پسند نہیں ۔اگر کوئی تمہیں برا بھلا کہے یا پھر تمہیں تمہارے گناہ اور برے افعال یاد دلا کر عار دلائے تو تم اس کی برائیوں کے ساتھ اسے عار مت دلاو۔ کیونکہ روز قیامت اس کا وبال اسی پر ہوگا اور ممکن ہے کہ اس کا کچھ حصہ دنیا میں بھی اس پر آجائے۔
عبد اللہ بن عباس، انس بن مالک، عبد اللہ بن زبیر اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر ابنِ آدم کے پاس سونے کی ایک وادی ہو، تو چاہے گا کہ اس کے پاس دو وادیاں ہوں اور اس کے منہ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی اور اللہ توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول کرتا ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اگر ابن آدم کو سونے سے بھری ایک وادی مل جائے تو اپنی طبعی لالچ کی بنا پر وہ خواہش کرے گا کہ اس کے پاس دو اور وادیاں ہوں اور یہ کہ تا دم موت وہ دنیا کی چاہت میں گرفتار رہتا ہے یہاں تک کہ مر جاتا ہے اور اس کا پیٹ اس کی قبر کی مٹی سے بھر جاتا ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جنگ کرتے تھے تو فرماتے : ”اللَّهُمَّ أنْتَ عَضْديِ وَنَصِيرِي، بِكَ أَحُولُ، وَبِكَ أَصُولُ، وَبِكَ أُقَاتِلُ“ اے اللہ! تو ہی میرا بازو اور مددگار ہے، تیری ہی مدد سے میں چلتا پھرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے میں حملہ کرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے میں قتال کرتا ہوں۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔رسول اللہﷺ جب کسی جنگ کا ارادہ فرماتے یا پھر جنگ شروع کرتے تو ایسی بات کہتے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’اے اللہ ! تو ہی میرا معاون و مددگار ہے۔ تیری ہی بدولت میں ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہوتا ہوں۔ اور محض تیری مدد سے میں دشمنان دین پر حملہ آور ہوتا ہوں اور تیری ہی مدد سے میں ان سے لڑتا ہوں‘۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں، یا (فرمایا) کم ہی رد کی جاتی ہیں، اذان کے وقت کی دعا اور لڑائی کے وقت کی دعا جب کہ دونوں فریق ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جائیں“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔اس حديث ميں جہاد فى سبيل اللہ کى فضيلت کا بيان ہے کہ اللہ تعالیٰ معرکۂ کار زار ميں مجاہد کى دعا كو شرفِ قبوليت سے نوازتا ہے، اسى طرح اس حديث ميں اذان کى فضيلت کا بھى بيان ہے کہ اللہ تعالیٰ اذان سے لے کر اقامت ہونے تک مسلمان کى دعا قبول فرماتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم سے پہلی امتوں میں کچھ الہامی یافتہ لوگ ہوتے تھے، اگر میری امت میں بھی کوئی الہامی یافتہ ہوتا تو وہ عمر ہوتے“۔
متفق علیہابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی منقبت بیان کر رہے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا: ”تم سے پہلی امتوں میں کچھ الہامی یافتہ لوگ ہوتے تھے“ مُحَدَّثُون یعنی درست بات کے الہام یافتہ لوگ، ایسے لوگ کہ جو کچھ وہ کہتے وہ بات حق کے موافق ہوتی، یہ اللہ تعالی کی بندے کے لیے ایک کرامت ہے کہ انسان کوئی بات کہے یا کوئی فتوی دے یا کوئی حکم بیان کرے اور بعد میں اس کے متعلق یہ معلوم ہو کہ وہ سچ اور حق کے مطابق بات ہے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے زیادہ حق کی موافقت کرنے والے تھے۔ ”اگر میری امت میں بھی کوئی“ اس بات میں کوئی پس پیش یا تردد نہیں بلکہ یہ تاکید کے طور پر بیان کی گئی ہے، امت مسلمہ سب سے افضل اور باکمال امت ہے، پس جب سابقہ امتوں میں اس طرح کے لوگ پائے گئے تو بدرجہ اولی اس امت میں پائے جائیں گے۔ انسان جتنا ایمان باللہ میں مضبوط رہے گا، طاعت وفرمانبرداری میں جتنا اتم ہوگا، اتنا ہی اسے اللہ تعالی اس کے ایمان، علم اور عمل صالح کے بقدر حق کی توفیق سے نوازے گا۔ تم دیکھو گے کہ وہ کوئی عمل کرتا رہے گا جس کے متعلق اسے یہ گماہ ہوگا کہ وہ صحیح ہے حالانکہ اس کے پاس اس عمل پر قرآن وحدیث سے کوئی دلیل نہیں ہوگی، لیکن جب تم (اس عمل کے متعلق کسی سے) رجوع کرو گے یا استفسار کرو گے تو تمہیں پتہ چلے گا کہ اس کا وہ عمل قرآن وحدیث کے مطابق ہی ہے، یہ کرامات میں سے ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ ہی کی وہ شخصیت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کے بارے میں کہا کہ اگر کوئی الہام یافتہ شخصیت ہے تو وہ عمر رضی اللہ عنہ کی ہے۔
قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرماتے: ”اے اللہ! مجھے برے اخلاق، برے اعمال، بری خواہشات اور بری بیماریوں سے بچا“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں بہت ہی بہترین دعائیں مذکور ہیں جنہیں نبی ﷺ مانگا کرتے تھے اور وہ یہ کہ اللہ تعالی آپ ﷺ کو چار چیزوں سے دور رکھے: اول: مذموم اور برے اخلاق دوم: گناہ سوم: مہلک خواہشات جن کی طرف نفوس راغب ہوتے ہیں۔ چہارم: دائمی ناقابل علاج بیماریاں۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم تین آدمی ساتھ رہو تو تم میں سے دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں یہاں تک کہ تم دیگر لوگوں کے ساتھ گھل مل جاؤ، کیونکہ یہ چیز اسے رنجیدہ کر دے گی“۔
متفق علیہمذہب اسلام اپنے ماننے والوں کے لئے اس بات کو لازمی قرار دیتا ہےکہ مجلس کے آداب کا خیال رکھا جائے اچھی گفتگو ہو تاکہ مجلس میں کوئی شکستہ خاطرنہ ہو، اور ان تمام چیزوں سے دور رہنے کی تعلیم دیتا ہے جو کسی مسلمان کے ساتھ بد سلوکی، اس کے لیے خوف اور بد گمانی کا سبب بنیں، اور انہیں میں سےایک یہ بھی ہے کہ جب تین آدمی ایک ساتھ ہوں اور ان میں سے دو آپس میں تیسرے کو چھوڑ کر کانا پھوسی کریں تو یہ چیز تیسرے کے ساتھ بد سلوکی ہےاور یہ اسے رنجیدہ کر دے گی اور اسے اس بات کا احساس دلائے گی کہ وہ ان دونوں کے ساتھ گفتگو کے قابل نہیں۔ ساتھ ہی اسے اکیلاپن اور تنہائی کا احساس دلائے گی۔ اسی لیے شریعت اسلا میہ نے اس قسم کی سرگوشی سے روکا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو دیکھو جو تم سے کم تر ہو، اس کو مت دیکھو جو تم سے برتر ہو، اس طرح زیادہ مناسب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمت کو حقیر نہ جانو گے“۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔یہ حدیث فائدہ بخش وصیت اور مختلف بھلائیوں کی جامع گفتگو پر مشتمل ہے اور اس میں اس منہجِ سلیم کا بیان ہے، جسے ایک مسلمان اس زندگی میں اختیار کرتا ہے۔ اگر لوگ اس وصیت کو اپنا لیں، تو صابر وشاکر اور خوش و خرم زندگی گزاریں گے۔ حدیث میں دو وصیتوں کا بیان ہے: پہلی وصیت: یہ کہ انسان دنیوی امور میں اپنے سے کم تر اور کم پونجی والے پر نگاہ ڈالے۔ دوسری وصیت: دنیوی امور میں اپنے سے بر تر کی طرف نہ دیکھے۔ جس نے ایسا کیا، اسے دلی راحت وخوشی اورخوش گوار زندگی حاصل ہوگی۔ اللہ کی نعمت کا احساس ہو گا، جس پر وہ شکر گذاری کرے گا اور عاجزی وانکساری کو اپنائے گا۔ یہ حدیث دنیوی امور کے لیے خاص ہے۔ رہا آخرت کا معاملہ تو اس سلسلے میں آدمی کو اپنے سے برتر کی طرف دیکھنا چاہیے؛ تاکہ وہ اس کی اقتدا و پیروی کرسکے، اس کی اپنی کمیاں واضح ہوں اور مزید اطاعت و عبادت کی ترغیب ملے۔