





























Categories
Discover our diverse collection of categories covering multiple topics to meet your various interestsDa\'wa cards that highlight great meanings of the verses of the Holy Quran and the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
No Ayat found for this category
ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کا سفارشی بن کر آئےگا۔ دو روشن چمکتی ہوئی سورتیں:البقرہ اور آل عمران پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے وہ دو بادل یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے حجت (دفاع) کریں گی۔ سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اسے حاصل کرنا باعث برکت ہے اور اس کا ترک کرنا باعثِ حسرت ہے اور باطل پرست اس کی طاقت نہیں رکھتے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔قرآن پڑھا کرو اور اس کی تلاوت پر مداومت برتو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنی تلاوت کرنے اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے سفارش کرے گا۔ بالخصوص سورۂ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھا کرو کیونکہ ان دونوں کا نام دو چمکدار یعنی دو روشنیاں رکھا گیا ہے، اُن کے منور ہونے، ہدایت کے اعتبار سے اور عظیم اجر کے اعتبار سے -گویا کہ اللہ کے نزدیک دیگر سورتوں کے تناسب سے ایسے ہی ہے جیسے قمرین کو تما م ستاروں پر- ان دونوں کے پڑھنے کا ثواب یہ ہےکہ قیامت کے دن یہ دونوں دو بادلوں کی صورت میں اپنے پڑھنے والے پر روز محشر کی گرمی سے سایہ کیے ہوئے ہوں گی یا پھر ان کے پڑھنے کا ثواب پرندوں کی دو جماعتیں جو صفوں کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے پر ملائے ہوئے کھڑے ہو ں گے جو اپنے پڑھنے والے کا دفاع کریں گی اور ان کو جہنم میں سے بچائیں گی۔ اس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ وہ آنے والا خود عملِ (قرآن) کی شکل میں آئے گا جیسا کہ حدیث کے ظاہر سے پتہ چل رہا، لیکن اگر یہ کہا جائے کہ وہ آنے والا خود اللہ کا کلام ہے، تو یہ درست نہیں۔ کیونکہ ’کلام‘ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے اور صفتْ ذات سے الگ نہیں ہوتی اور جس چیز کو میزان میں رکھا جائے گا وہ بندے کافعل اور عمل ہو گا جیسا کہ ﴿وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ﴾ ”اور اللہ ہی ہے جس نے تمہیں اور جو تم عمل کرتے ہو ان سب کو پیدا کیا ہے“ (سورہ الصافات: 96) نبی کریم ﷺ نے سورۂ بقرہ کی تلاوت کی تاکید فرمائی ہے کیونکہ اس کی تلاوت پر مداومت برتنے، اس کے معانی پر غور وفکر اور اس پر عمل کرنے میں بہت ساری برکتیں اور عظیم منافع موجود ہیں۔ اور اس سورت کو چھوڑنا، اس کی تلاوت نہ کرنا اور اس پر غور وفکر کرتے ہوئے اس پر عمل نہ کرنا قیامت کے دن حسرت و ندامت کا سبب بنے گا۔ اس سورت کا ایک بہت بڑا کمال یہ بھی ہے کہ اس کے پڑھنے والے اور اس پر غور و فکر کرتے ہوئے عمل کرنے والے کو جادو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اور (یہ بھی) کہا گیا ہے کہ جادوگر اس کے پڑھنے، اس میں تدبر کرنے، اس کے مطابق عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اورنہ ہی ان کو اس کی توفیق ملتی ہے ۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم الحمد للہ (سورہ فاتحہ) پڑھو تو بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھو کیوں کہ یہ (سورہ فاتحہ) ام القرآن، ام الکتاب اور سبع مثانی ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم اس کی ایک آیت ہے۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی مشروعیت بیان کی جا رہی ہے اور اس کی توجیہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ یہ سورہ فاتحہ کا جز ہے۔ اس کی قرأت سے مراد سرّی ہے جہری نہیں ہے کیوں کہ بلند آواز سے نہ پڑھنے کے بارے میں بہت ساری صحیح حدیثیں آئی ہوئی ہیں۔ امام طحاوی فرماتے ہیں: نماز میں بسم اللہ کو بلند آواز سے نہ پڑھنا رسول اللہ ﷺ اور خلفاء سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: "قرآن کے اندر یہ بھی اتارا گیا تھا کہ (دس بار دودھ پلانا ثابت اور متحقق ہونے پر حرمت ثابت ہوگ), پھر اسے منسوخ کرکے پانچ بار کی بات اتاری گئی۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو اسے قرآن کے ساتھ پڑھا جا رہا تھا"۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ ابتدا میں دس بار دودھ پلانے کو حرمت ثابت کرنے والی رضاعت مانا گیا تھا اور اس کا ذکر قرآن میں موجود تھا۔ پھر اس کے لفظ اور حکم کو منسوخ کرکے پانچ بار دودھ پلانے سے حرمت کا حکم اتارا گیا۔ پھر اس کے الفاظ اور حکم کو اس قدر بعد میں منسوخ کیا گیا کہ بہت سے لوگوں کو اس کی خبر بھی نہ ہو سکی اور اس منسوخ آیت کو قرآن کا حصہ سمجھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات تک پڑھتے رہے۔
ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کچھ اور وحی بھی ہے؟ علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اس اللہ کی قسم جس نے بیج کو اگایا اور انسانی جان کو پیدا فرمایا! میرے علم میں تو کوئی ایسی شے نہیں سوائے اُس فہمِ قرآن کے جو اللہ کسی شخص کو عنایت فرماتا دیتا ہے اور سوائے ان باتوں کے جو اس صحیفے میں ہیں۔ میں نے پوچھا: صحیفے میں کیا ہے؟۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں دیت اور قیدیوں سے متعلق احکام ہیں اور یہ کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ نے آپ کو بطورِ خاص کوئی ایسا علم یا تحریر دی ہے جو دوسرے لوگوں کو نہ دی ہو؟۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال اس لیے کیا کیونکہ شیعوں کے ایک گروہ کا یہ گمان تھا کہ اہلِ بیت اور خصوصاً علی رضی اللہ عنہ کے پاس وحی پر مشتمل کچھ ایسی چیزیں ہیں جو نبی ﷺ نے بطورِ خاص انہی کو عنایت فرمائی تھیں اور کسی اور کو اس کا علم نہیں۔ علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ایک سے زیادہ لوگوں نے کیا۔ اس پر علی رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک ایسی قسم کھا کر جواب دیا جو عرب لوگ کھایا کرتے تھے کہ اس اللہ کی قسم جس نے انسان کو پیدا فرمایا اور بیج کو پھاڑ کر اگایا! ان کے پاس سوائے اس (قرآنی ) سمجھ بوجھ کے جو اللہ اپنے بندے کو عنایت فرما دیتا ہے اور سوائے اس نوشتہ کے کچھ بھی نہیں جس میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے منقول کچھ باتیں لکھ رکھی تھیں، جس میں دیت اور مسلمان قیدیوں کو قید سے نجات دلانے سے متعلق احکام مندرج تھیں اور یہ لکھا ہوا تھا کہ مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ کافر مسلمان کا ہم پلہ نہیں ہوتا ہے کہ اُس کے بدلے میں اِسے قتل کردیا جائے بلکہ وہ اِس سے کم تر ہوتا ہے۔
علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "میں پہلا آدمی ہوں گا، جو قیامت کے دن رحمن کے سامنے جھگڑنے کے لیے گھٹنوں پر بیٹھے گا"۔ قیس بن عباد کہتے ہیں: انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی : {هذان خصمان اخْتَصَمُوا في ربهم} [الحج: 19] (یہ دو فریق ہیں، جو اپنے رب کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں)۔ وہ کہتے ہیں: یہی لوگہیں جو بدر کے دن جنگ سے پہلے مقابلہ آرائی کے لیے سامنے آئے تھے۔ یعنی حمزہ، علی، عبیدہ یا ابو عبیدہ بن حارث، شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔اس اثر سے یہ معلوم ہوا کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بارے میں یہ بتایا ہے کہ وہ پہلے شخص ہوں گے، جو قیامت کے دن اللہ رب العالمین کے سامنے جھگڑنے کے لیے گھٹنوں پر بیٹھیں گے۔ ساتھ ہی یہ کہ آیت کریمہ {هذان خصمان اختصموا في ربهم} ان کے نیز حمزہ اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب وہ غزوۂ بدر کے موقعے پر کفر کے سرغنوں یعنی شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ سے مقابلے کے لیے سامنے آئے تھے۔ یہ اثر مبارزت یعنی معرکہ شروع ہونے سے پہلے دو لوگوں کے بیچ تلوار کی جنگ کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ مجھے بزرگ بدری صحابہ کے ساتھ مجلس میں بٹھا تے تھے۔ ان میں سے کسی کو یہ ناپسند گزرا تو انہوں نے کہا کہ اسے مجلس میں ہمارے ساتھ کیوں بٹھاتے ہیں، اس کے جیسے تو ہمارے بچے ہیں؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کی وجہ تمہیں معلوم ہے۔پھر انہوں نے مجھے ایک دن بلایا اور ان بدری صحابہ کے ساتھ بٹھا دیا۔ میں سمجھ گیا کہ آپ نے مجھے اس دن اس لیے بلایا ہے تاکہ انہیں دکھا سکیں۔ پھر اُن سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ ۔ ”إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ“ (الفتح:1)۔ ان میں سے کچھ نے کہا کہ جب ہمیں مدد اور فتح حاصل ہوئی تو اللہ کی حمد اور اس سے استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ اور کچھ لوگ خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دیا ۔ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما ! کیا تمہارا بھی یہی خیال ہے ؟ میں نے کہا: نہیں۔ پوچھا پھر تمہاری کیا رائے ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ: اس میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا ہے اور فرمایا: کہ جب اللہ کی مدد اور فتح آ پہنچے۔ جو کہ آپ کی وفات کی علامت ہو گی تو پھر آپ اپنے پروردگار کی پاکی وتعریف بیان کیجیے اور اس سے بخشش مانگا کیجیے ۔ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ میرے علم کے مطابق بھی یہی معنی ہے جو تم نے بیان کیا ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔عمر رضی اللہ عنہ کا طریقۂ کار یہ تھا کہ وہ صاحب الرائے لوگوں سے ان معاملات میں مشورہ کیا کرتے تھے جن میں آپ کو کوئی اشکال ہوتا اور بدری بزرگوں اور بڑے بڑے صحابہ کے ساتھ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھی شامل کیا کرتے تھے جو ان کی بنسبت بہت کم سن تھے۔ وہ اس سے ناراض ہوئے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کیسے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان کے ساتھ شامل کرتے ہیں اور ان کے بیٹوں کو شامل نہیں کرتے۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ انہیں عبد اللہ بن عباس کی علمی قدر و منزلت اور ذہانت و فطانت سے آگاہ کریں۔ انہوں نے انہیں جمع کیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بھی بلایا اور ان پر اس سورت کو پیش کیا: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجاً فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا}۔ (سورہ نصر) ترجمہ: جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے۔ تو اپنے رب کی تسبیح کرنے میں جُٹ جا، حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وه بڑا ہی توبہ قبول کرنے واﻻ ہے۔‘‘ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے اس سورت کے بارے میں دریافت کیا تو ان کے دو گروہ بن گئے۔ ایک گروہ تو چپ رہا اور ایک گروہ نے کہا کہ: اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جب نصرت اور مدد آ جائے تو ہم اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کریں اور اس کی حمد و تسبیح بیان کریں۔ تاہم عمر رضی اللہ عنہ اس سورت کا اصل مدعا جاننا چاہتے تھے اور ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ الفاظ و کلمات کا معنیٰ معلوم کریں۔ انہوں ںے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ تم اس سورت کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کی وفات کی طرف اشارہ ہے یعنی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ ﷺ کی وفات کا وقت قریب آ چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت آپ ﷺ کو عطا کی کہ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} یعنی جب مکہ فتح ہو جائے گا تو یہ تمہاری وفات کی علامت ہو گی چنانچہ۔ {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا}۔ ترجمہ:’’تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بے شک وه بڑا ہی توبہ قبول کرنے واﻻ ہے‘‘۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ نے کہا: مجھے بھی اس سورت کے بارے میں وہی کچھ معلوم ہے جو تم جانتے ہو۔ اس سے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت واضح ہو گئی۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ اللہ عز و جل رسول اللہ ﷺ کی وفات سے پہلے آپ پر پہ در پہ وحی نازل فرماتا رہا یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وفات اس وقت ہوئی جب کثرت کے ساتھ وحی نازل ہو رہی تھی۔
متفق علیہاللہ عز و جل نے رسول اللہ ﷺ پر آپ ﷺ کی وفات سے پہلے کثرت کے ساتھ وحی نازل کی تاکہ شریعت مکمل ہوجائے یہاں تک کہ جب کثرت کے ساتھ وحی کا نزول ہو رہا تھا تو اس وقت آپ ﷺ کی وفات ہوئی۔
زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے -اور وہ قرآن لکھنے والوں میں سے تھے- وہ کہتے ہیں کہ جب یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا اس وقت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے، میں گیا، ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے چنانچہ انہوں نے کہا کہ یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اسی طرح جنگوں میں اور بھی قارئینِ قرآن مارے گئے تو بہت سارا قرآن دنیا سے اٹھ جائے گا ، لہذا قرآن کو ایک جگہ جمع کرادیں نہیں تو یہ ڈر لگا رہے گا۔ میری رائے تو یہ ہے کہ قرآن کو جمع کرا دیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا کہ بھلا میں وہ کام کیسے کر سکتا ہوں جو رسول اللہﷺنے نہیں کیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم ! اسی میں بھلائی ہے، چنانچہ وہ برابر اسی بات کو مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اس بات کے لیے میرا سینہ کھول دیا اور میں نے بھی وہی سوچا جو عمر رضی اللہ عنہ نے سوچا۔ زید بن ثابت کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس خاموش بیٹھے رہے، پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا دیکھو ! تم جوان عقل مند آدمی ہو اور ہم تمہیں سچا جانتے ہیں، تم نبیﷺ کے زمانے میں بھی قرآن لکھا کرتے تھے ، لہذا قرآن کو تلاش کر کے اکٹھا کرو، زید بن ثابت کہتے ہیں کہ اگر مجھے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کو منتقل کرنے کے لیے کہتے تو مجھ کو اتنی پریشانی نہ ہوتی جتنی قرآن کو جمع کرنے میں محسوس ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ دونوں ایسا کام کرتے ہو جو نبیﷺ نے نہیں کیا، تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اسی میں بھلائی ہے، پھر میں ان سے تکرار کرتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے میرا بھی سینہ کھول دیا، جیسے اللہ نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھول دیا تھا، چنانچہ میں اٹھا اور میں نے قرآن کی تلاش شروع کر دی ، کہیں کپڑوں کے ٹکڑوں پر لکھا ہوا کہیں مونڈھے کی ہڈیوں پر کہیں کھجور کی ڈالیوں پر، اور لوگوں کو بھی یاد تھا، یہاں تک کہ مجھے سورہ توبہ کی دو آیتیں خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے سوا اور کہیں نہ ملیں، ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم﴾(دونوں آیتوں کی اخیر تک) ”تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں، پھر اگر رو گردانی کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے“۔ (سورہ توبہ: 128) پھر یہ مصحف جس میں قرآن جمع کیا گیا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، ان کی وفات کے بعد اُم المؤ منین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کےپاس تھا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، جو سن گیارہ ہجری میں مدعی نبوت مسیلمہ کذاب سے یمامہ کے شہر میں ہوئی جس وقت عرب کے بہت سارے لوگ مرتد ہو گئے تھے، اور اس لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے دورِ خلافت میں بلایا، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے، میں گیا، ابو بکر رضی اللہ عنہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے، عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، چنانچہ انہوں نے کہا کہ مسیلمہ کذاب سے لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اسی طرح جنگوں میں اور بھی حفاظ اور قرآن کے قرّاء مارے جاتے رہے تو بہت سارا قرآن دنیا سے اٹھ جائے گا! لہذا میری رائے تو یہ ہے کہ قرآن کو جمع کرا دیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا کہ بھلا میں وہ کام کیسے کر سکتا ہوں جو رسول اللہﷺنے نہیں کیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! قرآن کے جمع کرنے ہی میں بھلائی ہے، برخلاف اس کے چھوڑنے میں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عمر برابر اسی بات کو مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کے لیے میرا سینہ کھول دیا، اور میں نے قرآن کے جمع کرنے کے بارے میں سوچنے لگا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا اور عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس خاموش بیٹھے رہے، پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے زید سے کہا بے شک اے زید! دیکھو! تم ایک جوان عقل مند آدمی ہو اور ہم تمہارے اوپر جھوٹ اور بھولنے کی تہمت بھی نہیں لگا رہے ہیں، تم نبیﷺ کے زمانے میں بھی قرآن لکھا کرتے تھے، لہذا قرآن کو تلاش کر کے اکٹھا کرو۔ اور پورا قرآن نبی ﷺ کے زمانے میں ہی لکھا گیا تھا لیکن ایک ہی جگہ پر نہ تھا، اور نہ تو مرتب انداز میں سورتیں لکھی تھیں۔ زید بن ثابت کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! اگر مجھے کسی پہاڑ کو منتقل کرنے کے لیے کہتے تو مجھے اتنی پریشانی نہ ہوتی جتنا قرآن جمع کرنے کے منصوبے میں معلوم ہوئی! پھر زید نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ دونوں ایسا کام کرتے ہو جو نبیﷺ نے نہیں کیا؟ توابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم! یہ اچھا کام ہے۔ زید نے کہا پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ مجھ سے برابر کہتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے میرا بھی سینہ کھول دیا اور میں نے مصلحت عامہ کے مدِّ نظر قرآن کو جمع کرنے کے بارے میں سوچا۔ چنانچہ زید اٹھے اور انہوں نے قرآن کی تلاش شروع کر دی، تاکہ اسے کپڑوں کے ٹکڑوں، اور مونڈھوں کی ہڈیوں، سے جمع کر سکیں۔ ’’الأكتاف‘‘ کتف کی جمع ہے، اس سے مراد وہ چوڑی ہڈی ہے جو جانور کے مونڈھے پر ہوتی ہے اس کے سوکھ جانے کے بعد اس پر لکھا جاتا ہے، اور کھجور کی ڈالیوں پر، وہ اس طور پر کہ اس کے جھاگ کو اتار دیتے اور اس کی چوڑائی والے حصہ میں لکھتے، اور ان لوگوں کے سینوں سے جنہوں نے قرآن کو اکٹھا کیا اور اسے نبی ﷺ کی زندگی میں یاد کیا تھا، جیسے أبی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما، تو اس طرح سے جو آیتیں کپڑوں کے ٹکڑوں، اور مونڈھوں وغیرہ پر ملتیں وہ تاکید پر تاکید ہوتیں، یہاں تک کہ سورہ توبہ کی یہ دو آیتیں خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے سوا کہیں اور لکھی ہوئی نہ ملیں: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم﴾(دونوں آیتوں کی اخیر تک) ”تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں، پھر اگر رو گردانی کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے“۔ (سورہ توبہ: 128)، پھر یہ مصحف جس میں قرآن جمع کیا گیا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، ان کی وفات کے بعد اُمُّ المؤ منین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کےپاس تھا۔ قرآن کے جمع کرنے سے متعلق رافضہ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے اس کام پر اعتراض کیا کہ انہوں نے ایسا کام کیا، جسے رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا تھا، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس کام پر انکار کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کی کتاب کے ساتھ خیرخواہی ہے، اور آپﷺ نے اس بات کی اجازت دی ہے، صحیح مسلم میں ابو سعید کی روایت کردہ حدیث میں ہے ’’قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ نہ لکھو‘‘ اور ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کا مقصد اس چیز کا اکٹھا اور جمع کرنا تھا، جو پہلے ہی سے لکھا ہوا تھا، لہذا رافضہ کا اعتراض ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ پر درست نہیں۔
ابن شہاب سے روایت ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ شام اور عراق کے مسلمانوں کے ساتھ ارمینیہ، اور آذر بائیجان، فتح کرنے کے لیے لڑ رہے تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ اس سے گھبرا گئے کہ ان لوگوں نے قرآن کی قرأت میں اختلاف کیا ہے اور عثمان سے کہنے لگے، اے امیر المؤمنین! اس سے پہلے کہ مسلمان یہود و نصاری کی طرح قرآن میں اختلاف کرنے لگیں، اس امت کو اس (اختلاف) سے روکنے کا سامان کریں! یہ سن کر عثمان رضی اللہ عنہ نے اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو کہلا بھیجا کہ اپنا مصحف ہمارے پاس بھیج دو، ہم اس کی نقلیں اتار کر پھر تم کو واپس کر دیں گے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھیج دیا۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت اور عبداللہ بن زبیر اور سعید بن عاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا انہوں نے اس کی نقلیں اتاریں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے تینوں قریش کے لوگوں سے یہ بھی کہہ دیا ’’اگر کہیں تم میں اور زید بن ثابت میں قرأت میں اختلاف ہو تو قریش کی زبان میں لکھنا کیونکہ قرآن انہیں کی زبان پر اترا ہے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، جب مصحفوں کو تیار کر چکے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف تو ان کے پاس واپس کر دیا، اور ان مصحفوں میں سے ایک ایک مصحف ہر ایک ملک میں بھجوا دیا، اور اسکے سوا جتنے الگ الگ پرچوں اور کاغذوں پر قرآن لکھا ہوا یا مصحف لوگوں کے پاس تھا سب کوجلانے کا حکم دیا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اورعثمان رضی اللہ عنہ شام اور عراق کے مسلمانوں کے ساتھ ارمینیہ اور آذر بائیجان، فتح کرنے کے لیے لڑ رہے تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کے پڑھنے میں اختلاف کو سنا کیونکہ ان میں سے بعض أبی رضی اللہ عنہ اور بعض عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت کو پڑھ رہے تھےاس کی وجہ سے قریب تھا کہ ان کے درمیان کوئی فتنہ اور اختلاف ہو جائے۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ گھبرا گئے کہ ان لوگوں نے قرآن کی قرأت میں اختلاف کیا ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے، اے امیر المؤمنین! اس سے پہلے کہ مسلمان قرآن میں اختلاف کرنے لگیں، جس طرح یہود و نصاری نے تورات اور انجیل میں اختلاف کیا یہاں تک کہ اس میں رد و بدل کر دیا اور اس میں حذف و اضافہ کیا، اس وقت قرآن الگ الگ پرچوں اور کاغذوں پر لکھا ہواتھا اور مصحف کی شکل میں نہیں تھا۔ چنانچہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو کہلا بھیجا کہ اپنا مصحف ہمارے پاس بھیج دو، تاکہ اس کی نقلیں اتار لیں، پھر تم کو واپس کر دیں گے، یہی وہ صحیفہ تھا جسے حفصہ رضی اللہ عنہا سے لیا گیا تھا، اور یہ وہ نسخہ تھا جسے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے جمع کرنے کا حکم دیا تھا اور اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ نے مصحف کی شکل میں جمع کر دیا، اس صحیفے اور ان کے صحیفے کے درمیان فرق یہ تھا کہ ابو بکر کے عہد میں سورتیں الگ الگ اور منفرد تو تھیں تاہم مرتب انداز میں نہیں تھیں، لیکن جب ترتیب وار اور مرتب انداز میں لکھ دی گئیں تو وہ مصحف کی شکل میں ہو گئیں، اوریہ مصحف کی مکمل شکل عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں ہوئی، چنانچہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ صحیفہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت اور عبداللہ بن زبیر اور سعید بن عاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا۔ انہوں نے اس کی نقلیں اتاریں، زید بن ثابت انصاری تھے اور بقیہ تینوں قریش کے تھے، اورعثمان رضی اللہ عنہ نے قریش کے لوگوں سے یہ بھی کہہ دیا ’’ اگر کہیں تم میں اور زید بن ثابت میں قرأت میں اختلاف ہو تو قریش کے محاورے کے موافق لکھنا کیونکہ قرآن انہیں کے محاورے پر اترا ہے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، جب مصحفوں کو تیار کر چکے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف تو ان کے پاس واپس کر دیا، اور ان مصحفوں میں سے ایک ایک مصحف ہر ایک ملک میں بھجوا دیا، اور اس قرآن کے سوا جتنے الگ الگ پرچوں اور کاغذوں پر قرآن لکھا ہوا لوگوں کے پاس تھا سب کوجلانے کا حکم دیا۔
No Benefits found for this category