





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، جن کے ساتھ میں صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ بھلائی کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برا رویہ رکھتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ تحمل سے کام لیتا ہوں اور وہ میرے ساتھ جہالت سے پیش آتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر تم ویسے ہی ہو، جیسا تم نے بتایا ہے، تو گویا تم انھیں گرم گرم راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اس حالت پر رہو گے، اللہ کی طرف سے تمھارے ساتھ ایک مددگار متعین رہے گا"۔
رواه مسلمایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے یہاں آکر شکایت کی کہ اس کے کچھ رشتے دار ہيں، جن کے ساتھ وہ اچھا سلوک کرتا ہے اور وہ اس کے ساتھ برا سلوک کرتے ہيں۔ وہ رشتہ جوڑتا ہے اور اس کے رشتے دار کاٹتے ہيں۔ وہ بھلا کرتا ہے اور اس کے رشتے دار برا کرتے ہيں۔ وہ بردباری دکھاتا ہے اور درگزر سے کام لیتا ہے اور اس کے رشتے دار جہالت آمیز برتاؤ کرتے ہيں۔ ایسے میں اس کی جانب سے صلہ رحمی کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے یا نہیں؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر تیری بات درست ہے، تو تم انھیں خود ان کی نظر میں رسوا اور ذلیل کر رہے ہو گویا کہ تو انھیں گرم راکھ کھلا رہا ہے۔ کیوں کہ تم کثرت سے ان پر احسان کر رہے ہو اور وہ اپنے تئیں بد عملی کر رہے ہیں۔ جب تک تو ان پر احسان کرنے کی اپنی اس روش پر قائم رہے گا اور وہ تیرے ساتھ بدسلوکی کی اپنی روش پر قائم رہيں گے، اللہ کی جانب سے ان کے خلاف ایک معاون اور تجھے ان کی ایذا رسانیوں سے بچانے کے لیے ایک محافظ تیرے ساتھ لگا رہے گا۔
مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر(نكال كر) دیکھے کہ وه سمندر كا کتنا پانی اپنے ساتھ لائی ہے!“
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔مفہوم حدیث: اگر آپ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حقیقت کو جاننا چاہتے ہیں تو اپنی انگلی کو سمندر میں ڈال کر اٹھائیں اور پھر دیکھیں کہ وہ کتنا پانی واپس لے کر آتی ہے؟ سمندر کے مقابلے میں، وہ اپنے ساتھ کچھ بھی واپس لے کر نہیں آئے گی۔ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حقیقت یہی ہے ۔ دنیا کے قلیل المدت ہونے اور اس کی لذتوں کے فانی ہونے کی آخرت کے دوام اور اس کی لذتوں اور نعمتوں کی ابدیت کے ساتھ وہی نسبت ہے، جو انگلی میں لگ جانے والے پانی کی نسبت بقیہ سمندر کے ساتھ ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ﴿فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ﴾ ”سنو! دنیا کی زندگی تو آخرت کے مقابلے میں کچھ یونہی سی ہے“۔ مخلوق کو دنیا کی جو کچھ بھی لذتیں اور نعمتیں دی گئی ہیں، ان سے بندہ ایک مختصر وقت کے لیے لطف اندوز ہوتا ہے جو مکدرات سے بھرا ہوتا ہے۔ فخر اور ریاکاری کے لیے انسان تھوڑے عرصے کے لیے ان سے زیب و زینت اختیار کرتا ہے، پھر یہ سب کچھ جلد ہی فنا ہو جاتا ہے اور محض حسرت و ندامت باقی رہ جاتی ہے: ﴿وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا ۚ وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ﴾ ”اور تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وه صرف دنیوی زندگی کا سامان اور اسی کی رونق ہے، ہاں اللہ کے پاس جو ہے وه بہت ہی بہتر اور دیرپا ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے؟“ اللہ کے پاس جو دائمی نعمتیں اور خوشگوار زندگی، محلات اور خوشیاں ہیں وہ اپنی کیفیت و مقدار کے اعتبار سے زیادہ بہتر اور زیادہ پائیدار اور ہمیشہ رہنے والی ہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جو لوگ کسی مجلس سے اٹھیں اور اس مجلس ميں انہوں نے اللہ کا ذکر نہ کیا ہو، تو ان کا وہاں سے اٹھنا ایسے ہے، جیسے وہ مردہ گدھے کے پاس سے اٹھے ہوں اور یہ مجلس (روزِ قیامت) ان کے لیے حسرت کا سامان ہو گی"۔
رواه أبو داوداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب کچھ لوگ کسی جگہ میں بیٹھتے ہیں اور اللہ کا ذکر کیے بغیر وہاں سے کھڑے ہو جاتے ہيں، تو وہ ان لوگوں کی طرح کھڑے ہوتے ہيں، جو کسی مرے ہوئے گندے اور بدبودار گدھے کے پاس جمع ہوئے ہوں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ بات میں مشغول ہو گئے اور اللہ کے ذکر سے غافل ہو گئے۔ اس طرح کی مجلس ان کے لیے قیامت کے دن حسرت، ندامت اور گھاٹے کا سودا ثابت ہوگی۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ مدینے کے ایک حرے (کالے پتھر والی زمین) پر چلا جا رہا تھا کہ ہمارے سامنے احد پہاڑ آگيا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوذر! میں نے جواب دیا: میں حاضر ہوں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے پاس اس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، پھر مجھ پر تین دن گزر جائیں اور میرے پاس اس میں سے ایک دینار بھی موجود ہو، ماسوا اس شے کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کر رکھ لوں۔ اس کے سوا جتنا کچھ بھی ہو میں اسے اللہ کے بندوں میں اس طرح، اس طرح اور اس طرح تقسیم کردوں۔ اپنے دائیں، بائیں اور پیچھےکی طرف اشارہ کیا۔ پھر آپ ﷺ چل دیے اور فرمایا: زیادہ مال ودولت والے ہی روز قیامت (اجر وژواب میں) بہت کم ہوں گے، ماسوا اس شخص کے جس نے مال کو اس طرح، اس طرح اور اس طرح اپنے دائیں، بائیں اور پیچھے خرچ کیا ہوگا، ليکن ایسا کرنے والے کم ہی ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اپنی اس جگہ سے تب تک نہ ہٹنا جب تک میں تمہارے پاس نہ آجاوں۔ پھر آپ ﷺ رات کے اندھیرے میں چل دیے يہاں تک کہ اوجھل ہو گئے۔ پھر میں نے ایک بلند آواز سنی۔ مجھے اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں کوئی شخص نبی ﷺ کو نقصان پہنچانے کے درپے تو نہیں ہو گیا۔ میں نے آپ ﷺ کے پاس جانے کا ارادہ کیا لیکن مجھے آپ ﷺ کا فرمان یاد آ گیا کہ میرے آنے تک اپنی جگہ سے نہ ہٹنا۔ چنانچہ میں وہاں سے نہ ہٹا یہاں تک کہ آپ ﷺ میرے پاس تشریف لے آئے۔ میں نے کہا: میں نے ایک آوا ز سنی تھی جس کی وجہ سے مجھے خوف لاحق ہو گیا تھا۔ میں نے ساری بات آپ ﷺ کو بتا دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے وہ آواز سنی تھی؟ میں نے جواب دیا:جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے جو میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے کہا: آپ کی امت کا جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے پوچھا: اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے؟ فرمايا: اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے۔
متفق علیہحدیث کا مفہوم: ابو ذر رضی اللہ عنہ بيان کر رہے ہيں کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ مدینہ میں کالے پتھروں والی زمین (حرہ) پر چلے جا رہے تھے کہ سامنے احد پہاڑ آ گیا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا تو مجھے یہ بات بالکل پسند نہ ہوتی کہ مجھ پر تین دن گزر جائیں“۔ یعنی یہ بات مجھے خوش نہيں کرتی کہ تین دن گزر جائیں اور اس میں سے میرے پاس کچھ بچا رہے ایک دینار بھینہیں، ”ما سوا اس شے کے جسے میں قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کر رکھ لوں“ یعنی اگر میرے پاس احد پہاڑ کے بقدر خالص سونا ہوتا تو میں وہ سارا کا سارا اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑتا سوائے اس شے کے جس کی مجھے حقوق پورا کرنے اور قرضوں کی ادائیگی کے لئے ضرورت ہوتی۔ اور جو کچھ اس سے زائد ہوتا تو ميں اس بات کوبالکل پسند نہيں کرتا کہ تين دن گزر جائيں اور اس ميں سے کچھ بھی ميرے پاس باقی رہے۔ يہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ کو دنیا میں بالکل بھی رغبت نہیں تھی کیونکہ آپ ﷺ نہیں چاہتے تھے کہ مال جمع کریں سوائے اس شے کے جسے آپ ﷺ قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال رکھتے۔ نبی ﷺ کی جب وفات ہوئی تو آپ ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس کچھ جَو کے بدلے رہن ميں رکھی ہوئی تھی جسے آپ ﷺ نے اپنے اہل خانہ کے ليے ليے تھے۔ اگر اللہ عز و جل کے نزدیک دنیا محبوب ہوتی تو اللہ تعالی اپنے نبی ﷺ کو اس سے محروم نہيں رکھتا۔ لیکن دنیا ملعون ہے اور اس میں جو کچھ ہے وہ بھی ملعون ہے سوائے اللہ کے ذکر اور اس سے متعلق چیزوں کے اور سوائے عالم اور متعلم کے اور ان کاموں کے جو اللہ کی اطاعت گزاری میں ہوں۔ پھر آپ ﷺ نےفرمایا: ”زیادہ مال ودولت والے ہی روز قیامت (اجر وژواب میں) بہت کم ہوں گے“ یعنی جن کے پاس دنیا کی کثرت ہو گی قیامت کے دن ان کے پاس نیک اعمال کی کمی ہو گی۔ کیونکہ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے کہ جس کے پاس دنیا کے مال کی کثرت ہو جاتی ہے وہ استغنا اور تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اللہ کی اطاعت سے رو گردانی کرنے لگتا ہے کیونکہ دنیا اسے غفلت میں ڈال دیتی ہے چنانچہ وہ دنیا میں تو بہت مال والا ہوتا ہے لیکن آخرت میں تہی دامن ہوگا۔ ”جس نے اس طرح، اس طرح اور اس طرح دیا“ یعنی مال کو، اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ کیا۔ ”اور ایسے لوگ کم ہی ہیں“ یعنی جو لوگ اللہ کے راستے میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں وہ بہت کم ہیں۔ پھر فرمایا: ”جو بھی اس حال میں مر گیا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہوگا تو وہ جنت میں جائے گا اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے“ اس سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ زنا اور چوری بہت ہلکے گناہ ہیں بلکہ یہ بہت ہی بڑے گناہ ہیں۔ اسی لیے تو ابو ذر رضی اللہ عنہ کو یہ بات بہت بڑی لگی اور انہوں نے پوچھا کہ ”اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے“، ایسا اس وجہ سے ہے کہ جو شخص حالت ایمان میں مر جاتا ہے اور اس پر کبیرہ گناہ ہوتے ہیں تو (ایسے لوگوں کے بارے میں) اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ﴾ ”یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے“۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ اس شخص کو معاف کر دے اور اسے عذاب (بھی) نہ دے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے عذاب دے، تاہم اگر عذاب دے گا بھی تو بالآخر وہ جنت میں ہی جائے گا کیونکہ ہر وہ شخص جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو اور نہ ہی اس نے کسی کفریہ بات کا ارتکاب کیا ہو تو وہ بالآخر جنت میں جائے گا۔ البتہ جس نے کسی کفریہ عمل کا ارتکاب کیا اور اسی پر اس کی فوات ہوئی ہو تو وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور اس کا عمل رائیگاں جائے گا۔ کیونکہ منافقین رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے: ﴿نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّـهِ﴾ ”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں“ وہ اللہ کا ذکر تو کرتے تھے لیکن بہت کم اور نماز تو پڑھتے تھے لیکن: ﴿وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ﴾ ”اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں“ اس کے باوجود وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔ یہ حدیث دنیا سے بے رغبتی اختيار کرنے کی دليل ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو اپنا دل اس دنيا میں نہیں لگانا چاہیے اور یہ کہ دنیا اس کے ہاتھ میں ہو، دل میں اس کی جگہ نہ ہو۔ تاکہ وہ اپنے دل کے ساتھ اللہ عز وجل کی طرف متوجہ ہو۔ یقینا یہی کمالِ زہد ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ آپ اس دنيا میں سے کچھ بھی نہ لیں، بلکہ جو چیز آپ کے لیے حلال ہو وہ لیں اور اس میں سے اپنا حصہ نہ بھولیں لیکن اسے اپنے ہاتھ میں رکھیں، اپنے دل میں اسے جگہ نہ دیں۔ اور يہی اہم بات ہے۔
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس شخص کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور جو اسے یاد نہیں کرتا، زندہ اور مردہ کی سی ہے“۔ صحیح مسلم کے الفاظ ہيں: ”اس گھر کی مثال جس میں اللہ کو یاد کیا جاتا ہے اور اس گھر کی مثال جس میں اللہ کو یاد نہیں کیا جاتا ہے، زندہ اور مردہ کی طرح ہے“۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں اللہ کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کا فرق بیان فرمایا ہے۔ نفع رسانی اور حسن منظر کے معاملے میں دونوں کے درمیان وہی فرق ہے، جو زندہ اور مردہ کے درمیان ہے۔ اپنے رب کو یاد کرنے والا زندہ کی طرح ہے، جس کا ظاہر زندگی اور باطن معرفت کے نور سے مزین ہوتا ہے۔ اس کے اندر نفع پہنچانے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔ جب کہ اللہ کو یاد نہ کرنے والے کی مثال مردے کی طرح ہے، جس کا ظاہر حیات سے خالی اور باطن بے سود ہوتا ہے۔ اس کے اندر نفع پہنچانے کی صلاحیت بھی نہیں ہوتی۔ اسی طرح جب گھر میں رہنے والے لوگ اللہ کا ذکر کرتے ہوں، تو وہ گھر زندہ ہے اور جب اللہ کے ذکر سے پہلو تہی کرتے ہوں، تو وہ گھر مردہ ہے۔ ویسے یہاں زندہ اور مردہ اگرچہ گھر کو کہا گیا ہے، لیکن مراد گھر میں رہنے والے لوگ ہیں۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم منبر پر بیٹھے اور ہم بھی آپ کے آس پاس بیٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا: "میں اپنے بعد تمھارے بارے میں جن چيزوں سے ڈرتا ہوں، ان میں سے ایک دنیا کی چمک دمک اور دنیائی زیب وزینت کے دروازوں کا کھلنا ہے۔" ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا خیر بھی شر لاتی ہے؟ سوال سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم خاموش رہ گئے۔ لہذا اس شخص سے کہا گیا: بات آخر کیا ہے کہ تم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے بات کر رہے ہو اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم تم سے بات نہيں کر رہے ہيں؟ اسی درمیان ہم نے دیکھا کہ آپ پر وحی اتر رہی ہے۔ پھر آپ نے پیشانی سے پسینہ پونچھا اور اس کے بعد فرمایا: "سوال کرنے والا کہاں ہے؟" ایک طرح سے آپ نے اس کی تعریف کی اور اس کے بعد فرمایا: "خیر شر نہيں لاتی۔ دراصل جو گھاس موسم بہار میں پیدا ہوتی ہے، وہ جان لے لیتی ہے یا ہلاکت کے قریب پہنچا دیتی ہے۔ البتہ اس جانور کا نقصان نہیں کرتی، جو گھاس کھاتا ہے اور جب اس کی دونوں کوکھ بھر جاتی ہے، تو سورج کی جانب منہ کر کے جگالی کرنا شروع کر دیتا ہے، پھر لید اور پیشاب کرتا ہے اور اس کے بعد دوبارہ کھاتا ہے۔ بے شک یہ مال سر سبز و شیریں ہے۔ ایک مسلمان کے لیے وہ مال بہت اچھا ہے، جو اس نے غریب، یتیم اور مسافر کو دیا۔ -یا پھر اسی طرح کی کوئی بات اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہی- لیکن جس نے اسے ناحق طریقے سے حاصل کیا، وہ اس شخص کی طرح ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن آسودہ نہيں ہوتا۔ اس طرح کا مال قیامت کے دن انسان کے خلاف گواہی دے گا"۔
متفق عليهایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم منبر پر بیٹھ کر اپنے ساتھیوں سے بات کرنے لگے۔ اسی دوران آپ نے فرمایا: مجھے اپنے بعد تمھارے بارے میں سب سے زیادہ ڈر اس بات کا ہے کہ تم پر زمین کی برکتوں، دنیا کی رعنائی، اس کی چمک دمک اور اس کے طرح طرح کے ساز و سامان، کپڑوں اور کھیتوں کے دروازے کھول دیے جائيں، جو ہیں تو کچھ ہی دنوں کے لیے لیکن لوگ ان کے حسن وجمال پر فخر و مباہات کرتے ہيں۔ ایک شخص نے کہا: دنیا کی رعنائی بھی تو اللہ کی نعمت ہے، تو کیا یہ نعمت نقمت وعقوبت بن سکتی ہے؟ اس کی بات سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور لوگوں کو لگا کہ آپ ناراض ہو گئے ہیں، لہذا لوگ اسے برا بھلا کہنے لگے۔ لیکن کچھ ہی لمحوں میں واضح ہو گیا کہ آپ پر وحی اتر رہی تھی۔ پھر اپنی پیشانی سے پیسنہ پوچھنے لگے اور فرمایا: سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس نے عرض کیا : میں یہاں ہوں۔ چنانچہ آپ نے اللہ کی حمد وثنا کی اور اس کے بعد فرمایا: حقیقی خیر تو خیر ہی لاتی ہے۔ لیکن یہ رعنائی خالص خیر نہیں ہے کیوں کہ یہ فتنہ، دنیوی معاملات میں مقابلہ آرائی اور آخرت پر مکمل توجہ مرکوز کرنے سے غفلت کا باعث بنتی ہے۔ پھر اس کی ایک مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: موسم بہار میں اگنے والی ہریالی جانور کو اپنی جانب کھینچتی ہے اور زيادہ کھانے کے نتیجے میں ہونے والی بیماری کی وجہ سے اس کی جان لے لیتی ہے یا اسے ہلاکت کے قریب پہنچا دیتی ہے۔ البتہ جو جانور کھاتا ہے اور جب اس کی دونوں کوکھ بھر جاتی ہیں، تو سورج کی جانب منہ کر لیتا ہے، پاخانہ یا پیشاب کرتا ہے، پھر اپنے پیٹ میں موجود گھاس کو منہ میں نکالتا ہے، چباتا ہے، پھر نگل لیتا ہے اور اس کے بعد واپس جاکر کھانے لگتا ہے۔ بلاشبہ یہ مال اس سر سبز اور مزے دار گھاس کی طرح ہے، جو زیادہ کھا لیے جانے کی وجہ سے ہلاک کر دیتی ہے یا ہلاکت کے قریب پہنچا دیتی ہے۔ لیکن جب انسان بہ قدر ضرورت اور بہ قدر کفایت حلال طریقے سے حاصل کیے گئے مال کے تھوڑے حصے پر اکتفا کر لیتا ہے، تو یہ مال اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ ایک مسلمان کا وہ مال قابل تعریف ہے، جس کا کچھ حصہ وہ مسکین، یتیم اور مسافر کو دیتا ہے۔ جو شخص حق کے ساتھ مال لیتا ہے، اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو ناحق طریقے سے مال لیتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن آسودہ نہیں ہوتا۔ یہ مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔
ابوہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔ انہوں نے پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری ماں ہے۔انہوں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر تمہارا باپ ہے۔ (متفق علیہ) ایک دیگر روایت میں ہے کہ (ایک آدمی نے عرض کیا) اے اللہ کے رسول ! سب سے زیادہ میرے حُسنِ سلوک کا کون حقدار ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں۔ اِس کے بعد تیرے باپ کا پھر جو تیرے قریب ہو پھر جو تیرے قریب ہو۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہیہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ والدین میں سے ہر ایک حُسنِ مصاحبت اور ان کے سارے کاموں کی مکمل دیکھ بھال کے حقدار ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾ ”دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح بسر کرنا“۔ تاہم ماں کا حق باپ پر کئی گناہ زیادہ ہے۔ اس لیے کہ آپ ﷺ نے ماں کے حق کو تین مرتبہ کی تاکید کے ساتھ خوب مؤکد کرنے کے بعد باپ کا حق ذکر کیا ہے۔ ماں کا درجہ باپ سے بڑھ گیا باوجودیکہ بچے کی پرورش میں دونوں والدین شریک ہوتے ہیں۔ والد اپنے مال اور نگرانی کے ساتھ اور والدہ کھانے پینے اور پہننے اور بچھانے میں خدمت کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔الخ، اس لیے کہ ماں بچے کے لیے وہ تکلیفیں برداشت کرتی ہیں جو باپ نہیں کرتا، ماں نو ماہ تک اسے پیٹ میں لے کر حمل کی حالت میں تکلیف در تکلیف اور کمزوری در کمزوری برداشت کرتی ہے، پھر اسے جننے کی تکلیف برداشت کرتی ہے، وہ تکلیف جو برداشت کرتی ہے اس سے ایسا لگتا ہے جیسے موت اس کو اچک لے۔ اسی طرح پھر دو سال تک اسے دودھ پلاتی ہے، اس کی راحت کے لیے راتوں کو جاگتی ہے، اس کی بہتری کے کام کرتی ہے اگرچہ خود کئی ساری تکلیفیں سہ لے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ ”اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے“۔ دیکھیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ احسان کرنے کی وصیت کی ہے اور ماں کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صرف انہی اسباب کی طرف اشارہ فرمایا جو ماں تکلیفیں برداشت کرتی ہیں۔ والدین کے ساتھ حُسنِ مصاحبت کا مظہر یہ بھی ہے کہ ان کے کھانے پینے، رہنے سہنے، اوڑھنے بچھانے اور دیگر معاشی ضروریات کے لیے ان پر خرچ کرنا۔ اگر وہ محتاج ہیں بلکہ اگر وہ کم یا درمیانے درجے کی زندگی گزار رہے ہوں اور تم خوشحال و خوشگوار زندگی گزار رہے ہو تو انہیں اپنے درجے تک لے آنا یا اس سے بھی اچھا کرنا۔ یہ صحبت میں احسان کا تقاضا ہے۔ یاد کیجیے حکومت ملنے اور تخت نشینی کے بعد یوسف علیہ السلام نے جو کچھ اپنے والدین کے ساتھ کیا کہ انہیں دیہات سے لے آئے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے متعلق بلکہ ان کے تمام امور کو شامل جامع حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول میں ذکر فرما دیا ہے: ﴿وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا، وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا﴾ ”اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا یہ دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اُف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا، اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے“۔ ان سے بے ہودہ زبان کے استعمال سے بچو اور ہر طرح کی تکلیف دینے سے بچو، اپنی گفتگو کو ان کے سامنے نرم کردو، ان کے لیے اپنے بازؤوں کو پست کردو، ان کی اطاعت میں اپنے آپ کوجھکا دو، ان کے لیے دعا مانگتے رہو، اپنے دل کو ان کے ساتھ مخلص کرلو اور کہو اے اللہ ان پر اسی طرح رحم فرما جس طرح سے کہ انہوں نے بچپن میں میری تربیت کی تھی اور وحی الہی میں موجود اشارے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے نیز حدیث کی منطقیت کے شانہ بہ شانہ چلتے ہوئے ماں کا زیادہ خیال رکھنا نہ بھولو۔
ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جو اللہ کے راستے میں دوہری چیز خرچ کرے گا اسے جنت کے دروازوں پر سے پکار پکار کر کہا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہ دروازہ اچھا ہے۔ پھر جو شخص نمازی ہوگا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو مجاہد ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزہ دار ہوگا اسے باب ریان سے بلایا جائے گا اور جو صدقہ دینے والا ہوگا اسے صدقے کے دروازے سے بلایا جائے گا۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! جو لوگ ان دروازوں (میں سے کسی ایک دروازہ ) سے بلائے جائیں گے ان کے لیے کوئی خسارہ کی بات تو نہیں ہے (یعنی وہ جنت میں تو داخل ہوجائیں گے)، لیکن آپ یہ بتائیں کہ کیا کوئی ایسا بھی ہوگا جسے ان سب دروازوں سے بلایا جائے گا؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی انہیں میں سے ہوں گے۔
متفق علیہجس نے اللہ کی خوشنودی کے لئے کسی بھی شے کو بطور صدقہ دوہرا خرچ کیا چاہے وہ کھانے کی شے ہو، لباس ہو، یا سواری یا پھر رقوم ہوں تو فرشتے اسے جنت میں خوش آمدید کہتے ہوئے اس کے دروازوں پر سے اسے پکار پکار کر کہیں گے: "تم نے بہت نیکیاں آگے بھیجیں جن پر تمہیں آج بہت زیادہ ثواب ملے گا"۔ چنانچہ جو لوگ کثرت سے نمازیں پڑھتے تھے انہیں نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا اور وہ اس سے داخل ہوں گے۔ جو کثرت سے صدقہ دیتے تھے انہیں صدقے کے دروازے سے پکارا جائے گا اور وہ اس سے داخل ہوں گے اور جو کثرت سے روزے رکھتے تھے ان کا فرشتے باب ریان پر استقبال کریں گے اور انہیں اس میں سے داخل ہونے کی دعوت دیں گے۔ الریان کا معنی ہے جو پیاس بجھا کر سیر کر دے۔ چونکہ روزہ دار پانی کے استعمال سے رکے رہتے ہیں اور اس کی وجہ سے انہیں پیاس لگتی ہے خاص طور پر گرمی کے طویل اور گرم دنوں میں چنانچہ اس پیاس کو برداشت کرنے کے بدلے میں جنت میں ان کو ہمیشہ کے لئے سیر کر دیا جائے گا جس میں وہ اس دروازے سے داخل ہوں گے۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب اس حدیث کو سنا تو کہنے لگے: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں، جو ان دروازوں میں سے داخل ہوا اسے نہ کوئی نقصان ہوا اور نہ خسارہ۔ پھر انہوں نے پوچھا: کیا کوئی ایسا شخص بھی ہو گا جسے ان تمام دروازوں پر سے بلایا جائے گا؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اور مجھے امید ہی کہ تم انہی لوگوں میں سے ہو گے۔
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو وہ مجھے جاگتے ہوئے بھی عنقریب دیکھے گا، یا یوں کہا کہ گویا اس نے مجھے جاگتے ہوئے دیکھا، اور شیطان میری شکل میں نہیں آ سکتا۔“
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہاس حدیث کے مفہوم میں مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے علماء کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ پہلا: اس سے مُراد آپ ﷺ کے زمانے کے لوگ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اور اس نے ہجرت نہیں کی، اللہ تعالیٰ اسے ہجرت اور حقیقت میں آپ ﷺ کو دیکھنے کی توفیق دے گا۔ دوسرا: جس نے آپ ﷺ کو خواب میں دیکھا تو اس نے حقیقت میں آپ ہی کو عالمِ ارواح میں دیکھا، لہٰذا اس کا خواب سچا ہے بشرطیکہ اُس نے آپﷺ کو اپنی مشہور ومعروف صفات کے ساتھ دیکھا ہو۔ تیسرا: آپ ﷺ کو خواب میں دیکھنا اس بات کی تصدیق ہے کہ یہ آپ کو آخرت میں بیداری کی حالت میں دیکھے گا اور یہ آپ ﷺ سے قُرب اور آپ کی شفاعت کے حصول سے متعلق خاص رؤیت ہوگی۔ حدیث کی عبارت ”أَوْ فَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ“ یہ مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں، راوی نے شک کی بنیاد پر اسے نقل کیا ہے یعنی راوی کو شک ہے کہ آپ ﷺ نے ”فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ “ کے الفاظ ادا کیے یا ”فَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ“ فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے آپ ﷺ کو اپنی اصلی حالت میں خواب میں دیکھا تو گویا اس نے آپ کو بیداری میں دیکھ لیا۔ اس کا مفہوم آپ ﷺ کی دوسری حدیث کے مفہوم کی طرح ہے جو صحیحین میں وارد ہوئی ہے ”مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي“ جس نے خواب میں مجھے دیکھا سو وہ مجھے حقیقت میں دیکھ چکا۔ صحیحین میں دوسری جگہ مروی ہے ”مَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ“ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے یقیناً سچا خواب دیکھا۔ حدیث کے الفاظ ”لا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي“ یہی مفہوم دوسرے الفاظ کے ساتھ اس طرح آیا ہے ”مَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي إِنَّهُ لاَ يَنْبَغِي لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَمَثَّلَ فِي صُورَتِي“ یعنی جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان آپ ﷺ کی اصلی صورت نہیں اپنا سکتا۔ ورنہ شیطان آتا اور کہتا کہ میں اللہ کا رسول ہوں حالانکہ وہ آپ ﷺ کی صورت نہیں۔ اس لئے وہ اللہ کا رسول نہیں۔ لہٰذا جب انسان کسی شخص کو دیکھے اور اس کے دل میں یہ بات آئے کہ وہ آپ ﷺ ہیں تو اسے چاہیئے اس کے اوصاف دیکھے کہ اس کے اوصاف آپ ﷺ کے اوصاف کے مطابق ہیں یا نہیں؟ اگر مطابق ہوں تو اس نے آپ ﷺ کو دیکھا اور اگر نہ ہوں تو وہ آپ ﷺ نہیں ہے۔ بلکہ یہ شیطان کی طرف سے وہم ہے جو سوئے ہوئے شخص کے دل میں وہ ڈالتا ہے کہ یہ اللہ کے رسول ہے، حالانکہ وہ اللہ کے رسول نہیں۔ شمائل میں امام احمد اور ترمذی کے حوالے سے یزید فارسی سے منقول ہے کہ میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، تو میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں نے خواب میں آپ ﷺ کو دیکھا ہے، انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا، پس جو مجھے خواب میں دیکھ لے اس نے مجھے دیکھ لیا۔ کیا آپ اس شخص کی صفات بیان کرسکتے ہیں جسے آپ نے خواب میں دیکھا۔ میں نے کہا جی ہاں۔ جب انہوں نے اوصاف بیان کیں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر تم بیداری میں آپ کی زیارت کرتے تو اس سے زیادہ کچھ نہ کہتے۔ یعنی اگر آپ نبی ﷺ کو بیداری کی حالت میں دیکھ لیتے تو آپ ﷺ کے اوصاف اس سے زیادہ بیان نہ کرسکتے۔ یعنی انھوں نے یقیناً آپ ﷺ کو دیکھا ہے۔